Menu

Fatawaa

ایك انعامى اسكیم كا حكم

Jan 22 2021

اىك اسكىم جارى كى گئى ہے، جس مىں كار، موٹرسائىكل، سائىكل، جوسر سىٹ، جنرىٹر، فرج، اورمتعىن رقم كى كچھ نقدى، اسى طرح ٹى وى، اےسى، فرنىچرسىٹ وغىرہ وغىرہ، ىعنى چھوٹى بڑى ہرقسم كى اشىاء موجود ہىں۔ اور اس مىں ہرممبر كو انعام لازمى دىا جائے گا، لىكن شرط ىہ ہے كہ ہرماہ 500روپے جمع كروانا ہوں گے۔ نىزىہ اسكىم17ماہ تك چلتى رہے گى، جس مىں ہرماہ قرعہ اندازى كے ذرىعے نكلنے والے انعامات اسكىم مىں شامل ممبروں  كودىے جائىں گے۔ جس ممبر كا اىك مرتبہ انعام نكل گىا، توآئندہ اس سےمزىد رقم  نہىں لى جائے گى۔ جس كا جو نصىب ہوگا وہ اسے مل جائے گا۔ سوال ىہ ہے كہ درج بالا اسکیم کی شرعاً کیاحىثیت ہے؟ آیا یہ لاٹری اور جوئے کی  صورت میں تو نہىں آتی؟ یا شرعاً اس میں کچھ جواز پایا جاتا ہے؟ جزاك اللہ خىرا۔
الجواب باسم ملهم الصواب
سوال میں جس قسم کی انعامی اسكىم  کا ذکرکیا گیا ہےاس میں شریک ہونا اور انعام حاصل کرنا جائز نہیں، کیونکہ جب رقم اس طرح داؤ پر لگائی جائے کہ یا تو یہ رقم اپنے ساتھ اضافی رقم كا انعام بھی کھینچ لائے گی، یااس رقم سے كم كاانعام ملنے كااحتمال ہوگا، تو شریعت کی اصطلاح میں اس کو قمار’’جوا‘‘ کہتے ہیں اور جوا کھیلنا اور انعام حاصل کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ لہذامذكورہ بالا اسكىم چلانا ىا اس کےذریعہ انعامات حاصل کرنا شرعاًجائز نہیں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
وصورة ذلك: أن يقول الرجل لغيره: تعال حتى نتسابق، فإن سبق فرسك، أو قال: إبلك أو قال: سهمك أعطيك كذا، وإن سبق فرسي، أو قال: إبلي، أو قال: سهمي أعطني كذا، وهذا هو القمار بعينه؛ وهذا لأن القمار مشتق من القمر الذي يزداد وينقص، سمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة وينتقص أخرى، فإذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً، والقمار حرام، ولأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز(المحيط البرهاني،۵/۱۵۷)
مطلب كل قرض جرنفعاحرام(قوله كل قرض جرنفعاحرام)أي إذاكان مشروطاكماعلم ممانقله عن البحر،وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطافي القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه. (حاشية ابن عابدين،۵/۱۶۶)
ذكر الناطفي أن القرعة ثلاث: الأولى لإثبات حق البعض وإبطال حق البعض وإنها باطلة كمن أعتق أحد عبديه بغير عينه ثم يقرع(الفتاوى الهندية،۵/۲۱۷)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4707