May
13
2020
سوال نمبر۱: ہمارے ہاں ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں ٹیچنگ الاؤنس لگتا ہے بی ایڈ کی بنیاد پر، ہمارا الحمد للہ بی ایڈ کلئیر ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ الاؤنس لگوانے کےلیے جو افسران بالا واسطہ بنتے ہیں تو انہیں کچھ نہ کچھ ضرور دینا پڑتا ہے تو اب ہمارے لیے الاؤنس لگوائے بغیر رہنا صحیح ہے یا پھر انہین دینے کی گنجائش ہے اور یہ لگوالینا چاہیے؟
سوال نمبر۲:دوسرا سوال یہ ہے کہ ہمارا جی پی فنڈ کٹتا ہے، اس کے بارے میں وضاحت یہ ہے کہ یہ فنڈ جب ہمیں واپس ملے گا تو دو آپشنز ہوں گے، انٹرس اپلائیڈ کے آگے لکھا ہوتا ہے آپ کی انٹرس اپلائے ہے یا پھر نہیں ہے۔ تو یہ جو جی پی فنڈ ہمارا کٹتا ہے اس پروہ انٹرس کا لفظ بولتے ہیں اس کے بارے میں آپ کو معلومات ہیں کیا اس کی اجازت ہے یا نہیں؟ مزید یہ کہ جتنا فنڈ کٹ رہا ہوتا ہے اس کا اماؤنٹ ہمیں پتہ چل رہا ہوتا ہے تو جتنے پیسے کٹ رہے ہوتے ہیں ان کی زکوۃ کا کیا مسئلہ ہوگا؟ کس حساب سے اس کو ہم کاؤنٹ کریں گے؟ اور کریں گے بھی یا نہیں؟
الجواب باسم ملهم الصواب
۱۔بغیر کسی شرعی عذر کے رشوت لینا دینا دونوں حرام ہیں۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا: الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي النَّارِ. (المعجم الأوسط، باب الألف، من اسمه أحمد) ترجمہ:’’ یعنی رشوت خور اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں‘‘۔
البتہ اگر کسی موقع پر رشوت کے بغیر جائز حق حاصل نہ ہو رہاہو تو حق حاصل کرنے کےلیے رشوت دینے کی گنجائش ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں افسران بالا کو رشوت دے کر بی ایڈ کی بنیاد پر تدریسی الاؤنس حاصل کرنا جائز ہے، لیکن افسران بالا کے لیے رشوت لینا ہر حال میں حرام ہے۔
ثم الرشوة أربعة أقسام منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة الثاني ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق لأنه واجب عليه الثالث أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط وحيلة حلها أن يستأجره يوما إلى الليل أو يومين فتصير منافعه مملوكة ثم يستعمله في الذهاب إلى السلطان للأمر الفلاني وفي الأقضية قسم الهدية وجعل هذا من أقسامها فقال حلال من الجانبين كالإهداء للتودد وحرام منهما كالإهداء ليعينه على الظلم وحرام على الآخذ فقط وهو أن يهدي ليكف عنه الظلم والحيلة أن يستأجره الخ قال أي في الأقضية هذا إذا كان فيه شرط أما إذا كان بلا شرط لكن يعلم يقينا أنه إنما يهدي ليعينه عند السلطان فمشايخنا على أنه لا بأس به ولو قضى حاجته بلا شرط ولا طمع فأهدى إليه بعد ذلك فهو حلال لا بأس به وما نقل عن ابن مسعود من كراهته فورع الرابع ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب ا هـ ما في الفتح ملخصا. (حاشية ابن عابدين، کتاب القضاء، مطلب في الكلام على الرشوة والهدية)
۲۔اگر جی پی فنڈ کی ماہانہ کٹوتی آپ کے اختیار سے شروع کی گئی ہے تو منہا کی جانے والی اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہے، اور اگر یہ کٹوتی جبری ہے تو اس رقم پر زکوٰۃ واجب نہیں، البتہ جب یہ رقم مل جائے تو اس وقت سے اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی۔جی پی فنڈ پر دیے جانے والی اضافی رقم کا وصول کرنا بھی صرف اسی صورت میں جائز ہے جب اس کی مد میں کی جانے والی کٹوٹی جبری ہو، اس صورت میں اس کا نام سود رکھ دینے کی وجہ سے یہ حقیقتا سود نہیں ہو جاتا۔ اور اگر یہ کٹوتی اختیاری ہو تو یہ اضافی رقم سود کے حکم میں ہے اور اس کا وصول کرنا جائز نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: رسالہ ’’پراویڈنٹ فنڈ‘‘، تصنیف: مفتی محمد شفیع دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4296