Menu

Fatawaa

قرآنی آیت ’’لا نفرق بین احد من رسلہ‘‘ کی تفسیر

Apr 24 2019

 

سوال:برائے کرم اس آیت آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ کی وضاحت فرمادیں ۔اس بات کا کیا مطلب ہے کہ ہم انبیاء کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ آیت کیسے ہے؟

   الجواب باسم ملھم الصواب

     أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

’’ہم انبیاء کے درمیا ن کوئی تفریق نہیں کرتے ‘‘اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اس امت کے مومنین پچھلی امتوں کی طرح ایسا نہیں کریں گے کہ اللہ کے رسولوں میں باہمی تفرقہ ڈالیں کہ بعض نبیؑ کو مانیں اور بعض کو نبی ؑنہ مانیں جیسے یہودیوں کا حال تھا کہ حضرت موسیٰ   ؑ پر ایمان لائے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کو نہ مانا اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا بھی انکار کیا اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لائے لیکن
حضرت موسیٰ  ؑ کو نہ مانا اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت سے بھی انکار کیا ۔اس لئے مومنین کے لئے ضروری ہے کہ تمام انبیاء پر ایمان لائیں ۔

مزید یہ کہ سب سے پہلے پورا جملہ آپﷺکے ایمان کے ذکر میں لایا گیا اس کے بعد مومنین کے ایمان کا علیحدہ سے ذکر فرمایا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ نفس ایمان میں آپ ﷺاور تمام مسلمان شریک ہیں لیکن درجات ایمان کے اعتبار سے دونوں میں بڑا فرق ہے کہ جس طرح رسول اللہ ﷺکو اپنی وحی پر ایمان اور اعتقاد ہے اسی طرح عام مومنین کا بھی اعتقاد ہے لیکن درجات کے اعتبار سے فرق ہے کہ آپﷺ کا ایمان اکمل درجے کا ہے اور اس علم مشاہدہ اور سماع کی بناء پر ہے کہ آپ ﷺنے وحی کو اترتے ہوئے دیکھا ہےمعراج میں جنت اور جہنم کا مشاہدہ کیاہے ۔اس لئے آپﷺ کا ایمان سب سے زیادہ اکمل درجے کا ہے اور دوسرے مومنین کا ایمان ،ایمان بالغیب ہے اور ’’ آمَنَ الرَّسُولُ ‘‘میں آپﷺکا نام لینے کے بجائے لفظ ’’رسول‘‘ فرماکر آپﷺ کی تعظیم اور تشریف کو واضح کردیا ۔ آپﷺ کے ایمان کے ساتھ صحابہ کرامؓ کے ایمان کا تذکرہ فرمایا جس سے صحابہ ؓ کی شان میں مزید بلندی ہوگئی۔([1])



[1] ۔فقوله تعالى: { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّه } إخبار عن النبي صلى الله عليه وسلم بذلك قال ابن جرير حدثنا بشر حدثنا يزيد حدثنا سعيد عن قتادة قال ذكر لنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لما نزلت هذه الآية: ويحق له أن يؤمن وقد روى الحاكم في مستدركه حدثنا أبو النضر الفقيه: حدثنا معاذ بن نجدة القرشي حدثنا خلاد بن يحيى حدثنا أبو عقيل عن يحيى بن أبي كثير عن أنس بن مالك قال لما نزلت هذه الآية على النبي صلى الله عليه وسلم { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّه } قال النبي صلى الله عليه وسلم حق له أن يؤمن ثم قال الحاكم صحيح الإسناد ولم يخرجاه ۔وقوله: { وَالْمُؤْمِنُون } عطف على { الرَّسُولُ } ثم أخبر عن الجميع فقال: { كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ } فالمؤمنون يؤمنون بأن الله واحد أحد، فرد صمد، لا إله غيره، ولا رب سواه. ويصدقون بجميع الأنبياء والرسل والكتب المنزلة من السماء على عباد الله المرسلين والأنبياءلا يفرقون بين أحد منهم فيؤمنون ببعض ويكفرون ببعض بل الجميع عندهم صادقون بارون راشدون مَهْديون هادون إلى سُبُل الخير(ابن کثیر،البقرۃ ،285)

قوله تعالى: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ} روي عن الحسن ومجاهد والضحاك أن هذه الآية كانت في قصة المعراج۔۔۔ قال الله تعالى : {آمَنَ الرَّسُولُ} على معنى الشكر أي صدق الرسول {بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ} فأراد النبي صلى الله عليه وسلم أن يشارك أمته في الكرامة والفضيلة فقال {وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ} يعني يقولون آمنا بجميع الرسل ولا نكفر بأحد منهم ولا نفرق بينهم كما فرقت اليهود والنصارى(تفسیر القرطبی،البقرۃ،285)