Apr
09
2020
﷽
مؤلف: جمیل الارحمٰن عباسی صاحب ناظم تصنیف و تالیف
رمـضـان کا آخری عـشرہ کیـسـے گزاریں؟
نبی اکرمﷺ نےرمضان المبارک کی بہت ساری فضیلتیں بیان کیں اور دوسری طرف آپ نے ان لوگوں کے خلاف بد دعا فرمائی کہ جو رمضان میں اپنی مغفرت کا سامان نہ کر سکے۔ ان ترغیبات وترہیبات کے زیر اثرمسلمان ابتداے رمضان میں کچھ متحرک ہوتے ہیں اور رمضان کے ابتدائی دن اچھے گزرتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ اس ذوق و شوق میں کمی آتی ہےاورانتہاے رمضان کو بعض دفع قیمتی بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ بھی درست ہے کہ انسان کو کچھ تھکاوٹ لاحق ہو جاتی ہے اور کچھ عید کی تیاری کی مصروفیات بھی انسان کو الجھادیتی ہیں چنانچہ ضرورت ہے کہ خود اپنی اور دوسروں کی تذکیر کے لیے،کچھ امور سنت رسول ﷺ میں سے ذکر کیے جائیں۔ اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پیارے رسول ﷺ آخری عشرہ داخل ہوتے ہی اپنی عبادات کو بڑھا دیتے تھے۔سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِﷺ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لاَ يَجْتَهِدُ فِيْ غَيْرِهِ )صحيح مسلم)
’’رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اتنی(زیادہ) محنت و ریاضت کرتے تھے کہ جتنی اس کے علاوہ دوسرے دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے‘‘۔ ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ آخری عشرے کی راتوں میں بالکل نہیں سوتے تھے، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِﷺ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ(صحيح مسلم)
’’جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺاس کی راتوں کو زندہ رکھتے، اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے، خوب محنت کرتے اوراپنا ازار مضبوطی سے باندھ لیتے‘‘۔امام نَوَوِی ؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’راتوں کو زندہ رکھنے سے مراد پوری رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہنا ہے اور نیند کیے بغیر پوری رات کے قیام کی جو کراہت ہمارے اصحاب(فقہا ) سے منقول ہے وہ اس طرز کو معمول بنانے کی صورت میں ہے، ایک ، دو یا دس راتوں کا مکمل قیام اس ذیل میں نہیں آتا۔ اسی لیے ہمارے فقہانے عید کی راتوں کے مکمل قیام و عبادات کو مستحب قرار دیا ہے۔ نبی اکرمﷺ آخری عشرے اپنی عادت مبارکہ سے زیادہ عبادت کرتے تھے اور اہل خانہ کو بھی عبادت کے لیے جگاتے تھے۔پس آپ کے اس طرز عمل سے آخری عشرے میں عادت سے زیادہ عبادت کا مستحب ہونا معلوم ہوتا ہے۔ازار مضبوطی سے باندھنے کے بارے میں علماء کی دو آرا ہیں پہلی یہ ہے اس سے مراد عبادت کے لیے کمر ہمت کس لینا ہے اور دوسری یہ ہے کہ یہ کنایہ ہے بیویوں سے الگ رہنے کا یعنی آپﷺ آخری عشرے میں ازواج مطہرات سے الگ رہا کرتے تھے‘‘ (المنہاج شرح مسلم) ۔ نبی اکرمﷺ آخری عشرےمیں عبادت کا اتنا شدت سے اہتمام فرماتے کہ سب گھر والوں کو رات جگایا کرتے تھے، زینب بنت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں :
كَانَ رَسُولُ اللَّهِﷺ إِذَا بَقِيَ مِنَ الشَّهْرِ عَشَرَةُ أَيَّامٍ لَمْ يَذَرْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ يُطِيقُ الْقِيَامَ إِلَّا أَقَامَهُ
’’جب رمضان کے دس دن رہ جاتے تب نبی اکرمﷺ اپنے اہل خانہ میں سے عبادت کر سکنے والے کسی کو بھی سوتا نہ چھوڑتے بلکہ عبادت کے لیے اٹھا دیتے تھے(مختصر قيام الليل وقيام رمضان لمحمد بن نصر المَرْوَزِي)۔ سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَكُلَّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ يُطِيقُ الصَّلَاةَ (مسند أَبِي يَعْلَى وقال الھیثمي إِسْنَادُہ حَسَنٌ)
’’رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے کی راتوںمیں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کے قابل چھوٹے بڑے تمام لوگوں کا جگا یا کرتے تھے‘‘۔
اعتکاف
آخری عشرے کی فضیلت حاصل کرنے کا ایک آسان طریقہ اعتکاف بھی ہے۔اعتکاف کی مشروعیت کے بعد ، باوجود یہ کہ نبی کریمﷺ کو جنگ و جدال کا اکثر سامنا رہا آپ ﷺ ہر سال رمضان میں اعتکاف فرماتے رہےیہاں تک کہ رفیق اعلی سے جا ملے،سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ :
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَعْتَكِفُ فِى كُلِّ رَمَضَانَ (صحيح البخاري)
’’رسول اللہ ﷺ ہر رمضان میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے‘‘۔ایک دوسری روایت میں سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں:
أَنَّ النَّبِىَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ (صحيح البخاري)
’’نبی کریم ﷺرمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اٹھا لیا‘‘۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ ذَلِكَ حَتَّى تَوَفَّاهُ الْمَوْتُ(مسند أحمد)
’’بے شک نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور آپ ﷺ اپنی وفات تک لگاتار ( یعنی ہر رمضان میں) اعتکاف فرماتے رہے‘‘۔ امام ترمذی اپنی سنن میں سیدہ عائشہ ؓ اور ابو ہریرہ ؓ سے مندرجہ بالا روایات نقل کرنے کےبعد فرماتے ہیں کہ اس بارے میں ابی ابن کعب ؓ، ابولیلی ؓ، ابو سعید الخدری ؓ، انس بن مالک ؓ اور عبد اللہ ابن عمر ؓ سے بھی روایات مذکور ہیں۔ بسا اوقات جہاد یا کسی دوسرے شرعی سفر کی وجہ سے اگر آپ ﷺ اعتکاف نہ کر سکے تو آپ نے دوسرے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا: ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں کہ :
کان يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَسَافَرَ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا(ابن ماجه)
’’نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، ایک سال سفر کی وجہ سے آپ ﷺاعتکاف نہ فرما سکے تو اگلے سال آپﷺ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا‘‘۔ اسی طرح ایک دفع کسی وجہ سے آپﷺ کو اعتکاف ختم کرنا پڑ گیا تو آپ نے شوال کے دس اور بعض روایات کے مطابق آخری دس دنوں کا اعتکاف فرمایا:
فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِى رَمَضَانَ حَتَّى اعْتَكَفَ فِى آخِرِ الْعَشْرِ مِنْ شَوَّالٍ (صحيح البخاري)
’’پس آپ نے رمضان میں اعتکاف (مکمل) نہیں کیا تو پھر شوال کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا‘‘۔ حیات دنیوی کے آخری سال آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں:
يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَان عَشَرَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ العَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا(صحیح بخاری)
’’نبی اکرمﷺ ہر رمضان میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کو دنیا سے اٹھایا گیا اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا‘‘۔ نبی اکرمﷺ کے دور میں صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی تفصیلی روایت آگے نقل کی جا رہی ہے لیکن مسند الطیالسی میں مختصرا ً، ابو سعید خدری ؓ سے منقول ہے:
اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ (مسند الطیالسي)
’’ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کیا‘‘۔
اعتکاف کا اجر و ثواب
نبی اکرم ﷺ نے اعتکاف کا خصوصی اجر بیان کرتے ہوئے فرمایا:
مَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ كُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ (المعجم الأوسط و قال الھیثمي إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ)
’’جس نے اللہ کی رضا کے لیے ایک دن بھی اعتکاف کیا تو اللہ تعالی اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ فرما دے گا اور ہر خندق اتنی چوڑی ہو گی جتنا دونوں افقوں کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے‘‘۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے معتکف کے بارے میں فرمایا:
هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ، وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا(ابن ماجه)
’’(اعتکاف میں رہنے کی وجہ سے ) معتکف گناہوں سے بچا رہتا ہے اور(خارجی) نیکیوں میں سے اسے نیکیاں کرنے والے کے برابر اجر دیا جاتا ہے‘‘،امام ابن قیم ؒ زاد المعاد میں اعتکاف کی حکمت بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں: ’’اصلاح قلب اور سیر الی اللہ کی راہ پر استقامت اللہ تعالیٰ کی طرف دل جمعی عطا کیے جانے پر موقوف ہے۔اگر دل کی دنیا پراگندہ ہو تو اللہ سے لو لگانا ، ناممکن ہے۔چونکہ کھانے پینے،لوگوں سے میل ملاپ،سونے اور بات چیت میں زیادتی سے دل کی پراگندگی میں اضافہ ہی ہوتاہےاور انسان تقرب الی اللہ کی منزل سے بھٹک کر اِدھر اُدھر کی وادیوں سرگرداں رہتا ہے یا پھر کم از کم اس راہ میں سست روی، پسپائی اور کم ہمتی تو پیدا ہو ہی جاتی ہے اس لیے عزیز ورحیم کی رحمت کاتقاضا ہوا کہ بندوں پر روزہ مشروع فرمائے جس سے کھانے پینے کی زیادتی جاتی رہے اور دل اختلاطِ شہوات سے فارغ ہوکر اللہ تعالیٰ کے حکم پر چل پڑے۔اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کو بھی مشروع قرار دیاہے جس کامقصد اورجس کی روح اللہ تعالیٰ پر دل کا ٹھہرجانا،اس کے احکام پر دلجمعی،اس کے لیے خلوت نشینی اورمخلوق کے ساتھ مشغولیت سے کٹ کر صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ مصروف ہوجانا ہے۔یہاں تک کہ اس کاذکر،اس کی محبت اور اس کا اقبال بندے کے دل میں اس کے فکروغم کی جگہ لے لے۔اس کے تمام فکر اور تمام خطرات اللہ کے ذکرسے وابستہ ہوجائیں،اس کی تمام فکریں اللہ کی رضا جوئی اور اس کے تقرب کے حصول کے لیے ہوں،اس کی نسبت مخلوق کی بجائے صرف اللہ کے ساتھ ہوجائے اور یہ انسیت اس کو قبر کی وحشت کے دن کام آئے،اس وقت جبکہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کاکوئی مونس نہ ہو اور اس کے سوا کسی سے اس کی فرحت وخوشی نہ ملتی ہو۔یہ ہے اعتکاف کاعظیم مقصودہے‘‘۔
لیلۃ القدر کا حصول
اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو جن خاص عنایتوں سے نواز ہے ان میں ایک لیلۃ القدر کی عبادات کی مشروعیت بھی ہے۔ امام مالک ؒ مُؤطَّا میں بعض قابل اعتماد اہل علم سےبیان کرتے ہیں :
أُرِيَ أَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَهُ، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، فَكَأَنَّهُ تَقَاصَرَ أَعْمَارَ أُمَّتِهِ أَنْ لاَ يَبْلُغُوا مِنَ الْعَمَلِ، مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ غَيْرُهُمْ فِي طُولِ الْعُمْرِ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ(موطا إمام مالک)
’’رسول اللہ ﷺ کو سابقہ لوگوں کی عمریں دکھائی گئیں تو نبی اکرمﷺ نے اپنی امت کی مختصر عمروں کا دھیان کیا ،چنانچہ خیال آیا کہ آپ کی امت اپنی عمر کی قلت اور دوسروں کے طول کے سبب نیکیوں میں پیچھے رہ جائے گی اس پر آپ کو لیلۃ القدر عطا کی گئی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔ اعتکاف کا خاص عمل شبِ قدر کو پانا بھی ہے۔اسی لیے نبی اکرمﷺ نے ایک بار تلاش لیلۃ القدر میں پورے مہینے کا اعتکاف فرمایا اور طائفہ صحابہ ؓ نے بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کیا۔سیدنا ابو سعید الخدری ؓ بیان کرتے ہیں :
اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَشْرَ الأُوَلِ مِنْ رَمَضَانَ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِى تَطْلُبُ أَمَامَكَ۔ فَاعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ، فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، (فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ نَقَلْنَا مَتَاعَنَا) فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِى تَطْلُبُ أَمَامَكَ فَقَامَ النَّبِىُّ ﷺ خَطِيبًا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ النَّبِىِّ ﷺ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّى أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، وَإِنِّى نُسِّيتُهَا وقال فَرَجَعَ النَّاسُ إِلَى الْمَسْجِدِ(صحيح البخاري)
’’رسول اللہﷺ نے رمضان کے پہلے عشرے کا اعتکاف فرمایا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کیا پھر جبریل آئے اور آپ کو خبر دی کہ جس رات کو آپ ڈھونڈ رہے ہیں وہ تو آگے ہے، پھر آپ نے درمیانی عشرے میں بھی اعتکاف کو جاری رکھا، تو ہم بھی آپ کے ساتھ اعتکاف میں رہے ۔ (پس جب بیسویں روزے کی صبح ہو گئی تو ہم نے اپنے سامان مسجد سے منتقل کرنے شروع کر دیے )کہ جبریل آپ ﷺ کے پاس آئے اور خبر دی کہ آپ جس رات کے متلاشی ہیں وہ آگے ہے ۔پس آپ ﷺ نے بیسویں روزے کی صبح خطاب کیا اور فرمایا جس نے اللہ کے نبی (ﷺ) کے ساتھ اعتکاف کیا تھا وہ واپس آجائے مجھے یہ رات دکھائی گئی تھی لیکن پھر اللہ کی طرف سے بھلا دی گئی، پس لوگ (آخری عشرے کے اعتکاف کے لیے) مسجد لوٹ آئے ۔
نبی اکرمﷺ آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی تلاش کا حکم دیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُجَاوِرُ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَقُولُ: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ القَدْرِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ (بخاري)
’’رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کیا کرو‘‘۔ ایک روایت میں فرمایا:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْبَوَاقِي مَنْ قَامَهُنَّ ابْتِغَاءَ حِسْبَتِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَا تَأَخَّرَ (مسند أحمد)
’’لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان راتوں کا قیام کرے گا ثواب اور نجات کی خالص نیت کے ساتھ تو اللہ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا‘‘۔ غور کیجیے نبی اکرمﷺ نے لیلۃ القدر کی عبادت کا حکم نہیں دیا بلکہ آپ نے لیلۃ القدر کی تلاش میں آخری عشرے کی راتوں کی عبادت کا حکم دیا ہے اور لیلۃ القدر کی رات کی عبادت کا حکم کیسے دیا جا سکتا تھا جبکہ وہ رات کسی کو، معین طور سے معلوم ہی نہیں تھی لہذانبی اکرم ﷺ نے یہاں آخری دس راتوں میں تلاشِ شبِ قدر کا حکم دیا ہے اورآخری دس راتوں میں طاق اور جفت دونوں راتیں شامل ہیں۔گویا منشاے قول نبیﷺ یہ ہے کہ جفت طاق کی بحث سے قطع نظر پورے عشرے کی عبادت کی جائے ۔اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری دس راتوں میں عبادت کا حکم دیا ، آپ خود بھی ان دس راتوں میں عبادت کا زیادہ اہتمام کرتے تھے، اہل خانہ کو بھی جگایا کرتے تھے ۔صحابہ کرام اور اسلافِ امت کا معمول بھی یہی تھا کہ آخری عشرے میں بطور خاص اللہ کی عبادت میں مجاہدہ کرتےتھے۔
بعض روایات میں آخری عشرے کی طاق راتوں کا ذکر بھی فرمایا گیا:
تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِى الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ(بخاري)
’’لیلۃ القدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔ بعض روایات میں آخری عشرے کی مختلف راتوں کا نام لے کر ان میں لیلۃ القدر کی تلاش کا حکم دیا گیا لیکن وہ بر سبیل تنزل یا کمزور حضرات کے لحاظ پرمبنی ہے اور منشاے نبویﷺ بہرحال یہی معلوم ہوتاہے کہ مخصوص راتوں کے بجائے پورے عشرے کی عبادت بجا لائی جائے ۔ یہ نکتہ امام ملا علی القاری ؒ نے شرح مشکاۃ میں بیان کیا ہے : ’’پھر یہ بھی جان لو کہ نبی اکرمﷺ نے ایک طرف تو یہ بتایا کہ لیلۃ القدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو اور دوسری طرف آپ نے آخری دس راتوں کے قیام کی ترغیب بھی دلائی تو دس راتوں کی عبادت کی تاکید ان لوگوں کے لیے ہے جن میں عبادت کی قوت موجود ہے اور سات راتوں کا ذکر ان کے لیے کیاجو دس دنوں کی عبادت کی طاقت نہیں رکھتے ‘‘۔ یہ لکھنے کے بعد علامہ ؒ نے درج ذیل حدیث پیش فرمائی ہے۔حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :
الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ فَلاَ يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي )مسلم)
’’لیلۃالقدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اگر تم میں سے کوئی اس سے بھی کمزور ہو یا عاجز ہو تو وہ آخری سات راتوں میں توسستی نہ کرے‘‘۔ لیلۃ القدر کے تلاش کرنے کا مطلب ان راتوں کو قیام ، تلاوت ،ذکر و اذکار اور دعا ومناجات اور درس وتدریس سے زندہ رکھنا ہے۔ مختلف روایات اور اندازوں کے باوجود یہ بات طے ہے کہ متعین طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے۔اللہ تعالی اسے پوشیدہ ہی رکھنا چاہتے تھے اسی لیے جب ابتدا میں نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو بتانا چاہا تو اللہ تعالی نے آپ کو وہ رات بھلا ہی دی :
إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ،وَإِنِّي نُسِّيتُهَا خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَة وَالْخَامِسَة (رَوَاهُ البُخَارِي)
’’بے شک مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی تھی اور بے شک پھر مجھے بھلا بھی دی گئی ،میں تو نکلا تھا کہ تمھیں لیلۃ القدر کے بارے میں بتا دوں کہ اتنے میں فلاں اور فلاں لڑ پڑے پس اس کا علم اٹھا لیا گیا، امید ہے کہ یہی تمھارے لیے بہتر ہو گا‘‘۔ ایک بار سیدنا ابو ذر ؓ نے لیلۃ القدر کے بارے میں متعدد سوالات کیے ان کے انداز سے لگتا ایسا ہے کہ شاید وہ اس کا تعین چاہتے تھے۔لیکن آخر کار رسول اللہﷺ فرما دیا :
لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا (مسند أحمد)
’’اس کے بعد مجھ سے کسی چیز کا نہ پوچھنا‘‘۔ مراد یہ تھا کہ اس رات کے بارے میں نہ پوچھنا۔ اس میں شک نہیں کہ بعض اہل علم نے ستائیسویں شب کو لیلۃ القدر قرار دیا ہے لیکن یہ ان اہل علم کے ہاں بھی حتمی نہیں ہے۔عوام الناس میں یہ خیال کچھ اس طرح سے پھیل گیا ہے کہ وہ ستائیسویں شب ہی کی عبادت کرتے ہیں نہ اس سے پہلے کی راتوں کی انھیں خبر ہوتی ہے اور نہ بعد والی راتوں کا ہوش! لیکن احادیث میں دیکھیں تو آخری عشرے کی تمام ہی طاق راتوں پر شب قدر ہونے کا گمان گزرتا ہے، ملاحظہ کیجیے:نبی اکرمﷺ نے ایک بار فرمایا:
فَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ مِنْ صَبِيحَتِهَا، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فَبَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَعَلَى جَبْهَتِهِ أَثَرُ المَاء والطين وَالْمَاء مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ(رَوَاهُ البُخَارِي)
’’پس مجھے لیلۃ القدر دکھا ئی گئی اور پھر بھلا بھی دی گئی اور میں نے (خواب میں ) دیکھا کہ میں لیلۃ القدر کی صبح کوپانی اور مٹی (یعنی ہلکے سے کیچڑ ) میں سجدہ کر رہا ہوں، راوی حدیث سیدنا ابو سعید الخدری ؓ فرماتے ہیں:پس رات کو بارش ہوئی اور مسجد کی چھت گھاس پھونس کی تھی اور بہہ نکلی تو میری آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی مبارک پر پانی اور مٹی کا نشان لگا ہے (یعنی آپ نے فجر کی نماز اسی گارے پر پڑھی) اور وہ رمضان کی اکیسویں رات کی صبح تھی‘‘۔ یہی واقعہ سیدنا عبد اللہ بن اُنیس ؓ نے بیان کیا ہے لیکن وہ رات تیئسویں بتاتے ہیں:
فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِﷺ فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ(رواہ مسلم)
’’پس آپ کے اس خواب کے مطابق ہم پر بارش برسائی گئی اور وہ تئیسویں رات تھی پس رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور جب آپ فارغ ہوئے تو پانی مٹی کے نشان آپ ﷺ کی پیشانی اور ناک مبارک پر نظر آ رہے تھے‘‘۔ملاحظہ کیجیے کہ لیلۃ القدر کے تعین کی ان دو روایتوں میں تاریخ کا اختلاف در آیا کہ ایک صحابی نبی اکرم ﷺ کے بارش سے گیلی مٹی پر نماز پڑھنے والے واقعے کو اکیس رمضان بتا رہا ہے اور ایک تئیس رمضان ، تو یہ اختلاف حکمت خداوندی کے سبب ہے کہ اس رات کو پوشیدہ رکھا جائے۔ سیدنا ابو بکرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ فرماتے سنا:
الْتَمِسُوهَا يَعْنَى لَيْلَة الْقدر فِي تسع بَقينَ أَو فِي سبع بَقينَ أَو فِي خمس بَقينَ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ(رواہ الترمذي)
’’لیلۃ القدر کو تلاش کرواکیسویں رات اور تئیسویں رات کواور پچیسویں رات کو اور ستائیسویں رات کو اور آخری رات کو ‘‘،اس روایت میں رمضان کی آخری رات کے لیلۃ القدر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ، یہ بات زیادہ مشہور نہیں ہے۔ ملا علی قاری ؒ شرح مشکاۃ میں اس بابت لکھتے ہیں:’’ امام طیبی ؒ نے لکھا ہے کہ آخری رات میں رمضان کی انتیسویں کا بھی احتمال ہے اور خاتمہ رمضان کی رات کا بھی یعنی تیسویں کا، لیکن ہم پہلی بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ آخری رات سے مراد بھی انتیسویں ہی ہے کیونکہ وہ طاق رات ہے اور لیلۃ القدر کے طاق ہونے کے بارے میں دوسری روایات بھی ہیں اور انتیسویں شب کے لیے آخری کا لفظ ، اس لیے لایا گیا کہ کبھی ماہ رمضان انتیس دن کا ہوتا ہے تو انتیسویں ہی آخری بھی ہوتی ہے‘‘۔ ان دو روایات میں آخری عشرے کی تمام راتوں ، شب قدر کے حوالے سے ذکر کر دیا گیا لہذا کسی ایک رات کو متعین طور پر لیلۃ القدر سمجھ کر خاص اسی کی عبادت کرنا مناسب امر نہیں ہے۔صحابہ کرام ؓ اور بعض علماء ؒ نے کچھ راتوں کے بارے میں تصریح کی ہے کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے تو یہ ان کے اندازے تھے جو انھوں نے روایات کی ترجیح و تطبیق کےنتیجے میں قائم کیے تھے لیکن ان کا اپنا طرز عمل یقینا یہ نہیں رہا ہو گا کہ وہ کسی ایک رات کی مخصوص عبادت کرتے ہوں بلکہ عملی طور پر تو وہ پورے عشرے کی عبادت کرتے ہوں گے البتہ علمی طور پر کسی ایک رائے کو ترجیح دینا ایک دوسری بات ہے۔
اس اِخفاء کی حکمت کے بارے میں حضرت مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں:’’علماء کے قول کے مطابق لیلۃ القدر کو مخفی رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ عبادت میں خوب محنت کر سکیں اور اگر اس کا تعین کر دیاجاتا تو لوگ صرف اسی کی عبادت پر اکتفا کرتے‘‘(مرقاۃ)۔ امام ابن جوزی ؒ زادالمسیر میں فرماتے ہیں: ’’اس رات کے اخفا میں حکمت یہ ہے کہ بندے لیلۃ القدر کے شوق میں رمضان کی تمام ہی راتوں کی عبادت کریں‘‘، یہی وجہ ہے کہ عبد اللہ ابن مسعود ؓ لیلۃ القدر کےبارے میں پوچھے جانے پر فرماتے تھے کہ جوپورا سال قیام کرے گا وہ اسے پائے گا‘‘۔ آپ ؓ کے اس فرمان کے بارے میں اُبی ابن کعب ؓ سے سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا:’’اللہ ابو عبدالرحمن ابن مسعود ؓ پر رحم کرے ، خدا کی قسم وہ جانتے تھے کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے لیکن وہ یہ جواب اس لیے دیا کرتے تھے کہ لوگ عبادت میں کوتاہی نہ کریں‘‘(مسند احمد)۔ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ بندوں کو عبادت میں راسخ کیا جائے جو ان کی وجہ تخلیق بھی ہے۔چنانچہ قرآن وحدیث میں عام دنوں کے قیام اور نفل نماز ادا کرنے کی ترغیب بے شمار نصوص میں دی گئی ہے۔:
﴿وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا﴾ (الفرقان:64) اور جو راتیں اس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے آگے(کبھی) سجدے میں ہوتے ہیں اور(کبھی) قیام میں۔
﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ المَضَاجِعِ﴾(السجدة: 16) اُن کے پہلو(رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا ہوتے ہیں ۔
﴿ كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾(الذاريات: 17) وہ رات کے وقت کم سوتے تھے ۔
اور نبی اکرم ﷺنے بے شمار مقامات پر قیام باللیل کی ترغیب دی مثلا ترمذی شریف کی روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:’’رات کے وقت نماز پڑھو جبکہ لوگ سو رہے ہوں‘‘۔یہ ایک عمومی ترغیب ہے جو بتاتی ہے کہ بندے ہر شب قیام کیا کریں لیکن اب جن کے لیے یہ مشکل ہے ان کے لیے گویا رعایت کرتے ہوئے رمضان کے مہینے میں خصوصی طور پر قیام کی تاکید و ترغیب دلائی گئی، چنانچہ بخاری شریف میں روایت نقل ہوئی، حضور اکرمﷺ نے فرمایا:’’جس نے ، ایمان اوراجر وثواب کی خالص نیت کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کیا اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘‘۔ اس خصوصی فضیلت پر مزید اضافہ آخری عشرے کی عبادت کے ذکر و ترغیب سے کیا گیا جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہےاور جو کوئی اس سے بھی ہمت ہار گیا ہوتو اسے یہ ترغیب دی گئی کہ طاق راتوں ہی میں عبادت کر لے جیسا کہ روایت بیان ہو چکی ہیں۔
لیلۃ القدر کی عبادت
لیلۃ القدر کو اللہ تعالی نے ہزار راتوں کے برابر قرار دیا ہے:
﴿ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴾ (القدر:3)
’’شبِ قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے‘‘،حضرت مجاہد ؒ اور قتادہ ؓ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اس رات میں نیک عمل یا قیام کرنا ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے‘‘(زاد المسیر) ،گویا ایک رات کی عبادت کا ثواب ایک ہزار رات کی عبادت کے ثواب سے بڑھ کر ہے۔ اس رات کی فضیلت یہ بھی ہے کہ اس میں فرشتوں کا بکثرت نزول ہوتا ہے:
﴿تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ ﴾(القدر:4)
’’اُس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اُترتے ہیں‘‘۔نبی اکرمﷺ لیلۃ القدر کے ذکر میں بیان کرتے ہیں:
إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى(مسند أحمد)
’’ اس رات میں فرشتے اتنی تعداد میں زمیں پر اترتے ہیں کہ ان کی گنتی ممکن نہیں ہوتی‘‘۔ ان فرشتوں کے نزول کی وجہ سے رحمت کا نزول بھی ہوتا ہے،ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں:’’اس رات میں کثیر تعداد میں فرشتے، ڈھیر ساری برکتوں کے ساتھ زمیں پر اترتے ہیں کیونکہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ رحمت اور برکت نازل ہوتی ہے یہ بالکل اسی طرح ہوتا ہے جس طرح وہ تلاوت قرآن کے موقع پر اترتے ہیں ، ذکر کے حلقوں کا اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور طالب علمِ دین کے قدموں تلے اپنے پر بچھاتے ہیں‘‘۔نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے:
إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي كَبْكَبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُصَلُّونَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ (شعب الإیمان)
’’جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو جبریل ؑفرشتوں کے جھرمٹ میں اترتے ہیں اور پھر ہر آدمی کے لیے جو (نماز ) میں کھڑے یا (تلاوت و اذکار میں )بیٹھا اللہ کو یاد کر رہا ہو اس کے لیے دعائیں مانگتے ہیں‘‘۔ قرآن پاک میں اس رات کی ایک صفت یہ بھی بیان ہوئی ہے:
﴿سَلامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ﴾(القدر:5)
’’وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک‘‘۔ شعبی ؒ بیان کرتے ہیں:’’سلام سے مراد فرشتوں کا اہل مسجد وعبادت کو سلام کرنا ہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے‘‘(ابن کثیر)۔قرآن پاک کی مختلف آیات اور احادیث نبویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے اہل ایمان کے ولی ہیں اور ان کے لیے دعا گو رہتے ہیں۔پس ان کی دعائیں انسان کے روحانی ترفع کا اہم ذریعہ ہیں جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ ،لیلۃ القدر کے ضمن میں فرماتے ہیں : ’’مسلمان لیلۃ القدر میں عبادت کرنے پر متفق ہیں کیونکہ اس رات لیلۃ القدر میں ایک قسم کی روحانیت پھیلی ہوتی ہے فرشتے زمیں پر اترتے اور انسانوں کے نزدیک ہوتے ہیں اور ان کے انوار انسانوں پر منعکس ہوتے ہیں۔شیاطین انسانوں سے دور بھاگتے ہیں اور انسانوں کی عبادات اور دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا جاتا ہے‘‘(حجۃ الله البالغہ) ۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ نے لیلۃ القدر کی عبادت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (بخاري)
’’جس نے ، ایمان اوراجر وثواب کی خالص نیت کے ساتھ لیلۃ القدر کا قیام کیا اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘‘۔ لیلۃ القدر کی عبادت سے محروم رہنے والے کی رسول اللہ ﷺ نے مذمت فرمائی ۔انس بن مالک ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺنے رمضان کی آمد پر ارشاد فرمایا :
إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ، وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مَنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا كُلُّ مَحْرُومٍ(ابن ماجہ)
’’بے شک یہ مہینا تم پر سایہ فگن ہو چکا اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کی عبادت سے محروم رہا وہ تو کُل خیر سے محروم رہا اور اس عظیم رات کے خیر سے وہی محروم رہ سکتا ہے جو سرے سے محروم ہی ہے‘‘۔ ملا علی القاری ؒ مرقاۃ محرومی کی تشریح یوں فرماتے ہیں کہ: ’’سعادت اور خوش نصیبی سے اسے کوئی حصہ نہیں ملا اوریہ ذوق عبادت سے بھی محروم ہے‘‘۔پس یارانِ نکتہ داں کے لیے صلاے عام ہے کہ ہر ممکن کوشش اس رات کو پانے کی کرے اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پورے آخری عشرے کو زندہ رکھا جائے اور کمزور حضرات کو بھی طاق راتوں کا تو ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔
رمضان کی آخری رات کو زندہ رکھنا
عام طور پر لوگ ستائیسویں شب کی عبادت کر کے بعد والے دنوں کا خیال نہیں رکھتے حالانکہ انتیسویں شب کے لیلۃ القدر ہونے کا امکان تو خود احادیث میں موجود ہے ۔اس لیے اس رات کو بھی زندہ رکھنا چاہیے ۔ ر مضان کی آخری رات بھی مغفرت کی رات ہے: سیدنا ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی امت کے صالحین (روزہ اور قیام رمضان کا اہتمام کرنے والوں) کے بارے میں فرمایا کہ:’’آخری رات اُن کی مغفرت کر دی جاتی ہے،پوچھا گیا یا رسول اللہ ! کیا یہ آخری رات لیلۃ القدر ہے؟ فرمایا: نہیں، (مغفرت کا سبب شب قدر ہونا نہیں ہے ) بلکہ عمل کرنے والا جب اپنا کام پورا کر لیتا ہے تو اسے مزدوری دی ہی جاتی ہے‘‘(مسند احمد)۔رمضان کی آخری رات سے مراد آخری روزے سے پہلے گزرنے والی رات ہے ۔ اگر روزے انتیس ہوئے تو یہ انتیسویں رات ہو گی جس کے لیلۃ القدر ہونے کا احتمال بھی ہے اور اگر رمضان کے روزے تیس ہوئے تو یہ تیسویں رات ہو گی جو شب قدر ہو یا نہ ہو شب مغفرت و اجر ضرور ہے ۔ لہذا اس رات کو بھی عبادت سےزندہ رکھنا چاہیے اس لیے کہ مصروف عبادت رہنا اللہ کی مغفرت کو زیادہ متوجہ کرتا ہے۔ امام ملا علی قاری ؒ نے اس حدیث کی شرح میں ایک خاص نکتہ بیان کیا ہے:’’ ظاہر تر بات یہ ہے کہ یہاں زمانے (یعنی آخری رات)کو مغفرت کے سبب کی جگہ بیان کیا گیا ہے (حالانکہ وہ رات خود مغفرت کا سبب نہیں ہے) بلکہ لیلۃ القدر بھی اپنی ظرفیت اور وقت کے اعتبار سے مغفرت کا سبب نہیں، وہ عبادت کا زمانہ اور وقت ہے اور عبادت ہی وہ اصل شے ہے جو مغفرت کا سبب ہے‘‘۔
عید کی رات کو زندہ رکھنا
عید کی رات سے مراد چاند رات ہے ۔اگرچہ یہ رمضان کی رات نہیں بلکہ شوال کی پہلی رات ہے لیکن ایک حدیث میں اس کی فضیلت بیان ہوئی ہے:
مَنْ قَامَ لَيْلَتَىِ الْعِيدَيْنِ لِلَّهِ مُحْتَسِبًا لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ)سنن ابن ماجه، قال البوصيري هَذَا إِسْنَاد ضَعِيف فيقوى بِمَجْمُوع طرقه)
’’جو عیدین کی راتوں میں اللہ سے بدلہ پانے کی امید پر قیام کرے گا اس کا دل نہیں مرے گا جس دن تمام دل مر جائیں گے‘‘۔ چنانچہ جمہور فقہاےکرام، حضرات مالکیہ،فقہاے احناف اور فقہاے شوافع ؒ نےلیلۃ العیدین (دونوں عیدوں کی راتوں)کے قیام کو مستحب قرار دیا ہے۔ امام شافعی ؒ نے کتاب الام میں اپنی سند کے ساتھ یہ روایت حضرت ابو الدرداء ؓ سے موقوفا نقل کی ہے :
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْعِيدِ مُحْتَسِبًا لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ حِينَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ
’’جو عید کی رات میں اللہ سے بدلہ پانے کی امید پر قیام کرے گا اس کا دل نہیں مرے گا جب دل مر جائیں گے‘‘۔ امام شافعی ؒ اس پر یہ تبصرہ فرماتے ہیں : ’’ان راتوں کی فضیلت کے بارے میں جو بیان ہوا ہے میں اسے فرض (یا لازم) نہ ہونے کی شرط کے ساتھ مستحب سمجھتا ہوں‘‘۔
حضرت مجاہد ؒ عید کی رات کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’عید الفطر کی رات اپنی فضیلت میں آخری عشرے کی راتوں کی طرح ہے‘‘(مختصر قيام الليل وقيام رمضان محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِي)۔ چنانچہ چاند رات کی اسی حکمت ِعبادت کے سبب امام احمد بن حنبل ؒ نے معتکف کے لیے چاند رات مسجد میں بسر کرنا مستحب قرار دیا ہے۔اگرچہ عید کا چاند نظر آنے پر مسنون اعتکاف پورا ہو جاتا ہے اور معتکف اپنے گھر جا سکتا ہے لیکن چاند رات بھی اعتکاف گاہ میں بسر کرنا مستحب ہے اور سلف صالحین سے ایسا کرنا منقول ہے۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں:’’ میں نےبعض اہل علم کو دیکھا کہ جب وہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے ہیں تو عید کی رات گھر والوں کے پاس نہیں لوٹتے یہاں تک کہ لوگوں کے ساتھ عید کی نماز ہی کے لیے نکلتے ہیں‘‘(مؤَطّا امام مالک ؒ )۔ ابراہیم نخعی ؒ فرماتے ہیں:’’تابعین معتکف کے لیے مستحب قرار دیتے تھے کہ وہ عید الفظر کی (یعنی چاند) رات اعتکاف والی مسجد میں ہی بسر کرے ‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ)۔ ابومِجلَز تابعی ؒ فرماتے ہیں کہ: ’’جس مسجد میں اعتکاف کیا کرو (چاند) رات بھی اسی میں بسر کیا کرو۔ آج جبکہ ہم رمضان میں زندہ ہیں اور ہمیں گوش ہوش سے سننا چاہیے کہ خبر رسول اللہﷺ کے بالکل عین مطابق منادی کی ندائیں بلند ہو رہی ہیں:’’ اے نیکی کے چاہنے والے آگے بڑھ(ہمت کر) اور برائی کےچاہنے والے ( برائی سے) پیچھے ہٹ‘‘۔ پس جو کوئی اس حدیث کی تعلیم ، نیکی میں سبقت اور گناہ سے پسپائی کی اختیار کیے رکھے گا تو نتیجہ یہ نکلے گاکہ:’’ اور اللہ تعالی رمضان میں بہت سوں کو دوزخ سے آزاد کر دیتا ہے اور یہ رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے‘‘ (ترمذی شریف)۔
رمضان کا مہینا قریب ہے، اور اگر خدانخواستہ اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو نبی اکرمﷺ کی جانب سے یہ بدعا ہمیں سامنے رکھنی چاہیے:
رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ(ترمذي شریف)
’’اس شخص کی ناک خاک آلود ہو کہ اس پر رمضان آئے اور گزر جائے اس سے پہلے کہ وہ بخش نہ ديا جائے ‘‘۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
*****
رمضان اور دعا
سورۃ البقرہ میں رمضان کے احکام کے بیان کےدرمیان دعا کا ذکرکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌoأُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴾( البقرة:186)
’’اے نبی جب آپ سے میرے بندے ، میرے بارے میں پوچھیں تو بتا دیجیے کہ میں قریب ہی ہوں، ہر دعا کرنے والے کی دعا کو سنتا ہوں جب بھی وہ پکارے، پس چاہیے کہ وہ میری باتوں کو مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ ہدایت پاجائیں‘‘۔ امام ابن کثیر اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’احکام صیام کے درمیان اس آیت مبارکہ سے خطاب کرنا گویا دعا میں محنت و اجتہاد کرنے کی راہنمائی کرنا ہے‘‘۔رمضان اور دعا کا تعلق کئی اعتبار سے ہے ایک تو یہ کہ روزہ اور اس کےمتعلقات عبادت میں داخل ہیں جب کہ دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ روزہ انسان کی روحانی بیداری کا ذریعہ ہے اور جب انسان روزے اور متعلقہ عبادات کے اہتمام سے اپنی روح کو زندہ و توانا کرتا ہے تو اس کی روح اپنے رب سے لو لگاتی ہے اور اس کا اہم ذریعہ دعا ہے۔رمضان المبارک کا خصوصی انعام قبولیت دعا ہے جس کا سلسلہ آغاز رمضان ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔یہ بات ایک حدیث مبارکہ میں یوں بیان کی گئی:
إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَا تُغْلَقُ إِلَى آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْهُ (المعجم الأوسط)
’’بے شک آسمان کے دروازے ماہ رمضان کی پہلی رات ہی میں کھول دیے جاتے ہیں اور پھر رمضان کی آخری رات تک ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ‘‘۔ شارحین حدیث نے آسمان کے دروازے کھولے جانے کو دعاؤں کی قبولیت کے لیے ایک اشارہ قرار دیا ہے(تنویر شرح الجامع الصغیر،فیض القدیر)۔رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا:
إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عُتَقَاءَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ يَعْنِي: فِي رَمَضَانَ،وَإِنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً(صَحيح التّرْغيب وَالترْهيب)
’’بے شک اللہ کی طرف سے رمضان کے ہر دن رات میں بہت سے لوگوں کو دوزخ سے بچایا جاتا ہے اور بے شک رمضان کے ہر دن رات میں مسلمان کی دعا قبول کی جاتی ہے‘‘۔ان روایات کا حاصل یہ ہے کہ رمضان کا پورا مہینا ، اس کے دن اور اس کی راتیں ،قبولیت دعا کے لیے ایک ظرف کی حیثیت رکھتی ہیں۔یہ فضیلت تمام اوقات کو حاصل ہے البتہ بعض اوقات اور حالات میں قبولیت دعا کی اضافی فضیلت بیان کی گئی ہے جو درج ذیل ہیں:
سحری کی دعا
روزے کی ابتداسحری سے ہوتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے سحری کھانےکی تاکید فرمائی ۔ اس لیے ہر روزےدار اس وقت بیدار ہوتا ہی ہے۔ہمارے علم میں کوئی ایسی روایت تو نہیں آئی جس میں روزے دار کو سحری کے وقت دعا کا حکم دیا ہو لیکن سحری کے وقت بلکہ نصف یا تہائی رات کے بعد سے لے طلوع فجر تک کے وقت اور اس وقت میں دعا و استغفار کی فضیلت ایک مسلمہ امر ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت کے مطابق رسول اللہﷺ نے فرمایا:
إِذَا مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى هَلْ مِنْ دَاعٍ يُسْتَجَابُ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ (صحيح مسلم)
’’جب آدھی رات يا دوتہائی رات گزرجاتی ہے اللہ تبارک و تعالی آسمانِ دنياکی طرف نزول فرماتاہےپھرفرماتاہے،ہے کوئی مانگنےوالا جسےميں عطا کروں ، ہے کوئی دعا کرنے والا میں جس کی دعا قبول کروں ،ہےکوئی بخشش مانگنےوالاہے جس کی بخشش کر دی جائے اور یہ سلسلہ صبح پھوٹنے تک چلتا رہتا ہے‘‘۔ اللہ تعالی نے اپنے خاص بندوں کی صفات میں بیان کیا:
﴿الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ﴾ (آل عمران:17)
’’صبر کرنے والے ، سچ بولنے والے فرمانبرداری کرنے والے ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے‘‘۔
﴿ كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾﴿وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ (الزاریات:17-18)
’’وہ رات کو تھوڑا سویا کرتے تھے اور سحر کے اوقات میں گناہوں کی بخشش مانگا کرتے تھے‘‘۔ کثرت استغفار ، رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی ہے:
وَاللَّهِ إِنِّى لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِى الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً (صحيح البخاري)
’’اللہ کی قسم بےشک ميں اللہ تعالی کی جناب میں یومیہ ستربارسے زيادہ توبہ و استغفارکرتاہوں‘‘۔رسول اللہ ﷺ نے اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے ارشادفرمايا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ فَإِنِّى أَتُوبُ فِى الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ (صحيح مسلم)
’’اے لوگو ! اللہ کی جناب ميں توبہ کرو، بےشک ميں دن ميں اس کی جناب ميں سو سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں‘‘۔ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺنے فرمایا :
مَنْ لَزِمَ الاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقهُ مِنْ حَيثُ لاَ يَحْتَسِبُ(رواه أبو داود)
’’جو استغفار کو لازم پکڑ ے گا اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنائے گا اور اس کی ہر فکر و پریشانی دور کرے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے وہ سوچ بھی نہ سکے گا‘‘۔ یہاں ایک نکتے کی بات یہ بھی ذجر کی گئی ہےکہ استغفار کی کثرت ، گناہوں کی معافی کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس کا بھی ذریعہ ہے اولاً تو اس لیے کہ تزکیے کا ایک حصہ گناہوں سے پاکی و معافی ہے اور اس کا ذریعہ استغفار ہے اور دوسرے یہ کہ کثرت استغفار ، تقویٰ کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔ امام ملا علی القاری ؒ نےمرقاۃ شرح مشکاۃ میں اس کی وضاحت فرمائی جس کی تفصیل یوں ہے کہ اس حدیث مبارکہ کا مضمون ان آیات مبارکہ سے مماثل بلکہ کشیدہ و مقتبس ہے:
﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾﴿ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ (الطلاق:2-3)
’’اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا‘‘۔حدیث میں استغفار کرنے والے کے لیے جو بشارتیں بیان کی گئی ہیں وہی آیت مبارکہ میں تقویٰ کے لزوم پر بیان کی گئی ہیں۔یعنی استغفار اور تقویٰ دونوں کے حاصل ایک جیسے ہیں، اسی باہمی مناسبت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ استغفار کا حاصل بھی تقویٰ ہے۔اس طرف اشارہ ایک دوسری حدیث سے بھی ملتا ہے کہ ایک صحابی رسول ﷺ نے عرض کیا :یا رسول اللہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بہت بدزبانی کرتا ہوں ،یا رسول اللہ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں دوزخ میں نہ جا پڑوں فرمایا:
فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ؟ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةً مَرَّةٍ (مسند احمد)
’’استغفار کے معاملے میں تو کہاں کھڑا ہے (کتنا استغفار کرتا ہے) جبکہ میں تو دن میں سو سو با ر استغفار کرتا ہوں‘‘۔حدیث میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے سحری کھانے والے کو اللہ کی برکت و رحمت اورفرشتوں کی دعائیں حاصل ہوتی ہیں:
السُّحُورُ أَكْلَةٌ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ، وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ(مسند احمد)
’’سحری کا کھانا برکت ہے پس اسے ترک نہ کرو چاہے پانی ایک گھونٹ پانی ہی سے اس کا اہتمام کروپس بے شک اللہ سحری کھانے والے پر برکتیں نازل کرتا ہے اور فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں‘‘۔پس سحری کے بابرکت اور رحمت بھرے ماحول میں چاہیے کہ استغفار میں کثرت کی جائے۔
حالت روزہ میں دعا
حالت روزہ میں انسان کوخصوصی طور پر دعا کی جانب متوجہ رہنا چاہیے۔ سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الصَّائِمُ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ (مسند احمد )
’’روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی‘‘۔ایک دوسری روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ: دَعْوَةُ الصَّائِمِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ (شعب الإیمان)
’’تین دعائیں ایسی ہیں جو قبول کی جاتی ہیں: روزے دار کی دعا ، مسافرکی دعا اور مظلوم کی دعا‘‘۔ یہی بات ایک دوسرے انداز میں یوں بھی فرمائی گئی:
ثَلاَثَةٌ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ الإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ (سنن ترمذي)
’’تین لوگوں کی دعا نہیں ٹالی جاتی امام عادل کی دعا اور روزے دار کی دعا یہاں تک کہ افطار کرلے اور مظلوم کی دعا‘‘۔ ان احادیث میں تو روزے دار کی ان دعاؤں کی قبولیت کی اشارت ہے جو وہ حالتِ روزہ میں کرے ، چاہے نمازو عبادت کے اوقات میں چاہے اس کے علاوہ، لہذا حالت روزہ میں دعا مانگتے رہنا چاہیے۔
افطار کے وقت کی دعا
افطار کے وقت کی دعا کی بھی خاص اہمیت بیان کی گئی ہے:
لِلصَّائِمِ عِنْدَإِفْطَارِهِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ ( شعب الإیمان )
’’روزے دار کے لیے اس کے افطار کے وقت ایسی دعا ہے جو قبول کی جاتی ہے‘‘۔دوسرے اسلوب میں یہ بشارت یوں سنائی گئی :
إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ (سنن ابن ماجہ)
’’بے شک روزے دار کے لیے ایسی دعا کا موقع ہے جو رد نہیں کی جاتی‘‘۔ ان تمام روایات کا حاصل یہ ہے کہ رمضان المبارک میں دعا میں خوب محنت کی جائے بالخصوص افطار کے وقت ، گھر والوں کو جمع کر کے دعا میں شریک کرنا چاہیے۔ایک روایت میں وارد ہوا ہے :
كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو إِذَا أَفْطَرَ دَعَا أَهْلَهُ وَوَلَدَهُ وَدَعَا (شعب الإیمان)
’’جب افطار کا وقت آجاتا تو سیدنا عبد اللہ بن عمر بن العاص ؓ اپنے اہل و اولاد کو بلاتے اور پھر دعا فرماتے‘‘۔
افطار کی دعائیں
ویسے تو افطار کے موقع پر ہر جائز دعا مانگی جا سکتی ہے لہذا زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگنی چاہیں۔البتہ بعض مسنون و ماثور دعاءیں بھی ہیں ان کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے۔ معاذ بن زہرہ ؓ روایت کرتے ہیں ، انھیں یہ بات پہنچی ہے کہ :
أَنَّ النَّبِىَّ ﷺ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ (سنن أبي داود)
’’نبی کریم ﷺ جب افطار کرتے تھے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے:اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا اور تیرے عطا کیے رزق پر افطار کرتا ہوں‘‘۔ بعض علماء نے یہ بھی کہا کہ یہ دعا افطار کے بعد پڑھنی چاہیے ۔جیسے مرقاۃ شرح مشکاۃ میں ہے:’’ابن الملک کہتے ہیں کہ یہ دعا افطار کے بعد پڑھنی چاہیے‘‘۔ البتہ بعض علماء کے نزدیک یہ دعا افطار کے موقع یعنی افطار سے قبل پڑھنی چاہیے۔ امام شوکانی ؒ نیل الاوطار میں لکھتے ہیں:
’’حدیث معاذ بن زہرہ ؓ سے معلوم ہوتا کہ اس روایت میں بیان کردہ دعا افطار کے موقع پر پڑھنی چاہیے اور اسی طرح ہم نے جتنی بھی دعائیں اس باب میں بیان کیں سب کا یہی حکم ہے‘‘۔ رسالہ تحفۂ رمضان از حضرت تھانوی ؒ میں بھی اسی طرح درج ہے کہ یہ دعا افطار سے قبل پڑھنی چاہی۔ المعجم الصغير میں اس دعا سے قبل بسم اللہ پڑھنا بھی منقول ہے۔ اکثر محدثین نے اس روایت کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن چونکہ کھانے پینے سے قبل بسم اللہ کی تاکید عمومی طور پر ثابت ہے تو اس عمومی تاکید کے تحت افطار سے قبل بسم اللہ بھی پڑھی جا سکتی ہے۔اگرچہ صرف اس دعا پر اقتصار کیا جائے تب بھی حرج نہیں کیونکہ اللہ کا نام اس دعا میں بھی لیا جا چکا۔
تنبیہ :عوام الناس کے ہاں یہ دعا ان الفاظ میں مشہور ہو گئی ہے :
اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ
’’اے اللہ میں نےتیرے لیے روزہ رکھا اور تجھ پر ایمان رکھتا ہوں اور تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور تیرے رزق پر افطار کرتا ہوں‘‘۔امام ملا علی القاری ؒ ان الفاظ کے بارے میں لکھتے ہیں:’’لوگوں کی زبان پر مشہور ہو گئے ہیں، یہ مسنون دعا پر اضافہ ہے جس کا سنت و حدیث میں ثبوت نہیں ہے‘‘۔پس چاہیے کہ ان الفاظ کو بوقت افطار نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ اوپر سنن ابو داؤد کے حوالے سے بیان کردہ دعا ہی پڑھنی چاہیے۔عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ:
كَانَ النَّبِيُّﷺإِذَا أَفْطَرَ قَالَ: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ(سنن أبي داود)
’’رسول اللہ ﷺ جب افطار فرماتے تو درج ذیل دعا پڑھا کرتے تھے: پیاس چلی گئی ، (بدن کی )رگیں تر ہو گئیں اور اجر پکا ہو گیا اگر اللہ نے چاہا تو‘‘۔ امام ملا علی القاری ؒ مرقاۃ میں لکھتے ہیں:’’ نبی کریم ﷺ یہ دعا افطار کرنے کے بعد پڑھا کرتے تھے‘‘۔کئی شارحین حدیث نے اس دعا کے بارے میں یہی لکھا کہ یہ بعد از افطار پڑھنی چاہیے۔ امام ابن الملک ؒ فرماتے ہیں: ’’یہ دعاافطار کے بعد پانی پی لینے کے بعد پڑھنی چاہیے‘‘(المفاتيح في شرح المصابيح)۔اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ افطار کے بعد جلد ہی یہ دعا پڑھ لینی چاہیے ، نہ یہ کہ انسان کھانے پینے میں مشغول ہو جائے اور بہت دیر کے بعد یہ دعا پڑھے ۔
تنبیہ :امام شرف الدین النووی ؒ نے الاذکار میں یہ تمام دعائیں بابُ ما يقولُ عندَ الإِفْطَار کے تحت بیان کیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ دعائیں افطار کے موقع پر بھی پڑھی جا سکتی ہیں ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں توسع ہے اور جسے ہم نے بعد میں قرار دیا یا جسے پہلے پڑھنے کا ذکر کیا ہے اگر ان کی ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو کوئی بڑا حرج واقع نہیں ہوتا۔ ابن ابی مُلیکہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا عبد اللہ ابن عمر ؓ کو بوقت افطار یہ دعا پڑھتے سنا:
اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي( سنن ابن ماجہ)
’’اے اللہ میں تیری اس رحمت کا سول کرتا ہوں جو ہر شے پر چھائی ہے کہ تو میری بخشش فرما دے‘‘۔ جب کسی کے پاس افطار کیا جائے تو درج ذیل دعا پڑھنی چاہیے:
أفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وأكَلَ طَعَامَكُمُ الأبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ المَلاَئِكَةُ (سنن أبي داود، الأذکار للنووي)
’’تمھارے پاس روزے دار افطار کریں، تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں اور فرشتے تم پر دعائیں کریں‘‘۔مختلف روایات کی روشنی میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ دعا عام ضیافت کے موقع پر بھی پڑھی جا سکتی ہے اور دعوت افطار پر بھی ،جیسا کہ مرقاۃ الفاتیح میں اس پر مفصل کلام دستیاب ہے۔
*****
آداب ِختم ِقرآن
تلاوت کے ایک دور کی تکمیل کے لیے جو اصطلاح ہمارے ہاں دور نبوی ہی سے رائج ہے وہ ختم قرآن ہے جیسا کہ احادیث میں اس کا ذکر آ جائے گا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ لفظ ختم ہماری اردو کا لفظ ہے جس کا معنی خاتمہ یا اختتام ہے اور اس سمجھ کی بنا پر وہ ختم قرآن کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں اور ختم کے بجائے لفظ ’تکمیل‘ پر زور دیتے ہیں ،تو ابتدا ہی میں اس کی وضاحت ہو جائے کہ عربی زبان اور خود اردو لغت میں بھی لفظ ختم کا ایک معنی مکمل کرنا بھی ہے (دیکھیے نور اللغات ، ۲،۴۸۱)تو ختمِ قرآن کے معنی ہوئے قرآن پاک کی تلاوت کا ایک دَور مکمل کرنا!
جس طرح تلاوت قرآن کے آداب ہیں جو تلاوت کے فوائد ، اجر و ثواب اور خوبصورتی میں اضافے کا ذریعہ بنتے ہیں ، اسی طرح ختم قرآن کے بھی آداب ہیں جو اجر و ثواب میں اضافے کا ذریعہ بنتے ہیں۔کئی علماء نے اس موضوع پر کلام کیا ہے۔امام نَوَوی ؒ نے اپنی کتاب ’’الأذکار‘‘میں’’فصل في آداب الختم وما يتعلق به‘‘ کے زیر عنوان قرآن کریم کے دَورِ تلاوت کی تکمیل پر نفیس کلام کیا ہے۔اسی طرح امام ِمذکور ؒ نے ’التبیان ‘میں بھی اس موضوع پر کلام کیا ہے، انھی کے افادات کی روشنی میں یہ مضمون ترتیب دیا جا رہا ہے۔ البتہ نقل روایات میں وسعت برتتے ہوئے ہم نے دیگر مصادر سے بھی رجوع کیا ہے۔
تکمیل دورقرآن نماز میں
امام صاحب فرماتے ہیں کہ تلاوت قرآن کی تکمیل کسی نماز میں کرنا زیادہ مستحب ہے۔اس کے لیے انھوں نے درج ذیل حدیث پیش کی ہے:
قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ (شعب الإیمان)
’’نماز میں قرآن کی تلاوت کرنا نماز کے بغیر تلاوت کرنے سے افضل ہے‘‘۔اگر قرآن کی تکمیل نماز تراویح وغیرہ میں ہو رہی ہے تو ظاہر ہے وہ نماز ہی میں مکمل کیا جائے گا لیکن اگر نماز کے بغیر انفرادی تلاوت کی جا رہی ہے تب بھی مستحب یہی ہے کہ آخرِ قرآن میں سے کچھ حصہ کسی بھی ، سنت یا نفل نماز میں مکمل کیا جائے بشرطیکہ وہ وقت نفل پڑھنے کے لیے ممنوع نہ ہو۔اس کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ختم قرآن فجر اور مغرب کی سنتوں میں کر لیا جائے ۔تابعی محمد بن جُحادة ؒ بیان کرتے ہیں کہ:’’ وہ(صحابہ ؓ یاتابعین ؒ ) اس بات کو پسند کرتے تھے کہ جب قرآن کی تکمیل رات کو کریں تو مغرب کے بعد والی رکعتوں میں اس کی تکمیل کریں اور جب دن میں اس کا ختم کریں تو فجر سے پہلے والی رکعتوں میں اسے مکمل کریں(مختصر قيام الليل وقيام رمضان محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِي)۔
اگر تکمیل تلاوت قرآن، نماز کے لیے مکروہ وقت میں ہو رہی ہے تو پھر اختیار ہے چاہے تو ختم کو موخر کر لیا جائے یا پھر نماز کے بغیرہی ختم کر لیا جائے، چونکہ یہ مستحبات کا دائرہ ہے اس لیے نہ تو خود پرسختی کرنی چاہیے اور نہ ہی دوسروں پر بس حتی الامکان بہتری کی کوشش کرنی چاہیے ۔
تکمیل قرآن دن یا رات کے ابتدائی حصوں میں
آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ ختم قرآن پر فرشتے دن یا رات کے دوسرے سرے تک تلاوت کی تکمیل کرنے والے کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں اس لیے بہتر ہے کہ ختم قرآن رات کے ابتدائی حصہ میں کیا جائے یا دن کے ابتدائی حصہ میں،پس اگر رات یا دن کے ابتدائی حصے میں تکمیل کر لی جائے تو فرشتوں کی مقدس دعائیں زیادہ حاصل ہوں گی بہ نسبت رات یا دن کے درمیانی حصے میں تکمیل سے۔یہ طریقہ بعض صحابہ ؓ سے منقول ہے۔ سعدبن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں :
إِذَا وَافَقَ خَتْمُ الْقُرْآنِ أَوَّلَ اللَّيْلِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ ، وَإِنْ وَافَقَ خَتْمُهُ آخِرَ اللَّيْلِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى يُمْسِىَ ، فَرُبَّمَا بَقِىَ عَلَى أَحَدِنَا الشَّىْءُ فَيُؤَخِّرُهُ حَتَّى يُمْسِىَ أَوْ يُصْبِحَ (سنن دارمي و قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: هَذَا حَسَنٌ عَنْ سَعْدٍ)
’’ جب کوئی شخص قرآن رات کے ابتدائی حصے میں ختم کرے اس پر فرشتے دعائیں کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہو جائے اور اگر اس کا ختم رات کے آخری حصے یعنی (صبح) کو ہو جائے تو تو فرشتے شام تک اس کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور ہم میں سے کسی شخص کا ختم جب قریب ہوتا تو وہ کچھ قرآن کو باقی رکھتا یہاں تک کہ صبح یا شام نہ آ جاتی اور پھر وہ اس کی تکمیل کرتا‘‘۔سیدنا انس ؓ کا عمل بھی اسی طرز کا تھا:
كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِذَا أَشْفَى عَلَى خَتْمِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ بَقَّى مِنْهُ شَيْئاً حَتَّى يُصْبِحَ فَيَجْمَعَ أَهْلَهُ فَيَخْتِمَهُ (سنن دارمي، باب في ختم القرآن)
’’سیدنا انس بن مالک ؓ جب رات کو ختم قرآن کے قریب پہنچتے تو قرآن کا کچھ حصہ صبح کے لیے چھوڑتے پھر وہ صبح اپنے اہل وعیال کو جمع کر کے ان کے سامنے قرآن ختم کرتے‘‘۔عبد اللہ ابن مبارک ؒ فرماتے ہیں :
إِذَا كَانَ الشِّتَاءُ فَاخْتِمِ الْقُرْآنَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ فَاخْتِمْهُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ(مختصر قيام الليل وقيام رمضان محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِي
’’جب سردیوں میں قرآن کی تکمیل کرو تو رات کے اول حصے میں کیا کرو اور جب گرمیوں میں قرآن کے دور کی تکمیل کرو تو دن کے پہلے حصے میں ختم کیا کرو‘‘۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے فرمان سے یہ معلوم ہوا تھا کہ دن یا رات کے اول حصے میں تکمیل کرنے سے پورے دن فرشتوں کی دعائیں حاصل ہوتی ہیں۔ عبد اللہ ابن مبارک ؒ نے اس میں تفصیل بتا دی کہ چونکہ سردیوں کی رات بڑی ہوتی ہے اس لیے رات کے اول حصے میں تکمیل ہو گی تو فرشتوں کی دعائیں زیادہ وقت تک کے لیے حاصل ہوں گی اور گرمیوں میں چونکہ دن بڑے ہیں اس لیے دن کی ابتدا میں ختم قرآن ہو جائے تو اس میں فرشتوں کی دعا زیادہ عرصہ ملتی رہے گی۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف نیکی اور ثواب کے معاملے میں کتنے حریص اور باریک بین تھے کہ ذرہ برابر کوتاہی نہ کرتے تھے، آج ہمارے ہاں بھی بالکل ایسا ہی ہے لیکن افسوس دین کے بجائے دنیا کے معاملے میں!
روزے کا اہتمام
امام نووی ؒ ’ التبيان ‘تحریر فرماتے ہیں :’’ختم قرآن کے دن روزے کا اہتمام مستحب ہے الا یہ کہ ختم قرآن کسی ایسے دن پیش آرہا ہو جس دن کا روزہ رکھنا شرعا ًممنوع ہو، صحیح طور پر ثابت ہے کہ طلحہ بن مصرف ؓ، مسیب بن رافع ؓ ، اور حبیب بن ابی ثابت ؓ وغیرہم ختم قرآن کے دن روزہ رکھا کرتے تھے‘‘۔ اگرچہ امام نووی ؓ نے کسی قسم کی دلیل نقل نہیں فرمائی لیکن کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح رمضان ہی میں قرآن کا نزول شروع ہوا ہے، اور رمضان ہی کی ایک رات لیلۃ القدر میں قرآن کا نزول سماے دنیا پر ہوا اور جس طرح نبی اکرم ﷺ رمضان میں اس کا دور فرمایا کرتے تھےتو ان باہمی مناسبتوں کی وجہ سے مستحب ہے کہ غیر رمضان کے ختم قرآن کو روزے کے اہتمام سے رمضان کے مشابہہ بنایا جائے۔
امام نووی ؓ نے جن بزرگوں کے نام لیے ان میں ابن رافع ؒ کے بارے میں یہ روایت امام ابن حبان ؒ نےالثقات میں نقل کی ہے:
عَن الْمسيب بن رَافع أَنه كَانَ يخْتم الْقُرْآن فِي كل ثَلَاث ثمَّ يصبح الْيَوْم الَّذِي يخْتم فِيهِ صَائِما (الثقات)
’’مسیب بن رافع ہر تین دن میں ایک قرآن مکمل کیا کرتے تھے اور جس دن قرآن ختم کرتے اس دن روزے سےہوا کرتے تھے‘‘۔
ختم قرآن پر دعا کا اہتمام
ختم قرآن کے موقع پر دعا کا اہتمام کرنا چاہیے ،امام نووی ؒ التبيان میں رقم فرماتے ہیں:’’ختم قرآن کے بعد دعا کرنا بہت زیادہ تاکید کے ساتھ مستحب ہے‘‘۔اس لیے کہ یہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے سیدنا عرباض بن ساریہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ صَلَّى صَلَاةَ فَرِيضَةٍ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَمَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ (رواہ الطبراني)
’’جس نے فرض نماز ادا کی اس کی دعا قبول کی جائے گی اور جس نے قرآن کی تلاوت کی تکمیل کی اس کی دعا بھی قبول کی جائے گی‘‘۔ ثابت البنانی روایت کرتے ہیں کہ:
كَانَ أنَسٌ رضی اللہ عنہ إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ جَمَعَ وَلَدَهُ وَأَهْلَ بَيْتِهِ فَدَعَا لَهُمْ )الجامع الصحيح للسنن والمسانيد، الدارمي، وحلية الأولياء، التبيان للنووي(
’’سیدنا انس بن مالک ؓ جب تلاوت قرآن کا دور مکمل کرتے تو اپنے اہل وعیال کو جمع کر کہ ان کے لیے دعا فرمایا کرتے‘‘۔ابراہیم التیمی ؒ سے روایت ہے :
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ۔ قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ جَمَعَ أَهْلَهُ ثُمَّ دَعَا وَأَمِّنُوا عَلَى دُعَائِهِ(فضائل القرآن للقاسم بن سلام : أبو عُبيد القاسم بن سلاّم بن عبد الله الهروي البغدادي)
’’عبد اللہ ابن مسعود ؓ جب قرآن ختم کرتے تھے تو اپنے گھر والوں کو جمع کرتے اور دعا کرتے جبکہ گھر والے ان کی دعا پر آمین کہا کرتے تھے اور آپ ؓ فرمایا کرتے تھے جو شخص قرآن ختم کرےاس کے لیے یہ مقبول دعا کا موقع ہے‘‘۔ امام بخاری ؒ کا معمول نقل ہوا: ’’آپ ؒ رمضان میں افطار کے وقت ختم قرآن کیا کرتے تھے اورفرماتے تھے (عند كل الختم، دعوة مستجابة) ہر ختم قرآن کے موقع پر ایک دعائے مستجاب انسان کو نصیب ہوتی ہے (تاريخ بغداد، صفة الصفوة)۔تکمیل قرآن کی محفل میں شرکت کرنے کے بارے میں امام نووی ؒ التبيان میں تحریر کرتے ہیں: ’’ختم قرآن کی مجلس میں شرکت کرنا مستحب اور پسندیدہ ہے اس کے لیے بھی جوپڑھنا جانتا ہے اور اس کے لیے بھی جو اچھی طرح پڑھنا نہیں جانتا‘‘۔قرآن پاک کی تلاوت اور درس و تدریس کی محافل پر فرشتوں کا حاضر رہنا اور اللہ کی خصوصی رحمت و سکینت کے نزول کی احادیث مشہورو معروف ہیں۔پس وہ تمام احادیث جن میں مندرجہ بالا امور کا ذکر ہے وہ تکمیل قرآن کے موقع کی برکات پر بھی دلالت کرتی ہیں۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں کہ :’’وہ(صحابہ کرام ؓ یا تابعین ؒ)ختم قرآن کے موقع پر جمع ہوا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ختم قرآن کے موقع پر اللہ کی خصوصی رحمت کا نزول ہوتا ہے‘‘(الاذکار)۔ امام ابن حجر عسقلانی ؒ نتائج الافكار میں تحریر کرتے ہیں کہ مجاہد ؒ نے فرمایا :’’مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ختم قرآن کے موقع پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے‘‘۔ چنانچہ عبد اللہ ابن عباس ؓ کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ ختم قرآن کے موقع پر حاضری کو پسند کرتے تھے۔حضرت قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ :’’ مدینہ میں ایک قاری تلاوت کیا کرتا تھا پس عبد اللہ ابن عباس ؓ کسی شاگرد کی ذمےداری لگاتے کہ جب اس کا ختم ہونے لگے تو ہمیں اطلاع کرنا ، جب اطلاع ملتی تو فرماتے چلو ہمارے ساتھ تاکہ ہم ختم قرآن کے موقع پر حاضر ہو جائیں‘‘( فضائل القرآن ابن الضريس الرازي)۔ تابعین ؒ کا بھی اس طرح کا عمل رہا ہے چنانچہ حكم بن عُتَيْبَہ ؒ کہتے ہیں کہ حضرت مجاہد ؒ نے میری طرف یہ پیغام بھجوایا: ’’ ہمارا ختم قرآن کا ارادہ ہے اس لیے آپ کو دعوت دیتے ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے ختم قرآن کے موقع پر دعائیں قبول ہوتی ہیں، پھر آپ اس موقع پر مختلف دعائیں مانگا کرتے تھے‘‘(فضائل القرآن أبو بكر جعفر الفِرْيابِي )۔ایک دوسری روایت میں حَکَم فرماتے ہیں: ’’حضرت مجاہد ؒ اور عبدۃبن لبابہ ؒ اور دوسرے لوگ قرآن کا دور کیا کرتے تھےاور جب ختم کا ارادہ کرتے تھے ہمیں بلا بھیجتے اور کہتے ہمارے پاس آؤ کہ ختم قرآن کے موقع پر رحمت کا نزول ہوتا ہے‘‘(تفسیر قرطبی)۔
ارتحال
ارتحال کا لفظی معنی عازم سفر ہونا ہے۔ لیکن علوم قرآن کی اصطلاح میں ارتحال سے مراد یہ ہے کہ تلاوت کا ایک دور مکمل کرتے ہی اگلا دور شروع کر لیا جائے۔امام نووی ؒ فرماتے ہیں :’’تکمیل قرآن کے بعد فور ی طور اگلے دورِتلاوت کی ابتدا کرنا چاہیے علماے سلف اسی کو پسند کرتے تھے اور وہ اس حدیث کو دلیل بناتے ہیں کہ: رسول اللهﷺنے فرمایا: (خَيْرُ الأعْمالِ الحَلُّ وَالرِّحْلَةُ)سفر سے واپس آتے ہی روانہ ہو جانا بہترین اعمال میں سے ہے پوچھا گیا یا رسول اللہ اس سے کیا مراد ہے فرمایا : (افْتِتاحُ القرآن وختمه)قرآن کے دور کی ابتدا کرنا اور اس کی تکمیل کرنا‘‘(التبيان)۔ سیدنا عبد اللہ ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے ایک آدمی نے سوال کیا یا رسول اللہ ! کون سا عمل افضل ہے آپﷺ نے فرمایا : (عَلَيْكَ بِالْحَالِّ الْمُرْتَحِلِ) تم حال و مرتحل کا عمل اختیار کرو،اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ حال ومرتحل سے کیا مراد ہے فرمایا :
صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَضْرِبُ فِي أَوَّلِهِ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَهُ، وَيَضْرِبُ فِي آخِرِهِ حَتَّى يَبْلُغَ أَوَّلَهُ كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ (شعب الإیمان، معجم الکبیر)
’’قرآن کی تلاوت کرنے والا جو اول قرآن سے تلاوت کرتا ہے یہاں تک کہ آخر تک جا پہنچتا ہے اور آخر سے دوبارہ ابتدا پر آجاتا ہے اور جب بھی سفر(یعنی تلاوت )کی تکمیل کرتا ہے دوبارہ ابتدا کر دیتا ہے‘‘۔ سیدنا ابی ابن کعب ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا طرز عمل نقل فرمایا ہے کہ :
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا قَرَأَ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ افْتَتَحَ مِنَ الْحَمْدِ ثُمَّ قَرَأَ مِنَ الْبَقَرَةِ إِلَى:﴿أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾، ثُمَّ دَعَا بِدُعَاءِ الْخَتْمَةِ (جامع البيان في القراءات السبع أبو عمرو الداني)
’’جب رسول اللہ ﷺ سورہ الناس کی تلاوت فرما لیتے تو سورہ فاتحہ سے دوبارہ ابتدا فرما دیتے اورپھر سورۃ البقرہ کی تلاوت کرتے یہاں تک کہ﴿أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾پر پہنچ جاتے اس کے بعد ختم قرآن کی دعا فرماتے ‘‘۔
درود شریف کا اہتمام
امام ابن القیم الجوزیہ ؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب جلاء الأفهام في فضل الصلاة على محمد خير الأنام میں ختم قرآن کے موقع کی دعا کا تفصیل ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’ جب یہ دعا کا تاکیدی موقع ہے اور اس موقع کی دعا کے مقبول ہونے کی بھی امید دلائی گئی ہے تو پس یہ درود پاک کے لیے بھی ایک عمدہ موقع ہے‘‘۔اللّٰھمَّ صَلِّ علی سَیِّدِنا مُحَمَّد!
پس ختم قرآن کے موقع پر بارگاہ نبویﷺ میں درود و سلام کا ہدیہ بھی ضرور پیش کرنا چاہیے اور یہ ایک طرح سے آپ ﷺ کی جناب میں شکر گزاری بھی ہے کہ آپ ہی کے واسطے سے ہمیں یہ قرآن پاک عطا ہوا۔
دعا کا مضمون
اس موقع پر تمام جائز دعائیں مانگی جا سکتی ہیں ۔اس حوالے سےامام نووی ؒ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ:’’ الحاح اور آہ و زاری سے دعا کی جائے جامع قسم کی دعائیں مانگی جائیں اور دعا کا ایک بڑا حصہ آخرت کے بارے میں ہونا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ مسلمان عوام کی اصلاح اور فلاح و سلامتی نیز حکمرانوں کے لیے بھی نیکی و طاعات ،اور اقامت (دینِ)حق کی توفیق کی دعائیں کی جائیں ۔
*****