Menu

Fatawaa

اقامت کہتے وقت کہاں کھڑا ہونا چاہیے؟

Apr 24 2019

 

سوال:ویسے تو مؤذن دائیں یا بائیں جانب بھی کھڑا ہو کر اقامت کہہ سکتا ہے لیکن کیا اس عمل کو معمول بنانا جائز ہے ۔برائے مہربانی شرعی نقطۂ نگاہ کوواضح فرمادیں ۔ مؤذن کے کھڑے ہونے کی جگہ شرعا ً کیا ہے۔ مسنون طریقہ کیا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

      أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

اقامت کرنے والے کے لئے شرع نے کوئی جگہ کھڑے ہونے کے لئے مقرر نہیں فرمائی ۔حسب موقع اور حسب ضرورت جہاں چاہے مؤذن اقامت دے سکتا ہے کھڑے ہونے کی جگہ متعین نہیں ہے ۔امام کے دائیں طرف یا بائیں طرف یا بالکل پیچھے کسی جگہ کی قید نہیں ہے ۔اس لئے مؤذن حسب سہولت اور حسب ِ موقع جہاں چاہے اقامت دے سکتا ہے لیکن چونکہ پہلی صف میں نماز پڑھنے کی فضیلت بھی آئی ہے اور امام کے قریب باشرع لوگ ہونے چاہئیں جو امام کی نماز کو سمجھ سکیں اور امام کو نماز کے دوران ضرورت(جیسے امام کو حدث لاحق ہوجائے)پڑنے پر اپنا نائب بنانے میں آسانی ہو اور امام اپنا نائب اُس آدمی کو بنا سکتا ہے جو باشرع ہو اور امامت کی شرائط اس میں پائی جاتی ہو اورمؤذن چونکہ عام آدمی کے مقابلے میں باشرع بھی ہوتا ہے اور امامت بھی کراسکتا ہے ۔ان وجوہات کی وجہ سے مؤذن کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ امام کے قریب ہو پھر مؤذن امام کے قریب جہاں چاہے کھڑا ہو امام کے دائیں طرف یا بائیں طرف یا بالکل پیچھے۔([1])

واللہ اعلم بالصواب

[1]  ۔ويقيم على الأرض هكذا في القنية وفي المسجد هكذا في البحر الرائق (فتاویٰ ھندیۃ،ص 56،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ - 1991م)

ويسن الأذان في موضع عال والإقامة على الأرض(البحر الرائق،کتاب الصلاۃ،باب الأذان)

 (رد المحتار،کتاب الصلاۃ،فائدة التسليم بعد الأذان)

وكل من يصلح إماما للإمام الذي سبقه الحدث في الابتداء يصلح خليفة له ومن لا يصلح إماما له في الابتداء لا يصلح خليفة له كذا في المحيط(فتاویٰ ھندیۃ،ص 95،الناشر دار الفکر،سنۃ النشر 1411ھ۔1991م)

وينبغي أن يكون بحذاء الإمام من هو أفضل كذا في شرح الطحاوي والقيام في الصف الأول أفضل من الثاني۔۔۔وأفضل مكان المأموم حيث يكون أقرب إلى الإمام(فتاویٰ ھندیۃ، ص89،الناشر دار الفکر،سنۃ النشر 1411ھ۔1991م)

و  يقف  الأكثر  من واحد  خلفه ۔۔۔  ويصف الرجال  لقوله صلى الله عليه و سلم  ليلني منكم أولو الأحلام والنهى  فيأمرهم الإمام بذلك(مراقی الفلاح ،کتاب الصلاۃ،  فصل  في  بيان  الأحق بالإمامة)