Menu

Blog

کتاب فتنۂ مودودیت: ایک جائزہ

Jul 28 2020

مولف:جمیل الرحمٰن عباسی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 کتاب فتنۂ مودودیت: ایک جائزہ 

یہ کتاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی رحمه اللّٰه سے منسوب کی جاتی ہے۔ اپنے عنوان سے یوں نظر آتا ہے کہ اس میں مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه پر بڑے تند و تیز حملے اور جملے ہوں گے اور انھیں ایک فتنہ پرور اور فتنہ پرداز شخصیت قرار دیا ہو گا۔
لیکن اگر آپ نے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا تو ایک بار اس کا مطالعہ ضرور کریں، اس کتاب میں ایسا کچھ نہیں ہے جیسا اس کے عنوان سے جھلکتا ہے۔ مجرد ’’مودودی‘‘ بھی کہیں نہیں لکھا گیا بلکہ مودودی صاحب رحمه اللّٰه کے الفاظ سے ان کا ذکر کیا گیا ہے۔البتہ ایک مقام اس سے مستثنیٰ ہے جہاں مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه  کی جانب سے فقہاے احناف پر لگائے گئے ایک الزام کے جواب میں مودودی لکھا ہے۔
 پوری کتاب میں مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه کے ساتھ تو درکنار، لفظ ’’فتنہ‘‘ سرے سے موجود ہی نہیں۔ ہم نے آغاز میں  لکھا کہ یہ کتاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد  زکریا صاحب   کاندھلوی رحمه اللّٰه کی طرف ’’منسوب‘‘ ہے تو لفظ منسوب اس لیے استعمال کیا کہ یہ تحریر اصلا بطور مضمون یا بطور کتاب لکھی ہی نہیں گئی تھی بلکہ یہ ایک نجی خط تھا جس کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مولوی صاحب جو مدرسہ سہارنپور سے منسلک تھے وہ مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه سے متاثر ہو گئے۔ ’’مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه سے ہمارا کیا اختلاف ہے‘‘  اس بات کو واضح کرنے کے لیے حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمه اللّٰه  نے انھیں ایک طویل خط تحریر کیا۔
یہ خط غالباً 1950 ء  میں  تحریر ہوا۔حضرت  شیخ الحدیث صاحب  رحمه اللّٰه سے بعض دفع یہ کہا گیا کہ اسے کتابی شکل میں شایع کیا جائے لیکن حضرت نے منظور نہ فرمایا۔ آپ رحمه اللّٰه  فرماتے تھے کہ یہ تو ایک نجی خط ہے، اسے شایع  کرنا قطعاً مناسب نہیں۔
یہ خط سب سے پہلے 1975ء میں شایع ہوا۔ اس کا مقدمہ مولانا شاہد صاحب نے تحریر کیا جس میں درج تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے:
خط کی اشاعت  کی بنیادی وجہ بعض دوستوں کا اصرار ہے۔ ایک ثقہ راوی کا یہ بیان میں نے سنا کہ جماعت اسلامی چھوڑنے والے ایک پروفیسر  صاحب نے یہ مسودہ مولانا طلحہ ابن شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمه اللّٰه  سے حاصل کیا اور کراچی سے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا۔ بہر صورت اس کتاب کی اشاعت حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمه اللّٰه نے نہیں کی بلکہ وہ  تو سرے سے اشاعت ہی کے خلاف تھے چہ جائیکہ اس کا عنوان’’فتنۂ مودودیت‘‘ قرار دیتے۔ نہ ہی حضرت شیخ نے یہ زہریلا نام تجویز کیا اور نہ ہی انھوں نے اپنے مضمون میں مولانا مودودی رحمه اللّٰه کو فتنہ قرار دیا۔
یہ کتاب  179 صفحات پر  مشتمل ہے۔ پہلے پندرہ صفحات تک تو تقاریظ اور مقدمہ ہے۔اصل مضمون صفحہ 16 سے شروع ہو کر صفحہ 148 پر ختم ہوتا ہے یعنی خط 132 صفحات پر مشتمل ہے۔صفحہ 149 سے 182 تک حواشی ہیں جو مولانا شاہد صاحب نے تحریر کیے ہیں۔ان حواشی میں  خط میں مذکور اشخاص  کا تعارف ، احادیث و آیات کا ترجمہ ، اور بعض علمی اشارات کی قدرے وضاحت شامل ہے۔

 خط کا مضمون و انداز

 خط کا انداز شائستہ اور علمی ہے۔ ابتدا میں حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمه اللّٰه  نے اپنا یہ طرز عمل تحریر کیا کہ شروع شروع میں میرا مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه کے بارے میں خیال تھا کہ روایتی دیندار لوگوں کے لیے ان کی کتابیں مفید نہیں ہیں لیکن  مغرب سے متاثر، جدید پڑھے لکھے لوگوں کے لیے ان کی کتابیں مفید ہیں، چنانچہ وہ پوچھنے والوں کو ایسا ہی جواب دیا کرتے۔ بعد میں ان کی رائے تبدیل ہو گئی اور مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه کے افکار  کا سب کے لیے نقصان دہ ہونا  ان کے نزدیک متحقق ہو گیا۔
تمہید کے بعد شیخ الحدیث نے جن عنوانات کے ذیل میں  مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه پر تنقید کی ہے وہ یہ ہے:
تفسیر بالرائے
عبادت کا مفہوم
حکومتِ الہیہ کا مفہوم
گوشہ نشینی اور خلوت گزینی 
تصوف اور صوفیاے کرام پر مولانا کی تنقید 
عبادات کی حیثیت و مقاصد
اصولِ حدیث میں مولانا کی غلطی
عبادات سے متعلق استہزاپر مبنی عبارات 
مولانا  مودودی صاحب رحمه اللّٰه کا تصور ِمہدی 
بعض علماء پر  مولانا مودودی کی جارحانہ تنقید پر اظہار رنج و غم 
تقلید کی نفی اور اجتہاد پر ناروا زور 
محمد رسول اللہ کی شخصیت کے دو پہلوؤں ، رسالت اور بشریت میں فرق و تفاوت 
اہل دیہات پر نمازِ جمعہ کی فرضیت کا مسئلہ 
 ان تمام مسائل میں حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمه اللّٰه نے مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور مکتوب الیہ سے سوالات کیے  ہیں۔ انداز عمدہ اور شائستہ ہے، کہیں فتوے بازی، تلخ جملے نامناسب الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔
آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمه اللّٰه سے اتفاق کریں یا مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب رحمه اللّٰه سے اتفاق کریں  بہرحال یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہےاسے ضرور پڑھیں۔

Maqalaat

کتاب فتنۂ مودودیت: ایک جائزہ

Jul 28 2020

مولف:جمیل الرحمٰن عباسی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 کتاب فتنۂ مودودیت: ایک جائزہ 

یہ کتاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی رحمه اللّٰه سے منسوب کی جاتی ہے۔ اپنے عنوان سے یوں نظر آتا ہے کہ اس میں مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه پر بڑے تند و تیز حملے اور جملے ہوں گے اور انھیں ایک فتنہ پرور اور فتنہ پرداز شخصیت قرار دیا ہو گا۔
لیکن اگر آپ نے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا تو ایک بار اس کا مطالعہ ضرور کریں، اس کتاب میں ایسا کچھ نہیں ہے جیسا اس کے عنوان سے جھلکتا ہے۔ مجرد ’’مودودی‘‘ بھی کہیں نہیں لکھا گیا بلکہ مودودی صاحب رحمه اللّٰه کے الفاظ سے ان کا ذکر کیا گیا ہے۔البتہ ایک مقام اس سے مستثنیٰ ہے جہاں مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه  کی جانب سے فقہاے احناف پر لگائے گئے ایک الزام کے جواب میں مودودی لکھا ہے۔
 پوری کتاب میں مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه کے ساتھ تو درکنار، لفظ ’’فتنہ‘‘ سرے سے موجود ہی نہیں۔ ہم نے آغاز میں  لکھا کہ یہ کتاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد  زکریا صاحب   کاندھلوی رحمه اللّٰه کی طرف ’’منسوب‘‘ ہے تو لفظ منسوب اس لیے استعمال کیا کہ یہ تحریر اصلا بطور مضمون یا بطور کتاب لکھی ہی نہیں گئی تھی بلکہ یہ ایک نجی خط تھا جس کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مولوی صاحب جو مدرسہ سہارنپور سے منسلک تھے وہ مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه سے متاثر ہو گئے۔ ’’مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه سے ہمارا کیا اختلاف ہے‘‘  اس بات کو واضح کرنے کے لیے حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمه اللّٰه  نے انھیں ایک طویل خط تحریر کیا۔
یہ خط غالباً 1950 ء  میں  تحریر ہوا۔حضرت  شیخ الحدیث صاحب  رحمه اللّٰه سے بعض دفع یہ کہا گیا کہ اسے کتابی شکل میں شایع کیا جائے لیکن حضرت نے منظور نہ فرمایا۔ آپ رحمه اللّٰه  فرماتے تھے کہ یہ تو ایک نجی خط ہے، اسے شایع  کرنا قطعاً مناسب نہیں۔
یہ خط سب سے پہلے 1975ء میں شایع ہوا۔ اس کا مقدمہ مولانا شاہد صاحب نے تحریر کیا جس میں درج تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے:
خط کی اشاعت  کی بنیادی وجہ بعض دوستوں کا اصرار ہے۔ ایک ثقہ راوی کا یہ بیان میں نے سنا کہ جماعت اسلامی چھوڑنے والے ایک پروفیسر  صاحب نے یہ مسودہ مولانا طلحہ ابن شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمه اللّٰه  سے حاصل کیا اور کراچی سے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا۔ بہر صورت اس کتاب کی اشاعت حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمه اللّٰه نے نہیں کی بلکہ وہ  تو سرے سے اشاعت ہی کے خلاف تھے چہ جائیکہ اس کا عنوان’’فتنۂ مودودیت‘‘ قرار دیتے۔ نہ ہی حضرت شیخ نے یہ زہریلا نام تجویز کیا اور نہ ہی انھوں نے اپنے مضمون میں مولانا مودودی رحمه اللّٰه کو فتنہ قرار دیا۔
یہ کتاب  179 صفحات پر  مشتمل ہے۔ پہلے پندرہ صفحات تک تو تقاریظ اور مقدمہ ہے۔اصل مضمون صفحہ 16 سے شروع ہو کر صفحہ 148 پر ختم ہوتا ہے یعنی خط 132 صفحات پر مشتمل ہے۔صفحہ 149 سے 182 تک حواشی ہیں جو مولانا شاہد صاحب نے تحریر کیے ہیں۔ان حواشی میں  خط میں مذکور اشخاص  کا تعارف ، احادیث و آیات کا ترجمہ ، اور بعض علمی اشارات کی قدرے وضاحت شامل ہے۔

 خط کا مضمون و انداز

 خط کا انداز شائستہ اور علمی ہے۔ ابتدا میں حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمه اللّٰه  نے اپنا یہ طرز عمل تحریر کیا کہ شروع شروع میں میرا مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه کے بارے میں خیال تھا کہ روایتی دیندار لوگوں کے لیے ان کی کتابیں مفید نہیں ہیں لیکن  مغرب سے متاثر، جدید پڑھے لکھے لوگوں کے لیے ان کی کتابیں مفید ہیں، چنانچہ وہ پوچھنے والوں کو ایسا ہی جواب دیا کرتے۔ بعد میں ان کی رائے تبدیل ہو گئی اور مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه کے افکار  کا سب کے لیے نقصان دہ ہونا  ان کے نزدیک متحقق ہو گیا۔
تمہید کے بعد شیخ الحدیث نے جن عنوانات کے ذیل میں  مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه پر تنقید کی ہے وہ یہ ہے:
تفسیر بالرائے
عبادت کا مفہوم
حکومتِ الہیہ کا مفہوم
گوشہ نشینی اور خلوت گزینی 
تصوف اور صوفیاے کرام پر مولانا کی تنقید 
عبادات کی حیثیت و مقاصد
اصولِ حدیث میں مولانا کی غلطی
عبادات سے متعلق استہزاپر مبنی عبارات 
مولانا  مودودی صاحب رحمه اللّٰه کا تصور ِمہدی 
بعض علماء پر  مولانا مودودی کی جارحانہ تنقید پر اظہار رنج و غم 
تقلید کی نفی اور اجتہاد پر ناروا زور 
محمد رسول اللہ کی شخصیت کے دو پہلوؤں ، رسالت اور بشریت میں فرق و تفاوت 
اہل دیہات پر نمازِ جمعہ کی فرضیت کا مسئلہ 
 ان تمام مسائل میں حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمه اللّٰه نے مولانا مودودی صاحب رحمه اللّٰه کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور مکتوب الیہ سے سوالات کیے  ہیں۔ انداز عمدہ اور شائستہ ہے، کہیں فتوے بازی، تلخ جملے نامناسب الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔
آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمه اللّٰه سے اتفاق کریں یا مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب رحمه اللّٰه سے اتفاق کریں  بہرحال یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہےاسے ضرور پڑھیں۔