Apr
24
2019
سوال:حدیث میں ہے کہ مسلمان کو اذان کے ساتھ الفاظ کو دہرانا چاہیے۔اسے وہی کہنا چاہیے جو مؤذن کہے۔سوال یہ ہے کہ جمعہ کے روز دوسری اذان کے الفاظ بھی دہرانے چاہئیں جو خطبے سے پہلے دی جاتی ہے؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
نماز جمعہ کی دوسری اذان کے وقت خاموش رہنے کا حکم ہے ۔اس لئے اذان کے کلمات کا جواب اور اذان کے بعد کی دعاء کا زبان سے پڑھنا درست نہیں اس سے احتراز کرنا چاہیے۔البتہ دل دل میں پڑھنے میں حرج نہیں ۔([1])
عن ابن عباس وابن عمر أنهما كانا يكرهان الصلاة والكلام بعد خروج الإمام(مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب الصلاۃ،من كان يقول إذا خطب الإمام فلا يصلي) ترجمہ :حضرت ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ امام کے(منبر پر آجانے کے بعد) نماز اور کلام کو برا سمجھتے تھے۔
واللہ اعلم بالصواب
[1] ۔وفي هذه الساعة أقوال .أصحها أو من أصحها أنها فيمابين أن يجلس الإمام على المنبر إلى أن يقضي الصلاة كما هو ثابت في صحيح مسلم عنه صلى الله عليه وسلم أيضا حلية ۔
قال في المعراج : فيسن الدعاء بقلبه لا بلسانه لأنه مأمور بالسكوت (ردالمحتار،کتاب الصلاۃ، باب الجمعة)