Oct
03
2020
سوال یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہے:’’انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام‘‘ کہ مشرک لوگ نجس ہیں، اس لیے مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔ جبکہ فقہ حنفی میں اس کے برعکس ذمی کافر کو مسجد میں آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ تو قرآن اور فقہ حنفی میں تعارض ہے۔ دلائل کی روشنی میں اس کا کیا حل ہوسکتا ہے؟
الجواب باسم ملهم الصواب
رسول الله ﷺ نے اپنی زندگی میں متعدد بار مشرکین کو مسجد نبوی میں بطور مہمان ٹھہرایا۔
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ؛ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ. (السنن الكبرى للبيهقي، ٢/ ٦٢٣)
ترجمہ:’’حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ ثقیف (جو مشرک تھے) کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل اسلام کے لیے نرم ہوجائیں‘‘۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ. (السنن الكبرى للبيهقي، ٢/ ٦٢٢)
ترجمہ:’’سعید ابن سعید نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سوار کو نجد کی طرف روانہ فرمایا تو وہ بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال (جو اس وقت تک مشرک تھے) کو گرفتار کر کے لے آیا، چنانچہ صحابہ نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ ڈالا‘‘۔
لہذا فقہائے احناف نے ان احادیث سے استدلال کرتے ہوئےذمیوں کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔ جہاں تک سوال میں ذکر کردہ آیت ہے: يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا وَ اِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِه اِنْ شَاءَ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ(التوبة:28)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! مشرک لوگ تو سراپا ناپاکی ہیں، لہذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں، اور (مسلمانو) اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اگر اللہ چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے ( مشرکین سے) بےنیاز کردے گا۔ بیشک اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل‘‘۔
اس کے جواب میں احناف فرماتے ہیں کہ مذکورہ آیت میں دو معنیٰ ممکن ہیں: اول یہ کہ اس آیت میں غیر ذمی یعنی مشرکین اہل عرب مراد ہیں، ان سے مسلمانوں کا کوئی ذمہ قائم نہیں تھا، ان کے پاس یہی چارہ تھا کہ یا اسلام لے آئیں یا قتال کریں۔ چنانچہ انھیں مسجد حرام میں داخلے سے بھی روک دیا گیا۔ثانیا اس آیت کا مصداق مسجد حرام میں داخلے سے ممانعت نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ آئندہ کے لیے مشرکین افعال حج و عمرہ وغیرہ کرنے کے اہل نہیں اور حج و عمرہ کے تمام افعال کا تعلق چونکہ مسجد حرام اور اس کے قرب و جوار سے ہے اس لیے فرمایا گیا کہ اب مسجد حرام کے قریب بھی نہ آئیں۔ چنانچہ روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حج کے موقع پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ذریعے منیٰ میں یہ اعلان کروایا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
ولذلك أمر النبي صلى الله عليه وسلم بالنداء يوم النحر في السنة التي حج فيها أبو بكر فيما روى الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة أن أبا بكر بعثه فيمن يؤذن يوم النحر بمنى: أن لا يحج بعد العام مشرك، فأنزل الله تعالى في العام الذي نبذ فيه أبو بكر إلى المشركين: {يا أيها الذين آمنوا إنما المشركون نجس} الآية. (أحكام القرآن للجصاص ط العلمية، ٣/ ١١٤)
آیت کے اس مفہوم کی بناء پر فقہائے احناف کا مؤقف ہے کہ اس آیت میں مشرکین کے لیے صرف حج و عمرہ کرنے کی ممانعت ہے، حقیقتاً کسی مسجد میں داخل ہونے یا قریب جانے سے ممانعت نہیں۔ لہذا احناف کا مؤقف قرآن کے خلاف نہیں ہے۔
وإنما معنى الآية على أحد وجهين: إما أن يكون النهي خاصا في المشركين الذين كانوا ممنوعين من دخول مكة، وسائر المساجد لأنهم لم تكن لهم ذمة، وكان لا يقبل منهم إلا الإسلام أو السيف، وهم مشركو العرب، أو أن يكون المراد منعهم من دخول مكة للحج. (أحكام القرآن للجصاص ط العلمية، ٣/ ١١٤)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 2655