Menu

Blog

درود و سلام کے فضائل

Dec 23 2018

درود و سلام  کے فضائل

حماد الرحمان ترک


رکن شعبہ تصنیف وتالیف، فقه اکیڈمی، کراچی

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺسے محبت ایمان کا لازمی جز ہے اور آپﷺ سے محبت کے جہاں دیگر تقاضے ہیں وہیں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ آپ ﷺپر بکثرت درود پڑھتا رہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب آیت 56میں فرمایا:’’ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺپر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو‘‘۔ درود وسلام پڑھنا نہ صرف حکمِ قرآنی ہے بلکہ ہر مسلمان کی حضور اکرمﷺ سے محبت کا  بہترین مظہر ہے، اسےاللہ تعالیٰ اور فرشتوں  کا وظیفہ قرار دیا گیا لہذا درود وسلام پڑھنا اللہ تعالیٰ اور فرشتوں سے مشابہت کا باعث ہوا نیز  مسلمانوں کے گناہوں کے کفارے کا ذریعہ بھی درود پڑھنے کو قرار دیا گیا۔

درود:ہدیۂِ رحمتِ عالمﷺ

 جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ ؓنے آپ ﷺسے درود پڑھنے کا طریقہ معلوم کیا، حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی ؒ  فرماتے ہیں کہ حضرت کعب بن عجرہؓ  سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ چیز بطور ہدیہ پیش نہ کروں جس کو میں نے رحمتِ عالم ﷺ سے سنا ہے؟ میں نے عرض کیا  جی ہاں ! مجھے وہ ہدیہ ضرور عنایت فرمائیے انہوں نے فرمایا کہ  ہم چند صحابہ نے رسول اللہ ﷺسے سوال کیا کہ یا رسول اللہﷺ! آپ ﷺ اور اہلِ بیتِ نبوت پر ہم درود کس طرح بھیجیں؟  اللہ نے ہمیں یہ تو بتا دیا ہے کہ آپ ﷺ پر سلام کس طرح بھیجا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس طرح کہو! اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وعَلٰی اٰلِ محمدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إبرَاہِیمَ وَعَلی اٰلِ إبرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وعَلٰی اٰلِ محمدٍ کَمَا بارَکْتَ عَلٰی إبرَاہِیمَ وَعَلی اٰلِ إبرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ ، اے اللہ ! محمدﷺ پر اور آلِ محمدﷺپر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ؑاور آلِ ابراہیمؑ  پر رحمت نازل فرمائی بیشک تو بزرگ و برتر ہے۔ اے اللہ ! محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺپر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیمؑ  اور آلِ ابراہیمؑ پر برکت نازل فرمائی بیشک تو بزرگ و برتر ہے (بخاری و مسلم ) ۔

آپﷺ پردرور بھیجنے کی فضیلت

آپﷺ پر درود پڑھنے کی فضیلت متعدد  روایات میں موجود  ہیں مثلاحضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدارﷺ نے فرمایا جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا (مسلم)۔

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس (مرتبہ) رحمتیں نازل فرمائے گا، اس کے دس گناہوں کو معاف کرے گا اور (تقرب الی اللہ کے سلسلے میں) اس کے دس درجے بلند کرے گا(نسائی )۔

جمعے کے دن درود پڑھنے کی فضیلت

احادیث میں جمعے کے روز درود پڑھنے کی خصوصی فضیلت آئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعے کا دن ہے، اس دن کثرت سے درود پڑھاکرو، کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے( مسند احمد، ابوداوٴد، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان)۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرت سے درود پڑھا کرو، جو ایسا کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا(بیہقی)۔

روزِ قیامت رسول اللہﷺ کے قرب کا ذریعہ

روزِقیامت جب ہر طرف افراتفری ہو گی اور ہر جگہ ’’نفسی نفسی‘‘ کی کیفیت ہوگی ، اس وقت تمام انسانوں  کی نظریں رسول اللہﷺ پر مرتکز ہوں گی، مسلمانوں کے پاس  حضور اکرمﷺ ہی  کا سہارا ہوگا، ایسے میں جو شخص حضرت محمدﷺ کے جتنا قریب ہوگا وہ اتنا ہی خوش قسمت ہوگا، روزِ قیامت حضور اکرمﷺ کے قرب کا ذریعہ حدیث میں ملاحظہ ہو: حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا  قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پرکثرت  سے درود پڑھتے ہیں ( ترمذی )۔

درود شریف:اسّی(۸۰) سال کے گناہوں کا کفارہ

حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعے کے دن عصر کی نماز  کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اسّی(۸۰) مرتبہ یہ درود شریف پڑھے:’’  اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً‘‘،اس کے اسّی سال کے گناہ معاف ہوں گے اور اسّی سال کی عبادت کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے گا(زاد الخلیل از محمد یحییٰ مدنی صاحب)

درود حضورﷺ تک پہنچتا ہے

ایک روایت میں آپﷺ نے فرمایا:حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ  راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  اللہ تعالیٰ کے بہت سے فرشتے جو زمین پر سیاحت کرنے والے ہیں میری امت کا سلام میرے پاس پہنچاتے ہیں(نسائی، دارمی) ۔

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا  جو آدمی میری قبر کے پاس کھڑا ہو کر مجھ پر درود پڑھتا ہے میں اس کو سنتا ہوں اور جو آدمی دور سے مجھے پر بھیجتا ہے وہ میرے پاس پہنچا دیا جاتا ہے(بیہقی)۔

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ  اپنے گھروں کو قبروں کی طرح نہ رکھو اور میری قبر پر عید (کی طرح میلہ) نہ مقرر کرو۔ تم مجھ پر درود پڑھا کرو۔ کیونکہ تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود میرے پاس پہنچتا ہے (نسائی)۔

اس حدیث میں آپﷺ نے فرمایا : ’’میری قبر کو عید نہ بناؤ‘‘، اس کی ایک تشریح یہ بھی کی گئی ہے کہ اس سے کثرتِ زیارت مراد ہے یعنی عید ایک سال کے بعد لوٹ کر آتی ہے، چنانچہ مراد یہ ہے کہ میرے روضۂِ مبارک پر بار بار آتے رہا کرو، ایسا نہ ہوکہ پورے  سال میں ایک دفعہ میری قبر کی زیارت کرو،(حاشیۃ السھارنفوری علی مشکاۃ،کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علی النبیﷺ )

درود:حاجات کی تکمیل اور گناہوں سے معافی کا ذریعہ

بکثرت درود پڑھنا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے مانگنے کے بجائے مسلسل حضورﷺ پر درود وسلام  بھیجتے رہنا اور اپنے لیے بھی دعا نہ مانگنا دراصل گناہوں کی تلافی اور  بن مانگے حاجات  عطا ہوجانے کا ذریعہ ہے،حضرت ابی ابن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں (یعنی کثرت سے درود بھیجنا چاہتا ہوں اب آپ ﷺ بتلا دیجیے کہ) اپنے لیے دعا کے واسطے جو وقت میں نے مقرر کیا ہے اس میں سے کتنا وقت آپ ﷺ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا  جس قدر تمہارا جی چاہے! میں نے عرض کیا  کیا چوتھائی (وقت مقرر کردوں) ؟ فرمایا جتنا تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تمہارے لیے بہتر ہےمیں نے عرض کیا تو پھر دو تہائی مقرر کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا  جس قدر تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے میں نے عرض کیا  اچھا تو پھر میں اپنی دعا کا سارا وقت ہی آپ ﷺ کے درود کے واسطے مقرر کئے دیتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا  یہ تمہیں کفایت کرے گا، تمہارے دین و دنیا کے مقاصد کو پورا کرے گا۔ اور تمہارے گناہ معاف ہوجائیں گے (ترمذی)۔

درود: دعا کی قبولیت کا ذریعہ

درود پڑھ کر دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرماتے ہیں ،حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) میں نماز پڑھ رہا تھا ، رحمتِ عالم ﷺ (بھی وہیں) تشریف فرماتھے اور آپ ﷺ کے پاس حضرت ابوبکر صدیق  ؓ و حضرت عمر ؓ بھی حاضر تھے، چنانچہ (نماز کے بعد) جب میں بیٹھا تو اللہ جل شانہ، کی تعریف بیان کرنا شروع کی اور پھر رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا، اس کے بعد میں اپنے (دینی و دنیاوی مقاصد کے) لیے مانگنے لگا ( یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ  مانگو! دیے جاؤ گے،  مانگو دیے جاؤ گے (یعنی دعا مانگو ضرور قبول ہوگی)(ترمذی )۔

امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ  دعا اس وقت تک آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے اور اس میں سے کوئی چیز اوپر نہیں چڑھتی جب تک کہ تم اپنے نبی پر درود نہ بھیجو(ترمذی)۔

درود: حصولِ ثواب کا ذریعہ

حصولِ ثواب کے جہاں دیگر بہت سے ذرائع  ہیں وہیں ایک ذریعہ حضورِ اکرم ﷺ پر درود بھیجنا بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  جس آدمی کو یہ پسند ہو (یعنی اس کی خواہش ہو) کہ اسے بھر پور (اور زیادہ سے زیادہ) ثواب ملے تو اسے چاہیے کہ ہم اہل بیت پر اس طرح درود بھیجے! اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَأَزْوَاجِہٖ أُمَّھَاتِ الْمُؤمِنِینَ وَذُرِّیَّتِہٖ وَأَھْلِ بَیْتِہٖ کَما صَلَّیْتَ عَلی اٰلِ إبرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔اے بار خدایا! محمد ﷺ پر جو نبی امی ہیں، آپ ﷺ کی ازواج مطہرات پر جو سب مومنوں کی مائیں ہیں اور آپ ﷺ کی اولاد و اہل بیت پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ؑپر رحمت نازل فرمائی بیشک تو بزرگ و برتر ہے(ابوداؤد)۔

درود: شفاعت کا ذریعہ

 روزِ قیامت درود شریف کا پڑھنا شفاعت کا باعث ہوگا، حضرت رویفع  ؓراوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  جو آدمی محمد ﷺ پر درود بھیجے اور (درود بھیجنے کے بعد یہ بھی کہے) اَللّٰہُمَّ اَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اے پروردگار ! محمد ﷺ کو اس مقام پر جگہ دے جو تیرے نزدیک مقرب ہے قیامت کے دن تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجاتی ہے(مسند احمد بن حنبل)۔

درودنہ پڑھنے پر وعید

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا(ترمذی)۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  بخیل وہ آدمی ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا (یعنی میرا نام لیا گیا) اور اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا (ترمذی)۔

علما فرماتے ہیں کہ دن میں کم از کم ایک سو مرتبہ درود شریف کا ورد کرنے کا اہتمام ضرور کیا جائے، جناب محمد یونس صاحب پالنپوری ’’مومن کا ہتھیار‘‘ میں لکھتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ پڑھا جانے والا درود’’درودِ ابراہیمیؑ ‘‘ ہوجو نماز میں پڑھا جاتا ہے، لیکن اگر مختصر درود پڑھنا ہے تو مندرجہ ذیل پڑھ لیجیے، ’’اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ بِعَدَدِ کُلِّ مَعْلُوْمٍ لَکَ، واللہ أعلم۔

Maqalaat

درود و سلام کے فضائل

Dec 23 2018

درود و سلام  کے فضائل

حماد الرحمان ترک


رکن شعبہ تصنیف وتالیف، فقه اکیڈمی، کراچی

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺسے محبت ایمان کا لازمی جز ہے اور آپﷺ سے محبت کے جہاں دیگر تقاضے ہیں وہیں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ آپ ﷺپر بکثرت درود پڑھتا رہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب آیت 56میں فرمایا:’’ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺپر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو‘‘۔ درود وسلام پڑھنا نہ صرف حکمِ قرآنی ہے بلکہ ہر مسلمان کی حضور اکرمﷺ سے محبت کا  بہترین مظہر ہے، اسےاللہ تعالیٰ اور فرشتوں  کا وظیفہ قرار دیا گیا لہذا درود وسلام پڑھنا اللہ تعالیٰ اور فرشتوں سے مشابہت کا باعث ہوا نیز  مسلمانوں کے گناہوں کے کفارے کا ذریعہ بھی درود پڑھنے کو قرار دیا گیا۔

درود:ہدیۂِ رحمتِ عالمﷺ

 جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ ؓنے آپ ﷺسے درود پڑھنے کا طریقہ معلوم کیا، حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی ؒ  فرماتے ہیں کہ حضرت کعب بن عجرہؓ  سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ چیز بطور ہدیہ پیش نہ کروں جس کو میں نے رحمتِ عالم ﷺ سے سنا ہے؟ میں نے عرض کیا  جی ہاں ! مجھے وہ ہدیہ ضرور عنایت فرمائیے انہوں نے فرمایا کہ  ہم چند صحابہ نے رسول اللہ ﷺسے سوال کیا کہ یا رسول اللہﷺ! آپ ﷺ اور اہلِ بیتِ نبوت پر ہم درود کس طرح بھیجیں؟  اللہ نے ہمیں یہ تو بتا دیا ہے کہ آپ ﷺ پر سلام کس طرح بھیجا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس طرح کہو! اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وعَلٰی اٰلِ محمدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إبرَاہِیمَ وَعَلی اٰلِ إبرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وعَلٰی اٰلِ محمدٍ کَمَا بارَکْتَ عَلٰی إبرَاہِیمَ وَعَلی اٰلِ إبرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ ، اے اللہ ! محمدﷺ پر اور آلِ محمدﷺپر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ؑاور آلِ ابراہیمؑ  پر رحمت نازل فرمائی بیشک تو بزرگ و برتر ہے۔ اے اللہ ! محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺپر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیمؑ  اور آلِ ابراہیمؑ پر برکت نازل فرمائی بیشک تو بزرگ و برتر ہے (بخاری و مسلم ) ۔

آپﷺ پردرور بھیجنے کی فضیلت

آپﷺ پر درود پڑھنے کی فضیلت متعدد  روایات میں موجود  ہیں مثلاحضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدارﷺ نے فرمایا جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا (مسلم)۔

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس (مرتبہ) رحمتیں نازل فرمائے گا، اس کے دس گناہوں کو معاف کرے گا اور (تقرب الی اللہ کے سلسلے میں) اس کے دس درجے بلند کرے گا(نسائی )۔

جمعے کے دن درود پڑھنے کی فضیلت

احادیث میں جمعے کے روز درود پڑھنے کی خصوصی فضیلت آئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعے کا دن ہے، اس دن کثرت سے درود پڑھاکرو، کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے( مسند احمد، ابوداوٴد، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان)۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرت سے درود پڑھا کرو، جو ایسا کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا(بیہقی)۔

روزِ قیامت رسول اللہﷺ کے قرب کا ذریعہ

روزِقیامت جب ہر طرف افراتفری ہو گی اور ہر جگہ ’’نفسی نفسی‘‘ کی کیفیت ہوگی ، اس وقت تمام انسانوں  کی نظریں رسول اللہﷺ پر مرتکز ہوں گی، مسلمانوں کے پاس  حضور اکرمﷺ ہی  کا سہارا ہوگا، ایسے میں جو شخص حضرت محمدﷺ کے جتنا قریب ہوگا وہ اتنا ہی خوش قسمت ہوگا، روزِ قیامت حضور اکرمﷺ کے قرب کا ذریعہ حدیث میں ملاحظہ ہو: حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا  قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پرکثرت  سے درود پڑھتے ہیں ( ترمذی )۔

درود شریف:اسّی(۸۰) سال کے گناہوں کا کفارہ

حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعے کے دن عصر کی نماز  کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اسّی(۸۰) مرتبہ یہ درود شریف پڑھے:’’  اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً‘‘،اس کے اسّی سال کے گناہ معاف ہوں گے اور اسّی سال کی عبادت کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے گا(زاد الخلیل از محمد یحییٰ مدنی صاحب)

درود حضورﷺ تک پہنچتا ہے

ایک روایت میں آپﷺ نے فرمایا:حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ  راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  اللہ تعالیٰ کے بہت سے فرشتے جو زمین پر سیاحت کرنے والے ہیں میری امت کا سلام میرے پاس پہنچاتے ہیں(نسائی، دارمی) ۔

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا  جو آدمی میری قبر کے پاس کھڑا ہو کر مجھ پر درود پڑھتا ہے میں اس کو سنتا ہوں اور جو آدمی دور سے مجھے پر بھیجتا ہے وہ میرے پاس پہنچا دیا جاتا ہے(بیہقی)۔

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ  اپنے گھروں کو قبروں کی طرح نہ رکھو اور میری قبر پر عید (کی طرح میلہ) نہ مقرر کرو۔ تم مجھ پر درود پڑھا کرو۔ کیونکہ تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود میرے پاس پہنچتا ہے (نسائی)۔

اس حدیث میں آپﷺ نے فرمایا : ’’میری قبر کو عید نہ بناؤ‘‘، اس کی ایک تشریح یہ بھی کی گئی ہے کہ اس سے کثرتِ زیارت مراد ہے یعنی عید ایک سال کے بعد لوٹ کر آتی ہے، چنانچہ مراد یہ ہے کہ میرے روضۂِ مبارک پر بار بار آتے رہا کرو، ایسا نہ ہوکہ پورے  سال میں ایک دفعہ میری قبر کی زیارت کرو،(حاشیۃ السھارنفوری علی مشکاۃ،کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علی النبیﷺ )

درود:حاجات کی تکمیل اور گناہوں سے معافی کا ذریعہ

بکثرت درود پڑھنا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے مانگنے کے بجائے مسلسل حضورﷺ پر درود وسلام  بھیجتے رہنا اور اپنے لیے بھی دعا نہ مانگنا دراصل گناہوں کی تلافی اور  بن مانگے حاجات  عطا ہوجانے کا ذریعہ ہے،حضرت ابی ابن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں (یعنی کثرت سے درود بھیجنا چاہتا ہوں اب آپ ﷺ بتلا دیجیے کہ) اپنے لیے دعا کے واسطے جو وقت میں نے مقرر کیا ہے اس میں سے کتنا وقت آپ ﷺ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا  جس قدر تمہارا جی چاہے! میں نے عرض کیا  کیا چوتھائی (وقت مقرر کردوں) ؟ فرمایا جتنا تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تمہارے لیے بہتر ہےمیں نے عرض کیا تو پھر دو تہائی مقرر کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا  جس قدر تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے میں نے عرض کیا  اچھا تو پھر میں اپنی دعا کا سارا وقت ہی آپ ﷺ کے درود کے واسطے مقرر کئے دیتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا  یہ تمہیں کفایت کرے گا، تمہارے دین و دنیا کے مقاصد کو پورا کرے گا۔ اور تمہارے گناہ معاف ہوجائیں گے (ترمذی)۔

درود: دعا کی قبولیت کا ذریعہ

درود پڑھ کر دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرماتے ہیں ،حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) میں نماز پڑھ رہا تھا ، رحمتِ عالم ﷺ (بھی وہیں) تشریف فرماتھے اور آپ ﷺ کے پاس حضرت ابوبکر صدیق  ؓ و حضرت عمر ؓ بھی حاضر تھے، چنانچہ (نماز کے بعد) جب میں بیٹھا تو اللہ جل شانہ، کی تعریف بیان کرنا شروع کی اور پھر رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا، اس کے بعد میں اپنے (دینی و دنیاوی مقاصد کے) لیے مانگنے لگا ( یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ  مانگو! دیے جاؤ گے،  مانگو دیے جاؤ گے (یعنی دعا مانگو ضرور قبول ہوگی)(ترمذی )۔

امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ  دعا اس وقت تک آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے اور اس میں سے کوئی چیز اوپر نہیں چڑھتی جب تک کہ تم اپنے نبی پر درود نہ بھیجو(ترمذی)۔

درود: حصولِ ثواب کا ذریعہ

حصولِ ثواب کے جہاں دیگر بہت سے ذرائع  ہیں وہیں ایک ذریعہ حضورِ اکرم ﷺ پر درود بھیجنا بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  جس آدمی کو یہ پسند ہو (یعنی اس کی خواہش ہو) کہ اسے بھر پور (اور زیادہ سے زیادہ) ثواب ملے تو اسے چاہیے کہ ہم اہل بیت پر اس طرح درود بھیجے! اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَأَزْوَاجِہٖ أُمَّھَاتِ الْمُؤمِنِینَ وَذُرِّیَّتِہٖ وَأَھْلِ بَیْتِہٖ کَما صَلَّیْتَ عَلی اٰلِ إبرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔اے بار خدایا! محمد ﷺ پر جو نبی امی ہیں، آپ ﷺ کی ازواج مطہرات پر جو سب مومنوں کی مائیں ہیں اور آپ ﷺ کی اولاد و اہل بیت پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ؑپر رحمت نازل فرمائی بیشک تو بزرگ و برتر ہے(ابوداؤد)۔

درود: شفاعت کا ذریعہ

 روزِ قیامت درود شریف کا پڑھنا شفاعت کا باعث ہوگا، حضرت رویفع  ؓراوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  جو آدمی محمد ﷺ پر درود بھیجے اور (درود بھیجنے کے بعد یہ بھی کہے) اَللّٰہُمَّ اَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اے پروردگار ! محمد ﷺ کو اس مقام پر جگہ دے جو تیرے نزدیک مقرب ہے قیامت کے دن تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجاتی ہے(مسند احمد بن حنبل)۔

درودنہ پڑھنے پر وعید

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا(ترمذی)۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا  بخیل وہ آدمی ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا (یعنی میرا نام لیا گیا) اور اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا (ترمذی)۔

علما فرماتے ہیں کہ دن میں کم از کم ایک سو مرتبہ درود شریف کا ورد کرنے کا اہتمام ضرور کیا جائے، جناب محمد یونس صاحب پالنپوری ’’مومن کا ہتھیار‘‘ میں لکھتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ پڑھا جانے والا درود’’درودِ ابراہیمیؑ ‘‘ ہوجو نماز میں پڑھا جاتا ہے، لیکن اگر مختصر درود پڑھنا ہے تو مندرجہ ذیل پڑھ لیجیے، ’’اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ بِعَدَدِ کُلِّ مَعْلُوْمٍ لَکَ، واللہ أعلم۔