Menu

Fatawaa

درس قرآن کے بعد اجتماعی دعا

Apr 24 2019

 

سوال:درس قرآن یا کسی بھی محفلکے بعد اجتماعی دعا کروانا بدعت ہے یا نہیں ؟

   الجواب باسم ملھم الصواب

     أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

درس قرآن یا کسی بھی خیر کی مجلس کے بعد اجتماعی دعا میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کو فرض و واجب سمجھنا درست نہیں ۔([1])

سنن الترمذی میں ہے: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ فلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ لِأَصْحَابِهِ اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنْ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلَا تَجْعَلْ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا (سنن الترمذی، كتاب الدعوات، باب ما جاء في عقد التسبيح باليد) ترجمہ :حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کسی مجلس سے یہ دعا کئے بغیر اٹھے ہوں کہ اے اللہ ہم میں اپنے خوف کو اتنا تقسیم کر دے کہ ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے اور اپنی فرمانبرداری ہم میں اتنی تقسیم کر دے کہ وہ ہمیں جنت تک پہنچا دے اور اتنا یقین تقسیم کر دے کہ ہم پر دنیا کی مصیبتیں آسان ہو جائیں اور جب تک ہم زندہ رہیں ہماری سماعت، بصر اور قوت سے مستفید کر اور اسے ہمارا وارث کر دے۔ اے اللہ ہمارا انتقام اسی تک محدود کر دے جو ہم پر ظلم کرے۔ ہمیں دشمنوں پر غلبہ عطاء فرما ہمارے دین میں مصیبت نازل نہ فرما، دنیا ہی کو ہمارا اصل مقصد نہ بنا اور نہ دنیا کو ہمارے علم کی انتہا بنا اور ہم پر ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔

                                                               واللہ اعلم بالصواب



[1] ۔قال الطيبي: في الحديث أن من أصر على أمر مندوب وجعله عزماً ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر(مرقاۃ شرح مشکاۃ،ص 301،الناشر : إدارة البحوث العلمية و الدعوة والإفتاء - الجامعة السلفية - بنارس الهند،الطبعة : الثالثة - 1404 هـ ، 1984 م)