Menu

Fatawaa

غلبہ شہوت کی وجہ سے زنا یا مشت زنی کا حکم

Dec 30 2020

ايک غير شادى شده آدمى كوانتہائى غلبہ شہوت کى وجہ سے زنا ىا مشت زنى وغيره کى گنجائش ہوسكتى ہے ىا نہىں؟ 
الجواب باسم ملهم الصواب
زنا کی حرمت اور مذمت قرآن پاک کی بے شمار آیات اور احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہے، جن کا حاصل یہ ہے کہ شرک کے بعد بڑے گناہوں مىں سے سنگین ترین گناہ زنا بھى ہے اور اس کی سخت ترین سزائیں دنیا اور آخرت میں بیان کی گئی ہیں، لہذا شہوت كے غلبہ كى وجہ سےزنا جیسے گھناؤنے فعل کا ارتکاب کرنا حرام وسخت گناہ ہے، زنا كرنے كى كبھى كسى صورت  مىں كوئى گنجائش نہىں۔
نىز مشت زنی كے بارے مىں احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، ایک حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگ اس طرح آئیں گے کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے، اوروہ مشت زنی کرنے والے ہوں گے (تمام لوگوں كے سامنے رُسوا ہوں گے) اور ایک دوسری حدیث شریف میں مشت زنی کرنے والے کو ملعون قرار دیا گیا ہے۔
لہذازنااورمشت زنی  سے بچنے کا بہترین حل شادی ہے، اگر کسی کی شادی نہ ہوئی ہو اور خواہشات نفس کا غلبہ ہو، اسی طرح شادی کا بھی بندوبست نہ ہواور خواہشات کا اتنا غلبہ ہو کہ زنا میں پڑ جانے کا خوف ہو تواسے چاہیئے کہ مسلسل روزے رکھے اور روزوں کے ذریعے اپنی شہوت کو توڑے۔ اسى طرح نىك لوگوں كى صحبت اختىار كرے، اللہ والوں كى مجالس مىں شركت كرے، اس طرح نفس پر قابوپانے مىں مدد ملے گى، ان شاء اللہ۔
عن عبد الرحمن بن يزيد، قال: دخلت مع علقمة والأسود على عبد الله، فقال عبد الله: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم شبابا لا نجد شيئا، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم:يا معشر الشباب، من استطاع الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء (البخاری،۲/۷۵۸)
قوله (الاستمناء حرام)أي: بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة (رد المحتار ،۴/۲۷)
عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "سبعة لا ينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة، ولا يزكيهم، ولا يجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه الناكح يده، والفاعل والمفعول به، والمدمن بالخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره "تفرد به هكذا مسلمة بن جعفر هذا" قال البخاري في التاريخ قال قتيبة: عن جميل هو الراسبي، عن مسلمة بن جعفر، عن حسان بن جميل، عن أنس بن مالك قال: "يجيء الناكح يده يوم القيامة ويده حبلى" (شعب الإيمان،۷/۳۲۹)
قولہ ولوخاف الزنی الظاھر أنہ غیر قید بل لو تعین الخلاص من الزنی بہ وجب لأنہ أخف وعبارۃ الفتح فإن غلبتہ الشھوۃ ففعل إرادۃ تسکینھا بہ فالرجاء أن لا یعاقب، زاد فی معراج  الدرایۃ وعن أحمد والشافعی فی القدیم الترخص فیہ وفی الجدید یحرم ویجوز أن یستمنی زوجتہ وخادمتہ وسیذکر الشارح فی الحدودعن الجوهرۃ أنہ یکرہ ولعل المراد بہ کراهۃ التنزیہ فلا ینافی قول المعراج تأمل وفی السراج إن أراد بذلک تسکین الشھوۃ المفرطۃ الشاغلۃ للقلب وکان عزبا لا زوجۃ لہ ولا أمۃ أو کان إلا أنہ لا یقدر علی الوصول إلیھا لعذر قال أبو اللیث أرجو أن لا وبال علیہ وأما إذا فعلہ لاستحلاب الشہوۃ فھو آثم (رد المحتار،۲؍۳۹۹)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4626