Apr
27
2019
سوال: اگر کوئی مسلمان مرد ہوش و حواس میں ایک سے زیادہ بار خدا تعالیٰ اور رسالت کا انکار کردے اور دین کو انسانی تخلیق قرار دے دے تو اس صورت میں اس کی بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا نکاح فسخ ہوگیا یا رشتے کو مکمل حرام ہونے کے لیے تین طلاق کہنا بھی ضروری ہوگا؟ اگر وہ مرد توبہ کرکے کلمہ پڑھے تو تجدیدِ نکاح کرنا ہوگا؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
اللہ تعالیٰ کا یا رسالت کا انکار کرنا یا دین الٰہی کو انسانی تخلیق کہنا صریح کفر ہے۔ جو شخص ان میں سے کسی بھی قول یا عقیدے کا مرتکب ہو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، ایسے شخص کا نکاح اپنی بیوی سے فوراً ختم ہو گیا۔ طلاق وغیرہ کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔(1)اللہ تعالیٰ اسے توبہ کی توفیق عطا فرمائے ۔ اگر ایسے غلیظ خیالات سے رجوع اور اللہ کے حضور سچی توبہ کی توفیق ہو جائے اور وہ پھر سے مسلمان ہو جائے تب مذکورہ شخص کو اپنی بیوی سے از سرِ نو نکاح کرنا ہوگا، ورنہ وہ اس پر اجنبی عورتوں کی طرح ہمیشہ کے لیے حرام رہے گی۔
واللہ اعلم بالصواب
(1). (وارتداد أحدهما) أي الزوجين (فسخ) فلا ينقص عددا (عاجل) بلا قضاء. (الدر المحتار مع رد المختار، کتاب النکاح، باب نکاح الکافر)