Apr
27
2019
سوال: اگر کوئی مرد پیشاب کی جگہ سے کسی مائع چیز کا خروج محسوس کرے، جوکہ بعض اوقات ليس دار ہو۔ کیا اس شخص پر غسل لازم ہوگا چاہے اسے معلوم نہ ہو کہ کیا خارج ہوا ہے تاکہ وہ نماز ادا کرسکے۔ یہ مسئلہ اکثر پیش آتا ہے اور وہ شخص متذبذب ہے کہ جو چیز خارج ہوئی ہے وہ پیشاب ہے یا کچھ اور۔
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
اگر یہ مائع مادہ نکلنے میں دونوں باتیں پائی جارہی ہیں تو غسل واجب نہیں۔ ایک بات یہ کہ یہ مادہ کسی شہوت کے بغیر نکلے، اور دوسری بات یہ کہ مادہ اچھلے بغیر نکلے یعنی اس کا خروج تولیدی مادے کی طرح اچھل کر نہ ہوا ہو۔(1)
واللہ اعلم بالصواب
(1). لكن عندنا يشترط في وجوب الغسل بالإنزال أن يكون انفصال المني عن شهوة، وهو ما ذكره بقوله عند مني ذي دفق وشهوة يقال دفق الماء دفقا صبه صبا فيه دفع وشدة. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الطهارة، أحكام الغسل، موجبات الغسل)