Jul
15
2020
سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کے لیے بنائے گئے ریک کو، جس میں کافی عرصے تک قرآن مجید رکھے رہے ہوں، جوتوں کے ریک کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اگر ایسا کیا گیا ہو تو کیا حکم ہے؟
الجواب باسم ملهم الصواب
قرآن کریم کے لئے بنائے گئے ریک کو کسی ایسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے جس میں بے ادبی نہ ہو مثلا اس میں کتابیں یا کوئی ضرورت کا سامان رکھ سکتے ہیں لیکن اس میں جوتے رکھنا ادب کے خلاف ہے اس لئے قرآن کریم کے ریک کو جوتے رکھنے کے لئے استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
محا لوحا يكتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، 1/ 213)
ويجوز رمي براية القلم الجديد، ولا ترمى براية المستعمل لاحترامه، كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم، كذا في القنية. (الفتاوى الهندية، 5/ 324)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4476