Jun
03
2020
مشکوۃ اور ابوداود کے حوالے سے ایک روایت ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس مسافر کے پاس ایسی سواری ہو جو اس کو منزل مقصود پر پہنچادے تو وہ روزہ رکھے۔ کیا ایسی کوئی حدیث ہے؟ اگر ہے تو اس کی وضاحت بھی فرمادیں۔
الجواب باسم ملهم الصواب
سوال میں مذکور روایت مشکاۃ شریف میں ابوداود شریف کے حوالے سے ان الفاظ سے منقول ہے: وعن سلمة بن المحبق قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كان له حمولة تأوي إلى شبع فليصم رمضان من حيث أدركه» . رواه أبو داود (مشكاة المصابيح1/ 629) ترجمہ:’’ حضرت سلمہ بن محبق فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کے پاس سواری ہو جو اس کو اس کی منزل مقصود تک لے جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ رمضان کا روزہ رکھے ‘‘۔
اس حدیث کے بارے میں شراح حدیث نے فرمایا کہ اس حدیث میں جو امر ہے وہ استحباب پر محمول ہے یعنی اگر کسی کے پاس سواری ہو اور سفر میں کوئی مشقت نہ ہو تو اس کے لئے اولی یہ ہے کہ وہ روزہ رکھ لے، کیونکہ مسافر کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے، لیکن پھر بھی بہتر یہ ہے کہ وہ روزہ رکھ لے۔
قال الطيبي: الأمر فيه محمول على الندب والحث على الأولى والأفضل للنصوص الدالة على جواز الإفطار في السفر مطلقا (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح 4/ 1404)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4425