ماہ نامہ مفاہیم - ڈاکٹر محمد رشید ارشد
ہم اہل علم و صلاح سے یہ جملہ آئے روز سنتے رہتے ہیں کہ عصر موجود ، دور فِتَن ہے ۔ اگر ہم اپنے اسلاف کی چار سو سال پرانی تصنیفات پڑھیں چاہے آٹھ سو سال پرانی ، ہر جگہ ایک بات آپ کو مشترک لگے گی کہ زمانہ بہت خراب ہوگیا ہے ، بہت فتنوں کا دور ہے اور جیسے قرب قیامت کی علامتیں ظاہر ہوگئی ہیں۔ آج کے لوگ اس بات کو مذاق اور تفنن کا ہدف بنالیتے ہیں کہ یہ عجیب سی بات ہے کہ اُن کو آٹھ سوسال پہلے فتنےاور آثار قیامت نظر آتے تھے اور آج بھی انھیں یہی کچھ سوجھ رہا ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - ڈاکٹر محمد رشید ارشد
یہ دور کہ جس میں ہم رہ رہے ہیں اس کے بارے میں اکثر ہم سنتے ہیں کہ یہ فتنوں کا دور ہے۔ ایمان اور عملِ صالح کے حوالے سے یہ مشکل وقت ہے۔ ایک بات تو خیر ہمیں معلوم ہونی ہی چاہیے کہ انسان کے نفس میں شر کا پہلو ہمیشہ سے رہا ہے اور وہ خِلقی ہے۔ خِلقی ان معنوں میں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی نفس کے اندر کچھ داعیات اور جبلتیں رکھی ہیں۔مثلا جنس کی جبلّت ہے،بھوک کی جبلّت ہے،ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا جذبہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کوبنایا، اور اس کی مرکزی مخلوق انسان ہے جس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے اپنی عبادت کےلیے پیدا کیا ہے۔اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ انسان اس میں رہے بسے، زندگی اور اپنی نسل کو جاری رکھے تاکہ اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - ڈاکٹر محمد رشید ارشد
تفہیمِ مدعا کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہﷺکی ذاتِ والا صفات دو حصوں میں منقسم تھی۔ایک آپﷺکا اپنے خالق و مالک ومحبوبِ حقیقی یعنی اللہ تعالی سے تعلق جس کو ہم اختصار سے تعلق مع الحق کہہ سکتے ہیں اور دوسرا ماسوا للہ سے تعلق جس کو ہم تعلق مع الخلق کا عنوان دے سکتے ہیں۔ یہ دو پہلو ہوئے آپ ﷺکی شخصیت کے ، لیکن ایک تیسری جہت بھی قائم کی جا سکتی ہے یہ ذات حق اور اس کی خلق کے درمیان ربط و رابطے کی جہت ہے ۔جب تک رسول اللہ ﷺکی ان سبھی جہات کا صحیح ادراک حاصل نہ ہو آپ ﷺکا تعارف ناقص رہ جائے گا۔