Menu

Fatawaa

فٹ بال میچ پر سٹہ لگانا

Apr 24 2019

 

سوال:السلام علیکم! میں کینیڈا میں رہتا ہوں ۔میرے دوستوں نے فٹ بال میچز پر سٹہ لگانا شروع کردیا ہے اور جب میں  نے انہیں منع کیا کہ جوا،سٹہ حرام ہے تو انہوں نے یہ جواز پیش کیا کہ یہ اسٹاک مارکیٹ کے مثل ہے جہاں آپ پیشن گوئی کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں کون سی کمپنی شیئرز کے اعتبار سے بہتر جائے گی اور آپ اس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ میں انہیں کیسے جواب دوں ۔جوا،سٹہ اسٹاکس اور شیئرز کے کاروبار سے کیسے مختلف ہے کیونکہ دونوں کا طریقہ کار ایک جیسا ہی لگتا ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

      أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

واضح رہے کہ شیئرز کا کاروبار چند شرائط کے ساتھ جائز ہے ۔یہ بھی علمائے کرام نے صراحۃ ً ذکر کیا ہے کہ شیئرز کی خریدو فروخت میں اگر احکام ِ شریعت کی رعایت نہ کی جائے تو اس سے سٹہ بازی کا دروازہ کھلتا ہے اور اگر شرعی اصولوں کا لحاظ رکھا جائے تو جوا اور سٹہ بازی ہو ہی نہیں سکتی ۔لہذا صورت ِ مسئولہ میں سائل کے دوستوں کا فٹ بال میچ پر سٹہ لگانا اور اس کو جائز ثابت کرنے کے لئے اسٹاک مارکیٹ اور شیئرز کو بطور دلیل کے پیش کرنا غلط ہے ۔بہرحال جوئے اور سٹے  کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔یہ بھی یاد رہے کہ کسی چیز کو جائز اور ناجائز کہنے کامدار عقل پر نہیں ہے کہ جو چاہے جب چاہے جائز قرار دے دیا جائے ،جائز اور ناجائز کا مدار وحی الٰہی ہے اور قرآن پاک کی صریح آیت نے جوئے کی تمام شکلوں اور صورتوں کو حرام قرار دیا ہے۔([1])

سورۃ المائدۃ میں ہے: إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ:90)
ترجمہ: بے شک شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان میں سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔‘‘

واللہ اعلم بالصواب



[1] ۔وحرم لو شرط  فيها ( من الجانبين ) لأنه يصير قمارا ۔۔۔وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص(الدر المختار،ص403، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1386،مكان النشر بيروت)