ماہ نامہ مفاہیم - استاذ عمران چھاپڑا
سیرتِ نبویﷺسے منہجِ انقلاب کی تشکیل کا اصول یہ بیان کیا گیا کہ سیرت کا مطالعہ معروضی طور پر (objectively) کیا جائے اور پھر سیرتِ مطہرہ کے حالات و واقعات کو خاص سے عام (generalize) کر کے اصول و مبادی مستنبط کیے جائیں اور ان کی روشنی میں انقلابی عمل کے مراحل و مدارج ا ور لوازم طے کیے جائیں۔اس تعبیر اور طرز تعبیر پر کچھ گذارشات عرض کرنا پیشِ نظر ہے۔ ہماری گزارشات تین اطراف سے ہوں گی: ایک تصورِ سیرت و سنت کے بارے میں، دوسرے معروضیت (objectivity)کے بارے میں اور تیسرے عموم (generalization) کے بارے میں ۔
ماہ نامہ مفاہیم - استاذ عابد علی
سرورِ عالم سید ولدِ آدم حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺکا بچپن مبارک سیرت نگاری کا اہم موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو اخص الخاص بنایا اور یہ منظور نہیں فرمایا کہ کوئی کسی بھی درجے میں آپﷺسے کسی بھی اعتبار سے بلند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺکی تعلیم وتربیت کا ابتدا سے انتہا تک خود ہی انتظام فرمایا۔ دنیاکے کسی شخص کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ آپﷺکا استاد ہے یا کسی نے آپ کی تربیت فرمائی۔ آپﷺکے والدِ ماجد کا انتقال آپ کی ولادت سے قبل ہی ہو گیا، اور چھے برس کی عمر میں والدہ ماجدہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ اس کے بعد عموماً سیرت نگاروں نے یہ بات درج کی ہے کہ آپﷺکی پرورش آپ کے چچا اور دادا نے کی مگر حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی صاحب رحمہ اللہ نے اس بارے میں یہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ آپﷺکی پرورش انھوں نے نہیں بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے براہ ِراست فرمائی، اور ساتھ ہی ساتھ آپﷺکی برکت سے ان سب کو بھی کئی نعمتوں سے نوازا۔
ماہ نامہ مفاہیم - حافظ حماد احمد ترک
نعت کی ابتدا تو سابقہ انبیا کے مبارک صحیفوں میں میرے آقا ﷺکی آمد کی اَخبار اور آپ ﷺکے اوصاف کے بیان سے ہو چکی تھی لیکن اسے عروج؛ قرآنِ مجید میں حاصل ہوا۔ چنانچہ کہیں﴿وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ﴾ تو کہیں ﴿عَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْم﴾ کہا گیا۔کہیں ﴿مَا وَدَّعَکَ﴾ اور ﴿مَا قَلیٰ﴾ سے دل جوئی کی گئی، تو کہیں ﴿اَنْتَ فِیْھِمْ﴾ سے آپﷺکی عظمت اجاگر کی گئی۔ کبھی ﴿لَقَدْ مَنَّ اللہُ﴾ پڑھا تو آپﷺکی قدر ومنزلت آنکھوں کے راستے درونِ قلب تک جا پہنچی اورکبھی ﴿لاتَرْفَعُوْا﴾ سنتے ہی تمام تر اجساد خاکی آپﷺکی تعظیم میں جھکتےچلے گئے۔ کہیں تو شارع نے دوٹوک الفاظ میں ﴿وَمَا اٰتَاکُمْ﴾ سے آپﷺکے اقوال و افعال کی حجیت کا اعلان کیا اور جب کبھی اپنی شانِ رحمت کے اظہار کے لیے نطق فرمایا توآپﷺرحمۃ للعلمین قرار پائے،اگرکہیں﴿اِنَّمَا اَنَا بَشَر﴾ سے عبدیت اور بشریت کی طرف اشارہ ہوا تو ﴿قَابَ قَوْسَیْن﴾کے ذکر سے اپنے بندے کو رفعتوں اور قربتوں کی معراج پر پہنچا دیا۔ صلی اللہ علی محمد!
ماہ نامہ مفاہیم - ڈاکٹر محمد رشید ارشد
تفہیمِ مدعا کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہﷺکی ذاتِ والا صفات دو حصوں میں منقسم تھی۔ایک آپﷺکا اپنے خالق و مالک ومحبوبِ حقیقی یعنی اللہ تعالی سے تعلق جس کو ہم اختصار سے تعلق مع الحق کہہ سکتے ہیں اور دوسرا ماسوا للہ سے تعلق جس کو ہم تعلق مع الخلق کا عنوان دے سکتے ہیں۔ یہ دو پہلو ہوئے آپ ﷺکی شخصیت کے ، لیکن ایک تیسری جہت بھی قائم کی جا سکتی ہے یہ ذات حق اور اس کی خلق کے درمیان ربط و رابطے کی جہت ہے ۔جب تک رسول اللہ ﷺکی ان سبھی جہات کا صحیح ادراک حاصل نہ ہو آپ ﷺکا تعارف ناقص رہ جائے گا۔
ماہ نامہ مفاہیم - فتاوی یسئلونك
سوال: میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ میلاد منانا جائز ہے؟
سوال: السلام علیکم! عید میلاد کے متعلق علماے دیوبند کیا فرماتے ہیں؟
سوال: السلام علیکم! عید میلاد کے متعلق علماے دیوبند کیا فرماتے ہیں؟
سوال:روضۂ رسولﷺپر حاضری کے آداب اور درود و سلام پیش کرنے کا صحیح طریقہ بتا دیں اور کونسا درودسلام پڑھنا چاہیے یا جس کی فضیلت زیادہ ہو وہ بتا دیں؟
ماہ نامہ مفاہیم - محمد ایاز
امتِ مسلمہ کو ہر دور میں مختلف مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ان مسائل کی نوعیت اور صورتیں اگرچہ مختلف رہیں لیکن ان کے اسباب و وجوہات میں ایک چیز تقریبا ہر دور میں مشترک رہی :عدمِ اتحاد و یکجہتی ۔مسلمان جب متحد تھے تو ملک کیا پورے پورے براعظموں پر عدل و مساوات کا نظام قائم کیے رکھتے تھے ، لیکن جیسے جیسے اتحاد اور یکجہتی کا فقدان فقدان ، اجتماعی مفادات پر ذاتی مفادات کی ترجیح اور امت پن کے تصور میں کمزوری آتی گئی مسلمانوں کا شیرازہ بکھرتا چلا گیا۔آج امتِ مسلمہ کو جتنے بھی مسائل کا سامنا ہے یکجہتی اورایک امت ہونے کے تصور کا فقدان ہی اس کی اصل وجہ ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - شعبہ تعلیم
یک سالہ تعلیم الاسلام کورس،
الشھادۃ الدراسیۃ في العلوم الإسلامیۃ سالِ اول تا سالِ پنجم،
درسِ نظامی درجۂ اولیٰ و ثانیہ،
مختصر تعلیم الاسلام کورس،
عربی گرامر دس ماہ کورس،
قرآنی عربی کورس