Apr
24
2019
سوال : میں مکان بنا کر فروخت کرتا ہوں اور پلاٹ وغیرہ لے کر آگے پرافٹ پر سیل کردیتا ہوں ۔میرے ماموں میرے ساتھ اپنی رقم لگانا چاہتے ہیں اس کام میں وہ خود شریک نہیں ہوں گے صرف رقم دیں گے اور پرافٹ کا کچھ حصہ میں رکھ لوں گا جواُن کے ساتھ طے ہوگا وہ شارجہ میں نوکری کرتے ہیں اور بینک سے قرضہ لیتے رہتے ہیں ۔اب بھی قرضہ میں ہے جس سے وہ رقم مجھے دیں گے ۔شرعی طور پر کیا یہ درست ہے ۔کیا میں ایسا کرلوں؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
کسی بھی بینک سے سودی قرض کا لین دین جائز نہیں ہےاور اگر یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو کہ شریک کا پیسہ ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ ہے۔البتہ اُسے اُس مال میں تصرف کا اختیار ہے تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ شراکت کرنا درست نہیں۔لہذا صورت ِ مسئولہ میں ماموں سے مذکورہ رقم لے کر کاروبار میں لگانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔([1])
واللہ اعلم بالصواب
[1] ۔ كل قرض جر نفعا حرام(رد المحتار،کتاب البیوع،مطلب کل قرض جر نفعا)۔۔۔ أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية ولا يأكل الطعام(فتاویٰ ھندیۃ،ص 342،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ - 1991م)
قال رضي الله عنه لما سألته أن ما يشترى من السوق ويعلم قطعا أنهم يبايعون الأتراك ومن غالب مالهم الحرام ويجري بينهم الربا والعقود الفاسدة كيف يكون فهو على ثلاثة أوجه فكل عين قائمة يغلب على ظنه أنهم أخذوها من الغير بالظلم وباعوها في السوق فإنه لا ينبغي أن يشتري ذلك وإن تداولتها الأيدي والثاني إن علم أن المال الحرام بعينه قائم إلا أنه اختلط بالغير بحيث لا يمكن التمييز عنه فإن على أصل أبي حنيفة رحمه الله تعالى بالخلط يدخل في ملكه إلا أنه لا ينبغي أن يشتري منه حتى يرضى الخصم بدفع العوض فإن اشتراه يدخل في ملكه مع الكراهة والثالث إذا علم أنه لم تبق العين المغصوبة أو المأخوذ بالربا وغيره وإنما باعها لغيره فإن الذي يعلم أنه لم تبق تلك العين جاز له أن يشتري منهم هذا كله من حيث الفتوى أما إذا كان أمكنه أن لا يشتري منهم شيئا كان أولى أن لا يشتري(فتاویٰ ھندیۃ،ص 364، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ - 1991م)