Jul
23
2020
مؤلف: سلطان العلماء عز الدین عبد العزيز بن عبد السلام السلیمي رحمہ اللہ
مترجم: استاذ فقہ اکیڈمی مولانا معراج محمد مدظلہ
﷽
وصلّى الله على سيَّدِنا محمّد و اٰله وسلَّم تسليماً
قال الشيخُ الإمام، حُجّةُ الإسلام، معتَمد الأنام، ابو محمد عبدُ العزيز بنُ عبد السلام بنِ أبي القاسم السُّلَمّي الشافعّي، نفع اللهُ به المسلمين، و غَفَرَ لنا وله ولجميع ِالمؤمنين؛
حجۃ الاسلام، معتمد الانام امام ابو محمد عبد العزیز بن عبد السلام بن ابی قاسم مسلمی شافعی (معروف بعز بن عبد السلام) نے فرمایا (اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے اور ہماری ان کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے)؛
للمصائب والمِحَنِ، والبلايا والرَّزَايا، فوائدُ تختلفُ باختلافِ رُتَبِ الناس.
کہ ”مصائب، آزمائشوں ، تکالیف اور مشکلات کے متعدد فوائد ہیں جو لوگوں کے مراتب کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔(ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں)؛
أحدُها : معرفةُ عزِّ الرُّبوبيّةِ وقهرِها.
۱۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی عظمت اور عزت و جلال کو جان لینا۔
الثانية : معرفةُ ذِلَّةِ العُبوديّةِ وكَسرِها،وإليه الإشارةُ بقوله تعالى : ﴿الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴾ ]البقرۃ:156[اعترفوا بأَنَّهم مِلْكُهُ وعبيدُه، وأنّهم راجعون إلى حُكْمِه وتدبيرِه، وقضائِه وتقديرِه، لا مَفَرَّ لهم منه، و لا مَحِيدَ لهم عنه.
۲۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی (عبودیت) کی عاجزی، ذلت اور کم مائیگی کو جان لینا، جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔﴿اور جب ان کو کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں﴾۔]البقرۃ: 156[انھیں اعتراف ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اسی کی ملکیت میں ہیں۔ اور وہ اسی کے حکم، تدبیر، فیصلے اور تقدیر کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اللہ سے بچنے کے لیے نہ ان کے پاس کوئی جائے مفر ہے اور نہ ہی چھوٹنے کی کوئی تدبیر۔
الثالثة : الإخلاصُ لله تعالى: إذ لا مرجعَ في دفعِ الشَّدَائد إلّا إليه، ولا معتمدَ في كشفِها إلَّا عليه : ﴿وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ﴾ ]الأنعام :17العنکبوت :65[
۳۔ اللہ کےلیے اخلاص: کیونکہ نہ ہی مصائب سے بچنے کے لیے ان کے پاس اللہ کی طرف رجوع کے سوا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی تکالیف کے ازالے کا کوئی ذریعہ۔﴿اگر اللہ تمھیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں﴾]الانعام :17 [﴿چنانچہ جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے ﴾]العنکبوت :65[۔
الرابعة : الإنابةُ إلى الله تعالى والإقبالُ عليه : ﴿وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیۡبًا اِلَیۡہِ﴾ ]الزمر:8[
۴۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اسی کی طرف متوجہ ہونا۔﴿اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی سے لو لگا کر پکارتا ہے﴾]الزمر:8[
الخامسة : التضرّعُ والدُّعاء : ﴿فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ﴾ ]الزمر:49الإسراء:67الأنعام:41 الأنعام:63[
۵۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑانا اور دعا کرنا: ﴿پھر انسان ( کا حال یہ ہے کہ جب اس ) کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے ﴾]الزمر:49 [ ﴿اور جب سمندر میں تمھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو جن ( دیوتاؤں ) کو تم پکارا کرتے ہو، وہ سب غائب ہوجاتے ہیں، بس اللہ ہی اللہ رہ جاتا ہے﴾ ]الإسراء:67[﴿بلکہ اسی کو پکارو گے، پھر جس پریشانی کے لیے تم نے اسے پکارا ہے، اگر وہ چاہے گا تو اسے دور کردے گا﴾ ]الأنعام:41 الأنعام:63[
السادسة : الحِلْمُ عَمَّن صدرتْ عنه المصيبة : ﴿ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ﴾ ]التوبۃ:114الصافات:101[، ((إنّ فيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُما اللهُ: الحِلْمُ والأَنَاة))وتختلفُ مراتبُ الحلمِ باختلافِ المصائبِ في صِغَرِها و كِبَرِها، فا لحِلمُ عند أعظم المصائب أفضلُ من كل حِلْم.
۶۔ بوقتِ مصیبت بردباری کا مظاہرہ کرنا: ﴿حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑی آہیں بھرنے والے، بڑے بردبار تھے﴾]التوبۃ:114 [﴿چنانچہ ہم نے انھیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی﴾ ]الصافات:101[ ۔(آپﷺ نے وفد عبد القیس کے سردار سے فرمایا) تمھاری دو عادتیں (صفات) اللہ کو پسند ہیں، ایک صبر اور دوسری بردباری (حلم)۔ اور بردباری (حلم) کے مراتب مصائب کے بڑھنے اور کم ہونے سے متفاوت ہوجاتے ہیں۔ پس بڑی مصیبت پر صبر کرنا بڑی بردباری (حلم) ہے۔
السابعة : العفوُ عن جانِيْها : ﴿وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ﴾]اٰل عمران:134الشورٰی:40[والعفوُ عن أعظمِها أفضلُ من كُلِّ عفو.
۷۔ تکلیف پہنچانے والے کو معاف کرنا: ﴿اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں﴾ ]اٰ ل عمران:134[﴿پھر بھی جو کوئی معاف کردے، اور اصلاح سے کام لے تو اس کا ثواب اللہ نے ذمے لیا ہے﴾ ] الشورٰی:40[ اور بڑے نقصان پہنچانے والے کو معاف کرنا تمام معافیوں سے افضل ہے۔
الثامنة :الصّبرُ عليها وهو موجبٌ محبّةاللهِ تعالى وكثرةِ ثوابِه:﴿وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ﴾]اٰل عمران:146الزمر:10[ ((وما أُعطِيَ أحدٌ عطاءً خیراً وأَوْسَعَ من الصَّبر))۔
۸۔ تکلیف پر صبر اور یہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور ثواب میں اضافے کا باعث ہے: ﴿اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے﴾]اٰل عمران:146[ ﴿جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انھیں بے حساب دیا جائے گا ﴾ ]الزمر:10 [اور کسی کو صبر سے بڑھ کر وسیع عطیہ نہیں دیا جا سکتا۔
التاسعة : الفرحُ بها لأجلِ فوائِدها. قال عليه الصلاة والسلام : ((والذي نفسي بيدهِ إنْ كانوا لَيَفْرحون با لبلاءِ كما تفر حون بالرَّخاءِ))۔ وقال ابنُ مسعود ؓ: ((حبّذا المكروهان : الموتُ والفَقرُ)) ؛ وإنَّمَا فرِحُوا بها إذ لا وقع لشدّتها ومرارتِها بالنسبة إلى ثمرتِها وفائدتِها ؛ كما يفرحُ مَن عظُمت أَدْوَاؤُه بِشُربِ الأَدويةِ الحاسمة لها مع تجرُّعِه لمرارتِها.
۹۔ تکالیف پر ان کے فوائد کی وجہ سے خوش ہونا: آپﷺ کا فرمان ہےکہ! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے وہ (انبیا) تکالیف پر اس طرح خوش ہوتے تھے جیسے تم آسودہ حالی پر خوش ہوتے ہو۔ اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا: دو ناپسندید چیزیں کیا ہی اچھی ہیں؛ ایک موت اور دوسری غربت۔وہ ان مصائب کی سختیوں اور کڑوے پن پر ان فوائد و ثمرات کی وجہ سے خوش ہوتے تھے (جو مصائب پر صبر کے نتیجے میں ملتی ہیں) ، جیسا کہ بڑی بیماری میں مبتلا شخص مرض کشا دوائی کو استعمال کرنے سے خوش ہوتا ہے، حالانکہ وہ اس کے کڑوے ہونے کی وجہ سے اسے گھونٹ گھونٹ کر پیتا ہے۔
العاشرة : الشُّكر عليها ؛ لما تضمَّنَتْهُ من فوائدِها كما يشكرُ المريضُ الطبيبَ القاطِعَ لأطرافهِ، المانعَ له من شهواتِه،لما يتوقعُ في ذلك من البُرء والشِّفاء.
۱۰۔ مصائب پر شکر ادا کرنا، کیونکہ یہ فوائد کو متضمن ہے۔ جیسا کہ مریض اس ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرتا جو اس کے ناکارہ اعضاےبدن کو کاٹ لیتا ہے یا اسے خواہشات کے پورا کرنے سے روکتا ہے کیونکہ اس میں صحت، تندرستی اور شفاکی امید (توقع)ہوتی ہے۔
الحادية َعشرة : تمحيصها للذُّنوب والخَطايا. ﴿وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴾]الشورٰی:30[((ولا يُصِيبُ المؤمنَ وَصَبٌ ولا نَصبٌ حتى الهمِّ يُهِمُّهُ، والشوكةِ يشاكُها، إلاَّ كفَّرَ به عن سيئاته))۔
۱۱۔ مصائب خطاؤں اور گناہوں کے ازالےکا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ﴿اور تمھیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمھارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے، اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگذر ہی کرتا ہے ﴾ ]الشورٰی:30[اور مؤمن کو جو کوئی تکلیف، درد اور تھکاوٹ پہنچتی ہے، یہاں تک کہ غم جو اسے غمگین کرے اور کانٹا جو اسے چھبے، مگر (ان سب پر) اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
الثانيةَ عشرة : رحمةُ أهلِ البلاء ومساعدتُهم على بَلْواهم، و(( الناسُ معافىٰ ومبتلٰى فارحموا أهلَ البلاء، واشكروا اللهَ على العافية )).
وإَّنما يرحمُ العُشَّاقَ مَنْ عَشِقَا
۱۲۔ مصیبت زدہ لوگوں پر شفقت اور مشکلات میں ان کی مدد کرنا۔ لوگ خوشحال بھی ہوتے ہیں اور کچھ مشکلات میں بھی ہوتے ہیں تو مصیب زدہ لوگوں پر شفقت کرنی چاہیے اور عافیت (حالتِ صحت یابی) پر شکر ادا کرنا چاہیے۔
؎ اور عاشقوں پر رحم وہی کرتا ہے جس نے خود عشق کیا ہو
الثالثةَ عشرة : معرفةُ قَدْرِ نعمةِ العافيۃ، والشُّكرُ عليها؛ فإنَّ النِّعَمَ لا يُعرفُ مقدارُها إلَّا بعدَ فَقْدِها.
۱۳۔ عافیت کی نعمت کی قدر جاننا اس پر شکر کرنا، کیونکہ نعمتوں کی قیمت کا پتہ جب چلتا ہے جب نعمت چھین لی جاتی ہے۔
الرابعة َعشرة : ما أعدَّهُ الله تعالى على هذه الفوائدِ من ثوابِ الآخِرة ِعلى اختلافِ مراتِبها.
۱۴۔ ان فائدوں کا دھیان رکھنا جو حسبِ مراتب آخرت میں ثواب کی صورت میں اس پر مرتب ہوں گے۔
الخامسةَ عشرة : مافي طَيِّها من الفوائدِ الخَفِيَّة : ﴿فَعَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ یَجۡعَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ﴾]النساء:19البقرۃ:216النور:11[ولما أخذَ الجَبَّارُ سارَةَ مِنْ إبراهيمَ كان في طَيِّ تلك البَلِيّة والمصيبة أَنْ أَخْدَمَها هاجرَ، فولدتْ إسماعيلَ لإبراهيم عليهما الصلاة والسلام فكان من ذرِّيَّةِ إسماعيلَ سيِّدُ المرسلين وخاتَمُ النبيِّين. فأعظمْ بذلك من خير كان في طيّ تلك البَلِيّة.
وقد قيل:
كَمْ نِعْمَة مَطْوِيَّة لَكَ بين أَثناءِ المصائب
وقال اۤخر:
رُبَّ مبغوض کريہ فيه لِلهِ لطائفْ
۱۵۔ (دھیان رکھنا ان فوائد کا) جو ان مصائب میں مخفی اور پوشیدہ ہیں۔﴿یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ۔﴾]النساء:19[﴿اور یہ عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو حالانکہ وہ تمھارے حق میں بہتر ہو﴾]البقرۃ:216[ ﴿یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں، وہ تمھارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے ۔ تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہی بہتر ہے ۔﴾]النور:11[اور جب سرکش بادشاہ نے ابراہیم ؑ سے سارہ ؑ کو الگ کیا تو اس مشکل اور مصیبت میں یہ فائدہ ہوا کی ہاجرہ ؑ انھیں خدمت کے لیے ملیں، جن سے ابراہیم ؑ کے صاحبزادے اسماعیل ؑ پیدا ہوئے، اور انہی اسماعیل ؑ کی اولاد میں سید المرسلین، خاتم النبیینﷺ پیدا ہوئے۔ توکتنی بڑی خیر اس مصیبت میں چھپی ہوئی تھی!
؎ تمھاری کتنی نعمتیں مصیبتوں کے بیچ میں چھپی ہوتی ہیں
؎ بسا اوقات نا پسندیدہ باتوں میں اللہ تعالیٰ کی باریک حکمت ہوتی ہے
السادسةَ عشرة : إنَّ المصائبَ والشَّدائدَ تمنعُ من الشَّرِّ والبَطَر، والفخر والخُيَلاء، و التكبُّرِ والتجبُّرِ؛ فإنَّ نَمرودَ لو كان فقيراً سقيماً فاقِدَ السَّمع والبصر لَمَا حَاجَّ إبراهيمَ في ربِّه، لكنْ حملَه بَطَرُ الملْك في ذلك. وقد علَّلَ اللهُ سبحانه وتعالى محاجَّتَه بإتيانه المُلكَ فقال :﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبۡرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنۡ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ﴾البقرۃ:218ولو ابتُلِيَ فرعونُ بمثل ذلك لَمَا قال : ﴿اَنَا رَبُّکُمُ الۡاَعۡلٰی﴾]النازعات:24[﴿وَ مَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضۡلِہٖ﴾]التوبۃ:74[﴿اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی﴾]العلق:6[﴿اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی ﴾]العلق:7[﴿وَ لَوۡ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوۡا فِی الۡاَرۡضِ﴾]الشورٰی:27[﴿وَ اتَّبَعَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِیۡہِ﴾]ھود:116[﴿لَاَسۡقَیۡنٰہُمۡ مَّآءً غَدَقًا﴾ ]الجن:16[﴿ لِّنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ﴾ ]الجن:17[﴿وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡہَاۤ ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴾]سبا:34[والفقراءُ والضُّعفاءُ همُ الأولياءُ وأتباعُ الأنبياء. ولهذه الفوائدِ الجليلة، كان (( أشدّ الناس بلاءً الأنبياء، ثم الصّالحون، ثم الأمثل فالأمثل )). فنُسبوا إلى الجُنونِ والسحر والكهانةِ، واسْتُهزِىَء بهم وسُخِرَ منهم،﴿فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا﴾]الانعام:34البقرۃ:214[﴿وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ﴾]البقرۃ:155[﴿لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ﴾]اٰل عمران:186الاحزاب:11الاحزاب:10یونس:12[ولأجل هذا تقلَّلُوا في المآكِل والمشارب، والملابس والمناكح، والمجالس والمساكن، والمراكب وغيرِ ذلك؛ ليكونوا على حالة تُوجَبُ لهم الرجوعَ إلى الله تعالى عَزَّوجل والإقبال عليه.
۱۶۔ مصیبتیں، سختیاں، شرور، سرکشی، فخر و غرور، جبر و نکیر سے روکتی ہیں۔ اگر نمرود غریب، بیمار، بہرا اور نابینا ہوتا تو ابراہیم ؑ کے ساتھ رب کے بارے میں حجت بازی نہ کرتا۔ مگر اس کے اقتدار کے غرور نے اسے ان گھٹیا اوصاف پر ابھارا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کی اس حجت بازی کی وجہ سےاس کی بادشاہی بتلائی ہے﴿کیا تم نے اس شخص ( کے حال ) پر غور کیا جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی کہ وہ اپنے پروردگار ( کے وجود ہی) کے بارے میں ابراہیم سے بحث کرنے لگا؟﴾ ]البقرۃ:218[اور اگر فرعون مذکورہ بالا مصائب میں مبتلا ہوتا تو یہ نہ کہتا ﴿میں تمھارا اعلی درجے کا پروردگار ہوں ﴾ ]النازعات:24[ ﴿اور انھوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انھیں اپنے فضل سے مال دار بنادیا ہے﴾ ]التوبۃ:74[ ﴿حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلی سرکشی کر رہاہے﴾ ]العلق:6[ ﴿کیونکہ اس نے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھ لیا ہے﴾ ]العلق:7[ ﴿اور اگر اللہ اپنے تمام بندوں کے لیے رزق کو کھلے طور پر پھیلا دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگتے﴾ ]الشورٰی:27[ ﴿اور جو لوگ ظالم تھے، وہ جس عیش و عشرت میں تھے، اسی کے پیچھے لگے رہے﴾ ]ھود:116[ ﴿تو ہم انھیں وافر مقدار میں پانی سے سیراب کریں﴾ ]الجن:16[ ﴿تاکہ اس کے ذریعے ان کو آزمائیں ﴾ ]الجن:17سبا:34 [۔اور فقیر اور کمزور لوگ اللہ کے دوست، انبیاء کے متبعین ہوتے ہیں۔ انہی بڑے فائدوں کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات انبیاء پر آئیں، پھر نیک لوگوں پر، اور پھر جو جتنا بہتر تھا اس پر آئیں۔ انھیں مجنون، جادوگر، اور کاہن کہا گیا ان کا مذاق اڑایا گیا۔﴿پھر جس طرح انھیں جھٹلایا گیا اور تکلیفیں دی گئیں، اس سب پر انھوں نے صبر کیا ﴾]الانعام:34 [﴿ ( مسلمانو ! ) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں ( یونہی ) داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تمھیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں ۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انھیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھ بول اٹھے کہ’’اللہ کی مدد کب آئے گی ؟‘ ‘، یاد رکھو ! اللہ کی مدد نزدیک ہے﴾ ]البقرۃ:214[ ﴿ اور دیکھو ہم تمھیں آزمائیں گے ضرور، ( کبھی ) خوف سے، اور ( کبھی ) بھوک سے، ( کبھی ) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے۔ اور جو لوگ ( ایسے حالات میں ) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو ﴾ ] البقرۃ:155[ ﴿ ( مسلمانو ! ) تمھیں اپنے مال و دولت اور جانوں کے معاملے میں ( اور ) آزمایا جائے گا، اور تم اہل کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ۔﴾]اٰل عمران:186[ جو لوگ اپنے گھروں سے نکالے گئے، اپنے اموال سے بے دخل کیے گئے، اپنے وطنوں سے جلا وطن کیے گئے اور ان کی پریشانیاں بڑھیں، سخت مصیبتیں آئیں، دشمنوں میں اضافہ ہوا، بعض مقامات پر مغلوب ہوئے اور احد، بئر معونہ وغیرہ میں کتنے شہید کیے گئے! آپﷺ کا چہرہ مبارک زخمی کیا گیا،آپﷺ کے رباعی دانت شہید کیے گئے، آپﷺ کے سر پر سے خود توڑا گیا، آپ کے رشتے داروں کو شہید کرکے ان کا مثلہ کیا گیا، آپﷺ کے دشمن خوش ہوئے اور آپ کے صحابہ ؓ غمگین ہوئے اور خندق کے دن ان کی آزمائش ہوئی۔﴿اور انھیں ایک سخت بھونچال میں ڈال کر ہلا ڈالا گیا ﴾۔]الاحزاب:11[﴿اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں، اور کلیجے منہ کو آگئے تھے﴾]الاحزاب:10یونس:12[ اس لیے یہ لوگ کھانے پینے میں، پہننے اوڑھنے، نکاح کرنے، مجالس اور گھر بنانے اور سواری وغیرہ میں قلت سے کام لیتے تھے تاکہ وہ ہر وقت اسی حالت میں رہیں جو اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے والی ہواور اسی کی طرف متوجہ کرنے والی ہو۔
السابعة عشرة : الرِّضا المُوجبُلرِضوانِ اللهِ تعالى، فإنَّ المصائبَ تنزلُ بالبَرِّ والفاجر، فَمَنْ سخِطها فله السَّخَطُ و خُسرانُ الدّنيا والآخرة، ومَن رَضِيَها فله الرِّضا، والرِّضا افضلُ من الجَنّة وما فيها، لقوله تعالى : ﴿وَ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ﴾ ]التوبۃ:72[أي من جَنَّةِ عَدْن ومساكنِها الطَّيِّبة.
۱۷۔ (مصائب پر) رضامندی اللہ کی رضا کا باعث ہے کیونکہ مصیبتیں نیک اور فاجر دونوں پر نازل ہوتی ہیں پس جو اس سے ناراض ہوا تو اس کے لیے ناراضی ہے اور دنیا اور آخرت کا خسارہ ہے اور جو اس مصیبت پر راضی رہا اس کے لیے رضامندی ہے اور رضا ئےخداوندی جنت اور اس کی تمام نعمتوں سے بڑی چیز ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو سب سے بڑی چیز ہے ( جو جنت والوں کو نصیب ہوگی )﴾ ]التوبۃ:72[یعنی جنت اور اس کے عمدہ مسکنوں (محلات)سے۔
فهذه نُبَذٌ مما حضَرَنا من فوائد البَلْوى.ونحن نسألُ اللهَ تعالٰی العفوَ و العافية، في الدنيا والآخِرة؛ فلسنا من رجالِ البلوى.وَفّقنا اللهُ تعالى للعمل بما يُحِبُّ ويَرضى، وبَرَّأَنا مِنَ المِحَن والرَّزايا. تمّتِ الفوائدُ بحمدِ لله ومَنِّه ولطفه، وصلى الله على محمد واله وصحبِه وسلّم تسليماً، وهو حسبُنا ونِعمَ الوكيل.وكان الفراغُ منه لتسع خَلَوْنَ من شهر ربيع الأوّل سنة خمس وخمسين و ستّ مئة. غفر اللهُ لقارئه، ومستمعه، وكاتبه، و لجميعِ المسلمين، والحمدُ لله وحده۔
مصائب و مشکلات کے یہ کچھ فوائد ہیں جو ذکر کیے گئے، اللہ تعالیٰ ہمیں عافیت عطا فرماے کیونکہ ہم مصائب کو برداشت کرنے والے نہیں ہیں، اللہ ہمیں اپنی رضا کے مطابق عمل کی توفیق دے، اور ہمیں مشکلات سے بچائے، یہ فوائد اللہ کے فضل و کرم سے نو ربیع الاول ۵۵۶ھ کو تمام ہوئے۔
*****