Apr
24
2019
سوال:میرا سوال یہ ہے کہ کیا جمعہ کا روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔میں اپنے قضاء روزے رکھ رہی ہوں اور ہر ہفتے متبادل دنوں پر روزہ رکھتی ہوں جیسے پیر پھر بدھ پھر جمعہ تو کبھی پیر تو کبھی جمعہ ،مجھے کسی نے جمعہ کاروزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔مہربانی فرماکر وضاحت کردیں ۔میں یہ جانتی ہوں کہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا چاہیے لیکن اکثر گھر کی مجبوری کی وجہ سے جمعرات کو نہیں رکھ پاتی ؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
قضاء روزے رکھنے کے لئے کوئی دن مقرر نہیں ہے بلکہ اپنی سہولت اور آسانی کو دیکھتے ہوئے جس دن چاہے روزہ رکھ سکتے ہیں ۔اسی طرح پیر،جمعرات اور جمعہ کو بھی روزہ رکھنا درست ہے ۔البتہ سال بھر کے پانچ ایام 13،12،11،10ذی الحجہ اور عید الفطر میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔([1])
[1] ۔ وهن لا يقضين الصلاة ، لأن الحيض يتكرر في كل شهر ثلاثة أيام إلى العشرة فيجتمع عليها صلوات كثيرة فتحرج في قضائها ولا حرج في قضاء صيام ثلاثة أيام أو عشرة أيام في السنة(بدائع الصنائع،کتاب الطھارۃ، الاستحاضة و احکامھا)
ومنها أن يحرم عليهما الصوم فتقضيانه هكذا في الكفاية(فتاویٰ ھندیۃ،ص 38، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ - 1991م)
ويستحب صوم أيام البيض الثالث عشر والرابع عشر والخامس عشر كذا في فتاوى قاضي خان وصوم يوم الجمعة بانفراده مستحب عند العامة كالاثنين والخميس كذا في البحر الرائق(فتاویٰ ھندیۃ،ص 201، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ - 1991م)
وكره بعضهم صوم يوم الجمعة بانفراده ، وكذا يوم الاثنين ، والخميس ، وقال عامتهم : إنه مستحب لأن هذه الأيام من الأيام الفاضلة فكان تعظيمها بالصوم مستحبا۔۔۔ فالأيام كلها محل له ويجوز في جميع الأيام إلا ستة أيام يومي الفطر ، والأضحى ، وأيام التشريق ، ويوم الشك(بدائع الصنائع،کتاب الصوم،فصل شرائط انواع الصیام)