Menu

Fatawaa

All Posts Term: علوم القرآن
24 post(s) found

وتر میں پڑھی جانے والی سورتیں

کیا طحاوی میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے وتر کی ان نو سورتوں کی ان ہی ترتیبوں کے ساتھ کوئی روایت موجود ہے؟ اگر ہے تو براہ کرم ہمیں بھیج دیں۔ سورتیں یہ ہے: 
 پہلی رکعت میں: سورۃ القدر، سورۃ الزلزال، سورۃ التکاثر
دوسری رکعت: سورۃ العصر، سورۃ الکوثر، سورۃ النصر
تیسری رکعت: سورۃ الکافرون، سورۃ اللھب، سورۃالاخلاص

قرآن مجید میں مور کے پر رکھنے کا حکم

 بعض لوگ قرآن مجید میں مور کے پر ثواب سمجھ کر رکھتے ہیں، حالانکہ یہ بات یقین سے بھی نہیں کہی جاسکتی کہ آیا وہ نجاست سے پاک ہیں یا نہیں۔ براہ کرم مذکورہ مسئلہ سے متعلق شرعی حکم بیان فرما دیجئے۔

قرآن مجید کے ریک کو جوتوں کے لیے استعمال کرنا

 سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کے لیے بنائے گئے ریک کو، جس میں کافی عرصے تک قرآن مجید رکھے رہے ہوں، جوتوں کے ریک کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اگر ایسا کیا گیا ہو تو کیا حکم ہے؟

قرآن پاک پڑھنا چھوڑدینا

جس شخص نے لڑکپن میں قرآن پاک کو پڑھا اور دہرایا لیکن جوان ہوکر قرآن پاک پڑھنے سے قاصر ہوجائے اور وقت اور وسائل ہونے کے باوجود قرآن دوبارہ نہ سمجھے اور نہ پڑھنا سیکھے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

لے پالک بچے کی نسبت

 کیا لے پالک بچے کو والد کا نام نہ دینا گناہ ہے؟ اگرچہ والد کی وراثت میں اسے حصہ مل رہا ہو اور چچا ہی نے اسے گود لیا ہو، اسکول میں اس کے والد کا نام چچا ہی کا رکھا گیا ہو، کیا والد کا نام دینا لازمی ہے؟ اور نہ دینے کی صورت میں گناہ ہے؟

ممسلسل گناه كبيره كا ارتكاب

بعض مقررین یہ بیان کرتے ہیں کہ جانتے بوجھتے کسی ایک کبیرہ گناہ کے مسلسل ارتکاب سے کوئی مسلمان خلود فی النار کا مستحق ہو جاتا ہے اور اس کے لیے وہ سورۃ البقرہ کی آیت «بلی من کسب...» کا حوالہ دیتے ہیں ازراہ کرم مذکورہ آیت کی تفسیر کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں شرعی راہ نمائی فرمائیں ۔

سورۃ القلم کی تفسیر میں مذکور روایت کی تحقیق

سورة القلم كي پهلي آيت هے:  «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ»  اس كي تفسير ميں کہا گیا ہے کہ یہاں «ن» سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم) مطلب یہ ہے کہ یہاں "ن" سے مراد یہ مچھلی ہے، طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے، ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا لکھ اس نے پوچھا کیا ؟ فرمایا جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے عمل، رزق عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا، مجاہد فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے، واللہ اعلم
تفسیر الطبری ج ٢٣ ص ٥٢٤ میں ہے: حدثنا واصل بن عبد الأعلى، قال: ثنا محمد بن فُضَيل، عن الأعمش، عن أبي ظبيان، عن ابن عباس قال: أوّل ما خلق الله من شيء القلم، فقال له: اكتب، فقال: وما أكتب؟ قال: اكتب القدر، قال فجرى القلم بما هو كائن من ذلك إلى قيام الساعة، ثم رفع بخار الماء ففتق منه السموات، ثم خلق النون فدُحيت الأرض على ظهره، فاضطرب النون، فمادت الأرض، فأُثبتت بالجبال فإنها لتفخر على الأرض(تفسير الطبري) ترجمہ:’’ أبي ظبيان ، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں سب سے پہلی چیز جو الله نے خلق کی وہ قلم ہے پس اس کو حکم دیا لکھ – قلم نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ پس قلم لکھنا شروع ہوا جو بھی ہو گا قیامت تک ، پھر اس کی سیاہی کے بخارات آڑ گئے جس سے آسمان بن گئے پھر النون کو تخلیق کیا جس پر زمین کو پھیلا دیا پھر النون پھڑکی جس سے زمین ڈگمگائی پس پہاڑ جما دیے‘‘۔
سوره القلم کی تفسیر میں ابن کثیر لکھتے ہیں: وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ يُقَالُ النُّونُ الْحُوتُ الْعَظِيمُ الذي تحت الأرض السابعة، وقد ذكر الْبَغَوِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ إِنَّ عَلَى ظَهْرِ هذا الحوت صخرة سمكها كغلظ السموات وَالْأَرْضِ، وَعَلَى ظَهْرِهَا ثَوْرٌ لَهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ قَرْنٍ وَعَلَى مَتْنِهِ الْأَرَضُونَ السَّبْعُ وَمَا فِيهِنَّ وما بينهن، والله أَعْلَمُ.(ابن کثیر) ترجمہ:’’ اور ابن أَبِي نَجِيحٍ نے کہا کہ ان کو ابراہیم بن بکر نے خبر دی کہ مجاہد نے کہا وہ (لوگ) کہا کرتے النون ایک عظیم مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے اور البغوی نے ذکر کیا اور مفسرین کی ایک جماعت نے کہ اس مچھلی کے پیچھے چٹان ہے جیسے زمین و آسمان ہیں اور اس کے پیچھے بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں‘‘۔
سوال يه هے كه كيا مچھلی والی بات درست اور حدیث سے ثابت ہے؟

’’اولوا الامر‘‘ کی تفسیر

 سورۃ النساء  آیت نمبر۵۹ کے ذیل میں یہ واضح فرمائیے کہ کیا ’’اولوا الامر‘‘ سے مراد حکمران وقت ہیں؟ مزید یہ کہ اختلاف کی صورت میں جو معاملے کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹانے کو کہا گیا ہے تو کیا یہ اختلاف مسلمانوں کا حکمران وقت سے ہے یا مسلمانوں کے درمیان کسی فقہی مسئلے میں اختلاف مراد ہے؟یہ بھی واضح کیجیے کہ اس آیت سے حکمران وقت کے خلاف بغاوت کی کیا صورت ہوسکتی ہے اس پر بھی روشنی ڈالیے، برائے مہربانی اگر تفصیلی جواب ابھی ممکن نہ ہو تو اس حوالے سے مطالعہ کرنے لیے کسی مفصل کتاب کا نام بتادیجیے۔