Menu

Fatawaa

All Posts Term: نکاح و طلاق
43 post(s) found

مفلسی دور کرنے کے لیے شادی کرنے کے حوالے سے روایت حدیث کی تحقیق

 عوام الناس میں ایک روایتِ حدیث بہت معروف ہے، جس کی اِسنادی حیثیت کی بابت  دریافت کرنا ہے۔
مسئولہ حدیث کا مفہوم کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مفلس شخص نے نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی مفلسی کا تذکرہ کیا تو آپﷺ نے اُسے شادی کرنے کی نصیحت فرمائی پھر شادی کرنے کے کچھ عرصہ بعد پھر دوبارہ اُس نے اپنی مفلسی کا ذکر کیا تو آپﷺ نے اُسے دوسری شادی کرنے کو کہا پھر دوسری شادی کرنے کے کچھ عرصہ بعد اُس نے دوبارہ اپنی مفلسی کا ذکر کیا تو آپﷺ نے اُسے تیسری شادی کرنے کو کہا ، پھر تیسری شادی کرنے کے کچھ عرصہ بعد اُس نے پھر اپنی مفلسی کا ذکر کیا تو آپﷺ نے اُسے چوتھی شادی کرنے کو کہا ۔پھر چوتھی شادی کے بعد اُسکے مالی حالات درست ہوگئے۔
براہ کرام  مسئولہ حدیث کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ مستند ہے یا نہیں۔ اگر یہ روایت مستند ہے تو کیا کسی مفلس شخص کو اِس پر عمل کرکے اپنی مفلسی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا نہیں؟

مسئلہ طلاق

ایک دن ہم میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور ہماری باتوں نے طوالت اختیار کرلی ، بات یہاں تک پہنچی کہ میں نے بیوی سے کہاکہ اگر آپ نے میرے ساتھ بستر لگا یا تو میں آپ کو طلاق دےدو ں گا۔ میری بیوی اپنی والدہ کی گھر چلی گئی اور اب کہہ رہی ہیں کہ کسی مفتی صاحب سے اس مسئلہ کے بارے دریافت کرو پھر میں آپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں، لہذا آپ مجھے اس مسئلہ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ 

مسئلہ طلاق

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور اس جھگڑے کے دوران شوہر نے بیوی سے کہا کہ "میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں" جبکہ شوہرکا یہ کہنا ہے کہ اس سے میری بالکل طلاق کی نیت نہیں تھی، غصہ کی حالت میں میرے منہ سے نکل گیا ، تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی؟ اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاق واقع ہوئی؟ اور اگر شوہر رجوع کرنا چاہتا ہو تو کیا صورت ہوگی ؟ جواب عنایت فرمائیے آپ کی عین نوازش ہوگی ۔


دوسری شادی کے وقت پہلی بیوی سے کیے جانے والے معاہدے پر عمل

زید نے دو شادیاں کیں۔ دوسری شادی کرتے وقت پہلی بیوی سے جو درج ذیل معاہدہ کیا تھا اس میں یہ بات بھی طے ہوئی تھی کہ ہفتے میں پانچ دن پہلی بیوی کے ساتھ رہوں گا اور دو دن دوسری بیوی کے ساتھ۔ اس پر شوہر اور دونوں بیویوں کی رضامندی بھی ہوئی تھی اور نکاح کے موقع پر بھی یہ معاہدہ پیش کیا گیا تھا۔ اب اس معاہدے کی رو سے بتائیں کیا شرعاً زیدپر اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہےیا یہ کہ اب دونوں بیویوں کے درمیان برابری کی جاسکتی ہے؟ معاہدہ نامہ درج ذیل ہے: 
1. ایک سال تک میں پہلی بیوی کو اس کا فلیٹ دے دوں گا۔ 
2. میں بالکل نہیں بدلوں گا اور غصہ نہیں کروں گا۔
3. میں پانچ دن پہلی بیوی ساتھ اور دو دن دوسری کے ساتھ رہوں گا۔
4. دو ماہ رات آٹھ بجے تک میں دوسری بیوی کے ساتھ رہوں گا۔ 
5. یہ سب میں پہلی بیوی کے سامنے اللہ کو حاضر ناظر جان کر تحریر کر رہاہوں۔ 
6. پہلی بیوی کا جیسا مزاج ہوگا زید اسے برداشت کریں گے۔ یہ بات مستقل بنیادوں پر ہوگی۔ 
7. ان سب شرائط پر ہم دونوں یعنی زید اور پہلی بیوی راضی ہیں اور دوسری بیوی بھی ان باتوں پر راضی ہیں۔ 
8. ان باتوں پر سختی سے عمل ہوگا اور زید روز قیامت جواب دہ ہوں گے۔

مسئلہ طلاق

ہمارے محلے میں ایک لڑکے نے اپنی بیوی کو بچے کی پیدائش کے تیسرے دن کہا، ’’جا تجھے طلاق دی‘‘، اس کے بعد وہ پریشان ہوگیا کہ یہ میں نے کیا کردیا، پھر اس نے محلے میں مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک طلاق دے دی ہے اب تم رجوع کرلو تو اس نے رجوع کرلیا۔ تیس دن بعد ان کے گھر میں پھر جھگڑا ہوااتو اس لڑکے نے اپنی بیوی کے دو مرتبہ کہا،’’جا میں نے تجھے طلاق دی، جا میں نے تجھے طلاق دی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوگئی؟ یا اب بھی ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش باقی ہے؟ ان کی دو بچیاں ہیں، ایک ابھی پیدا ہوئی تھی اور ایک دو سال کی ہے۔ ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی ہے، اس کی بیوی کہتی ہے کہ پہلی طلاق اس نے فون پر دی تھی اور اس نے جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی فون بند کردیا تھا، شوہر کہتا ہے کہ میں نے جملہ کہہ کر فون رکھا تھا اور بیوی نے پہلے ہی فون رکھ دیا تھا، یہ حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، برائے مہربانی جلد رہنمائی فرمادیں۔

دو طلاقوں کے بعد میاں بیوی کا تعلق

میں شیعہ فیملی سے تعلق رکھتی ہوں، آج سے دس بارہ سال پہلے میری شادی اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے شخص سے ہوگئی، نکاح کے وقت میرے والدین نے یہ شرط رکھی کہ نکاح اہل تشیع کے مطابق ہوگا، میرے سسرال والوں نے یہ بات مان لی، پچھلے سال میرے شوہر نے ایک اسٹامپ پیپر پہ لکھی ہوئی طلاق دی جس پر گواہوں کے دستخط بھی تھے اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی اس پر لگی ہوئی تھی، یہ پچھلے سال فروری میں انہوں نے یونین کونسل کے بجائے خود میرے والدین تک پہنچائی، والدین نے سمجھایا اور صلح کرادی، مگر اس نے خاندان میں یہ بات مشہور کردی کہ یہ میری بیوی نہیں ہے، میں نے اسے طلاق دےدی ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنا بیڈ روم اس شخص سے الگ کرلیا، اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان میاں بیوی والا تعلق نہیں رہا، پھر اسی سال جون میں اس نے مجھے طلاق دی، اسٹامپ پیپر تھا جس پر گواہوں کے دستخط اور میرے شوہرکے دستخط اور اس کا شناختی کارڈ نمبر وغیرہ سب درج تھا اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی لی ہوئی تھی۔ یہ طلاق نامہ بھی یونین کونسل کے بجائے اس نے خود آکر میری والدہ کو دی۔ دوسری طلاق کے بعد میں اپنے والدین کے پاس آگئی اور میرا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اب اس بات کو چھ سات ماہ ہوچکے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ آپ آپس میں صلح کرلیں، آپ مجھے یہ بتائیں کہ ہم دونوں کا اب کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ 
میں نے اپنا معاملہ ایک شیعہ عالم کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ مرد سنی ہے ، اس نے طلاق بھی اہل سنت والجماعت کے مطابق دینی ہے اس لیے آپ اہل سنت والجماعت کے کسی عالم، مفتی سے مسئلہ پوچھیں۔ اس کے بعد میں نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ کیا اور وکیل سے رابطہ کیا، وکیل نے نوٹری پبلک والوں سے ریکارڈ نکالنے کا کہا مگر ان کے پاس یہ طلاق رجسٹرڈ ہی نہیں ہوئی تھی، تو وکیل نے مجھے کہا کہ شریعت پاکستان کے قانون سے بلند ہے اس لیے آپ کسی مفتی سے رابطہ کریں، پاکستانی قانون کے مطابق تو طلاق نہیں ہوئی کیونکہ اس نے یونین کونسل کے تھرو یہ طلاق نہیں بھجوائی اور نوٹری پبلک والوں سے بھی اس نے رجسٹرڈ نہیں کرائی۔ 
اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا میرایہ مسئلہ کوئی اہل سنت والجماعت کا عالم حل کرے گا یا اہل تشیع کا عالم؟ اور دوسرا مجھے یہ بتائیں کہ دو طلاقوں کے بعد ہمارا کوئی تعلق اور کوئی رشتہ ہے یا نہیں؟ 

بھائیوں کے مشترکہ گھر سے ایک کمرہ بطور مہر کے دینا

 ہم چار بھائی ہیں، بڑے سے چھوٹے بھائی کی ابھی شادی ہوئی، جس میں ایک کمرہ اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے مہر طے پایا، ہمارا تین کمروں کا ایک مکان ہے، میں سب سے چھوٹا بھائی ہوں اور والدین اگر میرے ساتھ رہتے ہیں تو وہ گھر میرا ہی ہوگا، باقی تین بھائیوں کو شادی کے بعد علیحدہ علیحدہ مکان بنانے ہوں گے، اب اگر بھابھی اپنے کمرے کا مطالبہ کریں جو ان کے حق مہر میں طے ہوا تھا تو میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ ان تین کمروں میں سے ایک کمرہ انہیں دینا پڑے گا یا متبادل کوئی کمرہ بناکے دینا پڑےگایا پیسے دینے پڑیں گے یا یہ کہ یہ میری ذمہ داری نہیں ہے، ان کے شوہر کی ذمہ داری ہے؟ اس حوالے سے مجھے رہنمائی درکار ہے۔


’’میں تمہیں ہمیشہ کےلیے چھوڑ رہا ہوں‘‘ سے طلاق کا حکم

میں لندن میں رہتا ہوں اور میری بیوی پاکستان میں۔ میں نے ایک مرتبہ بیوی کو میسج لکھ کر بھیجا کہ ’’میں تمہیں ہمیشہ کےلیے چھوڑ رہا ہوں‘‘ ان الفاظ سے میری نیت طلاق کی نہیں تھی، اب مجھے بتائیے کیا اس سے طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟


معلق طلاق کا حکم

میں ایک اسکول میں ملازمت کرتی ہوں۔ میری بیٹی کی طبیعت خراب تھی اس لیے میرے شوہر نے مجھے اسکول جانے سے منع کیا تو مجھے ضد آگئی جس کے نتیجے میں نے اسے کہا کہ تم بھی اپنے دفتر سے چھٹی کرو تا کہ بیٹی کو ہسپتال لے جایا سکے۔ میں یہ بات مانتی ہوں کہ میں نے یہ بات غلط کی بہر حال شوہر کو غصہ آیا اور اس نے کہا کہ اگرتم کل سےاسکول گئیں تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہے۔خیر،آج اسکول تو میں نہیں گئی، کل انہوں نے مجھے یہ بات کہی تھی۔اور میں نے اسکول چھوڑبھی دیا۔  مجھے پوچھنا یہ ہے کہ انہوں یہ کہا کہ اگر اسکول گئیں تو میری طرف سے طلاق ہے۔ میں تو اسکول نہیں گئی اور یہ دن بھی گزر گیا۔انہوں نے ہمیشہ اسکول نہ جانے کو کہا؟ یا اسی اسکول جانے سے منع کیا یا کو ئی بھی اسکول جانے سے منع کیا یعنی کیا اب میں کسی بھی اسکول میں قدم رکھوں گی تو مجھے طلاق ہو جائے گی، یا صرف اسی اسکول کے لیے کہا گیا ہے ؟ یا اس ایک دن کے لیےکہا گیا ہے یاہمیشہ کے لیے کہا گیا ہے؟اس لیے کہ میرے بیٹے کا تو ایڈمیشن بھی اسی اسکول میں ہوا ہے۔
اگلے دن میرے شوہر بیٹے سے بات کر رہے تھے، اس سے پوچھا کہ مما کہاں ہیں؟ پھر فون پر مجھ سے بات کی اور پوچھا کہ اسکول گئیں تھیں؟ میں نے کہا کہ نہیں۔تو کہنے لگے کہ میں نےاپنے الفاظ واپس لے لیے ۔میں نے کہا کہ یہ واپس ایسے تو نہیں ہو سکتے ، یہ قسم تو نہیں ہے۔بہر حال میں نے کہا کہ میں اسکول چھوڑ چکی ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسکول چھوڑنے کو نہیں کہا تھا صرف چھٹی کا کہا تھا ۔ میں نے کہا کہ تم نے تو  فقط اسکول کا کہا تھا اور تم نے کو ئی خاص اسکول کو متعین نہیں کیا تھا بلکہ بس یہ کہا تھا کہ اسکول گئیں تو طلاق ۔ اور مجھے تو آگے بچوں کے سلسلے میں کہیں نا کہیں اسکول تو جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری سوچ ہے میرے ذہن میں ایسا کچھ نہیں تھا، میرے ذہن میں بس چھٹی تھی وہ بھی بیٹی کی وجہ سے۔اور آئندہ بھی اگر میرے بچوں کی طبیعت خراب ہو تی تو بھی میں تمہیں چھٹی کرواتا۔انہوں نے کہا کہ میں تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا بس تمہیں ڈراتا ہوں  اور تم بس ایسے ہی خاموش ہو تی ہو۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔