Menu

Blog

اقوالِ امام حسن بصری ؒ

Jun 21 2020

اقوالِ امام حسن بصری ؒ

بسم الله والحمد لله، والصلاة والسلام على محمّد رسول الله، وعلي آله وصحبه ومن والاه.

اس رسالے میں ہم  ان شاء اللہ سیدنا حسن بصری ؒ کے اقوال اختصار کے ساتھ پڑھیں گے، لیکن اولاً ان کا مختصر سا تعارف پیشِ خدمت ہے۔

حضرت حسن بصری ؒ کا تعارف

آپ کا نام حسن اور کنیت ابو سعید ہے، تابعی ہیں، مقام ِپیدائش مدینہ، طویل عمر پائی اور 110 ہجری میں بصرہ میں انتقال ہوا، اللہ تعالیٰ نے انھیں  وعظ اور بیان کی غیر معمولی صلاحیت دی تھی۔

سیدنا حسن بصری ؒ اکابرین کی نظر میں

روایت  ہے کہ ایک مرتبہ حسن بصری ؒ وعظ کہہ رہے تھے،  ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ نے ان کی گفتگو سن لی تو انھوں  نے استفسار فرمایا کہ:من ھذا الذی یتكلم بكلام الصدیقین۔’’یہ کون صاحب ہیں جو ایسا کلام کر رہے ہیں جیسے صدیقین کلام کیا کرتے ہیں؟‘‘۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ کے صاحبزادے ابو بردہ ؒ ان کے بارے میں اپنا یہ تاثر بیان کرتے ہیں کہ: ما رأیت أحدا أشبه بأصحاب رسول الله منه۔’’میں نے کبھی کسی شخص کو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ سے اتنا مشابہ نہیں دیکھا‘‘۔ابو بردہ ؒ خود بھی تابعی ہیں اور فرما رہے ہیں کہ صمت، کلام اور اخلاق کے معاملے میں کوئی بھی تابعی صحابہ کرام ؓ سے اتنی مشابہت نہیں رکھتا جتنی سیدنا حسن بصری ؒ رکھتے ہیں۔

امام غزالی ؒ ان کے بارے میں اپنا تاثر ارشاد فرماتے ہیں کہ :أشبه الناس كلاماً بكلام الأنبياء۔ ’’انسانوں میں انبیا کے کلام سے سب سے زیادہ مشابہ  کلام حسن بصری ؒ کا ہے‘‘۔یعنی صحابہ کرام ؓ کے بعد ان کا کلام انبیاکے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ کیوں کہ بلاشبہہ صحابہ ؓ کے فضائل عام انسانوں سے بہت زیادہ ہیں۔

ایک بار سیدنا علی بن حسین ؓ کے سامنے حسن بصری ؒ کا یہ قول نقل کیا گیا:ليس العجب لمن هلك  كيف هلك،  إنما العجب لمن نجا كيف نجا۔’’یعنی جو شخص ہلاک ہوا اس پر  کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ کیسے ہلاک ہوگیا، لیکن جس نے نجات پالی اس پر تعجب ہے کہ  وہ کیسے نجات پاگیا‘‘۔جب سیدنا علی ابن حسین ؓ نے یہ سنا تو  فرمایا : سبحان اللہ! هذا كلام صدیق۔’’سبحان اللہ! یہ کسی صدیق کا کلام ہے، عام آدمی کا کلام نہیں‘‘۔

شعبۂ تصوف فطرت کا تقاضا ہے

تصوف کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات آشکارا ہوجاتی ہے کہ تصوّف فطرت کا تقاضا ہے۔ کیوں کہ ’’حدیثِ احسان‘‘ میں تین بڑے سوالات کیے گئے ہیں، اسلام کیا ہے، ایمان کیا ہے اور احسان کیا ہے؟ اسلام کی تفصیلات میں اعمال شمار کیے گئے ہیں جن کا تعلق انسانی صلاحیتوں میں سے ارادے کے ساتھ ہے۔ اس کا ذمہ ہمارے ہاں فقہاے کرام نے لے لیا۔ اور ایمان کے ذیل میں یقین کا بیان ہے جس کا تعلق انسانی ذہن اور فکر سے ہے۔اس کے لیے ہمارے ہاں علم العقیدہ اور علم الکلام وجود میں آیا، اور احسان کے ذیل میں جو بات بیان کی گئی اس کا تعلق انسانی صلاحیتوں میں سے طبیعت اور مزاج سے ہے، اس کا بِیڑا ہمارے صوفیاے کرام نے اٹھایا ہے۔الغرض یہ تین شعبے ایسے ہیں جو دنیا کے ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں: کلام، تصوف اور فقہ۔

تعلق ِخداوندی کی بنیاد

پھر تصوف میں بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق کی تین بڑی بنیادیں ہیں: خشیت، معرفت اور محبت۔ ارادے اور عمل کی جہت سے تعلق مع اللہ  زیادہ تر خشیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور ذہنی فکر اور سوچ  کی جہت سے جب اللہ اور بندے کے درمیان تعلق قائم ہوتا ہے تو اس کا عنوان معرفت ہوتا ہے۔ اور جب انسان طبیعت اور  مزاج کی جہت سے اللہ تعالیٰ سے متعلق ہوتا ہے تو اس کا عنوان محبت قرار پاتا ہے۔

تصوّف کی ابتدا

تصوف مختلف مراحل سے گزرتا ہوا ہم تک پہنچا ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ عنوان پہلے دن سے اس پر چسپاں کر دیا گیا تھا، بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مسمّٰی  پہلے سے موجود ہوتا ہے جب کہ اس کا عنوان بعد میں اس کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ ابتدا میں اس شعبے سے وابستہ افراد خود بھی اپنے صوفی ہونے کا استحضار رکھتے ہوں یا لوگ ان پر صوفی کی اصطلاح چسپاں کرتے ہوں۔ بلکہ تاریخ کےمطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں تصوف بہت محدود صورت میں موجود تھا، اور اس سے وابستہ افراد کو بُکّاؤون، عُبّاد اور زُهّاد کا عنوان دیا جاتا تھا۔ یعنی اللہ کے خوف میں بہت زیادہ رونے والے، بہت زیادہ عبادت کرنے والے اور دنیا سے بچنے والے لوگ۔

ابتدائی مرحلے میں تصوّف کے شعبے میں خشیّت و خوف کا غلبہ تھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس میں معرفت کا فیض داخل ہوا، اور اللہ تعالیٰ سے ذہنی  و فکری تعلق کو بھی بہت زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا۔ تیسری یا چوتھی صدی ہجری میں تصوف کے موضوع پر کئی ایسی کتب لکھی گئیں جو تصوّف کی امہات الکتب کہلاتی ہیں، مثلاً: امام ابو القاسم قشیری ؒ کا  ’’رسالہ قشیریہ‘‘،  امام حارث محاسبی ؒ کی کتاب ’’رسالۃ المسترشدین‘‘، ابو طالب مکی ؒ کی کتاب ’’قوْت القلوب‘‘  اور اسی طرح ابو بکر کلابازی ؒ  کی کتاب ’’التعرف لمذہب أھل التصوف‘‘ ہے۔ اگر ان کتب کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں ایک حصہ خشیت، توبہ و رجوع اور محبت کے مضامین پر مشتمل ہے، لیکن ایک حصے میں معارف پر مشتمل مضامین بھی ملتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق کی عرفانی جہت کا بیان بھی ملتا ہے۔ یہ تصوّف کا دوسرا مرحلہ تھا۔ اور تیسرے مرحلے میں تصوّف پر طبیعت کا غلبہ زیادہ ہوا، اور اللہ تعالیٰ  سے محبت کی بنیاد پر  تعلق کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا۔ یہ تیسرا دور تھا۔ اور اب تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دور بھی گزر چکا ہے،  اور (معاذ اللہ) شایداللہ سے ناز و نخرے والا دور چل رہا ہے، کیوں کہ بارہا  دیکھا جاتا ہے محض محبت کی آڑ میں اہم ترین فرائض و عبادات میں اللہ  تعالیٰ سے بہت زیادہ چھوٹ بھی حاصل کرلی جاتی ہے۔لیکن ان تینوں میں اگر غور کیا جائے تو  محفوظ ترین طریقہ یہ ہے کہ تعلق مع اللہ خشیت کی بنیاد پر ہو، اور یہی در حقیقت علم کا سب سے بڑا اثر ہے:﴿إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمٰٓؤُاْۗ﴾’’بے شک اللہ سے علم والے لوگ ہی ڈرتے ہیں‘‘۔(فاطر: 28) خشیت کی بنیاد پر جو بات کی جاتی ہے وہ بہت محتاط انداز میں کی جاتی ہے، اس میں ڈینگیں اور دعوےموجود نہیں ہوتے۔

اس لحاظ سے بھی ہمارے لیے حسن بصری ؒ کی شخصیت بہت اہم ہے، كیوں کہ حسن بصری ؒ دائم الاحزان تھے، چناں چہ آپ خوفِ خدا کی بنا پر اکثر روتے رہتے تھے۔ ان کے مواعظ پر مشتمل کلام مختلف ٹکڑوں میں منقول ہے، امام ابن جوزی ؒ (جو متعدد کتب کے مصنف ہیں) کی ایک کتاب اس موضوع پر بھی ہے: آداب الحسن البصری وزهده ومواعظه یعنی حسن بصری ؒ نے جو آداب بیان کیے ہیں ان کا بیان اور ان کے زہد اور مواعظ کا بیان۔ان کے مواعظ مختلف کتابوں میں جمع کیے گئے ہیں، امام ابن جوزی ؒ کے  رسالے سے  میں نے حسن بصری ؒ کے کچھ اقوال جمع کیے ہیں، افادے کی غرض سے انھیں  یہاں درج کیا جائے گا۔

اقوالِ اکابرین سے استفادہ

ان اقوال کے مطالعے سے  پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیجیے کہ یہ اقوال ایسے نہیں ہیں کہ انھیں  سمجھنے کے لیے ہمیں زیادہ تشریح کی ضرورت پیش آئے، لہٰذا مقصود ان اقوال کا سمجھنا سمجھانا نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہم ان اقوال کی تاثیر اپنے دل میں جاگزیں کریں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی توجہ کا ارتکاز فہم پر زیادہ کر دیا ہے، جب کہ ہمارے دل کسی چیز کی اثر پذیری سے محروم ہوچکے ہیں، حالانکہ کسی بھی اچھائی کے معاملے میں فہم سے زیادہ اہم اس کی تاثیر کو قبول کرنا ہے۔قرآن مجید بھی ہم سے زیادہ مطالبہ فہم و تدبر کا نہیں کرتا بلکہ تاثیر کا مطالبہ زیادہ  کرتا  ہے کہ قرآن مجید کا اثر دلوں پر نقش ہونا چاہیے،  مطلوب یہ ہونا چاہیے کہ قرآن ہمارے اندر ایک سوز پیدا کرے، اور اندر کی دنیا کو تبدیل کرے۔

 اسی لیے خود قرآن مجید میں مؤمنین پر آیاتِ قرآنیہ کا اثر خوف و خشیت اور تضرّع کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے۔سورۂ زمر میں ہے: ﴿ اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے کتاب کی صورت میں ، جس کے مضامین باہم مشابہ ہیں  اور بار بار دہرائے گئے ہیں، اس (کی تلاوت)  سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں  جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں،  پھر ان کی کھالیں  اور ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے نرم پڑ جاتے ہیں‘‘۔(الزمر: 23)اسی طرح سورۂ انفال میں ہے:﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ’’حقیقی مؤمن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اورجب انھیں  اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں‘‘۔(الأنفال: 2) ان آیات میں یہ بات واضح ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کی تاثیر اچھل کود، شور شرابا یا نعرے بازی نہیں ہے، بلکہ تضرع و زاری، انابت اور خوف ہے۔ اس لیے ہم امام حسن بصری ؒ کے اقوال کو بھی اسی نیت سے پڑھیں گے کہ انھیں  سن کر ان کا اثر اپنے دل پر نقش کریں، اور ان کے مطابق عمل پیرا ہوں۔

اقوالِ امام حسن  بصری ؒ

·       عملوا لله بالطاعات، واجتهدوا فيها، وخافوا أن تردّ عليهم۔ حسن بصری ؒ اللہ کے نیک بندوں کے بارے میں کہتے ہیں: ’’یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر عامل رہتے ہیں اور اس معاملے میں خوب محنت کرتے ہیں، لیکن یہ سب کرنے کے باوجود ان کو اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں یہ چیزیں بارگاہ خداوندی میں رد نہ کردی جائیں،قبول نہ کی جائیں‘‘۔یعنی کوئی ناز یا ادعا پیدا نہیں ہوتا۔  سورۂ مومنون میں ارشاد ہے:﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ’’اور وہ جو دیتے ہیں  (اللہ کی راہ میں) تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘۔(المؤمنون: 60)سیدنا عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! یہ کن لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے، کیا  یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں؟تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: لا يا بنت الصديق، ولكنهم الذين يصومون ويصلّون ويتصدّقون، وهم يخافون أن لا يقبل منهم۔ ’’اے صدیق کی بیٹی! ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ ان لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے جو روزہ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں لیکن انھیں  یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ یہ سب ان سے قبول نہ کیا جائے‘‘۔

اسی کی وضاحت میں امام صاحب فرما رہے ہیں کہ :إنّ المؤمن جمع إحسانًا وخشيةً، والمنافق جمع إساءة و أمنًا۔’’مومن احسان اور خشیت کو جمع کرتا ہے جب کہ منافق برائیوں اور امن کو جمع کرتا ہے‘‘۔ احسان کا مطلب ہے اچھے اعمال، خوب کاری اور خوب صورت اعمال، یعنی وہ نیک اعمال کی ادائگی اچھے طریقے سے کرتا ہے اور ڈرتا بھی رہتا ہے کہ معلوم نہیں میرا یہ عمل درجۂ قبولیت کے معیار پر پہنچا بھی یا نہیں، میری نیت بھی صاف تھی یا نہیں، اللہ کے ہاں شرف قبولیت پاسکے گا یا نہیں۔ جب کہ منافق برائیوں اور امن کو جمع کرتا ہے، یعنی برے اعمال بھی کر تا ہے اور بے خوف بھی رہتا ہے، اسے کوئی پریشانی ہی لاحق نہیں ہوتی۔ نفاق کے بارے میں آپ کا ایک مشہور قول ہے: ما أمنه إلا منافق، وما خاف منه إلّا مؤمن۔ ’’نفاق سے اپنے آپ كو مامون نہیں سمجھتا مگر وہی جو منافق ہو، اور اس كا خوف و اندیشہ نہیں کرتا مگر وہی جو مؤمن ہو‘‘۔ اس لیے مؤمن نیک عمل کرتا ہے مگر اس پر ناز نہیں کرتا، بلکہ ڈرتا رہتا ہے، اور منافق برے اعمال بھی کرتا ہےاور بے خوف بھی رہتا ہے۔

·       حقيقة حسن الخلق: بذل المعروف، وكفّ الأذى، وطلاقة الوجه۔’’حسنِ خلق کی حقیقت بھلائیاں کرنا اور اپنے آپ کو دوسروں کی تکلیف سے روکے رکھنا اور بشاشت کے ساتھ رہنا ہے‘‘۔ بھلائیاں کرنا خواہ کسی بھی صورت میں ہو، چاہے اس کا تعلق  مال سے ہو یا عمل سے ہو۔ اور خود کو دوسروں کی تکلیف سے روکے رکھنا کم سے کم درجہ ہے، ایک بار  رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کی بہت زیادہ ضرورت و اہمیت بتلائی تو ایک صاحب نے کہا کہ میں تو کسی بھی لائق نہیں ہوں،  کسی کو مال بھی دینے کے قابل نہیں، لہٰذا ایسا آدمی جو کوئی نیکی کا کام بھی نہ کرسکے، اور نہ کسی کو بھلائی کی دعوت دے سکے، اور نہ ہی کسی کو برائی سے روک سکے تو  وہ کیا کرے؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے آخری درجے کے طور پر فرمایا کہ پھر لوگوں کو تکلیف دینے سے بچے رہو، لوگوں کو اذیت مت دو۔

فرمایا کہ یہ بھی حسن خلق میں شامل ہے کہ انسان کسی کو اذیت دینے سے رکا رہے، اور بشاشت و مسکراہٹ کے ساتھ رہے، خوش و خرم رہے۔ جب کہ عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ جو لوگ کچھ دین دار ہوتے ہیں ان کے اندر ایک یبوست  اور  سختی پیدا ہوجاتی ہے، ایسا نہیں ہونا  چاہیے بلکہ خوش و خرم رہنا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ صبح صبح بیدار ہوئے تو بہت طیب النفس، خوش و خرّم تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی کے پاس تقویٰ ہو اور مال بھی ہو تو یہ بہت فضیلت کی بات ہے، لیکن طیب النفس ہونا بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ لہٰذا انسان ہشاش بشاش  و خوش و خرم رہے۔خوش ہونے کے ایک معنیٰ یہ ہیں کہ غفلت اور لا ابالی پن کی بنا پر ہمیشہ مستی میں رہے، ادھر یہ مراد نہیں بلکہ مطلوب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا استحضار  رکھتے ہوئے ان پر خوشی محسوس کرے۔ جیسا کہ اللہ کے نبیﷺ  نے فرمایا: تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ ۔ ’’تمھا را اپنے بھائی کے سامنے مسکرا کر ملنا اور مواجہہ کرنا بھی ایک صدقہ ہے‘‘۔(سنن الترمذى، أبواب البر والصلة، باب ماجاء في صنائع المعروف)

·       إنّ بين العبد وبين الله عز وجلّ حدّا محدودًا من الذنوب، فإذا بلغه العبد طبع على قلبه، فلم يوفّقه للخير أبدًا۔ ’’اللہ اور بندے کے درمیان گناہوں کے حوالے سے ایک حد متعین ہے،  جب بندہ کثرت گناہ کی بنا پر اس حد کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے اور پھر اسے کبھی بھی خیر کی توفیق نہیں ہوتی‘‘۔

اس معاملے میں اصول تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار کے قانون پر پیدا فرمایا ہے،  اسے نیکی اور بدی دونوں  کےراستے بتا دیے کہ جس پہ چاہے چلے،  جیسے فرمایا : ﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾ ’’ہم نے اسے راستے کی سوجھ بوجھ دی، چاہے تو  شکر کرے اور چاہے تو نا شکری‘‘۔ (الدھر:3)  اللہ نے انسان کو اختیار تو دیا لیکن  مطالبہ یہ کیا    کہ بندے اپنے اس  اختیار کو استعمال کرتے ہوئے شکر گزاری  اور  عبادت   کا  رویہ اختیار کریں۔

سمجھنے کی بات  یہ ہے کہ   نیکی اور بدی ، شکر اور  ناشکری   کے درمیان ، انسان کو  دیا گیا    یہ اختیار   بالکل آزادانہ   نہیں بلکہ اس کا یہ اختیار  ،  اللہ تعالی کے  اختیار  اور   مرضی کے ماتحت ہے۔ اب اگر انسان  ، اپنے اس اختیار کا غلط استعمال کرے  اور  نیکی  اور ہدایت کے راستےکو اختیار نہ کرے تو  ایک وقت  ایسا آتاہے اللہ تعالی اپنا  عطا کردہ     وہ اختیار سلب کر لیتے ہیں، حسن بصری ؒ کے قول میں اس  اختیار کے ختم ہونے کا بیان ہے۔ قرآن مجید میں اس قبیل کی آیات: ﴿خَتَمَ اللہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے‘‘(البقرة: 7)یا﴿طَبَعَ اللہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴾’’ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے، اس لیے انھیں حقیقت کا پتا نہیں چلتا‘‘۔(التوبة: 93)کی حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک خاص موقعے تک اختیار کا قانون چلتا ہے، اور جب بندہ مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے تو اس پر جبر طاری ہوجاتا ہے، وہ جبر کیا ہے؟ دل پر اللہ کی طرف سے مہر لگادی جاتی ہے!اس چیز کا بیان قرآن مجید میں بھی ہے: ﴿وَ نُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ ﴾’’ جس طرح یہ لوگ پہلی بار ( قرآن جیسے معجزے پر ) ایمان نہیں لائے ، ہم بھی ( ان کی ضد کی پاداش میں ) ان کے دلوں اور نگاہوں کا رخ پھیر دیتے ہیں ، اور ان کو اس حالت میں چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں‘‘۔(الأنعام: 110) بار بار انھیں   حق کی طرف بلایا گیا حتیٰ کہ ایک وقت وہ آیا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ۔

دلوں پر مہر لگایا جانا ایک سزا ہے، سرکشی اور انکار پر  سزا آخرت میں ملتی ہے لیکن کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی سزا مل جاتی ہے کہ ان سے نیکی یا ہدایت کااختیار سلب کر لیا جاتا ہے اور دل پر مہر لگادی جاتی ہے۔ ایک مشہور روایت بھی ہے کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے، جب توبہ کرلیتا ہے تو وہ نقطہ دھل جاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہ کرتا رہتا ہے تو ان سیاہ نقطوں کی وجہ سے اس کا قلب سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر اس پر مہر کردی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس انجام سے بچائے۔

·       والله ما دون القرآن من غنًى ولا بعده من فاقة۔ ’’اللہ گواہ ہے کہ قرآن کے بغیر کوئی تونگری اور غنا نہیں ہے، اور قرآن  حاصل ہونے کے بعد کوئی محرومی نہیں ہے‘‘۔اصل تونگری تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو قرآن کی دولت عطا کردے، ایک مشہور روایت ہے: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ۔ (صحيح البخارى، كتاب التوحيد)  ہم نے جب یہ حدیث پڑھی تھی تو اس لفظ پر بھی بحث ہوئی تھی کہ عام طور پر یہ روایت تجوید یا قرآن مجید  کو خوش اِلحانی سے پڑھنے کے لیے بیان کی جاتی ہے کہ قرآن کو سجا بنا کر پڑھا جائے، لیکن زیادہ راجح قول کے مطابق اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ  جو شخص قرآن کی نعمت سے نوازے جانے کے باوجود خود کو غنی نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

اور شارحین نے  اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خوش اِلحانی تو ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے، ایک شخص اگر قرآن کو اچھی آواز میں بنا سنوار کر پڑھ سکتا ہے  تو دوسرا شخص اس پر قادر نہیں ہوتا۔ جب کہ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، لَهُ أَجْرَانِ۔ (صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل الماهر في القرآن)’’قرآن پاک میں مہارت رکھنے والا  عظیم فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر دشواری کے ساتھ پڑھتا ہو تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے‘‘۔ لہٰذا راجح قول کے مطابق اس روایت کا مطلب یہی ہے کہ جو شخص  قرآن مجید کے ذریعے خود کو با ثروت نہ  سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ قرآن سے بڑھ کر کوئی غنا نہیں ہے اور قرآن حاصل ہونے کے بعد کوئی محرومی نہیں ہے۔ ایک روایت عموماً بیان کی جاتی ہے لیکن کسی معتمد کتاب میں نظر سے نہیں گذری، وہ یہ کہ:’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی دولت عطا کی اور پھر اس کا یہ گمان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی دوسرے پر اس سے بڑی نعمت کر رکھی ہے تو اس نے قرآن کی قدر نہیں کی‘‘۔ یہی بات یہاں بیان کی گئی ہے۔

·       إنّكم اتخذتم قراءة القرآن مراحلَ، وجعلتم الليل جملًا، فأنتم تركبونه فتقطعون به مراحله، وإنّما كان قبلكم رأون رسائل من ربهم، فكانوا يتدبّرونها بالليل، وينفذونها بالنهار۔’’تم نے قرآن مجید کی قراءت کو سفری مراحل سمجھ لیا ہے، اور راتوں کو اونٹ کے قائم مقام بنا لیا ہے، چناں چہ تم ان راتوں پر سوار ہوتے ہو، اور اس کے ذریعے قرآن مجید کے مراحل طے کرتے ہو، حالانکہ تم سے پہلے لوگ یعنی صحابہ کرام ؓ کا معاملہ یہ تھا کہ وہ قرآن کو اس حیثیت سے دیکھتے تھے کہ وہ ان کے رب کی طرف سے پیغامات ہیں، چناں چہ وہ رات میں قرآن پر تدبر کرتے تھے اور دن میں اس کو خود پر نافذ کرتے تھے‘‘۔

یعنی لوگوں نے قرآن مجید  کے حوالے سے یہ سمجھ لیا ہے کہ  بس اس کی تلاوت کرنا ہی ہماری ذمے داری ہے، اور چوں کہ تلاوت کی زیادہ فضیلت  رات کے وقت قیام اللیل میں ہوتی ہے  اس لیے وہ فرما رہے ہیں کہ   لوگ محض تلاوت کو ایک ذمے داری سمجھ کر راتوں میں قرآن مجید پڑھتے ہیں، جیسے ہر رات ایک منزل پوری پڑھ کر سات دنوں میں ختم کرلیا، تنقید اس بات پر ہے  کہ بس قرآن مجید ایک رسمی تلاوت باقی رہ گئی ہے کہ مجھے اتنی راتوں میں قرآن ختم کرنا ہے، اسی کا ذوق و شوق ہے جب کہ تدبر اور عمل کرنے میں کمی ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا:أنزل القرآن؛ ليعمل به، اتخذ الناس قراءته عملًا۔ ’’قرآن مجید کو اس لیے نازل کیا گیا تھا تاکہ اس پر عمل کیا جائے، لوگوں نے اس کی قراءت کو ہی کل عمل سمجھ لیا‘‘۔

یعنی قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا تھا کہ لوگ اس کو اپنا امام، پیشوا اور زندگی کا لائحہ عمل بنائیں، لوگوں نے قرآن کی نسبت سے تلاوت ہی کو  عمل کا درجہ دے دیا کہ بس اس کو پڑھتے ہی رہو، اس کے متعلق یہی عمل باقی رہ گیا، ختم قرآن ان کا مقصود بن چکا ہے، اور پڑھتے چلے جارہے ہیں، ٹھہر کرغور وفکر نہیں کر رہے۔ جب کہ صحابہ کرام ؓ رات میں قرآن پڑھتے تھے تو اس پر غور و فکر کرتے تھے، اور دن میں قرآن کو خود پر یعنی اپنے معاملات اور معیشت پر نافذ کیا کرتے تھے، الغرض مکمل زندگی احکام قرآنیہ کے مطابق بسر کیا کرتے تھے۔

·       الدنيا كلّها ظلمة إلّا مجالس العلماء۔’’دنیا پوری کی پوری اندھیر ہے سوائے علماء کی مجالس کے‘‘۔یہ حقیقت ہے کہ دنیا تو اجاڑ اور ویرانی ہے، اصل چیز علم ہے، اور  یہاں العلم سے مراد قرآن و سنت یعنی وحی کا علم ہے۔ لہٰذا دنیا اندھیر ہے،  اقبال نے بھی کہا:

گمان آباد ہستی میں، یقیں مردِ مسلماں کا 

بیاباں کی  شبِ تاریک میں قندیلِ رہبانی

یعنی دنیا تو اندھیر اور اجاڑ ہے، اس میں روشنی  کی قندیل وحی  یعنی قرآن و سنت ہے۔ اسی علم کا بیان علماء کی مجالس میں ہوتا ہے۔

·       حضرت مالک بن دینارؒ نے سیدنا حسن ؒ سے پوچھا :ماعقوبة العالم إذا أحبّ الدنيا، قال الحسن :  موت القلب۔’’عالم اگر دنیا کی محبت میں مبتلا ہوجائے تو اس کی سزا کیا ہے؟ فرمایا کہ اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے‘‘۔ایک روایت میں بھی اسی طرح کی بات ہے:ما أخذ العلم من قلوب العلماء، الحرص، فإذا أحبّ الدنيا طلبها بعمل الآخرة، وعند ذلك  ترحّل عنہ بركات العلم، ويبقى عليه رسمهُ۔ ’’کون سی چیز ہے جو علماء کے دلوں سے علم کو نکال دیتی ہے؟ دنیا کی چیزوں کی حرص علماء کے دلوں سے علم کو نکال دیتی ہے،  جب وہ دنیا سے محبت کرتا ہے تو آخرت کے عمل کے ذریعے دنیا کو طلب کرنے لگتا ہے، اور پھر اس کے پاس علم کی صورت  اورالفاظ باقی رہ جاتے ہیں، اور علم کی برکتیں اس سے رخصت ہوجاتی ہیں‘‘۔جب اپنی دین داری، اپنی دینی شہرت، یا اپنے دینی علم کو دنیا کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے تو اس سے علم کی برکتیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ یہ بہت اہم بات ہے، اپنے دین کو دنیا طلبی کے لیے استعمال کرنا بہت خطرناک رویّہ ہے، اس دور میں یہ چیز بہت ہی زیادہ بڑھ گئی، دین بھی ذریعۂ تجارت بن گیا ہے، دین کو بھی بیچنے اور خریدنے جیسی چیز بنا لیا گیا ہے، اسے بھی لوگ اپنی  جاہ و منزلتِ دنیاوی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

·       ما عجبت من شيء كعجبي من رجل لا يحسب حبّ الدنيا من الكبائر، وأيم الله! إنّها من أكبر الكبائر۔ ’’مجھے کسی چیز پر اتنا تعجب نہیں ہوتا جتنا تعجب مجھے کسی ایسے آدمی پر ہوتا ہے جو دنیا کی محبت کو کبائر میں شمار نہیں کرتا اور اللہ گواہ ہے کہ دنیا کی محبت تو اکبر الکبائر ہے‘‘۔ دنیا کی ایک محبت تو فطری ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے:﴿وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلۡخَيۡرِ لَشَدِيدٌ﴾۔ ’’انسان مال کی محبت میں بہت شدید ہے‘‘۔ (العاديات: 8)﴿ زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِيْنَ وَ الْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ﴾۔’’مزین کر دی گئی ہے لوگوں کے لیے مرغوباتِ دنیا کی محبت جیسے عورتیں اور بیٹے اور جمع کیے ہوئے خزانے سونے کے اور چاندی کے اور نشان زدہ گھوڑے اور مال مویشی اور کھیتی‘‘۔(آل عمران: 14)

محبت ایک خاص حد تک ہونا تو فطری معاملہ ہے لیکن اگر وہ محبت اتنی آگے بڑھ جائے کہ اللہ اور اس کے رسول اور جہاد کی محبت پر غالب آجائے تو یہاں اس حب دنیا کو اکبر الکبائر کہا گیا ہے۔ جیسا کسی  بزرگ نے فرمایا  کہ ترکِ دنیا مقصود نہیں بلکہ ترکِ حبِ دنیا مقصود ہے۔ دنیا کو ترک کرنا ممکن بھی نہیں، اور لازمی بھی نہیں ہے۔ تو فرمایا کہ مجھے تعجب ہوتا ہے اس شخص پر جو دنیا کی محبت کو کبائر میں شمار ہی نہیں کرتا۔ اللہ کی قسم، اللہ گواہ ہے کہ دنیا کی محبت تو اکبر الکبائر میں ہے، وہ تو کبائر کی جڑ ہے۔

ایک روایت اگر چہ سند کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، لیکن ایک ماثور قول کے طور پر وہ بات بالکل ٹھیک ہے۔حبّ الدنيا رأس كل خطیئة۔’’دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ اور بنیاد ہے‘‘۔(حلية الاولياء وطبقات الاصفياء)  یہ جملہ ایک موضوع حدیث کے طور پر مشہور ہے، لیکن کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اپنی اصل میں پیغمبر سے ثابت نہ بھی ہوں تب بھی وہ ٹھیک ہوتے ہیں۔ موضوع حدیث کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اصلًا وہ بات یا اس کا مضمون ہی غلط ہے، بلکہ موضوع کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ حدیث موضوع علی النبی ﷺ ہے، نبی کریم ﷺ سے غلط طور پر منسوب کی گئی ہے، اسی لیے احادیثِ موضوعہ پر مشتمل کتب (جن میں جعلی روایات جمع کی جاتی ہیں) پڑھی جائیں تو کئی موضوع احادیث پر ائمہ حضرات تعلیقات کرتے ہیں کہ: هذا حديث موضوع، لكنّ معناه صحيح۔ ’’یہ حدیث موضوع ہے لیکن اس کا معنیٰ ٹھیک ہے‘‘۔یعنی جو بات اس میں بیان کی گئی ہے وہ صحیح ہے۔ اس لیے یہ قول بھی حدیثِ موضوع ہے:من عرف نفسه فقد عرف ربّه۔ ’’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘‘۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ؓ کا قول ہے، لیکن یہ بھی ٹھیک نہیں ہے بلکہ یہ ابو سلیمان دارانی ؒ کا قول ہے، اور اس کا مضمون بھی شریعت کے مطابق ہے۔ اسی لیے مذکورہ روایت: حبّ الدنيا رأس كل خطیئةاگر چہ آپ ﷺ سے منقول نہیں لیکن  حقیقت یہی ہے۔

·       هل تشبّهت الكبائر إلّا من أجلها، وهل عبدت الأوثان، وعصي الرحمن إلّا لحبّ الدنيا وإيثارها۔ ’’کبیرہ گناہوں کی جتنی بھی شاخیں نکلی ہیں حبّ دنیا کی وجہ سے ہی نکلی ہیں، اور  اسی دنیا کی محبت اور ترجیح کے سبب بتوں کی پوجا پاٹ اور رحمٰن کی نافرمانی کی گئی‘‘۔ اس میں کوئی شبہہ ہی نہیں، آپ کسی بھی خرابی کا تجزیہ کرتے چلے جائیں تو  نتیجہ یہی سامنے آئے گا کہ ساری کمزوریوں کی جڑ دنیا کی محبت ہے، اسی حبِ دنیا کی وجہ سے یہ چیزیں جڑ پکڑتی ہیں۔إنّ الموت فضح الدنيا، فلم يترك لذي لبٍّ فرحًا۔ ’’موت نے تو دنیا کو باطل کرکے رکھ دیا تو کسی عقل مند آدمی کے لیے فرح کا کوئی امکان ہی نہیں چھوڑا‘‘۔ فَضَحَ کے ایک معنیٰ تو رسوا کرنے کے آتے ہیں، لیکن ایک معنیٰ تردید کر دینے یا باطل کردینے کے بھی آتے ہیں جسے انگریزی میں کہا جاتا ہے ایکسپوز کرنا ، یہاں یہی دوسرا معنیٰ مراد ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو واقعتاً یہ بہت اہم بات ہے، خواہ مخواہ دنیا کو زیادہ اہمیت دینا یا اس کو جمع کرنا اس اعتبار سے بالکل فضول ہے،انسان کے لیے سب سے بڑا حقیقی المیہ موت ہے۔ موت نے تو دنیا کی حقیقت کھول کے سامنے رکھ دی ہے، دنیا کو باطل ثابت کر دیا ہے لہٰذا اس موت نے دنیا میں کسی عقل مند آدمی کے لیے فرح کا کوئی امکان ہی نہیں چھوڑا۔ کس بات پر انسان اکڑتا ہے، کس بات پر شیخی مارتا ہے! ایک ایسی چیز پر جو رخصت ہوجائے گی؟ پھر اس دنیا میں بھی سب سے اہم چیز مال سمجھی جاتی ہے جو جیتے جی بھی کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں، جیسے اقبال نے کہا:                 

  من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دھن جاتا ہے دھن 

ایک تو مَن کی دنیا ہے جو ایک دفع ملتی ہے اور پھر واپس نہیں جاتی، لیکن تن کی دولت چھاؤں کی طرح ہے، آتی اور جاتی رہتی ہے۔من کی دنیا نفس کی مال داری ہے،  اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر استغنا ہو۔ نفس کی تونگری کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان اپنے اخلاق  اور فضائل میں باثروت ہو کیوں کہ نفس کی کل جمع پونجی انسان کی اپنی نیکیاں اور فضائل ہی ہے۔بہر حال فرمایا کہ موت نے کسی ہوش مند کے لیے دنیا میں اترانے کا موقع ہی نہیں چھوڑا۔ انسان اس دنیا میں کتنا ہی مال جمع کرلےآخر کار یہ مال اس سے رخصت ہوجائے گا، اگر نہیں ہوا تب بھی اس کا  اس دنیا سے رخصت ہونا یقینی ہے۔

·       وما ألزم عبدٌ قلبه ذكر الموت إلّا صغّرت الدنيا عليه، وهان عليه جميع ما فيها۔ ’’جب بھی کوئی بندہ اپنے  دل میں موت کی یاد کو لازم پکڑ لیتا ہے تو اس پر دنیا چھوٹی ہوجاتی ہے، (پھر دنیا اس کو عظمت کے پیرائے میں دکھائی نہیں دیتی)، اور جو کچھ اس دنیا میں ہے وہ اس کے لیے ہلکا ہوجاتا ہے‘‘۔یعنی یہاں کی کامیابیاں اس کو بالکل بے قابو نہیں کرتیں، اور یہاں کی ناکامیاں اس کو بالکل مایوس نہیں کرتیں جیسا کہ یہ مضمون اس آیت میں بھی آیا:﴿لِكَيۡلَا تَأۡسَوۡاْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُواْ بِمَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ﴾۔ ’’تاکہ تم افسوس نہ كيا كرو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے، اور اس پر اِترايا نہ كرو جو وه تمھیں  دے دے‘‘۔(الحديد: 23)

·       أصول الشرّ وفروعه ستّةٌ: فالأصول ثلاثة، الحسد والحرص وحبّ الدنيا، والفروع كذالك: حبّ الرياسة وحبّ الثناء وحبّ الفخر۔ ’’شر کے اصول و فروع یعنی اس کی جڑیں اور شاخیں کل چھ ہیں۔ اصول تین ہیں: حسد، حرص اور دنیا کی محبت،اور فروعات بھی تین ہیں: بڑا بننے کا شوق، اور تعریف کی محبت، اور فخر کرنے اور شیخی مارنے کی محبت‘‘۔

ہمارے معاشرے میں بنیادی مسائل بھی یہی ہیں ۔ اگر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ہمارے یہاں کیپٹل ازم کا خلاصہ بھی حسد، حرص اور دنیا کی محبت ہے۔ یہ تمام اشتہاری ادارے خواہشات بانٹنے کی فیکٹریاں ہیں، یہ انسان کے اندر خواہشات کو جنم دیتے ہیں، دنیا میں انسان کی ضرورت تو پوری ہوسکتی ہے لیکن خواہشات کبھی پوری نہیں ہو سکتیں،  جس کے بارے میں اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’بنی آدم کے پاس اگر دو وادیاں سونے سے بھری ہوں تو وہ تیسری کا حریص ہوگا‘‘۔ ایک ہو تو وہ دوسری چاہے گا، دو ہیں تو تین چاہے گا، اس کی حرص کبھی ختم نہیں ہو گی۔

·       لا یزال العبد بخیر ما كان واعظًا لنفسه، وكانت المحاسبة  من همّته۔ ’’بندہ خیر پر قائم رہتا ہے جب تک اس کے نفس میں ایک واعظ ہے اور اس کی سب سے بڑی فکر محاسبہ کرنا ہے‘‘۔اللہ نے انسان کے نفس میں ایک واعظ رکھا ہوا ہے جو اس کو وعظ کرتا رہتا ہے، جسے نفس لوّامہ یا ضمیر بھی کہا جاتا ہے۔ اور’همّۃ‘ فکر، کوشش اور اہتمام كو کہتے ہیں، یعنی اس کی سب سے بڑی فکر اپنے نفس کا محاسبہ کرنا ہو، خود کو تولتا رہے، اور اپنا محاسبہ کرتا رہے۔

·       ما رأیت ظالمًا أشبه بمظلوم من حاسد: نفس دائم، وحزن دائم، وغمّ لا ینفكّ۔  ’’میں نے حاسد سے بڑھ کر کوئی ایسا ظالم نہیں دیکھا جو مظلوم سے بہت زیادہ مشابہ ہو، ہمیشہ رہنے والی منافست، دائمی غم اور حزن‘‘۔یعنی ایک تو ظالم ہوتا ہے جو ظلم و زیادتی کررہا ہوتا ہے اور دوسرا مظلوم ہوتا ہے جس پر ظلم یا زیادتی کی جارہی ہوتی ہے۔ ظالم کے ظلم کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کو ظلم کرنے سے کوئی فائدہ حاصل ہورہا ہے یا کم سے کم  لذت حاصل ہورہی ہے، جب کہ مظلوم بے چارہ ظلم کی وجہ سے تکلیف میں ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ کسی سے حسد کرنے والا شخص بھی در حقیقت ظالم ہے، لیکن اس ظلم کے باوجود تکلیف میں بے چارہ یہ خود ہی ہوتا ہے، اور حسد کے ذریعے محسود (جو کہ مظلوم ہے) کے مقابلے میں خود کو زیادہ تکلیف دیتا ہے۔ وہ جتنا ظلم دوسرے پر کر رہا ہے اس سے زیادہ ظلم اپنے اوپر کرتا ہے، اس لیے فرمایا کہ حاسد سے بڑا مظلوم میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ وہ ظلم کیا ہے؟ ہمیشہ کے لیے منافست یعنی مقابلہ بازی، ہمیشہ کی پریشانیاں اور اس چیز کا غم کہ یہ مجھ سے آگے نکل گیا، میں اس سے پیچھے رہ گیا، اور ایک ایسا غم جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔ یہ بہت اہم نفسیاتی حقیقت ہے کہ ہمیشہ حاسد ہی سب سے زیادہ تکلیف و پریشانی میں ہوتا ہے، جس سے وہ حسد کر رہا ہے اس پر تو کیا ظلم کر سکتا ہے بلکہ وہ اپنے اوپر زیادہ ظلم و زیادتی کر تا ہے۔

·       ما أطال عبدٌ الأمل إلّا أساء العمل۔ ’’کوئی بندہ طولِ امل   کا شکار نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کا عمل خراب ہو جاتا ہے۔ طولِ امل   لمبی لمبی آرزوئیں اور تمنائیں قائم کرنے کو کہتے ہیں جب کہ ہمیں شریعت میں لغو اور لایعنی مشغولیات سے منع کیا گیا ہے،  لغو و لایعنی شغل صرف قول اور عمل میں نہیں ہوتا بلکہ یہ شغل خیالات میں بھی ہوتاہے۔ بلا وجہ بیٹھ کر فضول اور بے فائدہ سوچوں میں مصروفیت، اور امیدوں کے لمبے لمبے محل کھڑے کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ کیوں کہ اس سے اللہ اور آخرت کی یاد کا موقع ہاتھ نہیں آتا۔  اللہ کے نبیﷺ نے انسان کی مثال دیتے ہوئے ایک چوکھٹا بنایا اور اس کے درمیان ایک سیدھی لکیر کھینچی جو اس چوکھٹے سے باہر نکل رہی تھی، اور فرمایا کہ یہ چوکھٹا انسان کی موت  ہے اور باہر نکلنے والی  لکیر اس کی امیدیں ہیں۔ لہٰذا ہماری امیدیں ہمیشہ ہماری زندگی سے زیادہ ہوتی ہیں،  کچھ لوگوں نے اسی بات سے اخروی دنیا کے حق ہونے پر استدلال بھی کیا ہے، یعنی یہ چیز آخرت کے لیے بہت بڑی دلیل ہے کہ انسان کی آرزؤوں اور تمناؤں کے لیے یہ دنیا بہت ناکافی اور چھوٹی ہے، انسان کے اندر یہ آرزوئیں اور تمنائیں ہونا جو اس دنیا میں سما  نہیں  سکتیں اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان تمناؤں کے لیے کوئی اور عالم ہو جہاں یہ پوری ہوسکیں، چناں چہ جنت ایسی جگہ ہے جہاں ہر خواہش پوری ہوگی اور وہ سب کچھ ہوگا جو انسان کا دل چاہے گا۔

 لیکن اس دنیا میں طولِ امل   کا شکار ہو جانا اور لمبی لمبی منصوبہ بندی کرنا ٹھیک نہیں۔ آج کل خصوصاً personality development ( شخصیت کی ترقی) کے حوالے سے جو فریب پھیلایا جا رہا ہے یہ طولِ امل   ہی کا  پرچار ہے، بس اپنے سہانے مستقبل کے لیے خواب دیکھتے رہو، اورخواب بھی دنیا کے متعلق! کوئی خواب آخرت سے متعلق نہیں ہوتا،  اور جب انسان اس چیز کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ برائیوں میں پڑ جاتا ہے پھر اس کا عمل صالح نہیں رہتا۔

·       قد كان الرجل یطلب العلم فلا یلبث أن یرى ذلك في تخشّعه وهديه وفي لسانه وبصره وبذّه۔ ’’ایک آدمی علم کی طلب میں لگ جاتا ہے اور زیادہ وقت نہیں گزرنے پاتا مگر یہ کہ وہ علم نظر آنے  لگتا ہے یعنی اس علم  کے اثرات ؛اس کے تخشُع، اخلاق، زبان، نگاہ اور سلوک میں ظاہر ہونے لگتے ہیں‘‘۔ہَدْیٌ  کا لفظ اخلاق کے لیے بولا جاتا ہے،  لفظ صمت کا استعمال بھی ان ہی معنوں میں ہوتا ہے۔ اور اخلاق بھی خاص کر وہ جو الفاظ، نگاہ اور معاملات میں ظاہر ہوتے ہیں، محض باطنی اخلاق کے لیے اس کا استعمال نہیں ہوتا۔

اس قول کا مطلب یہ ہے کہ علم کے اثرات انسان کی شخصیت پر ظاہر ہوتے ہیں، اور پھر یہی چیزیں ادب میں ڈھل جاتی ہیں۔ ہمارے اکابرین فرماتے تھے کہ ہم زیادہ علم سے بڑھ کر تھوڑے ادب کے زیادہ محتاج ہیں۔ یعنی ہمیں علم کی اتنی ضرورت نہیں جتنی ادب کی ضرورت ہے۔ امام احمد بن حنبل ؒ اور دیگر اکابرین کے درس حدیث کے حلقوں میں  ہزاروں کا مجمع ہوتا تھا، جب کہ فنی انداز میں علم حدیث سیکھنے والے طلبہ کی تعداد چند سو ہوا کرتی تھی، باقی لوگ تو ادب سیکھتے تھے کہ ایک عالم کا اٹھنا بیٹھنا، کلام کرنا اور اس کا رویّہ کیسا ہوتا ہے۔

·       سیدنا حسن بصری ؒ یہ دعا بار بار دہرایا کرتے تھے : اللهمّ لك الحمد على حلمك بعد علمك، ولك الحمد على عفوك بعد قدرتك۔ ’’اے اللہ! تیری تعریف ہے تیرے علم کے بعد تیرے حلم پر ، اور تیرا شکر ہے اس پر کہ  ہم پر قدرت حاصل ہونے کے باوجود تو ہمیں معاف کر دیتا ہے‘‘۔ کیا ہی خوب صورت مضمون ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ تو سب دیکھتا اور جانتا ہے، وہ غافل بھی نہیں لیکن اس کے باوجود  پکڑ بھی نہیں کر رہا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت حلیم ہے، اور دوسری بات یہ کہ وہ قدرت بھی رکھتا ہے، جب چاہے پکڑ لے جب چاہے گرفت کرلے، لیکن اس کے باوجود وہ معاف کر دیتا ہے، یہ اس کی عظمت شان ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے علم اور قدرت کی بناپر ہمارے خلاف فوری کار روائی کرے  تو پھر ہمارے لیے زندہ رہنے کی مجال ہی نہیں ہے۔  قرآن مجید  میں بھی فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی خطاؤں پر فوری پکڑنے لگے تو زمین کے اوپر کوئی جاندار چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔

·       ما رأیت یقینًا لا شكّ فيه أشبه بشكّ لا یقین فيه إلّا الموت۔ ’’میں نے موت كے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو بالکل یقینی اور غیر مشکوک ہونے کے باوجود ایسے شک سے مشابہت رکھتی ہے جس میں کوئی یقین نہیں‘‘۔یعنی یہ یقین ہونے کے باوجود کہ موت ضرور آنی ہے، اگر لوگوں کے کرتوت دیکھے جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے نزدیک  موت محض وہم ہے اور قابلِ یقین نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسان اپنی موت کو سامنے رکھ کر اس کے بعد والی زندگی کو اپنا نصب العین بنائے لیکن لوگ موت کی حقیقت کو وہم کی طرح ٹال کر دنیاوی زندگی کو اپنا نصب العین بناتے ہیں۔ سیدنا   علی ؓ نے فرمایا:الناس نیام إذا ماتوا انتبهوا۔ ’’لوگ مردہ ہیں ،جب مرنے لگتے ہیں تو ہوش میں آتے ہیں‘‘۔(الاسرار المرفوعة لملا علي القاري، حرف النون)اسی طرح  ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں:ما رأیت مثل النار نام هاربها، ما رأیت مثل الجنة نام طالبها۔ ’’میں نے جہنم جیسی کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی کہ جس سے بھاگنے والا سو رہا ہے، اور میں نے جنت جیسی کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جس کا طلب کرنے والا غفلت میں پڑا سو رہا ہے‘‘۔(سنن الترمذي، أبواب صفة جهنم، باب منه أي باب ما جاء أن للنار نفسين)

لہٰذا یہاں فرمایا کہ موت جو یقینی چیز ہے اس سے زیادہ شک والی چیز کوئی نہیں رہی، اور اب تو معاملہ یہ ہوگیا کہ ہم موت کا ذکر تک اپنی زبانوں پر نہیں لانا چاہتے،  بچپن ہی سے ہمیں یہ تربیت دی جاتی ہے، بچوں کو کسی جنازے کے ہمراہ  نہیں لے جاتے، اگر وہ موت کا تذکرہ کر بیٹھیں کہ ہمارے ٹیچر نے بتایا ہے کہ ہم سب مرجائیں گے تو ان کی مائیں بھی انھیں  اس طرح کی باتیں کرنے سے منع کردیتی ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے منع کیا جاتا ہے، جدید آدمی نے موت کو ایک ممنوع الذکر شے بنا دیا ہے، کہ اس کا ذکر نہیں کرنا، اس کو اپنے سے دور رکھنا ہے۔

·       لأن أقضي حاجةً لأخ لي أحبّ إليّ من عبادة السّنة۔ ’’میں اپنے کسی بھائی کی کوئی ضرورت پوری کروں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں ایک سال کی عبادت کروں۔یعنی مجھے ایک سال کی عبادت سے زیادہ محبوب یہ بات ہے کہ میں اپنے مسلمان بھائی کی کوئی ضرورت پوری کروں۔عام طور پر بیان کیا جاتا ہے  کہ دین کی دو بڑی شاخیں ہیں: ایک ذوقِ عبادت اور دوسرا حسنِ معاشرت ہے، اور دونوں کا اپنا اپنا منفرد مقام ہے، اس لیے ایک چیز کی جگہ دوسری چیز کو نہیں دینا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ انسان عبادات میں اتنا غرق ہو جائے کہ لوگوں کے معاملات سے ہی  غافل ہو جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک مشہور روایت ہے کہ وہ اعتکاف میں بیٹھے تھے، اس دوران ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے فلاں حاجت درپیش ہے، چناں چہ وہ اس شخص کی حاجت پوری کرنے کے لیے نکل پڑے، کسی نے کہا کہ آپ تو اعتکاف میں ہیں، تو فرمایا کہ میں کسی مسلمان بھائی کے ساتھ چل کر اس کی کوئی ضرورت پوری کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں اتنے سال اللہ کے نبیﷺ کی مسجد میں اعتکاف کروں۔لہذا دونوں چیزوں کو ساتھ ساتھ رکھنا چاہیے۔

 ایک صاحب نے حسن بصری ؒ  سے درخواست کی: إنّی أريد سفرًا فزوّدني۔ ’’میرا سفر کا ارادہ ہے  آپ مجھے زادِراہ   فراہم کیجیے۔ یہ رسول اللہﷺ کی سنت ہے، صحابہ کرام ؓ کا معاملہ بھی یہ  تھا کہ جب وہ سفر کا ارادہ کرتے یا سفر کے لیے جاتے تو رسول اللہﷺ کی خدمت میں آتے تھے کہ آپ کوئی نصیحت فرمائیے۔  یہاں زادِراہ   سے مراد کوئی کھانے پینے کی اشیا  یا روپیہ پیسا نہیں، بلکہ سورۂ بقرہ آیت197 ﴿ فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ﴾ ’’کیونکہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے‘‘پر عمل کرتے ہوئے کوئی صاحب ان سے عرض کر رہے ہیں کہ میں سفر پر جا رہا ہوں کوئی نصیحت کر دیجیے، تاکہ میں اسے زادِراہ   کے طور پر اپنے پلے سے باندھ لوں۔ تو فرمایا: ابن أخي! أعزّ أمر الله حیث ما كنت یعزّك الله عزّ و جلّ۔ ’’اے میرے بھائی! جہاں کہیں تم ہو، اللہ کے امر کو، اللہ کے حکم کو عزیز رکھو، غالب رکھو تو اللہ تعالیٰ تمھیں  عزت و مرتبہ دے گا‘‘۔اگر دنیا میں مرتبہ اور عزت چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کے معاملے کو اہمیت دو۔ اقبال کا شعر ہے:

مقامِ خویش اگر خواہی دریں دیر

بحق دل بند و راہِ مصطفیٰ رو

اگر اس بت کدے (یعنی اس دنیا) میں اگر تم کوئی مقام حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنا دل اللہ تعالیٰ سے لگالو، اور رسول اللہﷺ کے رستے پہ چل پڑو۔یہی طریقہ ہے عزت، مرتبے اور مقام کا۔

·       إنّ الإیمان لیس بالتحلّی ولا بالتمنّی، وإنّما الإیمان ما وقّر فی القلب وصدّقه العمل۔ ’’ایمان کسی تزیّن اور دکھاوے کا  نام نہیں ہے اور نہ ہی یہ تمنّاؤں کا نام ہے، اصل ایمان تو وہ ہے جو دل میں قرار پکڑ لے اور عمل اس کی تصدیق کر ے‘‘۔ تحلّی تزیّن کو کہتے ہیں، کسی چیز کے ذریعے خود كو مزیّن کرنا، اسی سے حِلیۃ  بنا ہے، جس کو زیور کہتے ہیں۔ حسن بصری ؒ کے فرمان کے مطابق ایمان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے علم منطق میں علم کی تعریف  کی جاتی ہے کہ علم تصور اور تصدیق کے مجموعے کا نام ہے، لہٰذا ایمان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دل میں گہری اتر جائے اور پھر  انسان کا  عمل بھی اس کی تصدیق کرنے والا ہو۔ اگر  محض دل میں راسخ ہے لیکن عمل میں نہیں تو  یہ بات بھی ٹھیک نہیں، یا عمل میں ہو لیکن دل میں راسخ نہ ہو تو منافقین کے ساتھ مشابہت ہے کہ بظاہر تو دین پر عمل کر رہے ہیں لیکن دل میں ایمان نہیں۔

·       الرجاء والخوف مطیّتا المؤمن۔ ’’خوف اور رجاء مؤمن کی دو سواریاں ہیں‘‘۔ اگر آپ قرآن و حدیث اور اسی طرح ہمارے اکابرین کے اقوال پڑھیں تو جتنی بھی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں مثلاً سلوک، مذہب، شریعت اور  طریقت، سب میں بنیادی تصوّر سفر کا ہے۔ اقبال کا بھی ایک شعر ہے:

  ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا

حیات، ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں 

یہ زندگی ذوقِ سفر ہے، اللہ کی طرف سفر کرنا نصب العین ہے، سالک کا لفظ بھی اسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ہم نے ایک سلوک یعنی سفر طے کرکے اللہ تک پہنچنا ہے، انسان کی منزل اللہ تعالیٰ ہے، اور اس منزل میں تمہاری سواری دو چیزیں ہیں: خوف اور رجاء۔ جس کو امام غزالی ؒ نے ’جناحا طير‘ کہا ہے، یعنی یہ دونوں چیزیں پرندے کے دو پروں کی مانند لازم ہیں۔ اگر بندۂ مؤمن کے سفر کی مثال اڑان سے دی جائے تو ان دونوں چیزوں کو پرندے کے دو پروں سے تشبیہ دی جاتی ہے، اور اگر زمینی سفر سے مثال دی جائے تو انھیں  سواری سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ الغرض خوفِ خدا اور امیدِنجات، ان دونوں کے درمیان رہنا لازمی ہے۔

خوف اور رجاء  سے متعلق ایک قول سیدنا عمر ؓ کی طرف منسوب ہے: ’’اگر آسمان سے یہ ندا لگائی جائے کہ تمام لوگ جنت میں چلے جائیں گے سوائے ایک شخص کے، تو مجھے یہ اندیشہ ہو گا کہ کہیں وہ ایک شخص میں ہی نہ ہوں، اور اگر یہ ندا ہو کہ تمام لوگ جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، تو میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میں ہی وہ ایک آدمی ہوں‘‘۔ اس قول میں خوف اور رجاء کے توسط کی انتہائی اعلیٰ مثال ہے۔

·       أفضل العلم الورع والتوكّل۔ ’’سب سے افضل علم ورع اور توکل ہے‘‘۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ علم جب تک زبان کی نوک پر رہے  علم نہیں ہوتا، اصل علم وہی ہے جو دل میں اتر جائے۔ مشکوٰۃ، کتاب العلم میں بھی ایک روایت ان ہی کی طرف منسوب ہے کہ انھوں  نے فرمایا: الْعِلْمُ عِلْمَانِ فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعلم النافع وَعلم على اللِّسَان فَذَاك حُجَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ابْنِ آدَمَ۔’’علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک علم وہ ہوتا ہے جو دل میں اترا ہوا ہوتا ہے اور ایک علم وہ ہوتا ہے جو محض نوكِ زبان پر ہوتا ہے، وہ علم جو دل میں اترا ہوا ہے   علمِ نافع ہے (وہ رویّوں میں بھی ظاہر ہوتا ہے)، اور جو علم زبان پر  ہی ہوتا ہے وہ آدم ؑ کے بیٹے (انسان)  کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حجت ہے‘‘۔(مشكاة المصابيح، كتاب العلم، الفصل الثالث) اس لیے فرمایا کہ سب سے افضل علم ورع اور توکل ہے۔ ورع کا لفظ بہت زیادہ احتیاط کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ورع اور تقویٰ کا لفظ ملتا جلتا ہے۔ فرق بس یہی ہے کہ ورع کا تعلق عمل میں احتیاط سے ہے اور  زہد یا تقویٰ کا تعلق باطن سے ہے، اکثر کہا جاتا ہے کہ فلاں بہت صاحبِ ورع ہیں، مطلب یہ ہوتا ہے کہ شبہات سے بچتے ہیں، اور ان کی یہ احتیاط عمل میں نظر آتی ہے، جب کہ تقویٰ باطنی چیز ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے دل کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: التقویٰ ههنا۔ ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم ظلم المسلم) اس لیے جو صاحب ِورع ہوتا ہے تو اس کا ورع؛ رویے اور معاشرت میں نظر آتا ہے۔ اسی طرح توکل یعنی اللہ پر اعتماد کو بھی افضل علم قرار دیا گیا ہے، متعدد مقامات پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر  یقین اور توکل کو ایک جوڑے کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ ریاض الصالحین کے ابتدائی ابواب میں سے ایک باب کا نام ’’باب الیقین والتوکل‘‘ ہے۔ لہٰذا توکل یقین ہی کی قسم ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کے پاس حقیقی علم ہے تو اس سے توکل بھی لازماً پیدا ہونا چاہیے۔

·       إنّ القلوب تموت وتحیا، فإذا هي ماتت فاحملوه على الفرائض، فإذا هي أحییت فأدّبوه بالتطوّع۔ ’’دل کبھی زندہ ہوتے ہیں اور کبھی مر جاتے ہیں۔ جب تمھیں  لگے کہ دل مرنے لگا ہے یا مر رہا ہے تو اس کو فرائض کی بجا آوری پر آمادہ کرو، اور جب دیکھو کہ دل زندہ ہو چکا ہے اور اللہ سے ایک تعلق قائم ہو گیا ہے تو پھر نوافل کے ذریعے اس کی تادیب کرو‘‘۔ یعنی نوافل کی ادائی کرکے اسے ادب سکھاؤ۔ایک مرتبہ ان کی مجلس میں کسی نے ایک شخص کے لیے فقیہ کا لفظ استعمال کیا تو اس سے پوچھا کہهل رأیت فقيهًا قطّ، إنّما الفقيه الزاهد في الدنیا۔ ’’تم نے کبھی کوئی فقیہ دیکھا بھی ہے ؟ فقیہ تو وہ ہوتا ہے جو دنیا میں زہد اختیار کرتا ہے ‘‘۔ کیا جس نے شریعت میں حلال و حرام کا علم حاصل کرلیا وہ فقیہ ہے؟ فرمایا کہ لگتا ایسا ہے کہ تم نے کبھی کوئی فقیہ دیکھا نہیں ہے۔اصل فقیہ تو وہ ہوتا ہے جو دنیا میں زہد  و قناعت اختیار کرتا ہے۔ فقیہ کے بارے میں حسن بصری ؒ ہی کا ایک قول ہے: الراغب في الآخرة، البصیر بذنبه۔ ’’فقیہ وہ ہوتا ہے جو آخرت کے معاملے میں رغبت کرنے والا اور اپنے گناہوں کی بصیرت رکھنے والا ہو‘‘۔ اور کچھ روایتوں میں ہے کہ حسن بصری ؒ  نے یوں فرمایا: البصیر بدینه، المداوم على أمر ربّه۔ ’’اپنے دینی معاملات یا دین کے بارے میں بصیرت رکھنے والا اور اپنے رب کی بندگی میں مداومت اختیار کرنے والا شخص فقیہ ہوتا ہے‘‘۔

اب بدقسمتی سے  علم کا تعلق حافظے سے جوڑا جاتا ہے، اس لیے بڑا عالم وہی شمار ہوتا ہے جس کو زیادہ مسائل سے واقفیت ہو۔ ہمارے اکابرین نے بار بار اس تصور کی نفی کی ہے کہ اصل فقاہت یہ نہیں، بلکہ اصل فقاہت تو یہ ہے کہ انسان کو دنیا کی سمجھ آ جائے یا دنیا کی حقیقت اس پر کھل جائے۔ قرآن کریم میں ہے:﴿ فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ﴾’’ غرض جس شخص کو اللہ ہدایت تک پہنچانے کا ارادہ کرلے ، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے‘‘۔(الأنعام: 125) اس کے ضمن میں اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: ’’جب ایمان کا نور کسی کے سینے میں داخل ہو جاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے، اور فراخ ہو جاتا ہے‘‘۔ تو صحابہ ؓ نے پوچھا: ’’ کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے ؟‘‘ یعنی یہ کیسے معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیا ہے؟ تو آپﷺ نےفرمایا: الْإِنَابَةُ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ وَالتَّجَافِي عَنْ دَارِ الْغُرُورِ وَالِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ الْمَوْتِ۔’’دارِ غرور  (دھوکے کا گھر یعنی دنیا) سے انسان کا جی اٹھ جائے اور آخرت یعنی جنت کی طرف رغبت ہو جائے جو دار الخلود (ہمیشگی کا گھر) ہے، اور انسان موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری میں لگ جائے‘‘۔(مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الزهد، ماذكر عن نبينا ﷺ في الزهد) تو اصل فقاہت اور سمجھ بوجھ یہ ہے۔ اللہ کے نبیﷺ کاارشادہے:اَلكَیِّسُ من دان نفسه، وعمل لما بعد الموت۔ ’’اصل میں ہوش مند اور دانا وہ شخص ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے عمل کرے‘‘۔(سنن الترمذي، أبواب صفة القيامة والرقائق والورع)

نبی اکرمﷺ کا معمول تھا کہ جب بھی کو ئی صاحب اسلام قبول کرتے تو آپﷺ انھیں قرآن سکھانے کے لیے  کسی دوسرے صحابی کے حوالے کر دیتے ۔ چناں چہ ایک صاحب آکر مسلمان ہوئے تو انھیں بھی قرآن کی تعلیم کے لیےایک صحابی کے ساتھ بھیج دیا، لیکن چند دنوں بعد ہی وہ صحابی حاضرِخدمت  ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے جنھیں پڑھانے کی ذمے داری مجھے سونپی تھی، میں نے انھیں تھوڑا ہی پڑھایا تھا کہ وہ چھوڑ کر چلے گئے، اور معاملہ یہ ہوا کہ جب ہم اس آیت تک پہنچے: ﴿ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ()وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’چناں چہ جس نے ذرہ برابر کوئی اچھائی کی ہوگی ، وہ اسے دیکھے گا ، اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی ، وہ اسے دیکھے گا‘‘۔ (الزلزال: 7، 8)تو انھوں نے کہا کہ بس میرے لیے یہ کافی ہے، اب میں جاتا ہوں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے اس بات کو سن کر فرمایا: دَعُوهُ فَإِنَّهُ قَدْ فَقِهَ۔’’اس کو چھوڑ دو وہ تو فقیہ ہو گیا‘‘۔ (الجامع لاحكام القرآن/ تفسير القرطبي، سورة الزلزال)

اس سے بڑی فقاہت کیا ہے کہ انسان یہ بات سمجھ لے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، مجھے مرنا ہے اور مرنے کے بعد میری پیشی ہوگی اور محاسبہ ہو گا۔ اصل فقاہت یہ ہے، باقی تو بس تکنیکی علم ہے کسی کو زیادہ آتا ہے تو کسی کو کم آتا ہے۔دعا ہے کہ جو باتیں ہم نے پڑھی ہیں اللہ تعالیٰ  ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

*****

Maqalaat

اقوالِ امام حسن بصری ؒ

Jun 21 2020

اقوالِ امام حسن بصری ؒ

بسم الله والحمد لله، والصلاة والسلام على محمّد رسول الله، وعلي آله وصحبه ومن والاه.

اس رسالے میں ہم  ان شاء اللہ سیدنا حسن بصری ؒ کے اقوال اختصار کے ساتھ پڑھیں گے، لیکن اولاً ان کا مختصر سا تعارف پیشِ خدمت ہے۔

حضرت حسن بصری ؒ کا تعارف

آپ کا نام حسن اور کنیت ابو سعید ہے، تابعی ہیں، مقام ِپیدائش مدینہ، طویل عمر پائی اور 110 ہجری میں بصرہ میں انتقال ہوا، اللہ تعالیٰ نے انھیں  وعظ اور بیان کی غیر معمولی صلاحیت دی تھی۔

سیدنا حسن بصری ؒ اکابرین کی نظر میں

روایت  ہے کہ ایک مرتبہ حسن بصری ؒ وعظ کہہ رہے تھے،  ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ نے ان کی گفتگو سن لی تو انھوں  نے استفسار فرمایا کہ:من ھذا الذی یتكلم بكلام الصدیقین۔’’یہ کون صاحب ہیں جو ایسا کلام کر رہے ہیں جیسے صدیقین کلام کیا کرتے ہیں؟‘‘۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ کے صاحبزادے ابو بردہ ؒ ان کے بارے میں اپنا یہ تاثر بیان کرتے ہیں کہ: ما رأیت أحدا أشبه بأصحاب رسول الله منه۔’’میں نے کبھی کسی شخص کو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ سے اتنا مشابہ نہیں دیکھا‘‘۔ابو بردہ ؒ خود بھی تابعی ہیں اور فرما رہے ہیں کہ صمت، کلام اور اخلاق کے معاملے میں کوئی بھی تابعی صحابہ کرام ؓ سے اتنی مشابہت نہیں رکھتا جتنی سیدنا حسن بصری ؒ رکھتے ہیں۔

امام غزالی ؒ ان کے بارے میں اپنا تاثر ارشاد فرماتے ہیں کہ :أشبه الناس كلاماً بكلام الأنبياء۔ ’’انسانوں میں انبیا کے کلام سے سب سے زیادہ مشابہ  کلام حسن بصری ؒ کا ہے‘‘۔یعنی صحابہ کرام ؓ کے بعد ان کا کلام انبیاکے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ کیوں کہ بلاشبہہ صحابہ ؓ کے فضائل عام انسانوں سے بہت زیادہ ہیں۔

ایک بار سیدنا علی بن حسین ؓ کے سامنے حسن بصری ؒ کا یہ قول نقل کیا گیا:ليس العجب لمن هلك  كيف هلك،  إنما العجب لمن نجا كيف نجا۔’’یعنی جو شخص ہلاک ہوا اس پر  کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ کیسے ہلاک ہوگیا، لیکن جس نے نجات پالی اس پر تعجب ہے کہ  وہ کیسے نجات پاگیا‘‘۔جب سیدنا علی ابن حسین ؓ نے یہ سنا تو  فرمایا : سبحان اللہ! هذا كلام صدیق۔’’سبحان اللہ! یہ کسی صدیق کا کلام ہے، عام آدمی کا کلام نہیں‘‘۔

شعبۂ تصوف فطرت کا تقاضا ہے

تصوف کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات آشکارا ہوجاتی ہے کہ تصوّف فطرت کا تقاضا ہے۔ کیوں کہ ’’حدیثِ احسان‘‘ میں تین بڑے سوالات کیے گئے ہیں، اسلام کیا ہے، ایمان کیا ہے اور احسان کیا ہے؟ اسلام کی تفصیلات میں اعمال شمار کیے گئے ہیں جن کا تعلق انسانی صلاحیتوں میں سے ارادے کے ساتھ ہے۔ اس کا ذمہ ہمارے ہاں فقہاے کرام نے لے لیا۔ اور ایمان کے ذیل میں یقین کا بیان ہے جس کا تعلق انسانی ذہن اور فکر سے ہے۔اس کے لیے ہمارے ہاں علم العقیدہ اور علم الکلام وجود میں آیا، اور احسان کے ذیل میں جو بات بیان کی گئی اس کا تعلق انسانی صلاحیتوں میں سے طبیعت اور مزاج سے ہے، اس کا بِیڑا ہمارے صوفیاے کرام نے اٹھایا ہے۔الغرض یہ تین شعبے ایسے ہیں جو دنیا کے ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں: کلام، تصوف اور فقہ۔

تعلق ِخداوندی کی بنیاد

پھر تصوف میں بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق کی تین بڑی بنیادیں ہیں: خشیت، معرفت اور محبت۔ ارادے اور عمل کی جہت سے تعلق مع اللہ  زیادہ تر خشیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور ذہنی فکر اور سوچ  کی جہت سے جب اللہ اور بندے کے درمیان تعلق قائم ہوتا ہے تو اس کا عنوان معرفت ہوتا ہے۔ اور جب انسان طبیعت اور  مزاج کی جہت سے اللہ تعالیٰ سے متعلق ہوتا ہے تو اس کا عنوان محبت قرار پاتا ہے۔

تصوّف کی ابتدا

تصوف مختلف مراحل سے گزرتا ہوا ہم تک پہنچا ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ عنوان پہلے دن سے اس پر چسپاں کر دیا گیا تھا، بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مسمّٰی  پہلے سے موجود ہوتا ہے جب کہ اس کا عنوان بعد میں اس کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ ابتدا میں اس شعبے سے وابستہ افراد خود بھی اپنے صوفی ہونے کا استحضار رکھتے ہوں یا لوگ ان پر صوفی کی اصطلاح چسپاں کرتے ہوں۔ بلکہ تاریخ کےمطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں تصوف بہت محدود صورت میں موجود تھا، اور اس سے وابستہ افراد کو بُکّاؤون، عُبّاد اور زُهّاد کا عنوان دیا جاتا تھا۔ یعنی اللہ کے خوف میں بہت زیادہ رونے والے، بہت زیادہ عبادت کرنے والے اور دنیا سے بچنے والے لوگ۔

ابتدائی مرحلے میں تصوّف کے شعبے میں خشیّت و خوف کا غلبہ تھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس میں معرفت کا فیض داخل ہوا، اور اللہ تعالیٰ سے ذہنی  و فکری تعلق کو بھی بہت زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا۔ تیسری یا چوتھی صدی ہجری میں تصوف کے موضوع پر کئی ایسی کتب لکھی گئیں جو تصوّف کی امہات الکتب کہلاتی ہیں، مثلاً: امام ابو القاسم قشیری ؒ کا  ’’رسالہ قشیریہ‘‘،  امام حارث محاسبی ؒ کی کتاب ’’رسالۃ المسترشدین‘‘، ابو طالب مکی ؒ کی کتاب ’’قوْت القلوب‘‘  اور اسی طرح ابو بکر کلابازی ؒ  کی کتاب ’’التعرف لمذہب أھل التصوف‘‘ ہے۔ اگر ان کتب کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں ایک حصہ خشیت، توبہ و رجوع اور محبت کے مضامین پر مشتمل ہے، لیکن ایک حصے میں معارف پر مشتمل مضامین بھی ملتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق کی عرفانی جہت کا بیان بھی ملتا ہے۔ یہ تصوّف کا دوسرا مرحلہ تھا۔ اور تیسرے مرحلے میں تصوّف پر طبیعت کا غلبہ زیادہ ہوا، اور اللہ تعالیٰ  سے محبت کی بنیاد پر  تعلق کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا۔ یہ تیسرا دور تھا۔ اور اب تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دور بھی گزر چکا ہے،  اور (معاذ اللہ) شایداللہ سے ناز و نخرے والا دور چل رہا ہے، کیوں کہ بارہا  دیکھا جاتا ہے محض محبت کی آڑ میں اہم ترین فرائض و عبادات میں اللہ  تعالیٰ سے بہت زیادہ چھوٹ بھی حاصل کرلی جاتی ہے۔لیکن ان تینوں میں اگر غور کیا جائے تو  محفوظ ترین طریقہ یہ ہے کہ تعلق مع اللہ خشیت کی بنیاد پر ہو، اور یہی در حقیقت علم کا سب سے بڑا اثر ہے:﴿إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمٰٓؤُاْۗ﴾’’بے شک اللہ سے علم والے لوگ ہی ڈرتے ہیں‘‘۔(فاطر: 28) خشیت کی بنیاد پر جو بات کی جاتی ہے وہ بہت محتاط انداز میں کی جاتی ہے، اس میں ڈینگیں اور دعوےموجود نہیں ہوتے۔

اس لحاظ سے بھی ہمارے لیے حسن بصری ؒ کی شخصیت بہت اہم ہے، كیوں کہ حسن بصری ؒ دائم الاحزان تھے، چناں چہ آپ خوفِ خدا کی بنا پر اکثر روتے رہتے تھے۔ ان کے مواعظ پر مشتمل کلام مختلف ٹکڑوں میں منقول ہے، امام ابن جوزی ؒ (جو متعدد کتب کے مصنف ہیں) کی ایک کتاب اس موضوع پر بھی ہے: آداب الحسن البصری وزهده ومواعظه یعنی حسن بصری ؒ نے جو آداب بیان کیے ہیں ان کا بیان اور ان کے زہد اور مواعظ کا بیان۔ان کے مواعظ مختلف کتابوں میں جمع کیے گئے ہیں، امام ابن جوزی ؒ کے  رسالے سے  میں نے حسن بصری ؒ کے کچھ اقوال جمع کیے ہیں، افادے کی غرض سے انھیں  یہاں درج کیا جائے گا۔

اقوالِ اکابرین سے استفادہ

ان اقوال کے مطالعے سے  پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیجیے کہ یہ اقوال ایسے نہیں ہیں کہ انھیں  سمجھنے کے لیے ہمیں زیادہ تشریح کی ضرورت پیش آئے، لہٰذا مقصود ان اقوال کا سمجھنا سمجھانا نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہم ان اقوال کی تاثیر اپنے دل میں جاگزیں کریں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی توجہ کا ارتکاز فہم پر زیادہ کر دیا ہے، جب کہ ہمارے دل کسی چیز کی اثر پذیری سے محروم ہوچکے ہیں، حالانکہ کسی بھی اچھائی کے معاملے میں فہم سے زیادہ اہم اس کی تاثیر کو قبول کرنا ہے۔قرآن مجید بھی ہم سے زیادہ مطالبہ فہم و تدبر کا نہیں کرتا بلکہ تاثیر کا مطالبہ زیادہ  کرتا  ہے کہ قرآن مجید کا اثر دلوں پر نقش ہونا چاہیے،  مطلوب یہ ہونا چاہیے کہ قرآن ہمارے اندر ایک سوز پیدا کرے، اور اندر کی دنیا کو تبدیل کرے۔

 اسی لیے خود قرآن مجید میں مؤمنین پر آیاتِ قرآنیہ کا اثر خوف و خشیت اور تضرّع کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے۔سورۂ زمر میں ہے: ﴿ اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے کتاب کی صورت میں ، جس کے مضامین باہم مشابہ ہیں  اور بار بار دہرائے گئے ہیں، اس (کی تلاوت)  سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں  جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں،  پھر ان کی کھالیں  اور ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے نرم پڑ جاتے ہیں‘‘۔(الزمر: 23)اسی طرح سورۂ انفال میں ہے:﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ’’حقیقی مؤمن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اورجب انھیں  اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں‘‘۔(الأنفال: 2) ان آیات میں یہ بات واضح ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کی تاثیر اچھل کود، شور شرابا یا نعرے بازی نہیں ہے، بلکہ تضرع و زاری، انابت اور خوف ہے۔ اس لیے ہم امام حسن بصری ؒ کے اقوال کو بھی اسی نیت سے پڑھیں گے کہ انھیں  سن کر ان کا اثر اپنے دل پر نقش کریں، اور ان کے مطابق عمل پیرا ہوں۔

اقوالِ امام حسن  بصری ؒ

·       عملوا لله بالطاعات، واجتهدوا فيها، وخافوا أن تردّ عليهم۔ حسن بصری ؒ اللہ کے نیک بندوں کے بارے میں کہتے ہیں: ’’یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر عامل رہتے ہیں اور اس معاملے میں خوب محنت کرتے ہیں، لیکن یہ سب کرنے کے باوجود ان کو اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں یہ چیزیں بارگاہ خداوندی میں رد نہ کردی جائیں،قبول نہ کی جائیں‘‘۔یعنی کوئی ناز یا ادعا پیدا نہیں ہوتا۔  سورۂ مومنون میں ارشاد ہے:﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ’’اور وہ جو دیتے ہیں  (اللہ کی راہ میں) تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘۔(المؤمنون: 60)سیدنا عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! یہ کن لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے، کیا  یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں؟تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: لا يا بنت الصديق، ولكنهم الذين يصومون ويصلّون ويتصدّقون، وهم يخافون أن لا يقبل منهم۔ ’’اے صدیق کی بیٹی! ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ ان لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے جو روزہ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں لیکن انھیں  یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ یہ سب ان سے قبول نہ کیا جائے‘‘۔

اسی کی وضاحت میں امام صاحب فرما رہے ہیں کہ :إنّ المؤمن جمع إحسانًا وخشيةً، والمنافق جمع إساءة و أمنًا۔’’مومن احسان اور خشیت کو جمع کرتا ہے جب کہ منافق برائیوں اور امن کو جمع کرتا ہے‘‘۔ احسان کا مطلب ہے اچھے اعمال، خوب کاری اور خوب صورت اعمال، یعنی وہ نیک اعمال کی ادائگی اچھے طریقے سے کرتا ہے اور ڈرتا بھی رہتا ہے کہ معلوم نہیں میرا یہ عمل درجۂ قبولیت کے معیار پر پہنچا بھی یا نہیں، میری نیت بھی صاف تھی یا نہیں، اللہ کے ہاں شرف قبولیت پاسکے گا یا نہیں۔ جب کہ منافق برائیوں اور امن کو جمع کرتا ہے، یعنی برے اعمال بھی کر تا ہے اور بے خوف بھی رہتا ہے، اسے کوئی پریشانی ہی لاحق نہیں ہوتی۔ نفاق کے بارے میں آپ کا ایک مشہور قول ہے: ما أمنه إلا منافق، وما خاف منه إلّا مؤمن۔ ’’نفاق سے اپنے آپ كو مامون نہیں سمجھتا مگر وہی جو منافق ہو، اور اس كا خوف و اندیشہ نہیں کرتا مگر وہی جو مؤمن ہو‘‘۔ اس لیے مؤمن نیک عمل کرتا ہے مگر اس پر ناز نہیں کرتا، بلکہ ڈرتا رہتا ہے، اور منافق برے اعمال بھی کرتا ہےاور بے خوف بھی رہتا ہے۔

·       حقيقة حسن الخلق: بذل المعروف، وكفّ الأذى، وطلاقة الوجه۔’’حسنِ خلق کی حقیقت بھلائیاں کرنا اور اپنے آپ کو دوسروں کی تکلیف سے روکے رکھنا اور بشاشت کے ساتھ رہنا ہے‘‘۔ بھلائیاں کرنا خواہ کسی بھی صورت میں ہو، چاہے اس کا تعلق  مال سے ہو یا عمل سے ہو۔ اور خود کو دوسروں کی تکلیف سے روکے رکھنا کم سے کم درجہ ہے، ایک بار  رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کی بہت زیادہ ضرورت و اہمیت بتلائی تو ایک صاحب نے کہا کہ میں تو کسی بھی لائق نہیں ہوں،  کسی کو مال بھی دینے کے قابل نہیں، لہٰذا ایسا آدمی جو کوئی نیکی کا کام بھی نہ کرسکے، اور نہ کسی کو بھلائی کی دعوت دے سکے، اور نہ ہی کسی کو برائی سے روک سکے تو  وہ کیا کرے؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے آخری درجے کے طور پر فرمایا کہ پھر لوگوں کو تکلیف دینے سے بچے رہو، لوگوں کو اذیت مت دو۔

فرمایا کہ یہ بھی حسن خلق میں شامل ہے کہ انسان کسی کو اذیت دینے سے رکا رہے، اور بشاشت و مسکراہٹ کے ساتھ رہے، خوش و خرم رہے۔ جب کہ عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ جو لوگ کچھ دین دار ہوتے ہیں ان کے اندر ایک یبوست  اور  سختی پیدا ہوجاتی ہے، ایسا نہیں ہونا  چاہیے بلکہ خوش و خرم رہنا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ صبح صبح بیدار ہوئے تو بہت طیب النفس، خوش و خرّم تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی کے پاس تقویٰ ہو اور مال بھی ہو تو یہ بہت فضیلت کی بات ہے، لیکن طیب النفس ہونا بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ لہٰذا انسان ہشاش بشاش  و خوش و خرم رہے۔خوش ہونے کے ایک معنیٰ یہ ہیں کہ غفلت اور لا ابالی پن کی بنا پر ہمیشہ مستی میں رہے، ادھر یہ مراد نہیں بلکہ مطلوب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا استحضار  رکھتے ہوئے ان پر خوشی محسوس کرے۔ جیسا کہ اللہ کے نبیﷺ  نے فرمایا: تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ ۔ ’’تمھا را اپنے بھائی کے سامنے مسکرا کر ملنا اور مواجہہ کرنا بھی ایک صدقہ ہے‘‘۔(سنن الترمذى، أبواب البر والصلة، باب ماجاء في صنائع المعروف)

·       إنّ بين العبد وبين الله عز وجلّ حدّا محدودًا من الذنوب، فإذا بلغه العبد طبع على قلبه، فلم يوفّقه للخير أبدًا۔ ’’اللہ اور بندے کے درمیان گناہوں کے حوالے سے ایک حد متعین ہے،  جب بندہ کثرت گناہ کی بنا پر اس حد کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے اور پھر اسے کبھی بھی خیر کی توفیق نہیں ہوتی‘‘۔

اس معاملے میں اصول تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار کے قانون پر پیدا فرمایا ہے،  اسے نیکی اور بدی دونوں  کےراستے بتا دیے کہ جس پہ چاہے چلے،  جیسے فرمایا : ﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾ ’’ہم نے اسے راستے کی سوجھ بوجھ دی، چاہے تو  شکر کرے اور چاہے تو نا شکری‘‘۔ (الدھر:3)  اللہ نے انسان کو اختیار تو دیا لیکن  مطالبہ یہ کیا    کہ بندے اپنے اس  اختیار کو استعمال کرتے ہوئے شکر گزاری  اور  عبادت   کا  رویہ اختیار کریں۔

سمجھنے کی بات  یہ ہے کہ   نیکی اور بدی ، شکر اور  ناشکری   کے درمیان ، انسان کو  دیا گیا    یہ اختیار   بالکل آزادانہ   نہیں بلکہ اس کا یہ اختیار  ،  اللہ تعالی کے  اختیار  اور   مرضی کے ماتحت ہے۔ اب اگر انسان  ، اپنے اس اختیار کا غلط استعمال کرے  اور  نیکی  اور ہدایت کے راستےکو اختیار نہ کرے تو  ایک وقت  ایسا آتاہے اللہ تعالی اپنا  عطا کردہ     وہ اختیار سلب کر لیتے ہیں، حسن بصری ؒ کے قول میں اس  اختیار کے ختم ہونے کا بیان ہے۔ قرآن مجید میں اس قبیل کی آیات: ﴿خَتَمَ اللہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے‘‘(البقرة: 7)یا﴿طَبَعَ اللہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴾’’ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے، اس لیے انھیں حقیقت کا پتا نہیں چلتا‘‘۔(التوبة: 93)کی حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک خاص موقعے تک اختیار کا قانون چلتا ہے، اور جب بندہ مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے تو اس پر جبر طاری ہوجاتا ہے، وہ جبر کیا ہے؟ دل پر اللہ کی طرف سے مہر لگادی جاتی ہے!اس چیز کا بیان قرآن مجید میں بھی ہے: ﴿وَ نُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ ﴾’’ جس طرح یہ لوگ پہلی بار ( قرآن جیسے معجزے پر ) ایمان نہیں لائے ، ہم بھی ( ان کی ضد کی پاداش میں ) ان کے دلوں اور نگاہوں کا رخ پھیر دیتے ہیں ، اور ان کو اس حالت میں چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں‘‘۔(الأنعام: 110) بار بار انھیں   حق کی طرف بلایا گیا حتیٰ کہ ایک وقت وہ آیا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ۔

دلوں پر مہر لگایا جانا ایک سزا ہے، سرکشی اور انکار پر  سزا آخرت میں ملتی ہے لیکن کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی سزا مل جاتی ہے کہ ان سے نیکی یا ہدایت کااختیار سلب کر لیا جاتا ہے اور دل پر مہر لگادی جاتی ہے۔ ایک مشہور روایت بھی ہے کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے، جب توبہ کرلیتا ہے تو وہ نقطہ دھل جاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہ کرتا رہتا ہے تو ان سیاہ نقطوں کی وجہ سے اس کا قلب سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر اس پر مہر کردی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس انجام سے بچائے۔

·       والله ما دون القرآن من غنًى ولا بعده من فاقة۔ ’’اللہ گواہ ہے کہ قرآن کے بغیر کوئی تونگری اور غنا نہیں ہے، اور قرآن  حاصل ہونے کے بعد کوئی محرومی نہیں ہے‘‘۔اصل تونگری تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو قرآن کی دولت عطا کردے، ایک مشہور روایت ہے: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ۔ (صحيح البخارى، كتاب التوحيد)  ہم نے جب یہ حدیث پڑھی تھی تو اس لفظ پر بھی بحث ہوئی تھی کہ عام طور پر یہ روایت تجوید یا قرآن مجید  کو خوش اِلحانی سے پڑھنے کے لیے بیان کی جاتی ہے کہ قرآن کو سجا بنا کر پڑھا جائے، لیکن زیادہ راجح قول کے مطابق اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ  جو شخص قرآن کی نعمت سے نوازے جانے کے باوجود خود کو غنی نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

اور شارحین نے  اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خوش اِلحانی تو ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے، ایک شخص اگر قرآن کو اچھی آواز میں بنا سنوار کر پڑھ سکتا ہے  تو دوسرا شخص اس پر قادر نہیں ہوتا۔ جب کہ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، لَهُ أَجْرَانِ۔ (صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل الماهر في القرآن)’’قرآن پاک میں مہارت رکھنے والا  عظیم فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر دشواری کے ساتھ پڑھتا ہو تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے‘‘۔ لہٰذا راجح قول کے مطابق اس روایت کا مطلب یہی ہے کہ جو شخص  قرآن مجید کے ذریعے خود کو با ثروت نہ  سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ قرآن سے بڑھ کر کوئی غنا نہیں ہے اور قرآن حاصل ہونے کے بعد کوئی محرومی نہیں ہے۔ ایک روایت عموماً بیان کی جاتی ہے لیکن کسی معتمد کتاب میں نظر سے نہیں گذری، وہ یہ کہ:’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی دولت عطا کی اور پھر اس کا یہ گمان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی دوسرے پر اس سے بڑی نعمت کر رکھی ہے تو اس نے قرآن کی قدر نہیں کی‘‘۔ یہی بات یہاں بیان کی گئی ہے۔

·       إنّكم اتخذتم قراءة القرآن مراحلَ، وجعلتم الليل جملًا، فأنتم تركبونه فتقطعون به مراحله، وإنّما كان قبلكم رأون رسائل من ربهم، فكانوا يتدبّرونها بالليل، وينفذونها بالنهار۔’’تم نے قرآن مجید کی قراءت کو سفری مراحل سمجھ لیا ہے، اور راتوں کو اونٹ کے قائم مقام بنا لیا ہے، چناں چہ تم ان راتوں پر سوار ہوتے ہو، اور اس کے ذریعے قرآن مجید کے مراحل طے کرتے ہو، حالانکہ تم سے پہلے لوگ یعنی صحابہ کرام ؓ کا معاملہ یہ تھا کہ وہ قرآن کو اس حیثیت سے دیکھتے تھے کہ وہ ان کے رب کی طرف سے پیغامات ہیں، چناں چہ وہ رات میں قرآن پر تدبر کرتے تھے اور دن میں اس کو خود پر نافذ کرتے تھے‘‘۔

یعنی لوگوں نے قرآن مجید  کے حوالے سے یہ سمجھ لیا ہے کہ  بس اس کی تلاوت کرنا ہی ہماری ذمے داری ہے، اور چوں کہ تلاوت کی زیادہ فضیلت  رات کے وقت قیام اللیل میں ہوتی ہے  اس لیے وہ فرما رہے ہیں کہ   لوگ محض تلاوت کو ایک ذمے داری سمجھ کر راتوں میں قرآن مجید پڑھتے ہیں، جیسے ہر رات ایک منزل پوری پڑھ کر سات دنوں میں ختم کرلیا، تنقید اس بات پر ہے  کہ بس قرآن مجید ایک رسمی تلاوت باقی رہ گئی ہے کہ مجھے اتنی راتوں میں قرآن ختم کرنا ہے، اسی کا ذوق و شوق ہے جب کہ تدبر اور عمل کرنے میں کمی ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا:أنزل القرآن؛ ليعمل به، اتخذ الناس قراءته عملًا۔ ’’قرآن مجید کو اس لیے نازل کیا گیا تھا تاکہ اس پر عمل کیا جائے، لوگوں نے اس کی قراءت کو ہی کل عمل سمجھ لیا‘‘۔

یعنی قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا تھا کہ لوگ اس کو اپنا امام، پیشوا اور زندگی کا لائحہ عمل بنائیں، لوگوں نے قرآن کی نسبت سے تلاوت ہی کو  عمل کا درجہ دے دیا کہ بس اس کو پڑھتے ہی رہو، اس کے متعلق یہی عمل باقی رہ گیا، ختم قرآن ان کا مقصود بن چکا ہے، اور پڑھتے چلے جارہے ہیں، ٹھہر کرغور وفکر نہیں کر رہے۔ جب کہ صحابہ کرام ؓ رات میں قرآن پڑھتے تھے تو اس پر غور و فکر کرتے تھے، اور دن میں قرآن کو خود پر یعنی اپنے معاملات اور معیشت پر نافذ کیا کرتے تھے، الغرض مکمل زندگی احکام قرآنیہ کے مطابق بسر کیا کرتے تھے۔

·       الدنيا كلّها ظلمة إلّا مجالس العلماء۔’’دنیا پوری کی پوری اندھیر ہے سوائے علماء کی مجالس کے‘‘۔یہ حقیقت ہے کہ دنیا تو اجاڑ اور ویرانی ہے، اصل چیز علم ہے، اور  یہاں العلم سے مراد قرآن و سنت یعنی وحی کا علم ہے۔ لہٰذا دنیا اندھیر ہے،  اقبال نے بھی کہا:

گمان آباد ہستی میں، یقیں مردِ مسلماں کا 

بیاباں کی  شبِ تاریک میں قندیلِ رہبانی

یعنی دنیا تو اندھیر اور اجاڑ ہے، اس میں روشنی  کی قندیل وحی  یعنی قرآن و سنت ہے۔ اسی علم کا بیان علماء کی مجالس میں ہوتا ہے۔

·       حضرت مالک بن دینارؒ نے سیدنا حسن ؒ سے پوچھا :ماعقوبة العالم إذا أحبّ الدنيا، قال الحسن :  موت القلب۔’’عالم اگر دنیا کی محبت میں مبتلا ہوجائے تو اس کی سزا کیا ہے؟ فرمایا کہ اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے‘‘۔ایک روایت میں بھی اسی طرح کی بات ہے:ما أخذ العلم من قلوب العلماء، الحرص، فإذا أحبّ الدنيا طلبها بعمل الآخرة، وعند ذلك  ترحّل عنہ بركات العلم، ويبقى عليه رسمهُ۔ ’’کون سی چیز ہے جو علماء کے دلوں سے علم کو نکال دیتی ہے؟ دنیا کی چیزوں کی حرص علماء کے دلوں سے علم کو نکال دیتی ہے،  جب وہ دنیا سے محبت کرتا ہے تو آخرت کے عمل کے ذریعے دنیا کو طلب کرنے لگتا ہے، اور پھر اس کے پاس علم کی صورت  اورالفاظ باقی رہ جاتے ہیں، اور علم کی برکتیں اس سے رخصت ہوجاتی ہیں‘‘۔جب اپنی دین داری، اپنی دینی شہرت، یا اپنے دینی علم کو دنیا کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے تو اس سے علم کی برکتیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ یہ بہت اہم بات ہے، اپنے دین کو دنیا طلبی کے لیے استعمال کرنا بہت خطرناک رویّہ ہے، اس دور میں یہ چیز بہت ہی زیادہ بڑھ گئی، دین بھی ذریعۂ تجارت بن گیا ہے، دین کو بھی بیچنے اور خریدنے جیسی چیز بنا لیا گیا ہے، اسے بھی لوگ اپنی  جاہ و منزلتِ دنیاوی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

·       ما عجبت من شيء كعجبي من رجل لا يحسب حبّ الدنيا من الكبائر، وأيم الله! إنّها من أكبر الكبائر۔ ’’مجھے کسی چیز پر اتنا تعجب نہیں ہوتا جتنا تعجب مجھے کسی ایسے آدمی پر ہوتا ہے جو دنیا کی محبت کو کبائر میں شمار نہیں کرتا اور اللہ گواہ ہے کہ دنیا کی محبت تو اکبر الکبائر ہے‘‘۔ دنیا کی ایک محبت تو فطری ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے:﴿وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلۡخَيۡرِ لَشَدِيدٌ﴾۔ ’’انسان مال کی محبت میں بہت شدید ہے‘‘۔ (العاديات: 8)﴿ زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِيْنَ وَ الْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ﴾۔’’مزین کر دی گئی ہے لوگوں کے لیے مرغوباتِ دنیا کی محبت جیسے عورتیں اور بیٹے اور جمع کیے ہوئے خزانے سونے کے اور چاندی کے اور نشان زدہ گھوڑے اور مال مویشی اور کھیتی‘‘۔(آل عمران: 14)

محبت ایک خاص حد تک ہونا تو فطری معاملہ ہے لیکن اگر وہ محبت اتنی آگے بڑھ جائے کہ اللہ اور اس کے رسول اور جہاد کی محبت پر غالب آجائے تو یہاں اس حب دنیا کو اکبر الکبائر کہا گیا ہے۔ جیسا کسی  بزرگ نے فرمایا  کہ ترکِ دنیا مقصود نہیں بلکہ ترکِ حبِ دنیا مقصود ہے۔ دنیا کو ترک کرنا ممکن بھی نہیں، اور لازمی بھی نہیں ہے۔ تو فرمایا کہ مجھے تعجب ہوتا ہے اس شخص پر جو دنیا کی محبت کو کبائر میں شمار ہی نہیں کرتا۔ اللہ کی قسم، اللہ گواہ ہے کہ دنیا کی محبت تو اکبر الکبائر میں ہے، وہ تو کبائر کی جڑ ہے۔

ایک روایت اگر چہ سند کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، لیکن ایک ماثور قول کے طور پر وہ بات بالکل ٹھیک ہے۔حبّ الدنيا رأس كل خطیئة۔’’دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ اور بنیاد ہے‘‘۔(حلية الاولياء وطبقات الاصفياء)  یہ جملہ ایک موضوع حدیث کے طور پر مشہور ہے، لیکن کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اپنی اصل میں پیغمبر سے ثابت نہ بھی ہوں تب بھی وہ ٹھیک ہوتے ہیں۔ موضوع حدیث کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اصلًا وہ بات یا اس کا مضمون ہی غلط ہے، بلکہ موضوع کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ حدیث موضوع علی النبی ﷺ ہے، نبی کریم ﷺ سے غلط طور پر منسوب کی گئی ہے، اسی لیے احادیثِ موضوعہ پر مشتمل کتب (جن میں جعلی روایات جمع کی جاتی ہیں) پڑھی جائیں تو کئی موضوع احادیث پر ائمہ حضرات تعلیقات کرتے ہیں کہ: هذا حديث موضوع، لكنّ معناه صحيح۔ ’’یہ حدیث موضوع ہے لیکن اس کا معنیٰ ٹھیک ہے‘‘۔یعنی جو بات اس میں بیان کی گئی ہے وہ صحیح ہے۔ اس لیے یہ قول بھی حدیثِ موضوع ہے:من عرف نفسه فقد عرف ربّه۔ ’’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘‘۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ؓ کا قول ہے، لیکن یہ بھی ٹھیک نہیں ہے بلکہ یہ ابو سلیمان دارانی ؒ کا قول ہے، اور اس کا مضمون بھی شریعت کے مطابق ہے۔ اسی لیے مذکورہ روایت: حبّ الدنيا رأس كل خطیئةاگر چہ آپ ﷺ سے منقول نہیں لیکن  حقیقت یہی ہے۔

·       هل تشبّهت الكبائر إلّا من أجلها، وهل عبدت الأوثان، وعصي الرحمن إلّا لحبّ الدنيا وإيثارها۔ ’’کبیرہ گناہوں کی جتنی بھی شاخیں نکلی ہیں حبّ دنیا کی وجہ سے ہی نکلی ہیں، اور  اسی دنیا کی محبت اور ترجیح کے سبب بتوں کی پوجا پاٹ اور رحمٰن کی نافرمانی کی گئی‘‘۔ اس میں کوئی شبہہ ہی نہیں، آپ کسی بھی خرابی کا تجزیہ کرتے چلے جائیں تو  نتیجہ یہی سامنے آئے گا کہ ساری کمزوریوں کی جڑ دنیا کی محبت ہے، اسی حبِ دنیا کی وجہ سے یہ چیزیں جڑ پکڑتی ہیں۔إنّ الموت فضح الدنيا، فلم يترك لذي لبٍّ فرحًا۔ ’’موت نے تو دنیا کو باطل کرکے رکھ دیا تو کسی عقل مند آدمی کے لیے فرح کا کوئی امکان ہی نہیں چھوڑا‘‘۔ فَضَحَ کے ایک معنیٰ تو رسوا کرنے کے آتے ہیں، لیکن ایک معنیٰ تردید کر دینے یا باطل کردینے کے بھی آتے ہیں جسے انگریزی میں کہا جاتا ہے ایکسپوز کرنا ، یہاں یہی دوسرا معنیٰ مراد ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو واقعتاً یہ بہت اہم بات ہے، خواہ مخواہ دنیا کو زیادہ اہمیت دینا یا اس کو جمع کرنا اس اعتبار سے بالکل فضول ہے،انسان کے لیے سب سے بڑا حقیقی المیہ موت ہے۔ موت نے تو دنیا کی حقیقت کھول کے سامنے رکھ دی ہے، دنیا کو باطل ثابت کر دیا ہے لہٰذا اس موت نے دنیا میں کسی عقل مند آدمی کے لیے فرح کا کوئی امکان ہی نہیں چھوڑا۔ کس بات پر انسان اکڑتا ہے، کس بات پر شیخی مارتا ہے! ایک ایسی چیز پر جو رخصت ہوجائے گی؟ پھر اس دنیا میں بھی سب سے اہم چیز مال سمجھی جاتی ہے جو جیتے جی بھی کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں، جیسے اقبال نے کہا:                 

  من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دھن جاتا ہے دھن 

ایک تو مَن کی دنیا ہے جو ایک دفع ملتی ہے اور پھر واپس نہیں جاتی، لیکن تن کی دولت چھاؤں کی طرح ہے، آتی اور جاتی رہتی ہے۔من کی دنیا نفس کی مال داری ہے،  اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر استغنا ہو۔ نفس کی تونگری کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان اپنے اخلاق  اور فضائل میں باثروت ہو کیوں کہ نفس کی کل جمع پونجی انسان کی اپنی نیکیاں اور فضائل ہی ہے۔بہر حال فرمایا کہ موت نے کسی ہوش مند کے لیے دنیا میں اترانے کا موقع ہی نہیں چھوڑا۔ انسان اس دنیا میں کتنا ہی مال جمع کرلےآخر کار یہ مال اس سے رخصت ہوجائے گا، اگر نہیں ہوا تب بھی اس کا  اس دنیا سے رخصت ہونا یقینی ہے۔

·       وما ألزم عبدٌ قلبه ذكر الموت إلّا صغّرت الدنيا عليه، وهان عليه جميع ما فيها۔ ’’جب بھی کوئی بندہ اپنے  دل میں موت کی یاد کو لازم پکڑ لیتا ہے تو اس پر دنیا چھوٹی ہوجاتی ہے، (پھر دنیا اس کو عظمت کے پیرائے میں دکھائی نہیں دیتی)، اور جو کچھ اس دنیا میں ہے وہ اس کے لیے ہلکا ہوجاتا ہے‘‘۔یعنی یہاں کی کامیابیاں اس کو بالکل بے قابو نہیں کرتیں، اور یہاں کی ناکامیاں اس کو بالکل مایوس نہیں کرتیں جیسا کہ یہ مضمون اس آیت میں بھی آیا:﴿لِكَيۡلَا تَأۡسَوۡاْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُواْ بِمَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ﴾۔ ’’تاکہ تم افسوس نہ كيا كرو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے، اور اس پر اِترايا نہ كرو جو وه تمھیں  دے دے‘‘۔(الحديد: 23)

·       أصول الشرّ وفروعه ستّةٌ: فالأصول ثلاثة، الحسد والحرص وحبّ الدنيا، والفروع كذالك: حبّ الرياسة وحبّ الثناء وحبّ الفخر۔ ’’شر کے اصول و فروع یعنی اس کی جڑیں اور شاخیں کل چھ ہیں۔ اصول تین ہیں: حسد، حرص اور دنیا کی محبت،اور فروعات بھی تین ہیں: بڑا بننے کا شوق، اور تعریف کی محبت، اور فخر کرنے اور شیخی مارنے کی محبت‘‘۔

ہمارے معاشرے میں بنیادی مسائل بھی یہی ہیں ۔ اگر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ہمارے یہاں کیپٹل ازم کا خلاصہ بھی حسد، حرص اور دنیا کی محبت ہے۔ یہ تمام اشتہاری ادارے خواہشات بانٹنے کی فیکٹریاں ہیں، یہ انسان کے اندر خواہشات کو جنم دیتے ہیں، دنیا میں انسان کی ضرورت تو پوری ہوسکتی ہے لیکن خواہشات کبھی پوری نہیں ہو سکتیں،  جس کے بارے میں اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’بنی آدم کے پاس اگر دو وادیاں سونے سے بھری ہوں تو وہ تیسری کا حریص ہوگا‘‘۔ ایک ہو تو وہ دوسری چاہے گا، دو ہیں تو تین چاہے گا، اس کی حرص کبھی ختم نہیں ہو گی۔

·       لا یزال العبد بخیر ما كان واعظًا لنفسه، وكانت المحاسبة  من همّته۔ ’’بندہ خیر پر قائم رہتا ہے جب تک اس کے نفس میں ایک واعظ ہے اور اس کی سب سے بڑی فکر محاسبہ کرنا ہے‘‘۔اللہ نے انسان کے نفس میں ایک واعظ رکھا ہوا ہے جو اس کو وعظ کرتا رہتا ہے، جسے نفس لوّامہ یا ضمیر بھی کہا جاتا ہے۔ اور’همّۃ‘ فکر، کوشش اور اہتمام كو کہتے ہیں، یعنی اس کی سب سے بڑی فکر اپنے نفس کا محاسبہ کرنا ہو، خود کو تولتا رہے، اور اپنا محاسبہ کرتا رہے۔

·       ما رأیت ظالمًا أشبه بمظلوم من حاسد: نفس دائم، وحزن دائم، وغمّ لا ینفكّ۔  ’’میں نے حاسد سے بڑھ کر کوئی ایسا ظالم نہیں دیکھا جو مظلوم سے بہت زیادہ مشابہ ہو، ہمیشہ رہنے والی منافست، دائمی غم اور حزن‘‘۔یعنی ایک تو ظالم ہوتا ہے جو ظلم و زیادتی کررہا ہوتا ہے اور دوسرا مظلوم ہوتا ہے جس پر ظلم یا زیادتی کی جارہی ہوتی ہے۔ ظالم کے ظلم کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کو ظلم کرنے سے کوئی فائدہ حاصل ہورہا ہے یا کم سے کم  لذت حاصل ہورہی ہے، جب کہ مظلوم بے چارہ ظلم کی وجہ سے تکلیف میں ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ کسی سے حسد کرنے والا شخص بھی در حقیقت ظالم ہے، لیکن اس ظلم کے باوجود تکلیف میں بے چارہ یہ خود ہی ہوتا ہے، اور حسد کے ذریعے محسود (جو کہ مظلوم ہے) کے مقابلے میں خود کو زیادہ تکلیف دیتا ہے۔ وہ جتنا ظلم دوسرے پر کر رہا ہے اس سے زیادہ ظلم اپنے اوپر کرتا ہے، اس لیے فرمایا کہ حاسد سے بڑا مظلوم میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ وہ ظلم کیا ہے؟ ہمیشہ کے لیے منافست یعنی مقابلہ بازی، ہمیشہ کی پریشانیاں اور اس چیز کا غم کہ یہ مجھ سے آگے نکل گیا، میں اس سے پیچھے رہ گیا، اور ایک ایسا غم جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔ یہ بہت اہم نفسیاتی حقیقت ہے کہ ہمیشہ حاسد ہی سب سے زیادہ تکلیف و پریشانی میں ہوتا ہے، جس سے وہ حسد کر رہا ہے اس پر تو کیا ظلم کر سکتا ہے بلکہ وہ اپنے اوپر زیادہ ظلم و زیادتی کر تا ہے۔

·       ما أطال عبدٌ الأمل إلّا أساء العمل۔ ’’کوئی بندہ طولِ امل   کا شکار نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کا عمل خراب ہو جاتا ہے۔ طولِ امل   لمبی لمبی آرزوئیں اور تمنائیں قائم کرنے کو کہتے ہیں جب کہ ہمیں شریعت میں لغو اور لایعنی مشغولیات سے منع کیا گیا ہے،  لغو و لایعنی شغل صرف قول اور عمل میں نہیں ہوتا بلکہ یہ شغل خیالات میں بھی ہوتاہے۔ بلا وجہ بیٹھ کر فضول اور بے فائدہ سوچوں میں مصروفیت، اور امیدوں کے لمبے لمبے محل کھڑے کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ کیوں کہ اس سے اللہ اور آخرت کی یاد کا موقع ہاتھ نہیں آتا۔  اللہ کے نبیﷺ نے انسان کی مثال دیتے ہوئے ایک چوکھٹا بنایا اور اس کے درمیان ایک سیدھی لکیر کھینچی جو اس چوکھٹے سے باہر نکل رہی تھی، اور فرمایا کہ یہ چوکھٹا انسان کی موت  ہے اور باہر نکلنے والی  لکیر اس کی امیدیں ہیں۔ لہٰذا ہماری امیدیں ہمیشہ ہماری زندگی سے زیادہ ہوتی ہیں،  کچھ لوگوں نے اسی بات سے اخروی دنیا کے حق ہونے پر استدلال بھی کیا ہے، یعنی یہ چیز آخرت کے لیے بہت بڑی دلیل ہے کہ انسان کی آرزؤوں اور تمناؤں کے لیے یہ دنیا بہت ناکافی اور چھوٹی ہے، انسان کے اندر یہ آرزوئیں اور تمنائیں ہونا جو اس دنیا میں سما  نہیں  سکتیں اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان تمناؤں کے لیے کوئی اور عالم ہو جہاں یہ پوری ہوسکیں، چناں چہ جنت ایسی جگہ ہے جہاں ہر خواہش پوری ہوگی اور وہ سب کچھ ہوگا جو انسان کا دل چاہے گا۔

 لیکن اس دنیا میں طولِ امل   کا شکار ہو جانا اور لمبی لمبی منصوبہ بندی کرنا ٹھیک نہیں۔ آج کل خصوصاً personality development ( شخصیت کی ترقی) کے حوالے سے جو فریب پھیلایا جا رہا ہے یہ طولِ امل   ہی کا  پرچار ہے، بس اپنے سہانے مستقبل کے لیے خواب دیکھتے رہو، اورخواب بھی دنیا کے متعلق! کوئی خواب آخرت سے متعلق نہیں ہوتا،  اور جب انسان اس چیز کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ برائیوں میں پڑ جاتا ہے پھر اس کا عمل صالح نہیں رہتا۔

·       قد كان الرجل یطلب العلم فلا یلبث أن یرى ذلك في تخشّعه وهديه وفي لسانه وبصره وبذّه۔ ’’ایک آدمی علم کی طلب میں لگ جاتا ہے اور زیادہ وقت نہیں گزرنے پاتا مگر یہ کہ وہ علم نظر آنے  لگتا ہے یعنی اس علم  کے اثرات ؛اس کے تخشُع، اخلاق، زبان، نگاہ اور سلوک میں ظاہر ہونے لگتے ہیں‘‘۔ہَدْیٌ  کا لفظ اخلاق کے لیے بولا جاتا ہے،  لفظ صمت کا استعمال بھی ان ہی معنوں میں ہوتا ہے۔ اور اخلاق بھی خاص کر وہ جو الفاظ، نگاہ اور معاملات میں ظاہر ہوتے ہیں، محض باطنی اخلاق کے لیے اس کا استعمال نہیں ہوتا۔

اس قول کا مطلب یہ ہے کہ علم کے اثرات انسان کی شخصیت پر ظاہر ہوتے ہیں، اور پھر یہی چیزیں ادب میں ڈھل جاتی ہیں۔ ہمارے اکابرین فرماتے تھے کہ ہم زیادہ علم سے بڑھ کر تھوڑے ادب کے زیادہ محتاج ہیں۔ یعنی ہمیں علم کی اتنی ضرورت نہیں جتنی ادب کی ضرورت ہے۔ امام احمد بن حنبل ؒ اور دیگر اکابرین کے درس حدیث کے حلقوں میں  ہزاروں کا مجمع ہوتا تھا، جب کہ فنی انداز میں علم حدیث سیکھنے والے طلبہ کی تعداد چند سو ہوا کرتی تھی، باقی لوگ تو ادب سیکھتے تھے کہ ایک عالم کا اٹھنا بیٹھنا، کلام کرنا اور اس کا رویّہ کیسا ہوتا ہے۔

·       سیدنا حسن بصری ؒ یہ دعا بار بار دہرایا کرتے تھے : اللهمّ لك الحمد على حلمك بعد علمك، ولك الحمد على عفوك بعد قدرتك۔ ’’اے اللہ! تیری تعریف ہے تیرے علم کے بعد تیرے حلم پر ، اور تیرا شکر ہے اس پر کہ  ہم پر قدرت حاصل ہونے کے باوجود تو ہمیں معاف کر دیتا ہے‘‘۔ کیا ہی خوب صورت مضمون ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ تو سب دیکھتا اور جانتا ہے، وہ غافل بھی نہیں لیکن اس کے باوجود  پکڑ بھی نہیں کر رہا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت حلیم ہے، اور دوسری بات یہ کہ وہ قدرت بھی رکھتا ہے، جب چاہے پکڑ لے جب چاہے گرفت کرلے، لیکن اس کے باوجود وہ معاف کر دیتا ہے، یہ اس کی عظمت شان ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے علم اور قدرت کی بناپر ہمارے خلاف فوری کار روائی کرے  تو پھر ہمارے لیے زندہ رہنے کی مجال ہی نہیں ہے۔  قرآن مجید  میں بھی فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی خطاؤں پر فوری پکڑنے لگے تو زمین کے اوپر کوئی جاندار چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔

·       ما رأیت یقینًا لا شكّ فيه أشبه بشكّ لا یقین فيه إلّا الموت۔ ’’میں نے موت كے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو بالکل یقینی اور غیر مشکوک ہونے کے باوجود ایسے شک سے مشابہت رکھتی ہے جس میں کوئی یقین نہیں‘‘۔یعنی یہ یقین ہونے کے باوجود کہ موت ضرور آنی ہے، اگر لوگوں کے کرتوت دیکھے جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے نزدیک  موت محض وہم ہے اور قابلِ یقین نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسان اپنی موت کو سامنے رکھ کر اس کے بعد والی زندگی کو اپنا نصب العین بنائے لیکن لوگ موت کی حقیقت کو وہم کی طرح ٹال کر دنیاوی زندگی کو اپنا نصب العین بناتے ہیں۔ سیدنا   علی ؓ نے فرمایا:الناس نیام إذا ماتوا انتبهوا۔ ’’لوگ مردہ ہیں ،جب مرنے لگتے ہیں تو ہوش میں آتے ہیں‘‘۔(الاسرار المرفوعة لملا علي القاري، حرف النون)اسی طرح  ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں:ما رأیت مثل النار نام هاربها، ما رأیت مثل الجنة نام طالبها۔ ’’میں نے جہنم جیسی کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی کہ جس سے بھاگنے والا سو رہا ہے، اور میں نے جنت جیسی کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جس کا طلب کرنے والا غفلت میں پڑا سو رہا ہے‘‘۔(سنن الترمذي، أبواب صفة جهنم، باب منه أي باب ما جاء أن للنار نفسين)

لہٰذا یہاں فرمایا کہ موت جو یقینی چیز ہے اس سے زیادہ شک والی چیز کوئی نہیں رہی، اور اب تو معاملہ یہ ہوگیا کہ ہم موت کا ذکر تک اپنی زبانوں پر نہیں لانا چاہتے،  بچپن ہی سے ہمیں یہ تربیت دی جاتی ہے، بچوں کو کسی جنازے کے ہمراہ  نہیں لے جاتے، اگر وہ موت کا تذکرہ کر بیٹھیں کہ ہمارے ٹیچر نے بتایا ہے کہ ہم سب مرجائیں گے تو ان کی مائیں بھی انھیں  اس طرح کی باتیں کرنے سے منع کردیتی ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے منع کیا جاتا ہے، جدید آدمی نے موت کو ایک ممنوع الذکر شے بنا دیا ہے، کہ اس کا ذکر نہیں کرنا، اس کو اپنے سے دور رکھنا ہے۔

·       لأن أقضي حاجةً لأخ لي أحبّ إليّ من عبادة السّنة۔ ’’میں اپنے کسی بھائی کی کوئی ضرورت پوری کروں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں ایک سال کی عبادت کروں۔یعنی مجھے ایک سال کی عبادت سے زیادہ محبوب یہ بات ہے کہ میں اپنے مسلمان بھائی کی کوئی ضرورت پوری کروں۔عام طور پر بیان کیا جاتا ہے  کہ دین کی دو بڑی شاخیں ہیں: ایک ذوقِ عبادت اور دوسرا حسنِ معاشرت ہے، اور دونوں کا اپنا اپنا منفرد مقام ہے، اس لیے ایک چیز کی جگہ دوسری چیز کو نہیں دینا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ انسان عبادات میں اتنا غرق ہو جائے کہ لوگوں کے معاملات سے ہی  غافل ہو جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک مشہور روایت ہے کہ وہ اعتکاف میں بیٹھے تھے، اس دوران ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے فلاں حاجت درپیش ہے، چناں چہ وہ اس شخص کی حاجت پوری کرنے کے لیے نکل پڑے، کسی نے کہا کہ آپ تو اعتکاف میں ہیں، تو فرمایا کہ میں کسی مسلمان بھائی کے ساتھ چل کر اس کی کوئی ضرورت پوری کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں اتنے سال اللہ کے نبیﷺ کی مسجد میں اعتکاف کروں۔لہذا دونوں چیزوں کو ساتھ ساتھ رکھنا چاہیے۔

 ایک صاحب نے حسن بصری ؒ  سے درخواست کی: إنّی أريد سفرًا فزوّدني۔ ’’میرا سفر کا ارادہ ہے  آپ مجھے زادِراہ   فراہم کیجیے۔ یہ رسول اللہﷺ کی سنت ہے، صحابہ کرام ؓ کا معاملہ بھی یہ  تھا کہ جب وہ سفر کا ارادہ کرتے یا سفر کے لیے جاتے تو رسول اللہﷺ کی خدمت میں آتے تھے کہ آپ کوئی نصیحت فرمائیے۔  یہاں زادِراہ   سے مراد کوئی کھانے پینے کی اشیا  یا روپیہ پیسا نہیں، بلکہ سورۂ بقرہ آیت197 ﴿ فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ﴾ ’’کیونکہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے‘‘پر عمل کرتے ہوئے کوئی صاحب ان سے عرض کر رہے ہیں کہ میں سفر پر جا رہا ہوں کوئی نصیحت کر دیجیے، تاکہ میں اسے زادِراہ   کے طور پر اپنے پلے سے باندھ لوں۔ تو فرمایا: ابن أخي! أعزّ أمر الله حیث ما كنت یعزّك الله عزّ و جلّ۔ ’’اے میرے بھائی! جہاں کہیں تم ہو، اللہ کے امر کو، اللہ کے حکم کو عزیز رکھو، غالب رکھو تو اللہ تعالیٰ تمھیں  عزت و مرتبہ دے گا‘‘۔اگر دنیا میں مرتبہ اور عزت چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کے معاملے کو اہمیت دو۔ اقبال کا شعر ہے:

مقامِ خویش اگر خواہی دریں دیر

بحق دل بند و راہِ مصطفیٰ رو

اگر اس بت کدے (یعنی اس دنیا) میں اگر تم کوئی مقام حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنا دل اللہ تعالیٰ سے لگالو، اور رسول اللہﷺ کے رستے پہ چل پڑو۔یہی طریقہ ہے عزت، مرتبے اور مقام کا۔

·       إنّ الإیمان لیس بالتحلّی ولا بالتمنّی، وإنّما الإیمان ما وقّر فی القلب وصدّقه العمل۔ ’’ایمان کسی تزیّن اور دکھاوے کا  نام نہیں ہے اور نہ ہی یہ تمنّاؤں کا نام ہے، اصل ایمان تو وہ ہے جو دل میں قرار پکڑ لے اور عمل اس کی تصدیق کر ے‘‘۔ تحلّی تزیّن کو کہتے ہیں، کسی چیز کے ذریعے خود كو مزیّن کرنا، اسی سے حِلیۃ  بنا ہے، جس کو زیور کہتے ہیں۔ حسن بصری ؒ کے فرمان کے مطابق ایمان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے علم منطق میں علم کی تعریف  کی جاتی ہے کہ علم تصور اور تصدیق کے مجموعے کا نام ہے، لہٰذا ایمان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دل میں گہری اتر جائے اور پھر  انسان کا  عمل بھی اس کی تصدیق کرنے والا ہو۔ اگر  محض دل میں راسخ ہے لیکن عمل میں نہیں تو  یہ بات بھی ٹھیک نہیں، یا عمل میں ہو لیکن دل میں راسخ نہ ہو تو منافقین کے ساتھ مشابہت ہے کہ بظاہر تو دین پر عمل کر رہے ہیں لیکن دل میں ایمان نہیں۔

·       الرجاء والخوف مطیّتا المؤمن۔ ’’خوف اور رجاء مؤمن کی دو سواریاں ہیں‘‘۔ اگر آپ قرآن و حدیث اور اسی طرح ہمارے اکابرین کے اقوال پڑھیں تو جتنی بھی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں مثلاً سلوک، مذہب، شریعت اور  طریقت، سب میں بنیادی تصوّر سفر کا ہے۔ اقبال کا بھی ایک شعر ہے:

  ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا

حیات، ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں 

یہ زندگی ذوقِ سفر ہے، اللہ کی طرف سفر کرنا نصب العین ہے، سالک کا لفظ بھی اسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ہم نے ایک سلوک یعنی سفر طے کرکے اللہ تک پہنچنا ہے، انسان کی منزل اللہ تعالیٰ ہے، اور اس منزل میں تمہاری سواری دو چیزیں ہیں: خوف اور رجاء۔ جس کو امام غزالی ؒ نے ’جناحا طير‘ کہا ہے، یعنی یہ دونوں چیزیں پرندے کے دو پروں کی مانند لازم ہیں۔ اگر بندۂ مؤمن کے سفر کی مثال اڑان سے دی جائے تو ان دونوں چیزوں کو پرندے کے دو پروں سے تشبیہ دی جاتی ہے، اور اگر زمینی سفر سے مثال دی جائے تو انھیں  سواری سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ الغرض خوفِ خدا اور امیدِنجات، ان دونوں کے درمیان رہنا لازمی ہے۔

خوف اور رجاء  سے متعلق ایک قول سیدنا عمر ؓ کی طرف منسوب ہے: ’’اگر آسمان سے یہ ندا لگائی جائے کہ تمام لوگ جنت میں چلے جائیں گے سوائے ایک شخص کے، تو مجھے یہ اندیشہ ہو گا کہ کہیں وہ ایک شخص میں ہی نہ ہوں، اور اگر یہ ندا ہو کہ تمام لوگ جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، تو میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میں ہی وہ ایک آدمی ہوں‘‘۔ اس قول میں خوف اور رجاء کے توسط کی انتہائی اعلیٰ مثال ہے۔

·       أفضل العلم الورع والتوكّل۔ ’’سب سے افضل علم ورع اور توکل ہے‘‘۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ علم جب تک زبان کی نوک پر رہے  علم نہیں ہوتا، اصل علم وہی ہے جو دل میں اتر جائے۔ مشکوٰۃ، کتاب العلم میں بھی ایک روایت ان ہی کی طرف منسوب ہے کہ انھوں  نے فرمایا: الْعِلْمُ عِلْمَانِ فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعلم النافع وَعلم على اللِّسَان فَذَاك حُجَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ابْنِ آدَمَ۔’’علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک علم وہ ہوتا ہے جو دل میں اترا ہوا ہوتا ہے اور ایک علم وہ ہوتا ہے جو محض نوكِ زبان پر ہوتا ہے، وہ علم جو دل میں اترا ہوا ہے   علمِ نافع ہے (وہ رویّوں میں بھی ظاہر ہوتا ہے)، اور جو علم زبان پر  ہی ہوتا ہے وہ آدم ؑ کے بیٹے (انسان)  کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حجت ہے‘‘۔(مشكاة المصابيح، كتاب العلم، الفصل الثالث) اس لیے فرمایا کہ سب سے افضل علم ورع اور توکل ہے۔ ورع کا لفظ بہت زیادہ احتیاط کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ورع اور تقویٰ کا لفظ ملتا جلتا ہے۔ فرق بس یہی ہے کہ ورع کا تعلق عمل میں احتیاط سے ہے اور  زہد یا تقویٰ کا تعلق باطن سے ہے، اکثر کہا جاتا ہے کہ فلاں بہت صاحبِ ورع ہیں، مطلب یہ ہوتا ہے کہ شبہات سے بچتے ہیں، اور ان کی یہ احتیاط عمل میں نظر آتی ہے، جب کہ تقویٰ باطنی چیز ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے دل کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: التقویٰ ههنا۔ ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم ظلم المسلم) اس لیے جو صاحب ِورع ہوتا ہے تو اس کا ورع؛ رویے اور معاشرت میں نظر آتا ہے۔ اسی طرح توکل یعنی اللہ پر اعتماد کو بھی افضل علم قرار دیا گیا ہے، متعدد مقامات پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر  یقین اور توکل کو ایک جوڑے کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ ریاض الصالحین کے ابتدائی ابواب میں سے ایک باب کا نام ’’باب الیقین والتوکل‘‘ ہے۔ لہٰذا توکل یقین ہی کی قسم ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کے پاس حقیقی علم ہے تو اس سے توکل بھی لازماً پیدا ہونا چاہیے۔

·       إنّ القلوب تموت وتحیا، فإذا هي ماتت فاحملوه على الفرائض، فإذا هي أحییت فأدّبوه بالتطوّع۔ ’’دل کبھی زندہ ہوتے ہیں اور کبھی مر جاتے ہیں۔ جب تمھیں  لگے کہ دل مرنے لگا ہے یا مر رہا ہے تو اس کو فرائض کی بجا آوری پر آمادہ کرو، اور جب دیکھو کہ دل زندہ ہو چکا ہے اور اللہ سے ایک تعلق قائم ہو گیا ہے تو پھر نوافل کے ذریعے اس کی تادیب کرو‘‘۔ یعنی نوافل کی ادائی کرکے اسے ادب سکھاؤ۔ایک مرتبہ ان کی مجلس میں کسی نے ایک شخص کے لیے فقیہ کا لفظ استعمال کیا تو اس سے پوچھا کہهل رأیت فقيهًا قطّ، إنّما الفقيه الزاهد في الدنیا۔ ’’تم نے کبھی کوئی فقیہ دیکھا بھی ہے ؟ فقیہ تو وہ ہوتا ہے جو دنیا میں زہد اختیار کرتا ہے ‘‘۔ کیا جس نے شریعت میں حلال و حرام کا علم حاصل کرلیا وہ فقیہ ہے؟ فرمایا کہ لگتا ایسا ہے کہ تم نے کبھی کوئی فقیہ دیکھا نہیں ہے۔اصل فقیہ تو وہ ہوتا ہے جو دنیا میں زہد  و قناعت اختیار کرتا ہے۔ فقیہ کے بارے میں حسن بصری ؒ ہی کا ایک قول ہے: الراغب في الآخرة، البصیر بذنبه۔ ’’فقیہ وہ ہوتا ہے جو آخرت کے معاملے میں رغبت کرنے والا اور اپنے گناہوں کی بصیرت رکھنے والا ہو‘‘۔ اور کچھ روایتوں میں ہے کہ حسن بصری ؒ  نے یوں فرمایا: البصیر بدینه، المداوم على أمر ربّه۔ ’’اپنے دینی معاملات یا دین کے بارے میں بصیرت رکھنے والا اور اپنے رب کی بندگی میں مداومت اختیار کرنے والا شخص فقیہ ہوتا ہے‘‘۔

اب بدقسمتی سے  علم کا تعلق حافظے سے جوڑا جاتا ہے، اس لیے بڑا عالم وہی شمار ہوتا ہے جس کو زیادہ مسائل سے واقفیت ہو۔ ہمارے اکابرین نے بار بار اس تصور کی نفی کی ہے کہ اصل فقاہت یہ نہیں، بلکہ اصل فقاہت تو یہ ہے کہ انسان کو دنیا کی سمجھ آ جائے یا دنیا کی حقیقت اس پر کھل جائے۔ قرآن کریم میں ہے:﴿ فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ﴾’’ غرض جس شخص کو اللہ ہدایت تک پہنچانے کا ارادہ کرلے ، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے‘‘۔(الأنعام: 125) اس کے ضمن میں اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: ’’جب ایمان کا نور کسی کے سینے میں داخل ہو جاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے، اور فراخ ہو جاتا ہے‘‘۔ تو صحابہ ؓ نے پوچھا: ’’ کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے ؟‘‘ یعنی یہ کیسے معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیا ہے؟ تو آپﷺ نےفرمایا: الْإِنَابَةُ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ وَالتَّجَافِي عَنْ دَارِ الْغُرُورِ وَالِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ الْمَوْتِ۔’’دارِ غرور  (دھوکے کا گھر یعنی دنیا) سے انسان کا جی اٹھ جائے اور آخرت یعنی جنت کی طرف رغبت ہو جائے جو دار الخلود (ہمیشگی کا گھر) ہے، اور انسان موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری میں لگ جائے‘‘۔(مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الزهد، ماذكر عن نبينا ﷺ في الزهد) تو اصل فقاہت اور سمجھ بوجھ یہ ہے۔ اللہ کے نبیﷺ کاارشادہے:اَلكَیِّسُ من دان نفسه، وعمل لما بعد الموت۔ ’’اصل میں ہوش مند اور دانا وہ شخص ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے عمل کرے‘‘۔(سنن الترمذي، أبواب صفة القيامة والرقائق والورع)

نبی اکرمﷺ کا معمول تھا کہ جب بھی کو ئی صاحب اسلام قبول کرتے تو آپﷺ انھیں قرآن سکھانے کے لیے  کسی دوسرے صحابی کے حوالے کر دیتے ۔ چناں چہ ایک صاحب آکر مسلمان ہوئے تو انھیں بھی قرآن کی تعلیم کے لیےایک صحابی کے ساتھ بھیج دیا، لیکن چند دنوں بعد ہی وہ صحابی حاضرِخدمت  ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے جنھیں پڑھانے کی ذمے داری مجھے سونپی تھی، میں نے انھیں تھوڑا ہی پڑھایا تھا کہ وہ چھوڑ کر چلے گئے، اور معاملہ یہ ہوا کہ جب ہم اس آیت تک پہنچے: ﴿ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ()وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’چناں چہ جس نے ذرہ برابر کوئی اچھائی کی ہوگی ، وہ اسے دیکھے گا ، اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی ، وہ اسے دیکھے گا‘‘۔ (الزلزال: 7، 8)تو انھوں نے کہا کہ بس میرے لیے یہ کافی ہے، اب میں جاتا ہوں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے اس بات کو سن کر فرمایا: دَعُوهُ فَإِنَّهُ قَدْ فَقِهَ۔’’اس کو چھوڑ دو وہ تو فقیہ ہو گیا‘‘۔ (الجامع لاحكام القرآن/ تفسير القرطبي، سورة الزلزال)

اس سے بڑی فقاہت کیا ہے کہ انسان یہ بات سمجھ لے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، مجھے مرنا ہے اور مرنے کے بعد میری پیشی ہوگی اور محاسبہ ہو گا۔ اصل فقاہت یہ ہے، باقی تو بس تکنیکی علم ہے کسی کو زیادہ آتا ہے تو کسی کو کم آتا ہے۔دعا ہے کہ جو باتیں ہم نے پڑھی ہیں اللہ تعالیٰ  ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

*****