دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا ایک سنی مسلمان لڑکی کا نکاح بوہری شیعہ لڑکے سے کیا جا سکتا ہے یا کرنا جائز ہے یا حرام ہے؟ اگر انجانے میں ایسا ہو چکا ہو تو اس سے ہونے والی اولاد کے بارے میں شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟ مہربانی ہوگی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک پوسٹ موصول ہوئی جسے ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ صحیح ہے؟
’’کیا خاتون یا خاتون کے سرپرست کی طرف سے پیغام نکاح قابلِ شرم فعل ہے؟ ہمارے ہاں خاتون یا خاتون کے سرپرست کی جانب سے پیغامِ نکاح بھیجنا معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور ان سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ سن کر حضرت انس کی بیٹی بولی (کم بخت) کیا بے شرم عورت تھی، ارے تھو، ارے تھو۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ عورت تجھ سے بہتر تھی۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں خود اپنے آپ کو پیش کیا۔ (بخاری) گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہِ راست پیغامِ نکاح دینا حیا کے منافی نہیں ہے بلکہ شرف حاصل کرنے کا جذبہ ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استنباط کیا ہے کہ ایک عورت کسی صالح شخص کو اس کی نیکی کی وجہ سے پیغامِ نکاح دے سکتی ہے۔اسلام کا عمومی اصول نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بتلایا ہے کہ لا نکاح الا بولی ’’نکاح ولی کے ذریعے ہوتا ہے‘‘۔ اس طرح کے نادر واقعات سے ایسی صورت میں جب ولی نہ ہو یا عورت خود جرأت کرکے پیغامِ نکاح دے سکتی ہو، اس کا جواز نکلتا ہے، جبکہ بنیاد دین دار شوہر کی طلب ہو۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی ایک بیوہ خاتون تھیں، انھوں نے بھی آپ کو پیغامِ نکاح بھجوایا تھا۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں ان کے خاوند خنیس بن خدافہ جو آنحضرت کے اصحاب میں سے تھے، جنگ اُحد میں زخمی ہوئے تھے اور بعد میں شہید ہوگئےتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے حضرت حفصہ سے نکاح کے لیے کہامگر انھوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا (بخاری )۔یہ ایک طویل واقعے کا اقتباس ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاتون یا خاتون کے سرپرست کا اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے پیغام نکاح میں پہل کرنا کوئی قابل اعتراض اور قابلِ شرم بات نہیں ہے، جس طرح بلاوجہ ہمارے معاشرے میں اس بات کو معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ خیال رہے کہ اسلامی حدود کی پامالی اور بے حیائی کا کوئی پہلو اس میں شامل نہ ہو۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
جناب میرے ایک جاننے والے نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے یہ موبائل استعمال کیا یا اس کو چھوا تو تمہیں تین طلاق ہے۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے وہ موبائل کسی اور کو بیچ دیا، پھر اس کے کہنے کے تقریبا پانچ سے چھ ماہ بعد وہ شخص، جس کو موبائل بیچا گیا تھا، اس کے گھر ملنے آیا تو اس کی بیوی نے یہ جانے بغیر کہ یہ وہی موبائل ہے، اس کو چھو لیا، تو اب کیا تین طلاق واقع ہوں گی یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے علاقوں میں شوہر بعض دفعہ بیوی کے ساتھ لڑائی کے دوران اسے کہتاہے خاموش ہوجاؤ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ اس سے یقیناً ہمارے عرف میں مقصد استقبال ہوتا ہے نہ کہ حال، اور استقبال کا معنی غالب ہے، تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک خاتون کے شوہر ایک نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والے شخص کو نبی مانتے ہیں، اس کا اقرار بھی کرتے ہیں، ان کے حلقے میں بھی جاتے رہتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے، احادیث کا صریح انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پرصرف قرآن کی تعلیمات کو ماننا لازم ہے۔ اب اس خاتون کے نکاح کی کیا حیثیت ہے اور مزید ان کے لیے شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے؟ شریعت ان سے کیا تقاضا کرتی ہے؟ اس کی وضاحت فرمادیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال یہ ہے کہ فی زمانہ اگر مرد اپنی بیوی کو کسی اور مرد کے ساتھ دیکھ لے اور اس کے پاس گواہ بھی نہ ہو تو صورت مسئولہ میں وہ لعان کر سکتے ہیں یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرے شوہر گزشته كئي سالوں سے ميرا اور بچوں كا خرچہ نہیں اٹھارہے، میرے بھائی اور دوسرے لوگ ماہانہ مجھے پیسے دیتے ہیں، بیوی کی حیثیت سے میرا شوهر کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہے۔ آپ میری رہنمائی کریں اور مجھے بتائیں کہ ایسے شوہر کےلیے کیا حکم ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
زید اور فاطمہ میاں بیوی تھے، زید نے فاطمہ کو طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد زید نے حلیمہ سے نکاح کر لیا جبکہ فاطمہ کا نکاح بکر سے ہوگیا۔ اب سوال یہ ہے کہ زید کی جو اولاد حلیمہ سے ہے اس کا نکاح فاطمہ کی اس اولاد سے جو بکر سے ہے ہوسکتا ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر۱: اگر کوئی یہ کہتاہے کہ ہم تو محنت کر کے تنخواہ لیتے ہیں اور باقی ادارے حرام ہی لے رہے ہیں ، کچھ اداروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ وه بھی عوام کا مال کھارہی ہے، اس کے بارے میں وضاحت کردیجیے۔
سوال نمبر۲: یہ بھی بتا دیجیے کہ بینک کی جاب کرنے والے سے نکاح اور شادی کرسکتے ہیں؟
سوال نمبر۳: کیا بینک کی جاب چھوڑنے پر اس کی پینشن کی طرح جو رقم آخر میں رقم ملتی ہے وه لے سکتے ہیں؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب درکار ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مفتی صاحب مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:
۱۔کیا عدالتی خلع کے بعد ایک طلاق واقع ہوتی ہے یا دو؟
۲۔کیا عدالتی خلع کے بعد طلاق رجعی ہوتی ہے؟یعنی شوہر رجوع کر سکتا ہے؟
۳۔عدالتی خلع کے بعد کتنی عدت ہوتی ہے؟ اس عدت کے دوران شوہر رجوع کر سکتا ہے؟ بینوا وتوجروا