Dec
22
2020
سوال یہ ہے كہ كىا ایزی پیسہ میں رقم رکھنے سے روزانہ کی بنیاد پر جو مطلوبہ رقم پر کیش بیک کے نام سےreward (فائدہ) دىا جاتا ہے، اس كا كىا حكم ہے، كىونكہ 2 ماہ کے اندر میں نے بہت ہی کم ٹرانزیکشنز کی ہے، جس مد مىں مجھے 196 روپے مل چكے ہىں،اسی طرح ریوارڈ کی مد میں مفت منٹس اور ایس ایم ایس دیے جاتے ہیں، منٹس اور ایس ایم ایس نا چاہتے ہوئے بھی خود کار نظام کے تحت استعمال میں آ جاتے ہیں، کیا یہ سب کے سب حرام ہیں، یا ان کو استعمال کرنا جائز ہے؟ اللہ سبحانہ و تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔
الجواب باسم ملهم الصواب
ایزی پیسہ اکاونٹ مىں جو رقم ركھى جاتى ہے، اس كى حىثىت قرض كى ہے، اورایزی پیسہ اکاؤنٹ مىں رقم ركھوانے پر ىا اس كے ذرىعے ٹرانزىكشنز كرنے پركمپنى کی طرف سے جو reward كے نام سے فائدہ دىا جاتا ہے، ىا اکاؤنٹ میں رہنے والی مخصوص رقم پر ملنے والے فری منٹس، اىس اىم اىس وغىرہ ىہ سب بھى قرض پر منفعت ہے، جو سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ لہذا ىہ اضافى رقم ىا فرى منٹس وغىرہ کا استعمال كرنا شرعاً ناجائز ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔ اگر كسى نے استعمال كرلىے، تو اندازہ كركے اتنى رقم كمپنى كو واپس كردى جائے۔
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (الدر المختار،۵ /۱۶۶)
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به(حاشية ابن عابدين،۵/۱۶۶)
قال الكرخي في مختصره في كتاب الصرف وكل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز، وكذلك لو باعه شيئا، ولم يكن شرط البيع في أصل العقد جاز ذلك، ولم يكن به بأس إلى هنا لفظ الكرخي في مختصره، وذلك؛ لأن القرض تمليك الشيء بمثله فإذا جر نفعا صار كأنه استزاد فيه الربا فلا يجوز؛ ولأن القرض تبرع وجر المنفعة يخرجه عن موضعه، وإنما يكره إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي ،۶/ ۲۹)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4629