Apr
24
2019
سوال:السلام علیکم! میں ایک مسئلے کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہوں کیونکہ مجھے مختلف جگہوں سے مختلف جوابات ملے ہیں ۔مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ماہ ِ رمضان کے دوران فحش مناظر دیکھنے کی وجہ سے غیر ارادی طور پر انزال ہوجائے تو اسلام میں ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے ۔برائے کرم میری فرمائیں ؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں فحش مناظر دیکھےاور صرف دیکھنے کی وجہ سے انزال ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا یعنی قضاء اور کفارہ لازم نہ ہوگا لیکن رمضان کے مبارک مہینے کی عظیم عبادت میں اس طرح کا عمل کرنا ایک مسلمان کے لئے باعث ندامت ہونا چاہیے اور اس پر توبہ و استغفار اور آئندہ نہ کرنے کا عزم ہونا چاہیے۔([1])
واللہ اعلم بالصواب
[1] ۔ولو احتلم في نهار رمضان فأنزل لم يفطره لقول النبي صلى الله عليه وسلم { ثلاث لا يفطرن الصائم : القيء ، والحجامة ، والاحتلام } ولأنه لا صنع له فيه فيكون كالناسي ولو نظر إلى امرأة وتفكر فأنزل لم يفطره(بدائع الصنائع،کتاب الصوم ،فصل ارکان الصیام )
وإذا نظر إلى امرأة بشهوة في وجهها أو فرجها كرر النظر أولا لا يفطر إذا أنزل كذا في فتح القدير وكذا لا يفطر بالفكر إذا أمنى هكذا في السراج الوهاج(فتاویٰ ھندیۃ،ص 204،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ - 1991م)
(أو قبل )ولم ينزل ( أو احتلم أو أنزل بنظر ) ولو إلى فرجها مرارا ( أو بفكر ) وإن طال مجمع(در مختار،ص396،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1386،مكان النشر بيروت)