Menu

Mafaheem

All Posts Author: مولانا محمد اقبال

درسِ قرآن

اس بحث سے یہ بات پتا چلی کہ مذکورہ ا ٓیت میں سیئہ سے مرادشرک و کفر ہے،اور یہی اہل سنت والجماعت کے مذہب کے مطابق ہے۔اس سے عام کبائر مراد نہیں لیے جاسکتے جیسا کہ معتزلہ اور خوارج کامذہب ہے۔اوراس آیت مبارکہ کے سیاق و سباق سے پتا چلتا ہےکہ اس میں اہل کفر کے انجام سے بحث ہوئی ہے،اہل ایمان کے متعلق سرے سے بحث ہی نہیں ہورہی۔امام نسفی تفسیر میں لکھتے ہیں:إذا مات مؤمناً فأعظم الطاعات وهو الإيمان معه فلا يكون الذنب محيطاً به فلا يتناوله النص ’’جب کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے تو طاعتوں میں  سب سے بڑی طاعت یعنی  ایمان اس کے ساتھ ہوتا ہے ،تو گناہ اسے احاطہ نہیں کر سکتا ۔پس  اس پراس آیت کا اطلاق نہیں ہو سکتا‘‘۔

طلوعِ آفتابِ رسالت ﷺ اور خوارق کا ظہور

مشہور و معروف قول کے مطابق شہنشاہِ کونین ﷺ۱۲ ربیع الاول کو مکہ میں صبحِ صادق کے وقت ابوطالب کے مکان میں پیدا ہوئے ،لیکن جمہور مورخین اور محدثین کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ ولادتِ باسعادت کی تاریخ ۸ ربیع الاول یوم دوشنبہ، اپریل ۵۷۰ عیسویں ہے۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے یہی مروی ہے،1جبکہ علامہ شبلی رحمہ اللہ نے مصر کے مشہور ہیئت دان محمود پاشا کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضور ﷺکی ولادت ۹ ربیع الاول بروز دوشنبہ ، ۲۰ /اپریل ۵۷۱ عیسویں میں ہوئی۔ 2

گزشتہ شمارے

2021 January  203  9
2020 November  544  7
2020 October  468  11

Magazine Segments