دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر۱: روزے کی حالت میں ناف میں تیل یا کوئی دوا وغیرہ لگائی جاسکتی ہے؟
سوال نمبر۲: جماعت میں اگر اگلی صف مکمل ہوگئی اور پچھلی صف بنانی ہے اور بعض لوگ وضو کررہے ہیں، امام صاحب رکوع میں چلے گئے ہیں تو کیا اکیلا آدمی ان کے ساتھ شامل ہوسکتا ہے؟ کیا اس کو رکوع میں چلا جانا چاہیے یا بقیہ لوگوں کے آنے تک نماز شروع نہ کرے؟ نیز اگر کسی نے ایسے نماز پڑھی ہے تو اب اس کا کیا حکم ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
بہت سے لوگ سحری کا ٹائم ختم ہونے کے بعد اذانوں تک کھاتے رہتے ہیں اور بہت سے اذانوں کے بعد تک کھاتے ہیں، ايسے لوگوں کے لیے شریعت کیا کہتی ہے؟ رہنمائی فرمائيں۔ شکریہ
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کسی کا روزہ تھا اور ان کو روزہ یاد تھا ، مگر یہ علم نہیں تھا کہ روزے میں برش نہیں کرتے، انہوں نے اس حال میں برش کرلیا، اب روزہ ہے یا نہیں۔ نیز قضا اور کفارے کا حکم بھی بتائیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ان شاءالله رمضان کی آمد آمد ہے، اور الله کی توفیق سے ہی اس ماہ مبارک میں ہر عام و خاص زیادہ سے زیادہ نیکی کے کاموں میں حصہ لینا چاہتا ہے، ان ہی کاموں میں ایک کام رشتہ داروں اور دوست احباب کو افطار کروانا ہے، کچھ افراد کی رائے ہے کہ یہ افطار کا اہتمام اور دوسروں کا اُنہیں افطار کروانا ان کی اپنی عبادات کے لیئے مضر ہے، اس اہتمام میں رشتہ دار خواتین بھی جمع ہوتی ہیں اور حالتِ روزہ میں غیبت کا دور دورہ بھی ہوتا ہے، پھر افطار سے چند لمحات پہلے جو دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے وہ بھی غیر ضروری باتوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔ کُل ملا کر اِن افراد کے نزدیک نہ کسی کو افطار پر بلایا جائے اور نہ ہی خود کسی کی دعوت افطار قبول کی جائے تاکہ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب کمایا جا سکے۔ اس بارے میں تعلیمات رسولﷺ ارشاد فرما دیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر کسی شخص کو روزے میں سونے کی حالت میں مسوڑھوں سے خون آۓ تو اسکا کیا حکم ہے؟ تمام ممکنہ صورتیں بیان فرمادیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا آج کا روزہ غلطی سے چھوٹ گیا ہے کیونکہ میں نے سحری وقت ختم ہوجانے کے بعد کرلی، اب مجھے یہ بتائیے کہ اس کا کفارہ کیسے ادا کروں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کتنی عمر کی بچی پر روزہ فرض ہےاور نماز بھی فرض ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
روزے میں جان بوجھ کر پانی پینے سے کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ نیز اس کے بعد کیا حکم ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ماہ رجب کے روزے کی فضیلت کے حوالے سے درج ذیل احادیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ درست ہیں؟
۱۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے ماہ حرام (رجب) کے تین روزے رکھے اس کےلیے نو سو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔ (اللألی المصنوعۃ للسیوطی)
۲۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے اور رجب کے دوسرے دن کا روزہ دو سال کا کفارہ ہے اور تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے اور پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے۔ (الجامع الصغیر للسیوطی)
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ماہ رجب کے روزے کی فضیلت پر مشتمل درج ذیل حدیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ صحیح ہے؟
فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے اور رجب کے دوسرے دن کا روزہ دو سال کا کفارہ ہے اور تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے اور پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے۔ (الجامع الصغیر للسیوطی)