Menu

Blog

بہار ہے کہ خزاں ؟

Jul 24 2020

بہار ہے کہ خزاں ؟

موسمِ سرما کی آمد آمد ہے۔ مختلف لوگوں کے موسموں کو دیکھنے کے انداز مختلف ہوتے ہیں۔ بعض عوام کپڑوں کو سوچتے، لنڈے کھوجتے ہیں۔خواتین کو فراہمیٔ گیس کی چنتا ستاتی ہے توڈرائیور حضرات کو سی این جی کے لالے پڑجاتے ہیں۔ شاعر حضرات موسم کا تاثرکسی اور انداز میں لیتے ہیں۔ بعض کو’’یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے‘‘ کہ انسان کس سرعت سےبدلتا ہے،بعض روتے روتے چیخ اٹھے’’اُس نے دور ہونا تھا بارشوں کے موسم میں‘‘ اور بعض اِس طرح کے کام کرنے والے، خود کو یوں ملامت کرتے ہیں ’’اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں‘‘ اور بعض ایسے درویش بھی ہوتے ہیں جو موسم کے ظواہر و مظاہر سے قطع نظر اپنے اندر ایک موسم سجا لیتے ہیں ؎
نہ کوئی غم خزاں کا ہے نہ خواہش ہے بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم
انسان اگر حریمِ ذات سے نکل کر، دیوارِ جاں توڑ کر، اپنی ہستی کو ذرا بھول کر دیکھے تو ہجر و وصال کے پیچھے بہتیرے موسم اور بھی ہیں ؎
کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں
یہ تو موسم والوں کا معاملہ تھا،موسم والے،موسموں کو دیکھتے رہتے ہیں لیکن’’اللہ والے‘‘ ہر موسم کے پیچھے ’’موسم گَر‘‘ کودیکھتے ہیں، گویا اللہ والے موسموں کو ایک دوسرے ہی انداز سے دیکھتےہیں۔مثلاً بارش ہی کولے لیں؛ ایک موقعے پر جب اللہ کے نبی کے سامنےبارش برسنے لگی تو آپ نےاپنا(سر اور کندھے) کا کپڑا کھول دیا حتی کہ بارش آپ پر برسنے لگی، صحابہ کرام نے وجہ پوچھی تو فرمایا:﴿لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى﴾’’اس لیے کہ یہ اپنے رب تعالی کے پاس سے ابھی ابھی آئی ہے‘‘۔(۱) تو دیکھنے والی آنکھ اور سوچنے والا دل اگر اللہ والا ہو گا تو وہ موسمِ سرما ہو یا گرما،ہر ایک کو دوسری طرح سے دیکھے گا جیسا کہ اللہ کے نبی نے دکھلایا: ﴿اِشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ: نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ، فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا، وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ سَمُومِهَا﴾’’دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے رب! میرے حصوں نے خود ایک دوسرےکو کھانا شروع کر دیا ہے ۔تو اللہ تعالی نے دوزخ کو دو سانسیں لینےکی اجازت دے دی، ایک سانس گرمیوں میں اور ایک سانس سردیوں میں، پس تم جو سردی کی شدت پاتے ہو تو وہ دوزخ کے ٹھنڈے عذاب (زمہریر) کی وجہ سےہےاور جو تم گرمی کی شدت پاتے ہو وہ دوزخ کے گرم عذاب (سموم) کے سبب ہے‘‘۔(۲)
دیکھیے ہمارے پیغمبر نے گرمی اور سردی دونوں میں دوزخ کو یاد کرا دیا ۔تودوزخ میں عذاب گرمی کا بھی ہے اور سردی کا بھی اور دنیا کے موسم سرد بھی ہیں اور گرم بھی، پس دونوں موسموں میں دوزخ سے نجات اور جنت کی فوز و فلاح کے لیے محنت کرتے رہنے کی ضرورت ہے :
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہٰ الا اللہ
اللہ کے بہترین بندوں کی صفت بھی کچھ ایسی ہی بیان کی گئی کہ وہ:﴿يُرَاعُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ وَالْأَظِلَّةَ لِذِكْرِ اللَّهِ﴾’’وہ ذکر اللہ کی غرض سے، سورج،چاند تاروں اور سایوں کی مناسبت تلاش کرتے رہتے ہیں‘‘۔(۳)رسول اللہ نے نماز ظہر کے تذکرے میں ارشاد فرمایا: ﴿إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ﴾’’جب گرمی شدت اختیار کر جائے تو نماز کو ٹھنڈا کیا کرو کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی ہوا کے سبب ہے‘‘۔(۴)
بیان تو گرمیوں کے موسم میں کسی قدر تاخیرِ ظہر کا ہے لیکن اشارۃً عرض ہے کہ آتشِ جہنم سے بچاؤ نماز اور دیگر اعمال کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔اسی لیے ایک صحابی حضرت ربیعہ بن کعبؓ  نے، جب رسول اللہ سے جنت میں آپ کا ساتھ ملنے کی دعا کی تو آپنے دعا کے وعدے کے ساتھ فرمایا: ﴿فَأَعِنِّى عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ﴾’’پس تم (اس قبولیتِ دعا میں) اپنے نفس کے خلاف؛کثرتِ سجود کے ذریعے میری مدد کرو‘‘۔(۵)
حضرت امام احمد بن حنبلؒ سے روایت ہے کہ سیدنا ربیعہ بن کعبؓ  نے فرمایا: ’’میں رسول اللہ کی خدمت کیا کرتا تھا اور دن بھر آپ کے کام کے لیے حاضر رہتا اور رات کو آپ کے در پر پڑا رہتا۔ جب آپ عشا کی نماز پڑھ کر گھر تشریف لے جاتے تو میں آپ کے دروازے پر بیٹھ جاتا۔ میں سوچتا شاید کہ آپکو کوئی ضرورت پیش آجائے تو میں خدمت بجا لاؤں لیکن مجھے رسول اللہ کے ذکر کی آواز آنے لگتی، آپ کہہ رہے ہوتے﴿سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِه﴾ آپاتنی دیر ذکر فرماتے رہتے کہ میں سنتے سنتے تھک کر واپس آجاتا، یا میری آنکھ لگ جاتی اوروہیں سو جاتا۔ جب آپ نے مجھے خدمت کا اس قدر شائق پایا تو ایک دن آپفرمانےلگے: اے ربیعہ! مجھ سے کوئی سوال کرو میں اسے پورا کروں گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سوچنے کا موقع دیں، میں آپ کو بتاتا ہوں ۔پھر میں نے سوچا کہ دنیا تو ایک نہ ایک دن ختم ہونے والی ہے اور اس میں جو رزق مجھے ملنا ہے وہ لا محالہ مل کر رہے گا۔ اور اللہ کے نبی کو بارگاہِ خداوندی میں جو بلند مقام ملا ہے اس کے لائق بھی یہی ہے کہ میں آخرت کا سوال کروں پس مجھے آخرت مانگنی چاہیے۔ تب میں آپکے پاس آیا تو آپنے پوچھا: ربیعہ تم نے کیا سوچا ؟میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!اپنے رب کی جناب میں سفارش کیجیے کہ مجھے دوزخ سے بچا لے۔ آپ نےفرمایا:ربیعہ تمھیں یہ بات کس نے سکھلائی ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا مجھے کسی نے نہیں بتایا بلکہ میں نے جب آپ کے اس مقام و رتبے پر نظر کی جو آپ کو اللہ کی طرف سے ملا ہے تو سوچا کہ دنیا تو رہنے والی نہیں بلکہ اسے چھوڑنا ہی پڑے گا اور مقدر کا لکھا رزق بہرحال مل کر رہے گا تو میں نےآخرت مانگنے کا ارادہ کیا ۔نبی اکرم بہت دیر تک خاموش رہے پھر مجھ سے فرمایا:﴿إِنِّي فَاعِلٌ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ﴾’’بے شک میں تمھاری سفارش کرنے والا ہوں البتہ تواپنے نفس کے خلاف، کثرت سجود کے ذریعے میری مدد کرو‘‘۔(۶)
اسی طرح نبی اکرم کے غلام سیدنا ثوبانؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتا دیں جس سے خوش ہو کر اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے،فرمایا:﴿عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً﴾ ’’سجدوں کی کثرت (یعنی نماز) کوخود پر لازم کر لو پس بےشک تم اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتےہو تو اللہ اس کے ذریعے تمھیں رتبے میں ایک درجہ بلند کردیتا ہےاور ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘۔(۷)
تو معلوم ہوا کہ جنت کا داخلہ اور دوزخ سے چھٹکارا، اعمال بلکہ کثرت اعمال پر موقوف ہے حتی کہ رسول اللہ کی دعا اور شفاعت کے باوجود عمل کی اہمیت کم نہیں ہوتی بلکہ زیادہ ہو جانی چاہیے کہ شافع کی شان کے بھی یہی لائق ہے۔

روزے کی ترغیب

مندرجہ بالا احادیث میں نماز کی خاص ترغیب دی گئی ہے اور یہاں نماز سے مراد نفل نماز ہے ۔ ایک حدیث میں نماز کے ساتھ نفلی روزے کی بھی ترغیب دی گئی ہے :سیدنا ابوامامہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا کام بتا دیں جس کے ذریعے اللہ مجھے نفع دے۔ آپ نے فرمایا:﴿عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ﴾’’تو روزے کو لازم پکڑ لے کہ اس جیسا کوئی عمل نہیں ہے‘‘۔
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابو اُمامہؓ  کے گھر سے دن کو دھواں اٹھتا نہیں دیکھا گیا اور کبھی کبھار دھواں اٹھتا تو ہم سمجھتے کہ ان کے گھر میں کوئی مہمان آیا ہوا ہے کیونکہ وہ اور ان کے اہلِ خانہ توروزے سے ہوا کرتے تھے۔ کچھ عرصے بعد حضرت ابو اُمامہ پھر آپ کے پاس آئے اور عرض کی۔ یا رسول اللہ آپ نے مجھے ایک کام سکھایا تھا میں سمجھتا ہوں کہ اس نے مجھے بہت فائدہ دیا اب مجھے کوئی اور کام سکھا دیں فرمایا:﴿اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً﴾’’جان لو تم اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی کرتے ہو مگر اللہ اس کے ذریعے تمھیں ایک درجہ بڑھا دیتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘۔(۸)
تو موسمِ سرما کی آمد آمد ہے لہذا سوچ لینا چاہیے کہ اعمال کے لیے، بلکہ نماز اور دوزے دونوں کے لیے یہ ایک بہترین موسم ہے، اتنا بہترین کہ ہمارے رسول نے اسے خزاں کے بجائے بہار قرار دیا :سیدنا ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ﴿الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ﴾’’موسمِ سرما مومن کے لیے تو موسم بہار ہے‘‘۔(۹)
ایک حدیث میں آتا ہے: ﴿الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ، قَصُرَ نَهَارُهُ فَصَامَ، وَطَالَ لَيْلُهُ فَقَامَ﴾ ’’موسمِ سرما مومن کے لیے بہار کی مانند ہے،اس کے دن چھوٹے ہیں پس انسان روزہ رکھ سکتا ہے اور اس کی راتیں لمبی ہیں انسان آسانی سے قیام کر سکتا ہے‘‘۔ (۱۰)
صحابہ کرامؓ بھی موسمِ سرما کو غنیمت سمجھتے رہے۔سیدنا عمر کہا کرتے تھے: ﴿الشِّتَاءُ غَنِيمَةُ الْعَابِدِينَ﴾’’سردیوں کا موسم تو عبادت گزاروں کا موسم غنیمت ہے‘‘۔(۱۱) سیدناعبد اللہ ابن مسعودؓ   موسمِ سرما کی آمد پر فرمایا کرتے تھے: ﴿مَرْحَبًا بِالشِّتَاءِ فِيهِ تَنْزِلُ الْبَرَكَةُ أَمَا لَيْلُهُ فَطَوِيلٌ لِلْقِيَامِ وَأَمَّا نَهَارَهُ فَقَصِيرٌ لِلصِّيَامِ﴾ ’’جاڑے کو خوش آمدید کہ اس میں برکت کا نزول ہوتا ہے، اس کی لمبی راتیں قیام کے لیے ہیں اور چھوٹے دن صیام کے لیے‘‘۔(۱۲) مشہور تابعی حضرت عبید بن عمیرؒ آمدِ سرما پر اہلِ قرآن سےفرمایا کرتے تھے: ﴿قَدْ طَالَ اللَّيْلُ لقراءتِكُمْ فاقرأوا، وَقَصُرَ النَّهَارُ لِصِيَامِكُمْ فصوموا﴾’’ رات تمھارے قرآن پڑھنے کو لمبی ہوئی ہے پس قرآن پڑھا کرو اور دن روزہ رکھنے کے لیے چھوٹا ہوا ہے پس روزہ رکھا کرو‘‘۔(۱۳) امام حسن البصریؒ فرمایا کرتے تھے: ﴿نِعْمَ زَمانُ المؤمِنِ الشَّتَآء لَيْلُہٗ طَوِيلٌ يَقومُهٗ ونَهارُهٗ قَصيْرٌ يَصومُهٗ﴾ ’’کیا ہی خوب زمانہ ہے مومن کے لیے سرما کا، اس کی رات لمبی ہے،وہ اس میں قیام کرتا ہے اور اس کے دن چھوٹے اور وہ روزہ رکھ لیتا ہے‘‘۔(۱۴)

سردیوں کا روزہ: ٹھنڈی غنیمت

رسول اللہ نے سردیوں کے موسم میں روزے رکھنے کو ٹھنڈی غنیمت قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ﴾ ’’سردیوں میں روزہ رکھنا غنیمتِ باردہ ہے‘‘۔(۱۵) 
سیدنا ابو ہریرہؓ نے ایک دفع فرمایا: کیا میں تمھیں ٹھنڈی ٹھار غنیمت کے بارے میں نہ بتاوں ؟ سامع نے کہا: حضرت وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: ﴿الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ﴾ ’’سردیوں میں روزے رکھنا‘‘۔(۱۶)
ٹھنڈی غنیمت سے مراد ایک ایسا فائدہ ہے جس میں مشقت اور محنت زیادہ نہ کرنا پڑے۔ پس چاہیے کہ سردیوں کے موسم میں خوب نفلی روزے رکھے جائیں ۔یہ نفلی روزے وہ ہیں کہ جن کی ترغیب ہمارےپیارے رسول نے ویسے بھی دی ہےیعنی ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنا، ہر چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ کو روزہ رکھنا، نیز ایک دن کے ناغے سے لگاتاربھی روزہ رکھا جا سکتا ہے۔

سرد راتوں کا قیام اللہ تعالی کی خوشنودی کا ذریعہ

ویسے تو نماز اپنی ذات میں نیکی ہے اور جب بھی ادا کی جائے اس کا اجر بہت بڑا ہے لیکن مشکل حالات میں ہر نیکی کی طرح نماز بھی زیادہ اجر اور اللہ کی خاص خوشی کا باعث ہے۔ان مشکل حالات میں ایک موسم کی سختی بھی ہے ۔ رسول اللہ نے فرمایا:﴿عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثَارَ (فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ)عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي وَرَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَانْهَزَمَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ﴾ ’’اللہ دو بندوں پر بہت خوش ہوتا ہے، ایک وہ آدمی جو(سردی کی رات میں) اپنے بستر اور لحاف سے نکلے،اپنے محبوب اور اپنے اہل و عیال کے درمیان سے اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، تب اللہ تعالی فرشتوں سے کہتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو،اس نے میرے انعام کے حصول اور میرے عذاب سے محفوظ رہنے کے لیےاپنے بستر اور لحاف کو چھوڑا اور اپنے محبوب اور اپنے اہل و عیال سے الگ ہو کر نماز میں لگ گیا ۔ دوسرا بندہ وہ ہے جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسے جنگ میں شکست ہو گئی لیکن راہ فرار اختیار کرنے کے گناہ سے بچنے اور ثابت قدم رہنے پر ملنے والے اجر کی امید پر وہ مقابلے میں ڈٹا رہا یہاں تک اس راہ وفا میں اس کا خون تک بہا دیا گیا، تو اس موقع پر اللہ تعالی فرشتوں سے کہتا ہے: میرے بندے کو دیکھو یہ میرے انعام کے شوق اور میری سزا کے خوف کے بہ سبب جنگ میں لگا رہا یہاں تک اس نے اپنا خون بہا دیا‘‘۔
اپنی ذاتی زندگی میں اللہ تعالی کی خوب بندگی کرنا اور اجتماعی زندگی میں اللہ کے دین کے قیام و تحفظ کے لیے جہاد کرنا اور اپنی جان تک نچھاور کر دینا، بندہ مومن کی ’’ایک ہی شخصیت‘‘ کے دو رخ ہیں جو اس حدیث قدسی میں یکجا بیان فرما دیے گئے۔ اللہ تعالی ہمیں دونوں قسم کے لوگوں میں شامل فرمائے۔
*****

حوالہ جات:

(۱) مسلم
(۲) متفق علیہ
(۳) مستدرک حاکم 
(۴) مسلم 
(۵) مسلم 
(۶) مسند احمد
(۷) مسلم
(۸) مسند احمد
(۹) ایضا 
(۱۰) شعب الإيمان للبیہقی
(۱۱) حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 
(۱۲) ایضا
(۱۳) ایضا
(۱۴) ایضا
(۱۵) سلسلة الأحاديث الصحيحة للالبانى رقم: ۱۹۲۲
(۱۶) السنن الكبرى للبيهقي 
(۱۷)مشکاۃ،طبرانی 


Maqalaat

بہار ہے کہ خزاں ؟

Jul 24 2020

بہار ہے کہ خزاں ؟

موسمِ سرما کی آمد آمد ہے۔ مختلف لوگوں کے موسموں کو دیکھنے کے انداز مختلف ہوتے ہیں۔ بعض عوام کپڑوں کو سوچتے، لنڈے کھوجتے ہیں۔خواتین کو فراہمیٔ گیس کی چنتا ستاتی ہے توڈرائیور حضرات کو سی این جی کے لالے پڑجاتے ہیں۔ شاعر حضرات موسم کا تاثرکسی اور انداز میں لیتے ہیں۔ بعض کو’’یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے‘‘ کہ انسان کس سرعت سےبدلتا ہے،بعض روتے روتے چیخ اٹھے’’اُس نے دور ہونا تھا بارشوں کے موسم میں‘‘ اور بعض اِس طرح کے کام کرنے والے، خود کو یوں ملامت کرتے ہیں ’’اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں‘‘ اور بعض ایسے درویش بھی ہوتے ہیں جو موسم کے ظواہر و مظاہر سے قطع نظر اپنے اندر ایک موسم سجا لیتے ہیں ؎
نہ کوئی غم خزاں کا ہے نہ خواہش ہے بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم
انسان اگر حریمِ ذات سے نکل کر، دیوارِ جاں توڑ کر، اپنی ہستی کو ذرا بھول کر دیکھے تو ہجر و وصال کے پیچھے بہتیرے موسم اور بھی ہیں ؎
کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں
یہ تو موسم والوں کا معاملہ تھا،موسم والے،موسموں کو دیکھتے رہتے ہیں لیکن’’اللہ والے‘‘ ہر موسم کے پیچھے ’’موسم گَر‘‘ کودیکھتے ہیں، گویا اللہ والے موسموں کو ایک دوسرے ہی انداز سے دیکھتےہیں۔مثلاً بارش ہی کولے لیں؛ ایک موقعے پر جب اللہ کے نبی کے سامنےبارش برسنے لگی تو آپ نےاپنا(سر اور کندھے) کا کپڑا کھول دیا حتی کہ بارش آپ پر برسنے لگی، صحابہ کرام نے وجہ پوچھی تو فرمایا:﴿لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى﴾’’اس لیے کہ یہ اپنے رب تعالی کے پاس سے ابھی ابھی آئی ہے‘‘۔(۱) تو دیکھنے والی آنکھ اور سوچنے والا دل اگر اللہ والا ہو گا تو وہ موسمِ سرما ہو یا گرما،ہر ایک کو دوسری طرح سے دیکھے گا جیسا کہ اللہ کے نبی نے دکھلایا: ﴿اِشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ: نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ، فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا، وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ سَمُومِهَا﴾’’دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے رب! میرے حصوں نے خود ایک دوسرےکو کھانا شروع کر دیا ہے ۔تو اللہ تعالی نے دوزخ کو دو سانسیں لینےکی اجازت دے دی، ایک سانس گرمیوں میں اور ایک سانس سردیوں میں، پس تم جو سردی کی شدت پاتے ہو تو وہ دوزخ کے ٹھنڈے عذاب (زمہریر) کی وجہ سےہےاور جو تم گرمی کی شدت پاتے ہو وہ دوزخ کے گرم عذاب (سموم) کے سبب ہے‘‘۔(۲)
دیکھیے ہمارے پیغمبر نے گرمی اور سردی دونوں میں دوزخ کو یاد کرا دیا ۔تودوزخ میں عذاب گرمی کا بھی ہے اور سردی کا بھی اور دنیا کے موسم سرد بھی ہیں اور گرم بھی، پس دونوں موسموں میں دوزخ سے نجات اور جنت کی فوز و فلاح کے لیے محنت کرتے رہنے کی ضرورت ہے :
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہٰ الا اللہ
اللہ کے بہترین بندوں کی صفت بھی کچھ ایسی ہی بیان کی گئی کہ وہ:﴿يُرَاعُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ وَالْأَظِلَّةَ لِذِكْرِ اللَّهِ﴾’’وہ ذکر اللہ کی غرض سے، سورج،چاند تاروں اور سایوں کی مناسبت تلاش کرتے رہتے ہیں‘‘۔(۳)رسول اللہ نے نماز ظہر کے تذکرے میں ارشاد فرمایا: ﴿إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ﴾’’جب گرمی شدت اختیار کر جائے تو نماز کو ٹھنڈا کیا کرو کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی ہوا کے سبب ہے‘‘۔(۴)
بیان تو گرمیوں کے موسم میں کسی قدر تاخیرِ ظہر کا ہے لیکن اشارۃً عرض ہے کہ آتشِ جہنم سے بچاؤ نماز اور دیگر اعمال کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔اسی لیے ایک صحابی حضرت ربیعہ بن کعبؓ  نے، جب رسول اللہ سے جنت میں آپ کا ساتھ ملنے کی دعا کی تو آپنے دعا کے وعدے کے ساتھ فرمایا: ﴿فَأَعِنِّى عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ﴾’’پس تم (اس قبولیتِ دعا میں) اپنے نفس کے خلاف؛کثرتِ سجود کے ذریعے میری مدد کرو‘‘۔(۵)
حضرت امام احمد بن حنبلؒ سے روایت ہے کہ سیدنا ربیعہ بن کعبؓ  نے فرمایا: ’’میں رسول اللہ کی خدمت کیا کرتا تھا اور دن بھر آپ کے کام کے لیے حاضر رہتا اور رات کو آپ کے در پر پڑا رہتا۔ جب آپ عشا کی نماز پڑھ کر گھر تشریف لے جاتے تو میں آپ کے دروازے پر بیٹھ جاتا۔ میں سوچتا شاید کہ آپکو کوئی ضرورت پیش آجائے تو میں خدمت بجا لاؤں لیکن مجھے رسول اللہ کے ذکر کی آواز آنے لگتی، آپ کہہ رہے ہوتے﴿سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِه﴾ آپاتنی دیر ذکر فرماتے رہتے کہ میں سنتے سنتے تھک کر واپس آجاتا، یا میری آنکھ لگ جاتی اوروہیں سو جاتا۔ جب آپ نے مجھے خدمت کا اس قدر شائق پایا تو ایک دن آپفرمانےلگے: اے ربیعہ! مجھ سے کوئی سوال کرو میں اسے پورا کروں گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سوچنے کا موقع دیں، میں آپ کو بتاتا ہوں ۔پھر میں نے سوچا کہ دنیا تو ایک نہ ایک دن ختم ہونے والی ہے اور اس میں جو رزق مجھے ملنا ہے وہ لا محالہ مل کر رہے گا۔ اور اللہ کے نبی کو بارگاہِ خداوندی میں جو بلند مقام ملا ہے اس کے لائق بھی یہی ہے کہ میں آخرت کا سوال کروں پس مجھے آخرت مانگنی چاہیے۔ تب میں آپکے پاس آیا تو آپنے پوچھا: ربیعہ تم نے کیا سوچا ؟میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!اپنے رب کی جناب میں سفارش کیجیے کہ مجھے دوزخ سے بچا لے۔ آپ نےفرمایا:ربیعہ تمھیں یہ بات کس نے سکھلائی ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا مجھے کسی نے نہیں بتایا بلکہ میں نے جب آپ کے اس مقام و رتبے پر نظر کی جو آپ کو اللہ کی طرف سے ملا ہے تو سوچا کہ دنیا تو رہنے والی نہیں بلکہ اسے چھوڑنا ہی پڑے گا اور مقدر کا لکھا رزق بہرحال مل کر رہے گا تو میں نےآخرت مانگنے کا ارادہ کیا ۔نبی اکرم بہت دیر تک خاموش رہے پھر مجھ سے فرمایا:﴿إِنِّي فَاعِلٌ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ﴾’’بے شک میں تمھاری سفارش کرنے والا ہوں البتہ تواپنے نفس کے خلاف، کثرت سجود کے ذریعے میری مدد کرو‘‘۔(۶)
اسی طرح نبی اکرم کے غلام سیدنا ثوبانؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتا دیں جس سے خوش ہو کر اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے،فرمایا:﴿عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً﴾ ’’سجدوں کی کثرت (یعنی نماز) کوخود پر لازم کر لو پس بےشک تم اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتےہو تو اللہ اس کے ذریعے تمھیں رتبے میں ایک درجہ بلند کردیتا ہےاور ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘۔(۷)
تو معلوم ہوا کہ جنت کا داخلہ اور دوزخ سے چھٹکارا، اعمال بلکہ کثرت اعمال پر موقوف ہے حتی کہ رسول اللہ کی دعا اور شفاعت کے باوجود عمل کی اہمیت کم نہیں ہوتی بلکہ زیادہ ہو جانی چاہیے کہ شافع کی شان کے بھی یہی لائق ہے۔

روزے کی ترغیب

مندرجہ بالا احادیث میں نماز کی خاص ترغیب دی گئی ہے اور یہاں نماز سے مراد نفل نماز ہے ۔ ایک حدیث میں نماز کے ساتھ نفلی روزے کی بھی ترغیب دی گئی ہے :سیدنا ابوامامہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا کام بتا دیں جس کے ذریعے اللہ مجھے نفع دے۔ آپ نے فرمایا:﴿عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ﴾’’تو روزے کو لازم پکڑ لے کہ اس جیسا کوئی عمل نہیں ہے‘‘۔
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابو اُمامہؓ  کے گھر سے دن کو دھواں اٹھتا نہیں دیکھا گیا اور کبھی کبھار دھواں اٹھتا تو ہم سمجھتے کہ ان کے گھر میں کوئی مہمان آیا ہوا ہے کیونکہ وہ اور ان کے اہلِ خانہ توروزے سے ہوا کرتے تھے۔ کچھ عرصے بعد حضرت ابو اُمامہ پھر آپ کے پاس آئے اور عرض کی۔ یا رسول اللہ آپ نے مجھے ایک کام سکھایا تھا میں سمجھتا ہوں کہ اس نے مجھے بہت فائدہ دیا اب مجھے کوئی اور کام سکھا دیں فرمایا:﴿اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً﴾’’جان لو تم اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی کرتے ہو مگر اللہ اس کے ذریعے تمھیں ایک درجہ بڑھا دیتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘۔(۸)
تو موسمِ سرما کی آمد آمد ہے لہذا سوچ لینا چاہیے کہ اعمال کے لیے، بلکہ نماز اور دوزے دونوں کے لیے یہ ایک بہترین موسم ہے، اتنا بہترین کہ ہمارے رسول نے اسے خزاں کے بجائے بہار قرار دیا :سیدنا ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ﴿الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ﴾’’موسمِ سرما مومن کے لیے تو موسم بہار ہے‘‘۔(۹)
ایک حدیث میں آتا ہے: ﴿الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ، قَصُرَ نَهَارُهُ فَصَامَ، وَطَالَ لَيْلُهُ فَقَامَ﴾ ’’موسمِ سرما مومن کے لیے بہار کی مانند ہے،اس کے دن چھوٹے ہیں پس انسان روزہ رکھ سکتا ہے اور اس کی راتیں لمبی ہیں انسان آسانی سے قیام کر سکتا ہے‘‘۔ (۱۰)
صحابہ کرامؓ بھی موسمِ سرما کو غنیمت سمجھتے رہے۔سیدنا عمر کہا کرتے تھے: ﴿الشِّتَاءُ غَنِيمَةُ الْعَابِدِينَ﴾’’سردیوں کا موسم تو عبادت گزاروں کا موسم غنیمت ہے‘‘۔(۱۱) سیدناعبد اللہ ابن مسعودؓ   موسمِ سرما کی آمد پر فرمایا کرتے تھے: ﴿مَرْحَبًا بِالشِّتَاءِ فِيهِ تَنْزِلُ الْبَرَكَةُ أَمَا لَيْلُهُ فَطَوِيلٌ لِلْقِيَامِ وَأَمَّا نَهَارَهُ فَقَصِيرٌ لِلصِّيَامِ﴾ ’’جاڑے کو خوش آمدید کہ اس میں برکت کا نزول ہوتا ہے، اس کی لمبی راتیں قیام کے لیے ہیں اور چھوٹے دن صیام کے لیے‘‘۔(۱۲) مشہور تابعی حضرت عبید بن عمیرؒ آمدِ سرما پر اہلِ قرآن سےفرمایا کرتے تھے: ﴿قَدْ طَالَ اللَّيْلُ لقراءتِكُمْ فاقرأوا، وَقَصُرَ النَّهَارُ لِصِيَامِكُمْ فصوموا﴾’’ رات تمھارے قرآن پڑھنے کو لمبی ہوئی ہے پس قرآن پڑھا کرو اور دن روزہ رکھنے کے لیے چھوٹا ہوا ہے پس روزہ رکھا کرو‘‘۔(۱۳) امام حسن البصریؒ فرمایا کرتے تھے: ﴿نِعْمَ زَمانُ المؤمِنِ الشَّتَآء لَيْلُہٗ طَوِيلٌ يَقومُهٗ ونَهارُهٗ قَصيْرٌ يَصومُهٗ﴾ ’’کیا ہی خوب زمانہ ہے مومن کے لیے سرما کا، اس کی رات لمبی ہے،وہ اس میں قیام کرتا ہے اور اس کے دن چھوٹے اور وہ روزہ رکھ لیتا ہے‘‘۔(۱۴)

سردیوں کا روزہ: ٹھنڈی غنیمت

رسول اللہ نے سردیوں کے موسم میں روزے رکھنے کو ٹھنڈی غنیمت قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ﴾ ’’سردیوں میں روزہ رکھنا غنیمتِ باردہ ہے‘‘۔(۱۵) 
سیدنا ابو ہریرہؓ نے ایک دفع فرمایا: کیا میں تمھیں ٹھنڈی ٹھار غنیمت کے بارے میں نہ بتاوں ؟ سامع نے کہا: حضرت وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: ﴿الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ﴾ ’’سردیوں میں روزے رکھنا‘‘۔(۱۶)
ٹھنڈی غنیمت سے مراد ایک ایسا فائدہ ہے جس میں مشقت اور محنت زیادہ نہ کرنا پڑے۔ پس چاہیے کہ سردیوں کے موسم میں خوب نفلی روزے رکھے جائیں ۔یہ نفلی روزے وہ ہیں کہ جن کی ترغیب ہمارےپیارے رسول نے ویسے بھی دی ہےیعنی ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنا، ہر چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ کو روزہ رکھنا، نیز ایک دن کے ناغے سے لگاتاربھی روزہ رکھا جا سکتا ہے۔

سرد راتوں کا قیام اللہ تعالی کی خوشنودی کا ذریعہ

ویسے تو نماز اپنی ذات میں نیکی ہے اور جب بھی ادا کی جائے اس کا اجر بہت بڑا ہے لیکن مشکل حالات میں ہر نیکی کی طرح نماز بھی زیادہ اجر اور اللہ کی خاص خوشی کا باعث ہے۔ان مشکل حالات میں ایک موسم کی سختی بھی ہے ۔ رسول اللہ نے فرمایا:﴿عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثَارَ (فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ)عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي وَرَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَانْهَزَمَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ﴾ ’’اللہ دو بندوں پر بہت خوش ہوتا ہے، ایک وہ آدمی جو(سردی کی رات میں) اپنے بستر اور لحاف سے نکلے،اپنے محبوب اور اپنے اہل و عیال کے درمیان سے اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، تب اللہ تعالی فرشتوں سے کہتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو،اس نے میرے انعام کے حصول اور میرے عذاب سے محفوظ رہنے کے لیےاپنے بستر اور لحاف کو چھوڑا اور اپنے محبوب اور اپنے اہل و عیال سے الگ ہو کر نماز میں لگ گیا ۔ دوسرا بندہ وہ ہے جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسے جنگ میں شکست ہو گئی لیکن راہ فرار اختیار کرنے کے گناہ سے بچنے اور ثابت قدم رہنے پر ملنے والے اجر کی امید پر وہ مقابلے میں ڈٹا رہا یہاں تک اس راہ وفا میں اس کا خون تک بہا دیا گیا، تو اس موقع پر اللہ تعالی فرشتوں سے کہتا ہے: میرے بندے کو دیکھو یہ میرے انعام کے شوق اور میری سزا کے خوف کے بہ سبب جنگ میں لگا رہا یہاں تک اس نے اپنا خون بہا دیا‘‘۔
اپنی ذاتی زندگی میں اللہ تعالی کی خوب بندگی کرنا اور اجتماعی زندگی میں اللہ کے دین کے قیام و تحفظ کے لیے جہاد کرنا اور اپنی جان تک نچھاور کر دینا، بندہ مومن کی ’’ایک ہی شخصیت‘‘ کے دو رخ ہیں جو اس حدیث قدسی میں یکجا بیان فرما دیے گئے۔ اللہ تعالی ہمیں دونوں قسم کے لوگوں میں شامل فرمائے۔
*****

حوالہ جات:

(۱) مسلم
(۲) متفق علیہ
(۳) مستدرک حاکم 
(۴) مسلم 
(۵) مسلم 
(۶) مسند احمد
(۷) مسلم
(۸) مسند احمد
(۹) ایضا 
(۱۰) شعب الإيمان للبیہقی
(۱۱) حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 
(۱۲) ایضا
(۱۳) ایضا
(۱۴) ایضا
(۱۵) سلسلة الأحاديث الصحيحة للالبانى رقم: ۱۹۲۲
(۱۶) السنن الكبرى للبيهقي 
(۱۷)مشکاۃ،طبرانی