Jul
30
2020
مولف:استاذ محمد رشید ارشد صاحب مدظلہ
﷽
انسان کا مقصدِ حیات
یہ معروف بات ہے کہ ہم اس دنیا میں بطور آزمائش آئے ہیں۔سلسلۂ حیات و ممات اور یہ گردشِ روز و شب ہماری آزمائش ہی کے لیےہے۔ارشاد باری تعالی ہے: ﴿الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ﴾ (الملک : 2 )’’جس نے موت اور زندگی اس لیے پیدا کی تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ بہتر ہے ، اور وہی ہے جو مکمل اقتدار کا مالک ، بہت بخشنے والا ہے ‘‘۔ آسان الفاظ میں کہیں تو ہماری ’’وجہ حیات‘‘ آزمائش ہے تو ہمارا مقصد حیات اس آزمائش میں کامیاب ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔اب اس مقصد حیات کو پانے کے لیے ہمارا اندازِ حیات کیسا ہونا چاہیے۔ کس طرح کا جینا ، جیا جائے کہ ہم اس آزمائش میں پورا اتریں۔ زیرِ نظر کتابچہ اسی طرزِ حیات سے متعلق ہے۔
عطاکردہ صلاحیتیں
اللہ نے ہمیں امتحان کے اس اکھاڑے میں اتارا ہے تو بے سرو سامان نہیں بھیجا ۔ بلکہ ہمیں بعض صلاحیتوں سے نواز کے بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کی فطرت میں اپنی بندگی کا بیج ڈال دیا ہے۔ ہمیں شعوری طور پر تو عہدِالست یاد نہیں ہے لیکن اس دنیا میں آنے سے پہلے ہمارا وجود عالمِ ارواح میں تھا اور وہاں ہمارا اللہ تعالیٰ سے ایک مخاطبہ ہوا جو عہد الست سے مشہور ہے ۔اس کا ذکر سورۂ الاعراف کی آیت: ۱۲۷ میں اس طرح ہے: ﴿وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی شَہِدۡنَا ﴾’’اور ( اے رسول ! لوگوں کو وہ وقت یاد دلاؤ ) جب تمہارے پروردگار نے آدم کے بیٹوں کی پشت سے ان کی ساری اولاد کو نکالا تھا ، اور ان کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا تھا ، ( اور پوچھا تھا کہ : ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا تھا کہ : کیوں نہیں؟ ہم سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں ‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی ربوبیت کا عہد کرکے یہاں پر آئے ہیں اور ہمیں اس فطرت پر خلق کیا گیا ہے جو بندگی کی اصل پر اُستوار کی گئی ہے یعنی انسان کی جو اصل ہے وہی اس کی غایت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بندگی کی اصل پر پیدا کیا اور بندگی ہی کا مطالبہ ان سے کیا یعنی اگر یہ ہوتا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے سرکشی کی اصل پر پیدا کیا ہوتا اور پھر اس سے بندگی کا مطالبہ کیا جاتا تو یہ ’’تکلیف مالا یطاق‘‘ہوتی ایک ایسی بات ہوتی جس کی انسان کے اندر طاقت نہیں تھی۔
فطرت کی نگہبانی
اس تفصیل کی روشنی میں ہماری آزمائش یہ ہے کہ جس فطرت پر ہمیں خلق کیا گیا ہے ،اس پر ہم قائم رہیں اس کی (Purity ) خالص پن کو مجروح نہ ہونے دیں اس کو بے آمیز رکھیں۔ اس کے لیے ہر لمحہ کوشش کی ضرورت ہے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ ہماری رو ح تو مُوَحِّد ہے، اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور ربوبیت کا اقرار کرکے آئی ہے لیکن اس روح کو ایک مادی جسم کے اندر رکھ دیا گیا اور اس جسم کو ایک مادی دنیا میں رکھ دیا گیا جس کی وجہ سے آزمائشوں کا ایک سلسلہ ہے جو ہمیں درپیش ہے۔
تزکیے کی ضرورت
ہماری ذمے داری یہ ہے کہ ہمیں اپنی اس فطرت کو پاکیزہ رکھنا ہے اور اپنے نفس کو آلائشوں سے پاک رکھنا ہے اسی عمل کو تزکیۂ نفس کہتے ہیں۔اسی کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے اور ہماری اخروی فلاح کواس سے متعلق کیا گیا ہے۔سورۃ الاعلیٰ آیت: ۱۴ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿قَدۡاَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی﴾ ’’فلاح اس نے پائی ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی ‘‘یہی مضمون دوسرے انداز میں سورۃ الشمس میں بیان ہوا: ﴿قَدۡاَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا﴾’’ فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے ‘‘۔تزکیہ کرنا کیوں ہے ﴿فَاَلۡہَمَہَافُجُوۡرَہَاوَ تَقۡوٰىہَا﴾’’ پھر اس کے دل میں وہ بات بھی ڈل دی جو اس کے لیے بدکاری کی ہے ، اور وہ بھی جو اس کے لیے پرہیزگاری کی ہے ‘‘۔یعنی فسق و فجور اور نیکی و تقوی دونوں کی صلاحیت ، دونوں طرح کے جذبات انسان میں رکھ دیے۔اب امکانی طور پر دونوں طرح کا نتیجہ نکل سکتا ہے۔پہلا نتیجہ فلاح و کامیابی کا ہے جس کا راستہ تزکیہ ہےاور دوسرا نتیجہ خسارہ ہے۔ ان آیات کی روشنی میں تزکیے کی ایک تعریف یہ ممکن ہے کہ نفس کے اندر جو خیر کے داعیات اور نیکی کی صلاحیتیں ہیں انھیں بڑھایا جائے، اور نفس کے اندر جو شرکارجحان یا برائی کی صلاحیتیں ہیں انھیں دبایا جائے۔
مراقبے کی ضرورت
اب اس تزکیے کے لیے بہت سی چیزیں ضروری ہیں ان میں ایک چیز بہت اہم ہے ۔ یہ تزکیۂ نفس کی ابتدا بھی ہے اور اس کا حاصل بھی ہے،یہ بات خود نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی ،آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ تزکیۂ نفس کیا ہے ؟ فرمایا : ﴿ يَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُ حَيْثُ ما كَانَ﴾ ’’ تزکیۂ نفس یہ ہے کہ انسان ہر وقت یہ دھیان رکھے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی وہ ہو‘‘۔(ابوداود)تو تزکیۂ نفس کی کلید اس تصور میں ہے کہ میں اس بات کا دھیان قائم رکھوں کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔سورۃ النساء کہ پہلی آیت میں فرمایا کہ ﴿إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے‘‘۔سورۃ العلَق میں ایک سرکش کردار کے بارے میں فرمایا کہ ﴿أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى﴾ ’’کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے‘‘۔ تو ایک بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معیت کا احساس رہے ۔ یہ خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ اس توجہ کا ذریعہ کیا ہے۔ دنیا میں اس کا ذریعہ ہے ذکر،اسی لیےسورۃ الاعلیٰ میں کامیاب انسان کاوظیفہ ذکر قرار دیا گیا:﴿وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى﴾’’اور اپنے پروردگار کا نام لیا ، اور نماز پڑھی‘‘۔ اللہ کا ذکر عموم میں بھی ہے اور اللہ کے ذکر کی انتہائی شکل نماز کا بھی ذکر کیا گیا،تو تزکیۂ نفس کے لیے ایک اہم چیز ذکر ہے ۔
تاثیر و صحبت محمدیﷺ
تزکیہ ٔنفس کےباب میں ایک اور چیز بھی بہت اہم ہے اور وہ نبی اکرمﷺ کی شخصیت ہے ۔ نبی اکرمﷺ کی بعثت کے ذکر میں آپ کے جو وظائف اور بنیادی ذمے داریاں بیان کی گئی ہیں اس میں سے ایک چیز تزکیہ بھی ہے۔ قرآن مجید میں تین جگہ (يُزَكِّيهِمْ )اور ایک بار (يُزَكِّيكُمْ) کے الفاظ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہےکہ پیغمبر اہل ایمان کا تزکیہ کرتے ہیں۔سورة الجمعہ کی دوسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کے ان وظائف کا ذکر یوں فرمایا گیا: ﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ﴾(سورۃ الجمعہ :2)’’وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں، اور ان کو پاکیزہ بنائیں، اور انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں‘‘ (يُزَكِّيهِمْ) میں موجود ضمیر فاعلی اللہ کے نبی ﷺ ہی کی طرف متوجہ ہے یعنی آپ ﷺ لوگوں کا تزکیہ کرتے ہیں ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی ذات سے مزکی ہیں ۔
ہمارے ہاں بعض حلقوں میں جب تزکیۂ نفس پر گفتگو ہوتی ہے تو قرآن مجید کی بہت اہمیت بیان کی جاتی ہے اور یہ بالکل ٹھیک ہے اس میں کوئی شبہ کی بات نہیں ہے۔ قرآن مجید’’الذکر‘‘ ہے: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ) (سورة الحجر : 9)’’حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں‘‘۔ تزکیۂ نفس میں ایک بہت بنیادی اہمیت قرآن مجید کی ہے۔اور نبی اکرمﷺ کا جو طریقہ تزکیہ ہے اس میں بھی بنیادی چیز قرآن مجید ہی تھا آپ کہیں بھی تشریف لے جاتے تھے تو قرآن مجید کی آیات تلاوت کرتے تھے ۔ تزکیۂ نفس کی بحث میں جب قرآن پاک کی تاثیر کو بیان کیا جاتا ہے تو جو عنصر دب جاتا ہےاور نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے وہ نبی اکرمﷺ کی ذات کی تاثیر ہے۔ سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام کاتزکیہ جس قرآن سے ہو رہا تھا تو وہ قرآن پیغمبرﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہورہا تھا یعنی اس تزکیہ میں جہاں قرآن کی تاثیر کا عمل دخل ہے وہیں صاحبِ قرآن کی تاثیر ، آپ ﷺ کی صحبت ، آپ کی Presents کا بھی بہت عمل دخل ہے۔
آپﷺ کے جن وظائف کا ذکر ہوا ، ان پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ تلاوتِ آیات ایک عمل ہے جو ہمیں نظر آتا ہے،تعلیمِ کتاب وحکمت یہ بھی ایک عمل ہے وہ بھی ہمیں نظر آتا ہے لیکن تزکیۂ نفس ہمیں اس طرح نظر نہیں آتا ۔یہ کون سا عمل تھا،کہاں ہورہا تھا،کب ہورہا تھا اس کی کونسی نشست ہوتی تھی،اس کے لیے کون سی مجلس ہوتی تھی ہمیں الگ سے ممتاز انداز میں یہ بات نہیں معلوم کہ اللہ کے نبیﷺ نے کہا ہو کہ اب ہم تزکیۂ نفس کی طرف چلتے ہیں یا اب ہم تزکیۂ نفس کے حوالے سے کوئی بات کرتے ہیں ۔تو اصل میں نبی اکرمﷺ کی جو صحبت ہے اس سے تزکیہ ہوتا تھا اور اس پر نص ہے صحیح مسلم میں موجود سیدنا حنظلہ کا وہ واقعہ کہ جب ایک موقعے پر بڑے اضطراب میں وہ بُڑبُڑاتے ہوئے چلے جارہے تھے کہ’’نافَقَ حنظلۃ‘‘ یعنی حنظلہ تو منافق ہوگیا۔ سیدنا ابو بکرصدیق نے جب سنا تو کہنے لگے حنظلہ کیا کہہ رہے ہو، دھیان کرو کیا بات کررہے ہو۔ تو انھوں نے اپنا مسئلہ بتایا کہ جب ہم نبی اکرمﷺ کی صحبت میں ہوتے ہیں اور وہ ہمیں جنت اور جہنم کی یاد دہانی کرواتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے ہم اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھ رہے ہوں یعنی ہمارے لیے وہ ایک مشاہدہ اور حال بن جاتا ہے لیکن جب ہم اپنے گھر در میں جاتے ہیں اور کاروبار میں ،کھیتی باڑی میں لگتے ہیں تو بہت کچھ ہم بھول جاتے ہیں بہت کچھ ہم پہ ذہول اور غفلت طاری ہوجاتی ہے تو سیدنا ابو بکر صدیق چونکہ سچے آدمی تھے اس لیےان کی تواضع کتنی غیر معمولی ہے۔ صحابہ کرام کا کوئی Self-Image نہیں تھا یعنی اپنے بارے میں کوئی بڑائی کا احساس نہیں تھا۔ وہ ہستی کہ جس کے بارے میں امت یہ مانتی ہے کہ’’أفضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق أبو بکر ن الصدیق‘‘ یعنی انبیا کے بعد تمام امتوں میں افضل ترین شخصیت جو سب سے ممتاز ہے وہ سیدنا ابو بکر ہیں اور رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے وہ جنت کی بشارت بھی پاچکے ہیں۔ اس کے باوجود جب یہ بات سیدنا حنظلہ نے بیان کی تو وہ بھی پریشان ہوگئے اور کہا کہ ہاں یہ حالت تو میری بھی ہے اور اگر جو تمہارا تاثر ہے کہ یہ نفاق ہے تو مجھے اپنے بارے میں بھی یہ اندیشہ ہے۔ چنانچہ وہ دونوں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جاکر اپنی پوری بپتا بیان کی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ دیکھو اگر تمہاری وہ کیفیت جو میری صحبت میں رہتی ہے اگر دائمی ہو جائے، اور تم لوگ استمرار کے ساتھ اسی درجہ ایمان پر قائم رہو جو میری محفل میں ہوتی ہے تو پھر فرشتے تم سے تمہارے بچھونوں میں،اور رستوں میں مصافحے کریں گے، پھر آپﷺ نے فرمایا: ﴿يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةٌ وَسَاعَةٌ﴾ ’’اے حنظلہ!یہ وقت وقت کی بات ہے گھڑی گھڑی کی بات ہے‘‘۔ تو رسول اللہﷺ کی جو مبارک صحبت ہے یہ تزکیے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور نبی اکرمﷺ کی استعدادِ تزکیہ ہے آپﷺ کےدنیا سے رخصت ہونے کے بعد ختم تو نہیں ہوئی ۔بلکہ یہ بات تو ہمارے ایمان کا حصہ ہونی چاہیے کہ نبی اکرمﷺ قیامت تک کے تمام مسلمانوں کے تزکیے کا ذریعہ ہیں ۔
اس بات کی کچھ پر اسرار یا کچھ صوفیانہ توجیہات ہو سکتی ہیں۔ اس پر کلام ہوسکتا ہے کہ نبی اکرمﷺ کے تصرفات کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں۔ اس پر کلامی اور علمی سطح پر بڑی بحث ہوسکتی ہے لیکن ہماری بات کے ایک بالکل سادہ معنی ہیں وہ ہم عرض کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی صحبت اور تاثیر سے فائدہ اٹھانےکا ایک آسان طریقہ صحبت معنوی ہے۔
صحبتِ معنوی کا طریقہ
اس کا طریقہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا اسوۂ حسنہ آپ کی سنتِ مبارکہ اور پھر خاص طور پر جو آپ کی پسند نا پسند ہے وہی ہماری پسند اور ناپسند ہو، آپ کی طبیعت اور مزاجِ مبارک کی پیروی کرنے کی کوشش کرنا یہ صحبتِ معنوی ہے۔ اقبال کا ایک شعر ہے ؎
مقامِ خویش اگر داری در یں دیر
بحق دل بند و راہِ مصطفی رو
اس دیر و بت کدے یعنی اس دنیا میں اپنا کوئی مرتبہ قائم کرنا چاہتے ہو،اپنا کوئی مقام بنانا چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ سے دل لگاؤ ا للہ سے تعلق مضبوط کرو، ذکر اللہ میں دوام حاصل کرو اور اس کیفیت ذکر کے ساتھ اب رسول اللہﷺ کے راستے پر چلتے رہو۔اب یہ دو تعلق ہیں ۔ اللہ کے ساتھ حضوری کا تعلق ہے جبکہ رسول اللہ کے ساتھ پیروی کا تعلق ہے تو نبی اکرمﷺ کے ساتھ اس طرح کا تعلق قائم کرنا کہ نبی اکرمﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے اور آپﷺ کی عاداتِ اور معمولات مبارکہ پر توجہ کی جائے۔
ہمارے ہاں کچھ اسباب سے سیرت کا جو زیادہ متداول منہج رہا ہے وہ تاریخی رہا ہے ۔ معلوم ہونا چاہیے کہ سیرت کی جو ابتدائی کتابیں لکھی گئیں وہ مغازی پر مشتمل تھیں کیونکہ نبی اکرمﷺ کی زندگی کا زیادہ حصہ جو مکتوب و محفوظ اور روزِ روشن کی طرح عیاں تھا وہ مدنی زندگی تھی،اور مدنی زندگی میں زیادہ حصہ غزوات پرمشتمل ہے۔ ویسے بھی تاریخ کو بیان کرنے کا اسلوب عام طور پر Chronological ہوتا ہے کہ نبی اکرمﷺ سے پہلے عرب کی حالت کیا تھی پھر آپ کی پیدائش ہوئی بالکل بچپن کے کچھ واقعات آئیں گے اس کے بعد جوانی ، تجارت ، شادی ، ابتدائے نبوت پھر اسراء اور معراج پھر اس طرح کی دوسری چیزیں پھر ہجرت کا واقعہ اور پھر غزوات،تو اس انداز بیان میں، رسول اللہﷺ کی شخصیت کا پہلو بعض اوقات دب جاتا ہے ۔
سیرت کی ایسی کتب کا مطالعہ کہ جس میں نبی اکرمﷺ کی شخصیت سامنے آئے،آپ کے رویے سامنے آئیں،آپ کے معمولات ، آپ کی پسند و ناپسند ، آپ کے کھانے اور پہناوے سامنے آئیں ۔ نبی اکرمﷺ کی عاداتِ مبارکہ،آپ ﷺ کی خِلقت اور آپ ﷺ کے خُلق کا بیان سامنے آئے ۔ سیرت کا یہ پہلو جس صنف علم میں بیان کیا جاتا ہے اسے شمائل کہا جاتا ہے۔تو شمائل کا جو موضوع ہے اس کا مطالعہ نبی کریمﷺ کی ذات سے تعلق پیدا کرنے میں بہت مفید ہے تو اس طرح کی جو کتابیں ہیں ان کو مطالعے میں رکھنا چاہیے۔
مولانا ڈاکٹر سید عبد الحئی عارفی صاحبؒ کی کتاب ’’اسوۂ رسول اکرمﷺ‘‘ اس لحاظ سے بہت مفید کتاب ہے۔ اس میں نبی اکرمﷺ کے معمولات کا بیان ہے۔اسلاف میں حافظ ابن قیمؒ کی تصنیف ’’زادُ المَعاد فی هَدْيِ خیرِ العِباد‘‘میں فَصْلٌ فِي هَدْيِهِ فِي الصلاۃ، فَصْلٌ فِي هَدْيِهِ فِي الزکوٰۃ، فَصْلٌ فِي هَدْيِهِ فِي الحج، فَصْلٌ فِي هَدْيِهِ فِي الجہاد ہے۔اس لحاظ سے ہمیں نبی اکرمﷺ کی مبارک زندگی کو دیکھنا چاہیے، اس کا مطالعہ کرنا چاہیے اور خاص طور پر پسند ناپسند کی سطح پر جو نبی اکرمﷺ کی چیزیں ہیں ان پر توجہ کرنی چاہیے کیونکہ انسان کی شخصیت کا سب سے گہرا پہلو طبیعت اور مزاج کا ہوتا ہے اور طبیعت و مزاج کے ہاں وصف ، رغبت و کراہت کا ہوتا ہے ۔طبیعت کی رغبت کس چیز کی طرف ہے اور کون سی چیزیں ہیں جن کی کراہت طبیعت میں پائی جاتی ہے۔ ان چیزوں کا جائزہ لیں کہ نبی اکرمﷺ کو کیا چیزیں مرغوب تھیں اور صرف مذہبی پہلو سے نہیں بلکہ جس کو خالص سیکیولر اور ذاتی زندگی کہا جاتا ہے اس پہلو کا بھی مطالعہ کریں۔مثلا نبی اکرمﷺ کو ٹھنڈا پانی ،شہد اورخوشبو مرغوب تھی تو اس سے رغبت پیدا کریں۔
بخاری شریف کتاب الاطعمہ میں سیدنا انس کی ایک بہت خوبصورت روایت ہے:ایک درزی نے رسول اللہﷺکی کھانے کی دعوت کی جو انھوں نے آنحضرتﷺکے لیے تیار کیا تھا۔ انس نے بیان کیا کہ حضور اکرمﷺکے ساتھ میں بھی گیا ، میں نے دیکھا کہ آپﷺ پیالے میں چاروں طرف کدو تلاش کرتے تھے(اور تناول فرماتے تھے)،سیدنا انس کہتے ہیں اس دن سے مجھے بھی کدو سے محبت ہوگئی۔ یعنی جب انھوں نے دیکھا کہ نبی اکرمﷺ کو ایک خاص سبزی کی طرف رغبت ہے تو آپ کو اس سبزی سے محبت ہو گئی ۔اب یہ کوئی قانونی بیان نہیں کہ ہم اس چیز کو قانون کا کوئی موضوع بنالیں، لیکن بات تعلق کی ہے تو جس شخص سے قلبی تعلق ہوتا ہےاس کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ایک خاص عمل
رسول کریمﷺ کی پیروی کے اعتبار سے میں ایک خاص بات عرض کروں گا۔ہم نے اپنے اکابر سے سنی اور یہ ان کے معمولات میں شامل رہی ۔ وہ یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کی جو دعائیں سکھائی ہیں ان پر توجہ کی جائے،انھیں یاد کیا جائے، انھیں پڑھا جائے اور ان کے ذریعے اپنے رب کو پکارا جائے ۔ کیونکہ دعا ایک ایسی چیز ہے کہ جس میں ایک جیسے سنگم سا ہوجاتا ہے۔
رسول اللہﷺ کے فرامین کے مطابق دعا عبادت کا جوہر ہے۔ تو جب انسان دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو گویا بندگی بالکل فطری انداز میں استوار ہوجاتی ہے یعنی جب انسان ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ وہ مانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے۔وہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے جو چاہتا ہے عطا کرسکتا ہے اور میں ایک عبدِ ذلیل ہوں ،میں بےوقعت ہوں، تو بندگی اسی کانام ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت ، اس کی بڑائی کا ادرا ک کرلے اور اپنے عجز و انکسار اور اپنی کمزوری و ذلت کا اعتراف کرلے تو دعا میں آپ دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں پہلو جڑ جاتے ہیں عبدیت کا بھی ادراک ہوجاتا ہے اور معبود کا بھی پورا تعارف حاصل ہوجاتا ہے۔ تو کہا جا سکتا ہے کہ دعا ایک سنگم ہے جہاں ذلت عبد اور عظمت رب کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔
یہ تو عبدیت اور ربوبیت کا سنگم ہوا لیکن جب ہم دعا میں رسول اللہﷺ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ہماری عبدیتِ عام کا ، رسول اللہ ﷺ کی عبدیتِ خاص سے ملاپ ہو جاتا ہے۔ آپﷺ عبد کامل ہیں تو الفاظ دعا میں آپ کی پائی جانے والی عبدیت ہمارے اندر بھی سرایت کرتی ہے اور ہماری بندگی اور عبدیت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ پیچھے پسند و ناپسند کی بات چلی تھی تو نبی اکرمﷺ کی دعائیں ہمیں یہ بتادیتی ہیں کے کون سی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہیں، اللہ کی پسندیدہ ہیں اور کونسی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ ہیں۔تو جس جس چیز کو نبی کریمﷺ اپنے لیے اللہ سے طلب کیا ہے تو گویا وہ چیز اللہ کی محبوب چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس کے بندے اس سے وہ طلب کریں اور ہر وہ چیز جس سے اللہ کے نبی کریمﷺ سے پناہ مانگی ہے تو گویا وہ چیز اللہ کی ناپسندیدہ ہے ۔ ہمیں اس سے پناہ بھی مانگنی ہے اور اس سے بچنے کی کوشش بھی کرنی ہے۔یعنی دعا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ یہ چیز مانگنے کی ہے اور اس کے لیے سعی کرنی ہے اور تعوذ یہ بتاتا ہے کہ ان چیزوں سے مجھے پناہ مانگنی ہے اور ان سے مجھے بچنے کی کوشش کرنی ہے۔تو ایک فہرست سی بنالیں جس میں ’’اللّٰھم إنی أَسْئَلُکَ‘‘سے شروع ہونے والی دعائیں درج ہوں اور ایک فیرست میں ’’اللّٰھم إنی أَعُوذُبِکَ‘‘ سے شروع ہونے والی ۔ان دعاؤں کو معمول بنائیں اور پھر کوشش کریں کہ ان اوصاف کو اپنا حال بنائیں ان اوصاف سے متصف ہونے کی کوشش کریں اور جہاں یہ کہا گیا ہے کہاے اللہ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں تو ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں۔
مسنون دعاؤں میں ایک تیسرا پہلو بھی ہے، وہ یہ کہ مانگی گئی چیزیں وہ ہیں جو نبی کریمﷺ کی پسندیدہ ہیں اور جن سے پناہ مانگی گئی ہے تو وہ نبی کریمﷺ کی ناپسندیدہ ہیں تو ان دعاؤں سے ہماری پسند و ناپسند، رسول اللہﷺ کی پسند و ناپسند سے مطابقت پیدا کرتے چلی جاتی ہے ۔گویا مزاج رسول پاکﷺ سے ہمارے مزاج کی مناسبت ہوتی جائے گی ۔اس پاک مزاج سے ہمارے مزاج کی مناسبت جتنی بڑھتی جائے گی اتنا ہی ہمارا مزاج پاک ہوتا جائے گا ۔اس کا تزکیہ ہو تا جائے گا۔ تو مسنون دعاؤں کو ذریعہ دعا بنانا ایک بہت فطری انداز ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے بھی تعلق جڑ جاتا ہے اور نبی اکرمﷺ سے بھی جوکہ ہماری نجات کی شرط ہے۔ آپﷺ سے ایسا تعلق کہ جس میں محبت بھی شامل ہو ایمان کا لازمی حصہ ہے کیونکہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کو ہر مسلمان سے مطلوب ہے، سورہ توبہ آیت ۲۴ میں ارشاد ہے:﴿قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُنِ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ﴾’’( اے پیغمبر ! مسلمانوں سے ) کہہ دو کہ:اگر تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے ، تمہارے بھائی ، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان ، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے، اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمھیں اندیشہ ہے ، اور وہ رہائشی مکان جو تمھیں پسند ہیں ، تمھیں اللہ اور اس کے رسول سے ، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں ، تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے ‘‘۔
ایک مسنون دعا
سنن نسائی میں ایک دعا نقل ہوئی ہے اور بہت جامع دعا ہے۔آپﷺ نے فرمایا: ﴿اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وقُدرتِكَ على الخَلقِ أَحْيني مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَى وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَى بَعْدَ الْقَضَاءِ وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زِيِّنَا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ ﴾’’اے اللہ! اپنے علمِ غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے ذریعے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک میرا زندہ رہنا تیرے علم کے مطابق میرے لیے بہتر ہو ۔ اور جب تو سمجھے کہ میرا فوت ہونا میرے لیے بہتر ہے تو مجھے فوت کر دینا ، اے اللہ ! میں غیب و حاضر میں تجھ سے کلمۂ حق کا سوال کرتا ہوں ، میں فقر و غنا میں تجھ سے میانہ روی کا سوال کرتا ہوں ، میں ختم نہ ہونے والی نعمتوں کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، میں منقطع نہ ہونے والی آنکھوں کی ٹھنڈک کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، میں قضا کے بعد رضا کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، میں موت کے بعد خوشگوار زندگی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، میں کسی شدید تکلیف اور گمراہ کن فتنے کے بغیر تیری ملاقات کے شوق اور تیرے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! زینتِ ایمان سے ہمیں مزین فرما اور ہمیں ہدایت پر ثابت رہنے والے ہادی بنا ‘‘۔
اس دعا کی مختصر تشریح
اللہ تعالیٰ کی سب سے نمایاں صفات جو قرآن مجید بیان کرتا ہے وہ یہی دو ہیں، اللہ تعالیٰ کا علم اور اللہ تعالیٰ کی قدرت، غیب کو سمجھنا چاہیے کہ اللہ کے لیے کوئی چیز غیب نہیں ہے کُل جہاں ،بیک وقت اس کے سامنے ہے تو جب غیب کا ذکر آتا ہے تو وہ مخلوق کی نسبت سے ہوتا ہے کہ اے اللہ جو چیزیں ہم سے مخفی ہے تیرے لیے تو شہود ہیں تیرے تو سامنے کی ہیں اس کی بنیاد پر اور جو تجھے کلی اختیار حاصل ہے اپنی مخلوق پر اس کی بنیاد پر میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں مانگتا ہوں یعنی ظاہری بات ہے کہ مجھے نہیں معلوم کے زندگی کب میرے لیے بہتر ہے اور موت میرے لیے کب بہتر ہے کیونکہ میرا علم بھی ناقص ہے اور مجھے معلوم نہیں ہے کہ کب میرے لیے جینا بہتر ہے اور کب دنیا سے جانا بہتر ہے اور دوسری بات یہ کے مجھے اپنے اوپر کوئی قدرت نہیں ہے اور مجھے خودکُشی کی اجازت بھی نہیں ہے کہ میں اپنی جان خود لے لوں۔ میری زندگی اور موت کا فیصلہ تو اے اللہ تُو نے کرنا ہے ۔تو اب دعا ہی ہے کہ اے اللہ تُو اپنے علم اور قدرت کی بنیاد پر مجھے زندہ رکھ،زندگی دئیے رکھ جب تک کے زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہے اور جب میرے لیے موت جینے سے بہتر ہو جائے تو مجھے موت دے دے۔انسان عمومی طور پر زندگی کا حریص اور موت سے خائف ہے۔ اب دعا کے یہ الفاظ ہمیں سکھاتے ہیں کہ اصل زندگی نہیں ہے اصل خیر ہے نیکی ہے اور برائی سے اجتناب ہے۔ ہم نے زندگی کے حصول اور موت سے محفوظ رہنے کو ترجیح نہیں دینی بلکہ ہر حال میں نیکی اور خیر کو ترجیح دینی ہے۔
دعا کے اگلے حصے میں اللہ تعالیٰ سے خشیت مانگی گئی گئی، تو اللہ تعالیٰ کا خوف،اللہ کاڈر،اللہ کی ہیبت کا احساس کھلے میں بھی ہو چھپے میں بھی ہونا چاہیے ۔ غیب اور شہادت کے دو مطلب ہیں: ایک مطلب یہ ہے کے میرے ظاہری اعمال میں بھی اے اللہ! میں تیرا خوف رکھوں اور باطنی اعمال میں بھی۔ دوسرا مطلب ’’جلوت اور خلوت‘‘ بھی ہے ۔ ایک میرے نِج اور گھر کی زندگی ہے اور میری تنہائی کےاوقات ہیں ۔اے اللہ میری یہ زندگی بھی تیرے خوف پر استوار ہو اور ایک میری جلوت کی زندگی ہے، Public Life ہے وہ بھی تیرے خوف پر استوار ہو۔
غضب اور رضا دونوں میں حق بات کی توفیق کامطلب یہ ہے کہ اگر میں کسی سے بہت خوش ہوں تب بھی میں حق بات ہی کروں اور اگر میں کسی سے بہت ناراض ہوں تب بھی میں حق بات ہی کروں۔ انسان کا مزاج اس عربی محاورے سے پتا چلتا ہے’’حُبُّكَ الشَّىْءَ يُعْمِى وَيُصِمُّ‘‘ یعنی کسی چیز کی محبت تمھیں اندھا اور بہرہ کردیتی ہے۔ تو ایسا نہ ہو کہ کسی کی محبت میں تم اس کی غلط اور ناروا باتوں کی تائید کرنے لگو اور کسی کی ناراضی میں تم اتنے آگے بڑھ جاؤ کے اس کی بھلائیوں اور خیر کی باتوں پر پانی پھیردو۔ دو صحابہ میں کسی بات پر اختلاف ہوگیا تو ان میں سے ایک صحابی کے سامنے کسی اور نے دوسرے صحابی کی( جن کے ساتھ ان کا اختلاف ہوا تھا) کچھ برائی بیان کی تو انھوں نے کہا کہ ان باتوں کو چھوڑ دو اور دیکھو ہماری لڑائی ہمارے دین پر اثر انداز نہیں ہونی چاہیے،ٹھیک ہے ایک معاملہ ہوا ہے جس میں ہمیں آپس میں کوئی رنجش پیدا ہوگئی ہے لیکن اس کی بنیاد پر یہ تھوڑی ہے کہ اس آدمی کو ہم ضال،مضل اور جہنمی قرار دے دیں تو یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔
میانہ روی سے مراد ہے درمیان کی راہ یعنی آپے سے انسان باہر نہ ہوں، سورۃ الفرقان آیت ۶۷ میں ارشاد ہے: ﴿وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ یُسۡرِفُوۡا وَ لَمۡ یَقۡتُرُوۡا وَ کَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴾’’اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ تنگی کرتے ہیں، بلکہ ان کا طریقہ اس (افراط وتفریط) کے درمیان اعتدال کا طریقہ ہے‘‘۔تو یہاں فرمایا کہ جب خرچ کا معاملہ ہو یا زندگی میں رویے ہوں تو چاہے فقر ہوں ،چاہے تونگری میں ہوں درمیانی راہ اختیار کروں۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ نہ تو پیسہ زیادہ آجائے تو آپے سے باہر ہو پڑوں اور نہ یہ کہ تنگدستی آئے تو اللہ ہی کو بھلادوں یہ رویہ اختیار نہ کرو۔
کبھی نہ ختم ہونے والی نعمت سے مراد جنت ہے یعنی میں تجھ سے جنت کا سوالی ہوں کیونکہ وہ نعمت جس کو زوال نہیں ہے وہ نعمت اس دنیا میں نہیں پائی جاتی۔سورۃ النحل آیت ۹۶ میں ارشاد ہے:﴿مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ﴾’’جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے‘‘۔جب ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ میں تجھ سے ایسی نعمت کا طلب گار ہوں جو کبھی ختم نہیں ہوتی تو گویا وہ نعمت جنت کی نعمت ہے اور جنت کی لذت ہے۔
آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد بھی جنت کی نعمتیں ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوں گی۔سورۃ الفرقان آیت ۷۴ میں بھی یہ دعاسکھائی گئی ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾’’اور جو (دعا کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ:ہمارے پروردگار! ہمیں اپنی بیوی بچوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا سربراہ بنا دے‘‘۔لیکن یہ آنکھوں کی ٹھنڈک بھی اس دنیا میں پوری طرح نہیں ہے۔اگرچہ دنیا میں انسان کو یہ ٹھنڈک کسی درجے میں حاصل ہوتی ہے کبھی ماں باپ کو اولاد کے ذریعے اور کبھی میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے ۔لیکن یہ ٹھنڈک کم کم ہی حاصل ہوتی ہے ۔
اگر اولاد و ازواج، دینی اعتبار سے گناہ کی حالت میں ہوں، سرکشی میں ہوں لیکن دنیاوی آسائشوں سے مالا مال ہوں ، تب بھی انسان کو آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں ملتی۔ اور صورتِ حال اس کے برعکس ہو کہ اولاد و ازواج ، اخلاقی اور دینی اعتبار سے حالتِ اطاعت میں ہوں لیکن مال و دولتِ دنیا میسر نہ ہو بلکہ مفلسی و تنگدستی نے ڈیرے ڈالے ہوں تب بھی آنکھوں میں ٹھنڈک نہیں پڑتی بلکہ ایسی حالت میں تو جو نگاہ ایک دوسرے پر ہوتی ہے وہ آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتی بلکہ تکلیف پہنچاتی ہے ۔ لوگ کہتے ہیں نا کہ زندگی کی جو بڑی اذیتیں ہیں ان میں سے ایک اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں کے سامنے تکلیف اٹھاتے ہوئے دیکھنا ہے ۔ بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ اولاد و ازواج، اخلاقی اور مادی ، دونوں اعتبار سے اس حالت میں ہوں کہ انسان کو آنکھوں کی ٹھنڈک ملے۔ لیکن اگر ایسا ہو بھی جائےتب بھی یہ ٹھنڈک عارضی ہے مستقل نہیں ہے تو دنیا میں آنکھوں کی بھر پور ٹھنڈک نہیں ملتی تو پھر آنکھوں کی یہ ٹھنڈک کہاں ہوگی ؟ یہ جنت میں ہوگی جہاں پہ اسے زوال نہیں ہے اور وہاں پر جو بھی نعمت ہے وہ ہمیشہ کے لیے ہے اور اس میں استمرار ہے۔
فیصلے کے بعد رضا کا سوال کرنے کا مطلب یہ کہ اے اللہ تو میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کرے میرے بارے میں تیری جو بھی قضا و قدر ہو، مجھے توفیق دے کہ میں اس پر راضی رہوں۔رضا کا ایک مطلب ہوتا ہے اللہ کا بندے سے راضی ہونا وہ تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اس میں ہم تو کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ تو اللہ نے بتانا ہے کہ میں راضی ہوں یا نہیں ۔ جو مقامِ رضا ہے عام طور پر تصوف کی کتابوں میں بیان ہوتا ہے وہ مقامِ رضا یہ والا ہے کہ بندہ اللہ سے راضی رہے بندہ اللہ سے ناراض نہ ہو جیسے بھی حالات ہوجائیں جس حالت میں بھی بندے کو اللہ تعالیٰ رکھے، بندہ اس حال پر خوش رہے۔شکوہ شکایت نہ کرے بلکہ صبر و شکر پر گامزن رہے۔
اگر صورت یہ ہو کہ جب اللہ کی طرف سے نعمتیں مل رہی ہیں تو انسان اللہ کا وفادار بنا رہے عبادت بھی کرے شکر بھی کرے اور معاملہ اس کے برعکس ہو کہ کشائش کے بجائے تنگی ہو تو بندہ شکوہ شکایت شروع کر دے۔یہ تو وہ ناپسندیدہ کردار ہے جس کےبارے میں اللہ کے نبی کریمﷺ نے فرمایا:﴿تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ﴾ (بخاری)’’ہلاک ہو جائے درہم ودیناراور چادر کپڑے کا بندہ ،جسے دیا جائے تو راضی رہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جائے‘‘۔ تو اللہ سے تعلق اگر اس طرح کا ہے کہ جب اللہ نواز رہا ہے تو اللہ سے خوش ہے اور جب اللہ تنگی میں رکھ رہا ہے تو اللہ سے ناراض ہے تو مقام ِبندگی نہیں ہے یہ مقامِ رضا نہیں ہے۔
موت کے بعد اچھی زندگی سے کیا مراد ہے؟ موت کے بعد کی جو زندگی ہے اس میں برزخ بھی ہے، اس میں حشر بھی ہے اس کے بعد پھر آگے جنت بھی ہے،تو میں چاہتا ہوں کہ میری جو موت کے بعد والی یہ زندگی ہے وہ راحت وسکون والی اور ٹھنڈک والی ہو،اس میں تکلیف نہ ہو اس میں حرارت و شدت نہ ہو۔
اس کے بعد دو عجیب چیزوں کا سوال کیا گیا: اللہ رب العزت کے چہرۂ انور کے دیدار کی لذت اور اللہ تعالیٰ ملاقات سے ملاقات کا شوق۔ معنی یہ ہے کہ اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں کہ آخرت میں مجھے یہ نعمت ملے کہ میں تیرے چہرۂ انور کو دیکھنے کی لذت پاسکوں اور دنیا میں ، میں ایسا رہوں کے تجھ سے ملاقات کا مشتاق رہوں ۔حافظ ابن قیمؒ نے’’کتاب الفوائد‘‘ اس دعا کو نقل کرکے لکھا ہے کہ اللہ کے نبی کریمﷺ کی یہ دعا گویا معجز نما ہے کہ ان دو جملوں میں دنیا اور آخرت دونوں کی اعلیٰ ترین چیز مانگ لی،دنیا میں اعلیٰ ترین شے کیا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے شوق میں جیے اور آخرت میں جنت کی بھی سب سے بڑی نعمت کیا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی زیارت کرنے کے قابل ہوسکے۔ اس کو یہ مرتبہ حاصل ہوکہ وہ اللہ کو دیکھ سکے ۔
مزید یہ دعا کی گئی کہ یہ دیدار اور ملاقات بغیر کسی پریشانی ، تکلیف اور فتنے کے ہو۔جب ہم کہتے ہیں کہ ہم اللہ سے ملاقات کے متمنی ہیں اس کےدیدار کے خواہاں ہیں تو گویا ہم موت کے لیے بھی تیار ہو رہے ہیں ۔ اس لیے کہ اللہ سے ملاقات اور ہمارے بیچ میں موت حائل ہے ۔ تو موت بہرحال ایک نا پسندیدہ چیز ہے تکلیف دہ چیز ہے،تو کہہ یہ رہے ہیں کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ دنیا سےآخرت کی طرف انتقال کا جو مرحلہ آئے تو بغیر کسی ضرر کےآئے ۔ یعنی موت کی تکلیف اور موت سے پہلے کی تکلیف سے اے اللہ تو بچالے اور دوسرا بڑا خطرہ موت کے حوالے سے کسی فتنے میں پڑنے کا ہوتا ہے کہ موت سے پہلے میں کسی آزمائش میں پڑوں اور ایمان ضائع کردوں۔اس وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہمارے بزگوں کو بہت بڑا Concern ہوتا تھا کہ ایسی موت آئے جس میں فتنہ نہ ہو بلکہ ہماری موت نیکی اور خیر والی ہو۔تو ہمیں اللہ سے ملاقات کا شائق رہنا چاہیے یہ شوق اللہ کی محبت کو ہماری طرف متوجہ کرتا ہے۔ مسلم شریف کی روایت ہے نبی اکرمﷺ نے ایک موقعے پر فرمایا:﴿مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ﴾ ’’جو اللہ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتے ہیں اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتے ہیں‘‘،تو ام المؤمنین سیدہ حضرت عائشہ نے ایک سوال کیا: ’’اے اللہ کے نبی! اللہ سے ملاقات کی کراہت کا مطلب موت کی کراہت ہےتو ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں‘‘ یعنی موت ایکEvent ہے،اس کی تکلیف ہے، تو کہا کے ہم سب اسے ناپسند کرتے ہیں۔ تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کے نہیں یہ مطلب نہیں ہے، بوقت موت جب کسی بندہ مؤمن کو اللہ کی رضا اوراس کی جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کا مشتاق ہوتا ہے اور جب کسی فاسق کو اللہ کی نافرمانی پر اس کی جہنمی اور ناراضی کی وعید سنائی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔
ایمان کی زینت کیا ہے؟ انسان اس دنیا میں زینت چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ نے انسا ن کو ایسا پیدا کیا ہے کہ اس کے اندر جمال کا ایک احساس ہے، خوبصورتی کا ایک احساس ہے تو زینت ہمیں درکار ہوتی ہے لیکن جو سب سے زیادہ خوبصورت زیور ہے یا کوئی ایسی چیز جس کے ذریعے انسان کو حقیقی زینت حاصل ہوتی ہے وہ کیا ہے وہ ایمان کی زینت ہے ایمان وہ سب سے بڑا زیور ہے جو کسی انسان کو اگر میسر آجائے تو وہ مزین ہوجاتا ہے۔
دعا کے اختتام پر فرمایا:اے اللہ تو ہمیں ھادِی اور مُہتَد بنا دے، ھادی کا مطلب ہے دوسروں کو ہدایت دینے والا، مُہتَد ہدایت یافتہ لوگوں کو کہا جاتا ہے تو سکھایا یہ گیا کہ ایسے بن جائیں کہ ہم خود بھی ہدایت پر ہوں اور دوسروں کو بھی ہدایت کا راستہ دکھائیں۔اس سے بڑی خوش بختی کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالی ہمیں خیر کے راستے کھولنے والا بنا دے۔ دیکھیں انسان کبھی بھی غیر متعلق نہیں ہوتا یا تو وہ جانب خیر ہوتا ہے یا وہ جانب شر ہوتا ہے۔ جیسا کہ ابن ماجہ کی روایت میں نبی اکرمﷺ نے فرمایا:﴿إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ فَطُوبَى لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ وَوَيْلٌ لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ﴾’’بعض لوگ نیکی اور خیر (کے دروازے) کھولنے والے اور برائی اور شر (کے دروازے ) بند کرنے والےہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگ (اس کے برعکس) برائی کے (دروازے )کھولنے والے اور نیکی کے( دروازے ) بند کرنے والے ہوتے ہیں۔وہ شخص بڑا ہی خوش قسمت ہےکہ جس کو اللہ تعالیٰ خیر کا کھولنے والا بنادے اور وہ آدمی بڑا ہی بد قسمت اور نامراد ہے جسے اللہ تعالیٰ شر کا کھولنے والا بنادے‘‘۔
تو یہ نبی اکرمﷺ کی ایک مبارک دعا ہے اور اس میں بھی ہم دیکھ سکتے ہیں وہ پسندیدہ چیزیں آگئی ہیں جو ایک بندہ مومن کو اپنے لیے پسند کرنی چاہیے کہ اس میں خشیت کا بیان ہے، کلمہ حق کو طلب کیا گیا ہے، میانہ روی اورمعتدل زندگی کو طلب کیا گیا ہے، آخرت میں جنت کو طلب کیا گیا ہے،ایسی نعمت جو کبھی ختم نہ ہو ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک جس میں کبھی منقطع نہ ہو اور موت کے بعد کی ایسی گزران کے جس میں ٹھنڈک ہوں،اور پھر ایک بہت بڑی چیز کیا ہے کے جو کچھ بھی انسان کے ساتھ اس دنیا میں ہوتا ہے جو بھی حالات ووقائع اس پر آتے ہیں اس میں وہ اللہ سے راضی رہے،اللہ سے خوش رہے،اللہ سے مطمئن رہے،اللہ کے بارے میں شکوہ شکایت کا رویہ اختیار نہ کرے،اور پھر جو سب سے بڑی دو چیزیں ہیں کہ دنیا میں انسان اللہ کی ملاقات کے شوق میں جیے اور پھر آخرت میں انسان کو اس ملاقات کے ذوق کا تجربہ حاصل ہو۔ ذوق وشوق ایک اصطلاح بھی ہے نا اقبال کے ہاں، شاعری میں استعمال ہوتی ہے۔شوق کہتے ہیں ایک ایسی چیز جس کو انسان نے نہیں دیکھا اس کی طلب میں انسان لگے اور ذوق کہتے ہیں کسی ایسی چیز کی طرف لپکنا جس کا انسان کو کوئی تجربہ بھی ہو، جو چکھی بھی ہوئی ہو،تو اسی وجہ سے اللہ سے جو تعلق ہے نہ وہ ان دو چیزوں کا مجموعہ ہے یعنی ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ مطلقا غیب میں ہے ہمیں اللہ تعالیٰ کی حضوری کا کوئی احساس نہیں ہے اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کے ہم نے اللہ کو پوری طرح اس دنیا میں تجربہ کیا ہوا ہے،تو اس دنیا میں بہرحال اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ،اپنے سچے ماننے والوں کو اپنے تعلق کی کوئی نہ کوئی حلاوت نصیب ضرور کرتا ہے۔وہ جو کہا نا ﴿ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ ﴾’’ کہ وہ آدمی ایمان کا ذائقہ چکھ لیتا ہے‘‘۔( صحیح مسلم)تو ایمان بہرحال کسی نہ کسی سطح پر Experiential ضرور بنتا ہے کسی نہ کسی شکل میں کچھ تجربہ ، کچھ Experience انسان کو ضرور حاصل ہوتا ہے۔تو دعا کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ ہم سب کو نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ سے مناسبت پیدا کرنے کی تو فیق عطا کرے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم نبی اکرمﷺ کی دعاؤں کو یاد کریں ان کوحرز جان بنائیں اور اس کے ذریعے اپنے تزکیہ کا بندوبست کریں، آمین۔
*****