دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر والدىن اپنى اولاد كو نفلى روزہ ركھنے سے منع كرتے ہوں تو اس كا كىا حكم ہے؟ اگر كوئى والدىن كے منع كرنے كے باوجود نفلى روزہ ركھے تو كىا ان كے كہنے پر روزہ توڑدىنا درست ہے، حالانكہ روزہ ركھنے سے كسى كو نقصان نہ ہوگا، تب بھى؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
محرم الحرام کے روزے کی احادیث کے حوالے سے بتائیے کیا وہ صحیح ہیں یا ضعیف؟ کسی شیعہ ذاکر نے کہا کہ ان احادیث کے سارے راوی بچے تھے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
بعض اوقات غسل کرتے ہوئے ناک میں پانی ڈالتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ کچھ تری سی حلق تک چلی گئی ہو، لیکن جب محسوس ہوا تو کوشش کی کہ کھانس کر اس کو حلق سے نکال دیا جائے۔ لیکن پھر بھی اگر کچھ تری سی اندر جاتی محسوس ہو تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ اگر ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی قضا ہوگی؟ اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ کتنے روزوں میں ایسا ہوا توکس طرح قضا ادا ہو گی؟ ناک میں پانی ڈالنے میں کوئی رعایت ہے؟ ورنہ اس میں اندیشہ ہوتا ہے کہ بار بار ایسا ہوگا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا خواتین رمضان میں روزے کی حالت میں غیر ضروری بالوں کی صفائی کرسکتی ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
شوال کے چھ روزوں کا کیا حکم ہے؟ ایک مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ شوال کے چھ روزوں کی احادیث کی صحت کا تین بڑے اماموں نے (امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام بخاری رحمہم اللہ نے) انکار کیا ہے، اسی طرح محقق علی الاطلاق علامہ ابن ہمام اور علامہ ابن نجیم شارح کنز الدقائق رحمہما اللہ نے ان روزوں کو ناجائز روزوں میں شمار کیا ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مشکوۃ اور ابوداود کے حوالے سے ایک روایت ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس مسافر کے پاس ایسی سواری ہو جو اس کو منزل مقصود پر پہنچادے تو وہ روزہ رکھے۔ کیا ایسی کوئی حدیث ہے؟ اگر ہے تو اس کی وضاحت بھی فرمادیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں ہر وقت سوچتی ہوں کہ میری چھ سال کی فرض نمازیں اور روزے جو قضاء ہوئے ہیں ان کو ادا کرو ں لیکن اس کا صحیح طریقہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ادا نہیں ہو رہے۔ کوئی آسان طریقہ بتائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل حدیث کی سندی حیثیت پر رہنمائی فرمادیں:
ایک بار موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: اے اللہ! آپ نے مجھے براہ راست کلام کے شرف سے نوازا ہے، کیا آپ نے یہ شرف کسی اور کو بھی عطا کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ: آخری زمانے میں میں ایک امت بھیجوں گا، جو حضرت محمد ﷺکی امت ہوگی، جو سوکھے ہونٹوں، سوکھی زبان، کمزور جسم، حلقوں والی آنکھوں، سوکھے جگر اور بھوک سے بدحال پیٹوں کے ساتھ مجھ سے دعا کریں گے، وہ تمہارے مقابلہ میں مجھ سے کہیں زیادہ قریب ہوں گے۔ جب تم مجھ سے گفتگو کرتے ہو تو تمہارے اور میرے درمیان ستر ہزار پردے ہوتے ہیں، لیکن افطار کے وقت میرے اور محمدﷺ کے امتی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوگا۔ اے موسیٰ! میں نے اس بات کا ذمہ لیا ہے کہ افطار کے موقع پر میں کسی روزے دار کی دعا رد نہیں کروں گا۔سبحان اللہ!!
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی مزدور وغیرہ ہے جس کے لیے محنت و مشقت کے باعث رمضان کے روزے رکھنا مشکل ہے ،تو اس کو بھی روزے چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے، اس کا حکم ایک مفتی صاحب نے بتایا تھا کہ وہ رمضان کا روزہ رکھے گا لیکن جب روزے کے دوران اس کی حالت بہت بگڑ جائے، بےہوش یا مرنے والی حالت ہوجاہے تو وہ اپنا روزہ افطار کرلے گا وہ ہر روز ایسا ہی کرے گا اور بعد میں جو روزے اس مجبوری کی وجہ سے کھولے تھے ان کو پورا کرے گا کیونکہ وہ روزہ رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے لیکن کام کی سختی کی وجہ سے اس کو جاری نہیں رکھ پاتا، سوال یہ ہےکہ اسی مجبوری والی صورت کے تحت گھر میں کام کرنے والی ملازمہ کو بھی یہی مشہورہ دے سکتے ہیں؟