Jun
26
2020
ميں كيمونكيشن انجينئر ہوں، مجھے ايك كمیونكيشن كمپنى ميں ملازمت كى پيشكش ہوئى ہے، ،چوں کہ يہ ملازمت نيٹ ورك ( آلات كو ايك دوسرے سے ملانے ) سے متعلقہ ہے، اس ليے اس ميں سودى پراجيكٹ كا ہونا بھى ضرورى ہے، يعنى ان ميں لازمى سودى پراجيكٹ بھى ہونگے، اوراگر يہ كمپنى كسى ایسے قسم كے پراجيكٹ پر عمل كرتى ہے تو كيا ميرے ليے اس كمپنى ميں ملازمت كرنا جائز ہے؟
الجواب باسم ملهم الصواب
اگر کسی کمپنی کا کام محض سودی معاملات میں معاونت پر منحصر ہو تب اس میں نوکری کرنا اور اس کی تنخواہ لینا دونوں حرام ہیں، کیونکہ یہ خالص سودی معاونت اور اس کی اجرت ہے۔لیکن اگر کمپنی کاغالب کام عمومی سافٹ ویئر بنانے کا ہے تو اس کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے، البتہ اگر مجبوری میں متعین طور پر سودی سافٹ ویئر بنا کر دینا پڑے تو اپنی تنخواہ میں سے اتنی ہی مقدار رقم بلا نیت ثواب صدقہ کردی جائے۔
(الف) ثُمَّ إنَّهُ ذَكَرَ فِي الذَّخِيرَةِ وَالْمُحِيطِ: إذَا اسْتَأْجَرَ الذِّمِّيُّ مِنْ الْمُسْلِمِ دَارًا لِيَسْكُنَهَا فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْإِجَارَةَ وَقَعَتْ عَلَى أَمْرٍ مُبَاحٍ فَجَازَتْ. وَإِنْ شَرِبَ فِيهَا الْخَمْرَ أَوْ عَبَدَ فِيهَا الصَّلِيبَ أَوْ أَدْخَلَ فِيهَا الْخَنَازِيرَ لَمْ يَلْحَقْ الْمُسْلِمَ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؛ لِأَنَّ الْمُسْلِمَ لَمْ يُؤَاجِرْهَا لَهَا إنَّمَا أَجَّرَ لِلسُّكْنَى فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ مَا لَوْ أَجَّرَ دَارًا مِنْ فَاسِقٍ كَانَ مُبَاحًا وَإِنْ كَانَ قَدْ يَعْصِي فِيهَا. (فتح القدير، کتاب الکراهية، فصل في البيع)
(ب) وفي الأشباه الحرمة تنتقل مع العلم إلا للوارث إلا إذا علم ربه. (الدر المختار، باب الربا، مطلب: في استقراض...)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4073