Apr
27
2019
سوال: السلام علیکم! میری زرعی زمین تھی ، میں نے اس کو بیچا، کسی وجہ سے مجھے بیچنا پڑا، تو میرے پاس پیسے آئے ، تو گھر میں پیسے پڑے تھے تو میں نے اس سے اسلام آباد میں ایک زمین لے لی ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس زمین پر زکوۃ ہوگی ، اس زمین کے بارے میں میرا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہے ، کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہاں اسلام آباد میں گھر بناؤں گا، کبھی سوچتا ہوں کہ کوئی Business opportunity آگئی تو اس میں ڈال دوں گا، ابھی میں Sure نہیں ہوں ، تو اس پر زکوۃ ہوگی یا نہیں۔
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و أصلي علی رسوله الكریم ، أما بعد:
چوں کہ مذکورہ زمین کو خریدتے وقت بیچنے کی حتمی نیت نہیں تھی لہٰذا اس زمین پر زکوٰۃ لازم نہیں۔(1)
واللہ اعلم بالصواب
(1).وَشَرْطِ مُقَارَنَتِهَا لِعَقْدِ التِّجَارَةِ وَهُوَ كَسْبُ الْمَالِ بِالْمَالِ بِعَقْدِ شِرَاءٍ أَوْ إجَارَةٍ أَوْ اسْتِقْرَاضٍ. وَلَوْ نَوَى التِّجَارَةَ بَعْدَ الْعَقْدِ أَوْ اشْتَرَى شَيْئًا لِلْقِنْيَةِ نَاوِيًا أَنَّهُ إنْ وَجَدَ رِبْحًا بَاعَهُ لَا زَكَاةَ عَلَيْهِ. (الدر المختار مع الرد، کتاب الزکاة، 2/ 274، دار الفکر بیروت)