Apr
25
2020
جب گھر کی تعمیر شروع کی جائے تو اس میں برکت کے لیے صدقہ کا جانور وہیں ذبح کر کے اس کا خون اس کی بنیادوں میں ڈال دیا جائے. براہ مہربانی قرآن و حديث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کرنا درست ہے؟
الجواب باسم ملهم الصواب
گھر کی تعمیر شروع کرتے وقت جانور ذبح کرکے اس کا خون مکان کی بنیاد میں ڈالنا رسول اللہﷺ، صحابہ کرامؓ، تابعین اور ائمہ دین رحمہم اللہ کے عمل سے ثابت نہیں ہے۔ لہذا اس عمل سے برکت حاصل ہونے کا عقیدہ رکھنا بدعت ہے۔ البتہ اگر اس موقعہ کی مناسبت سے خیرات یا صدقے کے طور پر کوئی جانور ذبح کر کے اس کا گوشت اقربا یا غربا میں کھلایا جائے اور جانور کو ذبح کرنا ضروری نہ سمجھا جائے تو یہ جائز ہے۔
حدیث شریف میں ہے: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ». (مسلم، باب نقض الأحكام الباطلة) ترجمہ: جس نے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہ ہو تو مردود ہے۔
(ذبح لقدوم الأمير) ونحوه كواحد من العظماء (يحرم)...والفارق أنه إن قدمها ليأكل منها كان الذبح لله والمنفعة للضيف أو للوليمة أو للربح، وإن لم يقدمها ليأكل منها بل يدفعها لغيره كان لتعظيم غير الله فتحرم...(قوله والفارق) أي بين ما أهل به لغير الله بسبب تعظيم المخلوق وبين غيره، وعلى هذا فالذبح عند وضع الجدار أو عروض مرض أو شفاء منه لا شك في حلّه لأن القصد منه التصدق. حموي، ومثله النذر بقربان معلقا بسلامته من بحر مثلا فيلزمه التصدق به على الفقراء فقط كما في فتاوى الشلبي. (الدر المختار مع الرد، کتاب الذبائح)
والله اعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4316