Menu

Fatawaa

وراثت میں ملنے والا حرام مال
فتوٰی نمبر:3443

Apr 27 2019

سوال:اگر والد کی کمائی بینک کی ہےتو کیا وراثت میں چھوڑی گئی رقم وارثین کے لیے جائز ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

ورثاء کےلیے رقم حلال ہونے کی ایک شرط تو یہ ہے کہ وہ حرام مال رشوت اور غصب کے علاوہ ہو، اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ حلال مال الگ سے متعین نہ ہو یعنی یا تو وہ مال دوسرے مال کے ساتھ مخلوط ہو یا پھر اس کے بدلے کوئی نہ کوئی چیز خریدلی گئی ہو۔البتہ دیانت اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ اس مال کو بھی استعمال نہ کیا جائے بلکہ صدقہ کردیا جائے۔(1)

واللہ اعلم بالصواب

1. والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه ففي الذخيرة: سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة (الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المختار)، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب رد المشتري فاسدا إلي بائعه فلم يقبله)