دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مندرجہ ذیل حدیث کے حوالے سے درج ذیل سوالات کے ضمن میں براہ کرم راہنمائی فرما دیجیئے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (بروایت حضرت انس بن مالک) تم میں سے جب کسی کو نماز پڑھتے پڑھتے نیند کا غلبہ ہونے لگے تو اسے چاہیے کہ سو جائے یہاں تک کہ (نیند کا خمار کچھ نکل جائے اور) وہ یہ سمجھ سکے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔ (صحیح بخاری، سنن النسائی)
کیا مندرجہ بالا حدیث کی اسنادی حیثیت درست ہے؟ اور کیا نیند کو نماز پر فوقیت دینا شرعا درست ہے؟ اور کیا نیند کے غلبے کے تحت فجرکی نماز یا دیگر نمازوں کو مؤخر کرنا اور آخری وقت میں پڑھنا درست ہے؟ نیند کے غلبے کی وجہ سے باجماعت نماز کو چھوڑنا، کیا یہ شرعا درست ہے؟ جزاکم اللہ خیرا
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
یہ حدیث مبارکہ سند اور صحت کے اعتبار سے کس درجہ کی ہے ’’من ترك الصلوة متعمدا فقد كفر‘‘ نيز اگر یہ حدیث مبارکہ دلیل اور حجت کی حیثیت رکھتی ہے تو پھر آجکل ہماری نجانے کتنی صلواتیں (نمازیں) چھوٹ جاتی ہیں یا رہ جاتی ہیں تو کیا ہر صلوٰۃ چھوٹ جانے یا ترک ہو جانے پر ایمان اور نکاح کا اعادہ اور تجدید ضروری ہو گا؟ کیونکہ اگر کلمہ کفر جیسے زبانی فعل سے نکاح منسوخ ہوگیا تو صلوٰۃ چھوٹ جانا تو عملی کفر ہوا اس لحاظ سے یہ زیادہ خطرناک ہونا چاہیے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مجھے یہ شوق ہے کہ میں کسی بڑے جائے نماز پر اپنی اہلیہ کے ساتھ کھڑے ہوکر قضاء عمری ادا کروں۔ کیا اس طرح کرنا میرے لیے درست ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرے گھر کے قریب دو مساجد ہیں، ایک کے امام صاحب موزے (جرابوں) پر مسح کرکے نماز پڑھ لیتے ہیں اور دوسرے جو ایسا نہیں کرتے تو وہ قرآن ہاتھ میں لے کر نماز پڑھاتے ہیں۔ اب کیا کیا جائے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ذیل میں ایک تحریر لکھی جارہی ہے جس کے ذریعہ کچھ لوگ خواتین کو عید کی نماز میں شریک ہونے کا حکم اور ترغیب دیتے ہیں۔ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
’’نماز عیدین عورتوں پر بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح مردوں پر فرض ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں حکم ہوا کہ ہم عیدین کے دن حائضہ عورتوں اور پردہ نشین لڑکیوں کو باہر لے جائیں تاکہ وہ جماعت المسلمین کے ساتھ دعاؤں میں شامل ہو سکیں، البتہ حائضہ عورتوں کو نماز کی جگہ سے علیحدہ رکھیں۔ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ! ہم میں بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے پاس چادر (برقع) نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کے ساتھ جانے والی عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی چادر کا ایک حصّہ اسے اوڑھا دے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب الصلاۃ فی الثیاب)
اے ایمان والو! غور کرو کہ عورتوں کا عید گاہ میں جانا کتنا ضروری ہے؟ اے ایمان والو! صلوٰۃ العیدین میں عورتوں کا جانا حکمِ رسول ﷺسے ثابت ہے۔ کیا آج اس پر عمل ہو رہا ہے؟ غور کیجیئے جو لوگ عورتوں کو صلوٰۃ العید ین کے اجتماع میں جانے کے لیے تو منع کرتے ہیں مگر شادی بیاہ کی غیر ضروری و جاہلانہ رسموں اور گانے بجانے کی محفلوں میں جانے سے منع نہیں کرتے اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
نماز مىں ثناء، تعوذ، تسمیہ، سورہ فاتحہ پھر كم از كم تىن قرآنى آیات، ركوع كے كلمات، سجدہ كے كلمات اور قعدہ كے كلمات، پھر آخرمىں دائیں بائیں سلام پھیرنا۔ ان تمام كلمات كو اپنے اپنے مقام پر پڑھنے اور اسى ترتیب كے ساتھ پڑھنے كا بىان احادىث صحاح ستہ سے ثابت ہے؟ اگر ثابت ہے تو برائے مہربانى ان احادىث كے حوالہ جات دے دیں۔ جزاك اللہ۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے ہند وپاک میں جو جتنا بڑا بے نمازی ہوتا ہے اس کے جنازے میں بدعات بھی اتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ بے نمازی کے بارے میں ائمہ کے اقوال بھی بہت سخت ہیں کہ ایسا شخص مسلمان ہی نہیں جو بالکل نماز نہیں پڑھتا، قتل تک کے فتاوی ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں بہت بڑا نمازی ہوں لیکن نماز کی اہمیت اجاگر کرنے کی خاطر کیا یہ ممکن نہیں کہ جو علمی بڑی شخصیات ہوں وہ اس کے جنازے میں شریک نہ ہوں، بس کچھ قریبی رشتے دار اور امامِ مسجد اس کے جنازے اور تدفین کی کارروائی مکمل کریں؟ جس طرح آپ ﷺ کے پاس مقروض کا جنازہ لایا گیا تو آپ نے خود نہیں پڑھا لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو منع بھی نہیں کیا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ذیل میں سنت مؤکدہ اور سنت غیر مؤکدہ کی ادائیگی میں جو فرق بیان کیا گیا ہے، اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ کیا یہ درست ہے؟
’’سنتِ مؤکدہ و غیرمؤکدہ کی ادائیگی میں فرق یہ ہے کہ اگر نمازی چار رکعت سنتِ مؤکدہ ادا کر رہا ہے تو دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد پورا پڑھنے کے بعد اور درودِ ابراہیمی سے قبل کھڑا ہوجائے۔ تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورۃ ملاکر معمول کے مطابق قعدہ اخیرہ میں تشہد، درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔ جبکہ سنتِ غیر مؤکدہ کی ادائیگی کے دوران دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد کے بعد درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھے پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا جائے، تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد سورہ فاتحہ سے پہلے ثناء اور تعوذ و تسمیہ پڑھے۔ بقیہ نماز مؤکدہ سنتوں کی طرح ادا کریں گے۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کورونا کی وبا کے بعد جبکہ حکومت کی جانب سے SOPs پر مکمل عمل درامد کے بعد مساجد میں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ ادا کی جاسکتی ہے، الحمدللہ۔ مگر ہمارے ادارے جہاں میں نوکری کرتا ہوں ، وہاں پر تمام ملازمین کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد جانے پر پابندی ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ آپ دفتر میں ہی جمعہ کی نماز پڑھ لیں یا پڑھا لیں۔ اگر آپ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد گئے تو نوکری سے برخاست کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں جبکہ حکومت کی جانب سے نرمی کی گئی مگر ایک نجی ادارہ اپنے ملازمین کے ایسا حکم نامہ جاری کرےتو ہم کیا کریں؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نماز جمعہ دفتر میں ہی ادا کرسکتے ہیں جبکہ دفتر میں موجود ایک ساتھی جو با شرع ہیں، نماز جمعہ کا خطبہ بھی وہ پڑھ سکتے ہیں اور باجماعت نماز اور خصوصاً نماز جمعہ کے مسائل کے بارے میں بھی جانتے ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر۱: بعض اوقات شدید تھکاوٹ یا نیند کا معاملہ ہوتا اور عین اس وقت نماز کا وقت ہو جاتا ہے ایسی حالت میں نماز ادا کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے کیا اس حالت میں ہم نماز قضا کر کے پڑھ سکتے ہیں؟
سوال نمبر۲: دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات درست ہے جو رزق انسان کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے اسے اتنا ہی ملے گا چاہے اب انسان آٹھ گھنٹے کام کرے یا چوبیس گھنٹے کام کرے، انسان کا جو رزق لکھ دیا گیا اس سے زیادہ نہیں مل سکتا اسے تفصیل سے بیان کردیجیے۔