Menu

Fatawaa

سجدے میں جاتے ہو ئے زمین پر پہلے ہاتھ رکھے جائیں یا گھٹنے

Apr 24 2019

 

سوال:ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا ۔یہ فرمائیں کے رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد جب سجدہ میں جاتے ہیں توپہلے گھٹنے زمین پر رکھنے چاہئیں یا کہ دونوں ہاتھ پہلے زمین پر رکھنے چاہئیں اور بعد میں گھٹنے زمین پر رکھنے چاہئیں۔رسول اللہﷺ کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟

   الجواب باسم ملھم الصواب

     أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

اس مسئلے میں روایات ِ حدیث دونوں طرح نقل ہوئی ہیں بعض میں اس طرح ذکر ہے کہ پہلے ہاتھ رکھے پھر گھٹنے جبکہ دوسری قسم کی احادیث جن پر فقہ حنفی میں فتویٰ ہے جس کے مطابق رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد جب سجدہ میں جاتے ہیں تو پہلے زمین پر گھٹنے رکھنے چاہئیں پھر دونوں ہاتھوں کو رکھنا چاہیے اور جب سجدہ سے قیام کی طرف اٹھے تو پھر اس کے برعکس ہوگا کہ پہلے زمین سے دونوں ہاتھوں کو اٹھانا چاہیے پھر دونوں گھٹنوں کو اٹھانا چاہیے۔([1])

سنن ابی داؤ میں ہے: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ(سنن ابی داؤد ،کتاب الصلاۃ،باب كيف يضع ركبتيه) ترجمہ:حضرت وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو زمین پر پہلے آپ ﷺ گھٹنے رکھتے اور بعد میں ہاتھ اور جب سجدہ سے اٹھتے تو گھٹنوں سے پہلے ہاتھوں کو اٹھاتے۔

واللہ اعلم بالصواب


[1] ۔ ومن سنن الانتقال أن يكبر مع الانحطاط ولا يرفع يديه ؛ لما تقدم ، ومنها أن يضع ركبتيه على الأرض ثم يديه وهذا عندنا۔۔۔ ولنا عين هذا الحديث ؛ لأن الجمل يضع يديه أولا وروي عن عمر وابن مسعود رضي الله عنهما مثل قولنا(بدائع الصنائع،کتاب الصلاۃ،فصل فی سنن حکم التکبیر ایام التشریق)