Menu

Fatawaa

چاند دیکھنے میں اختلاف کا سبب

Apr 24 2019

 

سوال :میں آپ سے چاند کے بارے میں یہ سوال کرناچاہتی ہوں کہ جب ہم ایک امت ہیں تو پھر ہر ملک خود اپنا چاند کیوں دیکھتا ہے اور پھر اس میں بہت اختلاف ہوتا ہے ۔جس کی وجہ سے الگ الگ جگہ رمضان اور عید ہوتی ہے جبکہ ترکی وغیرہ میں تو سعودیہ کے حساب سے رمضان اور عید ہوتی ہے ۔یہ مسئلہ عوام میں اب بہت زیادہ زیر بحث آتا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

متأخرین احناف میں سے حافظ زیلعی ؒ نے ’’کنزالدقائق‘‘کی شرح ’’تبیین الحقائق‘‘ میں لکھا ہے کہ بلاد بعید ہ میں اختلاف مطالع ہمارے نزدیک معتبر ہے ۔یعنی اہل مشرق اپنا چاند دیکھ کر رمضان اور عید کرسکتے ہیں اور اہل مغرب اپنا چاند دیکھ کر رمضان اور عید کر سکتے ہیں ۔ اہل مشرق کا چاند دیکھنا اہل مغرب کے لئے کافی نہ ہوگا بلکہ دونوں اپنا اپنا چاند دیکھ کر رمضان اور عید کریں گے۔بہرحال متأخرین احناف کے نزدیک بلاد بعیدہ میں اختلاف مطالع ہی راجح ہے ۔حضرت کشمیری ؒ اور علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ بلاد بعیدہ کا معیار صاحب ’’فتح الملھم‘‘ نے ان الفاظ کے ساتھ تجویز فرمایا ہے ’’نعم ینبغی ان یعتبر اختلافھا وان لزم منہ التفاوت بین البلدتین باکثر من یوم واحد‘‘ ترجمہ:’’جو بلاد (شہر)اتنی دور ہوں کہ ان کے اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کرنے سے ایک دن سے زیادہ کا فرق آتا ہو وہاں اختلاف مطالع معتبر ہوگا۔‘‘

یعنی ایک جگہ کی رؤیت دوسری جگہ کے لئے کافی نہ ہوگی کیونکہ ایسے بلاد بعیدہ میں بھی اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کیا جائے تو مہینہ 28دن کا یا 31 دن کا ہوسکتا ہے ۔حالانکہ اسلامی مہینہ حدیث کی رو سے 29 یا 30 کا ہوتا ہے ۔اس لئے شرع نے جغرافیائی حدود کا لحاظ رکھا ہے اور ہر ملک اپنا چاند دیکھ کر رمضان اور عید کرتا ہے۔([1])



[1]  أن المطالع لا تختلف إلا عند المسافة البعيدة الفاحشة(بدائع الصنائع،کتاب الصوم ،فصلشرائط انواع الصیام)

قال رحمه الله ( ولا عبرة باختلاف المطالع ) وقيل يعتبر ومعناه أنه إذا رأى الهلال أهل بلد ولم يره أهل بلدة أخرى يجب أن يصوموا برؤية أولئك كيفما كان على قول من قال لا عبرة باختلاف المطالع وعلى قول من اعتبره ينظر فإن كان بينهما تقارب بحيث لا تختلف المطالع يجب وإن كان بحيث تختلف لا يجب۔۔۔ والأشبه أن يعتبر لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف(تبیین الحقائق،کتاب الصوم ،ص 78)