Menu

Fatawaa

All Posts Term: فقہ و فتویٰ
34 post(s) found

چوری چھپے بکنے والے تمباکو اور چھالیا کی خرید وفروخت کا حکم

آج كل جیم، رتن، رجنی، ون ٹو ون کے نام سے گٹکے کی طرح چھالیا آتی ہے۔ یہ کمپنیاں گٹکے کی قسم کی چھالیا بناتی ہیں لیکن ٹیکس نہیں بھرتیں اور چھپ چھپا کر بیچی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

حصول اولاد کے جدید طریقوں کی شرعی حیثیت

حصول اولاد کے جدید طریقوں کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے۔ آج کل یہ طریقے یورپ اور انڈیا میں بہت عام ہوچکے ہیں، پاکستان میں ابھی اس کا رجحان کم ہے، لیکن جس طرح نئی چیزیں بہت جلد اپنالی جاتی ہیں توخطرہ ہے کہ پاکستان میں بھی یہ عام نہ ہوجائے۔ حصول اولاد کے فطری طریقے کے علاوہ دو اور طریقے ہیں:
۱۔ ایک اسپرم بینک کا طریقہ ہے، اس میں یہ ہے کہ ایک مرد اپنا مادہ تولید اسپرم بینک کو ڈونیٹ کردیتا ہے اور اس میں اس کے ساتھ اس کی تفصیلات لکھی ہوتی ہیں کہ فلاں شخص کا ہے، فلاں علاقے کا ہے، رنگ ایسا ہےاور اس شخص میں یہ یہ خامیاں اور یہ یہ خوبیاں ہیں، وغیرہ۔ پھر کوئی خاتون آکر اپنی مرضی کا اسپرم لے کر اپنے رحم میں رکھوالیتی ہے اور پھر وہ حاملہ ہوجاتی ہے اور ڈیلیوری ہوتی ہے۔ بظاہر تو یہ حرام ہی لگتا ہے کہ غیر محرم کامادہ تولید اپنے رحم میں رکھوانا زنا کہلائے گا اور اولاد ولد الزنا کہلائے گی، اس بارے میں شرعی حکم بیان فرمادیں۔ 
۲۔ دوسرا طریقہ سیروگیسی مدر(Surrogacy Mother) کا ہے، جیسے کچھ خواتین ہوتی ہیں جن کے ہاں حمل ٹھہرتا نہیں ہے، یا اگر ٹھہرتا ہے تو گرجاتا ہے تو اس میں یہ کیا جاتا ہے کہ مرد کا مادہ تولید اور عورت کا ایک خاص حصہ لے کر ملاکر ایک خاص ماحول میں رکھا جاتا ہے، جب وہ حمل بڑھ جاتا ہے تو اس بچے کو دوبارہ ماں کے رحم میں لگادیا جاتا ہے، یہ ٹیسٹ ٹیوب بے بیز (Test Tube Babies) کہلاتے ہیں۔ سیروگیسی مدر میں یہ ہوتا ہے کہ مرد کے مادہ تولید اور عورت کے حصے کے ملاپ کے بعد وہ بچہ اسی عورت میں لگانے کے بجائے کسی اور عورت کے رحم میں لگادیا جاتا ہے اور وہ عورت اس کی سیروگیسی مدر کہلاتی ہے، پھر جب نو مہینے پورے ہونے کے بعد وہ بچے کو جنم دے دیتی ہے تو دوبارہ وہ اصل ماں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ اس کی اصل ماں کہلائے گی، وہ عورت سیروگینٹ ماں کہلائے گی اور بچہ سیروگینٹ بچہ کہلایا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ یہ میرے دوست کا یورپ سے سوال ہے اس نے بتایا کہ یورپ میں بہت زیادہ یہ طریقہ رائج ہے، اس سے فائدہ یہ ہے کہ وہ حمل اور بچہ جننے کی تکلیف سے بچ جاتی ہے اور بچہ بھی لوٹادیا جاتا ہے۔ جبکہ سیروگینٹ مدر کو اس کے بدلے دس ہزار ڈالر مل جاتے ہیں۔ اس کو یہی کہا کہ بظاہر تو حرام ہی لگتا ہے تو اس نے کہا کہ دائیاں جو دودھ پلاتی ہیں اس میں بھی تو کچھ نہ کچھ دوسری عورت کا حصہ مل جاتا ہے تو اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیراً

ivf اور iui کے طریقہ کار سے اولاد لینا

 کیا ivf اور iui کے طریقہ کار سے اولاد لینا جائز ہے؟ جیسے ہم مثال کے طور پر حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ پروسیجر نہیں کیے اور صبر کیا، اگرچہ پھر زکریا علیہ السلام کی اولاد تو ہوگئی۔ لہذا انبیاء کی صورت میں ایسا کرنا صحیح نہیں تھا تو کیا موجودہ وقت میں اگر ہم یہ کریں تو جائز ہوگا یا نہیں؟

آن لائن ڈراپ شپنگ

آن لائن ڈراپ شپنگ کے بارے میں رہنمائی کردیں کہ کیا شرعی طور پر یہ حلال کاروبار ہے؟
آن لائن ڈراپ شپنگ بزنس میں مال قبضے میں نہیں لیا جاتا اور پروڈکٹ کی ویب سائٹ پر ساری معلومات دی جاتی ہیں اور جب آرڈر آتا ہے تو مینوفیکچرر سے رابطہ کر کے وہ پروڈکٹ ڈلیور کیا جاتا ہے۔ ڈراپ شپنگ کرنے والا ایک مڈل مین کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں تین باتیں بہت اہم ہیں جو درج ذیل ہیں:
1۔ مال قبضے میں نہیں ہوتا۔
2۔ جب آرڈر آتا ہے تو پروڈکٹ خریدنے کے بعد مینوفیکچرر کو بتایا جاتا ہے کہ وہ پروڈکٹ خریدار کے پتے پر بھیج دے۔
3۔ آرڈر ملنے سے پہلے  مینوفیکچرر کے ساتھ ڈراپ شپنگ ایجنٹ کا یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ وہ مینوفیکچرر کی پروڈکٹ پرافٹ رکھ کر آگے سیل کرے گا، یعنی جو بھی  قیمت مینوفیکچرر نے بتائی ہے اس پر پرافٹ رکھ کر ڈراپ شپنگ ایجنٹ پروڈکٹ کو قبضے میں لیے بغیر اگر خریدار کو سیل کرتا ہے، پھر جو آرڈر آتا ہے تو ڈراپ شپر پروڈکٹ خرید کر مینوفیکچرر کے ذریعے وہ پروڈکٹ ڈیلیور کرتا ہے۔ یہ بات مینوفیکچرر کو پتا ہوتی ہے مگر خریدار سے یہ بات چھپی ہوتی ہے۔
کیا یہ بزنس شرعی طور پر حلال ہے؟ کیوں کہ اس کا رجحان بہت عام ہو گیا ہے۔

موبائل ایپلی کیشن کے ذریعہ نفع حاصل کرنا

موبائل ایپلکیشن کے ذریعے آپ اپنے اکاؤنٹ میں کچھ رقم مینٹیں کریں اور پھر خریداری پر آپ کو کیش بیک کی صورت میں پوائنٹس اور پیسے وصول ہوتے ہیں۔ فرمائیے گا کہ کیا یہ جائز ہیں کہ نہیں؟ اگر بغیر کیس کم از کم بیلنس کا ڈسکاؤنٹ ملتا ہے کسی ہوٹل پر یا پٹرول پمپ پر تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

سودی منافع سے کسی کی مدد کرنا

 میں نے حال ہی میں اپنے مرحوم والد کے ساتھ مشترکہ ایک غیر فعال سیونگ اکاؤنٹ جو لوکل بینک میں تھا بند کروایا ہے۔ آخری بیلنس شیٹ کے مطابق جمع شدہ رقم پر منافع وقتاً فوقتاً دیا گیا ہے۔ میں وہ منافع اپنی ذات پر استعمال کرنا نہیں چاہتا، جو کہ شاید سود ہے۔ کیا میں وہ رقم ایک ایسے مستحق شخص کو دے سکتا ہوں جس کو اپنے گھر کی مینٹیننس کے لیے ضرورت ہے؟ 

سودی بینک میں ملازمت کا حکم

 میرا سوال ہے کہ ایک شخص جو سودی بینک میں ملازمت کرتا ہے اور ان ہی پیسوں سے عمرہ کر کے آئے، تو کیا ایسے شخص کا عمرہ ہوجاتا ہے؟ اور اگر یہی شخص عمرہ سے واپسی پر ایک جائےنماز تحفہ میں دے تو کیا اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اگر نماز پڑھ لی تو کیا گناہ ہوگا؟ اگر ہاں تو اس کا کفارہ بتا دیں۔

کال سینٹر کی جاب کے حوالے سے سوالات

سوال نمبر۱: میں نے ایک کال سینٹر میں نوکری شروع کی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایسے کال سینٹر میں کام کرنا جائز ہے جہاں ہمیں کسی ہیلتھ انشورنس کی کمپنی کے بارے میں سروسز مہیا کرنی ہوں، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کال سینٹر اس ہیلتھ انشورنس کمپنی کا ہے یا پھر اس کال سینٹر کے ذریعے ہمیں صرف لوگوں سے اس کی پروڈکٹس اور سروسز بیچنی ہوتی ہیں۔ 
سوال نمبر۲: دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو باہر دوسرے ممالک میں کال کرنی ہوتی ہے اور اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنا نہیں بلکہ کسی دوسرے شخص کا تعارف کرانا ہوتا ہے اور ساتھ یہ بتانا پڑتا ہے کہ میں یہاں سے نہیں بلکہ اس ملک سے بات کررہا ہوں جہاں وہ کال کرنے والا رہتا ہے۔ کیا یہ جھوٹ کے دائرے میں شامل نہیں ہوگا؟