Dec
30
2020
ايک عورت کا آپريشن کرنے سے بچہ پيدا ہوا، اب اس عورت کى مدتِ نفاس کيا ہوگى؟ عدمِ رؤىتِ دم کى وجہ سے شوہر بحالتِ مجبورى غلبہ شہوت کى وجہ سے جماع کرسکتا ہے ىا نہىں؟
الجواب باسم ملهم الصواب
مذكورہ صورت مىں اگرىہ عورت معتادہ ہے، یعنی اس کے یہاں پہلے بھی ولادت ہوئی اور اس کی نفاس کی اور نفاس کے بعد طہر کی عادت مقرر ہے، تو اپنی سابقہ عادت کے موافق نفاس اور طہر کے دن شمار کرے گی، اوراگرىہ عورت مبتدأہ ہے ىعنى اس كے ىہاں پہلى بار بچہ کی ولادت ہوئى، تو چالس دن كے اندر اندر آنے والاخون نفاس كہلائے گا، اگر خون چالىس دن پورے ہونے سے پہلے بند ہوجائے تو ىہ عورت پاك كہلائے گى اور اگر چالىس دن كے بعد بھى خون جارى رہے تو چالىس دن بعد آنے والا خون استحاضے كا خون كہلائے گا، اس كا حكم ىہ ہے كہ ىہ عورت چالىس دن پورے ہونے پر غسل كرے اور اس كےبعد نماز پڑھے اور ہر نماز كے لىے نىا وضوكرے۔
لہذا مذكورہ تفصىل كے مطابق عورت معتادہ ہو ىا مبتدأہ، نفاس كى مدت کا تعىن كركے عمل كرلىا جائے۔ جو دن نفاس کے ہوں گے، ان مىں جماع كرناجائز نہىں اور جو دن طہر کے ہوں گے، اُن میں جماع كرنا درست ہے، البتہ دخول كے بغىر استمتاع جائز ہے، ىعنى ناف سے گھٹنوں تك كپڑا ركھ كر كپڑے كے اوپر سے اوربقیہ تمام بدن سے لذت حاصل كرنا درست ہے، اوریہ صورت بالاتفاق جائز ہے، اورحالتِ حىض ىا نفاس مىں جماع كرنا ىا ناف سے گھٹنوں تك كى جگہ سے بلا حائل ہاتھ وغىرہ سے لذت حاصل كرنا، یہ دونوں صورتیں بالاتفاق حرام ہیں۔ (درس ترمذى بتصرف: ۱/۳۸۹) تاہم اگر چالىس دن سے پہلے خون بند ہوجائے تو مستحب ىہ ہے كہ غسل كے بعد صحبت كى جائے۔
أقل النفاس ما يوجد ولو ساعةً، وعليه الفتوى، وأكثره أربعون، كذا في السراجية. وإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس، هكذا في المحيط. (الفتاوى الهندية،۱/ ۳۷)
(وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا (الدر المختار,۱/ ۲۸۵)
(وأكثره أربعون يوما)كذا رواه الترمذي وغيره ولأن أكثره أربعة أمثال أكثر الحيض.(والزائد)على أكثره (استحاضة)لو مبتدأة؛ أما المعتادة فترد لعادتها. (الدر المختار،۱/۳۰۰)
إذا انقطع لتمام العشرة يحل وطؤها بمجرد الانقطاع ويستحب له أن لا يطأها حتى تغتسل، وفيما إذا انقطع لما دون العشرة دون عادتها لا يقربها وإن اغتسلت ما لم تمض عادتها، وفيما إذا انقطع للأقل لتمام عادتها إن اغتسلت أو مضى عليها وقت صلاة حل وإلا لا وكذا النفاس إذا انقطع لما دون الأربعين لتمام عادتها، فإن اغتسلت أو مضى الوقت حل وإلا لا(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،۱/۲۳۱)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4626