Apr
09
2020
﷽
مؤلف : مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی مد ظلہ
اَلْحَمْدُلله رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ. وَعَلَى آلِه وَأَصْحَابِه أَجْمَعِيْنَ
تعریف
روزے کو عربی میں صیام، یا صوم کہتے ہیں، اس کے معنی روکنے یا رکنے کے ہیں۔ اور اصطلاح شریعت میں صبح صادق سے غروب تک کھانے، پینے اور جنسی عمل سے اپنے آپ کو روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔
فرضیت
رمضان شریف کا روزہ اسلام کا ایک اہم اور بنیادی رکن ہے، جس طرح نماز و زکات کی فرضیت کا منکر مسلمان نہیں رہتا۔ اسی طرح روزے کی فرضیت سے انکار کرنے والا بھی اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور اس کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب قرار پاتا ہے۔ ہاں شرعی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کی البتہ اجازت ہے ! قرآن مجید میں ارشادِ ربانی ہے: ’’اے ایمان والو ! تم پر روزہ اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ (اس کے ذریعے ) تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘۔ (البقرہ 183)۔ مزید ارشاد فرمایا:’’جو تم میں سے اس ماہ (رمضان ) کو پائے اس پر لازم ہے کہ اس مہینے کے روزے رکھے‘‘۔ (البقرہ 185)۔
فضائل
حدیث مبارک میں ارشاد ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا :’’ایمان رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوشنودی کی نیت سے جس نے روزہ رکھا اس کے گزشتہ زمانےکے سب گناہ معاف کردیے جائیں گے‘‘۔ (بخاری و مسلم)۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی ایک اور روایت ہے جس میں نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’آدمی کا ہر (نیک) عمل کئی گنابڑھایا جاتا ہے۔ دس گنا تو ہوتا ہی ہے جبکہ سات سو گنا تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے کا معاملہ کچھ اور ہی ہے، وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا (خاص) اجر دوں گا کیونکہ اس نے اپنا کھانا پینا اور خواہشات نفسانی کو محض میری خوشنودی کے لیے ترک کیا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)۔ بعض روایات میں لفظ ’’أَجْزِيْ‘‘کی جگہ ’’أُجْزَیٰ‘‘روایت کیا گیا ہے، اس کا مطلب ہے روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزا ہوں‘‘۔
بندوں کی عبادات میں سے روزہ ہی ایسی عبادت ہے کہ روزے دار کے خود کہے بغیر بجز اللہ تعالیٰ کے، کوئی نہیں جان سکتا کہ وہ روزے سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اتنے عظیم اجر والی عبادت کے لیے صحت و توانائی عطا فرما کر اس کو بجا لانے کی توفیق اور موقع عنایت فرمایا ہے تو اس کی بجا آوری سے گریز بدبختی نہیں ہوگی تو کیا ہوگی!اسےپورے ذوق و شوق اور پورے آداب کے ساتھ بجا لانا چاہیے اور بغیر شرعی عذر ہرگز ہرگز ترک نہ کرنا چاہیے، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اگر کوئی شخص عذر کے بغیر ایک روزہ بھی ترک کر دے اور پھر پوری زندگی روزے رکھتا رہے تب بھی اس ایک روزے کی تلافی نہ ہوسکے گی(ترمذی)۔
اوپر گزر چکا ہے کہ روزےکا مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے، تو روزے دار کو چاہیے کہ وہ روزے میں ہر برائی اور چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچے، جھوٹ، غیبت، دنگا فساد، گالم گلوچ تو بڑے گناہ شمار ہوتے ہیں۔ ہنسی مذاق اور بے کار باتوں تک سے بھی بچنا چاہیے، کوئی خواہ مخواہ آمادۂ پیکار ہو تو اسے بھی نرمی سے یہ کہہ کر کہ بھائی میں روزے دار ہوں، پیچھا چھڑا لینا چاہیے۔ روزے دار کا سونا بھی عبادت میں شمار ہوتا ہے، بے فائدہ مجلس آرائی کے بجائے سوجانا بہتر ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’صبح سے شام تک روزے دار کا وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شمار ہوتا ہے تا آنکہ وہ کسی کی غیبت نہ کرے۔ اگر وہ غیبت کر بیٹھتا ہے تو پھر روزے میں شگاف پڑ جاتا ہے‘‘(دیلمی )۔
روزہ رکھنے کے اجر و ثواب کا بیان آپ نے پڑھ لیا۔ یہ بھی سن لیجیے کہ کسی کا روزہ افطار کرانے کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ اس کا بھی بہت اجرو ثواب ملتا ہے، رحمتِ عالم ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص کسی کا روزہ افطار کرائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرمائے گا جہنم کے عذاب سے اسے بچائے گا اور روزے دار کے اجر کے برابر ثواب عطا فرمائے گا، جبکہ روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی، یہ سن کر صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم سب کے پاس اتنا کچھ کہاں ہے کہ ہم کسی کا روزہ افطار کرائیں یا اسے کھانا کھلائیں ؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : صرف ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا دودھ سے بھی افطار کرانے کا یہی اجر و ثواب ہے‘‘(ابنِ خزیمہ )۔
روزے کی اقسام
(۱) فرض (۲) واجب (۳) سنت
(۴) مستحب (۵) حرام (۶) مکروہ
1. فرض روزے:
پورے رمضان کے روزے فرض ہیں ! ان کی فرضیت کا منکر خارجِ اسلام ہے۔ بغیر شرعی عذر ان کو ترک کرنے والا فاسق اور سخت گنہگار ہے۔ ان روزوں کی قضا بھی فرض ہے۔ گویا غیر متعین ہے کہ جب موقع ہو رکھ لے، مگر بہتر یہ ہے کہ جلد از جلد رکھ لے۔ لگا تار رکھے یا دو دو، چار چار کر کے رکھ لے۔
2. واجب روزے:
کفارے کے روزے واجب ہیں۔ مگر وہ ساٹھ روزے متواتر رکھنے پڑیں گے، ایک بھی ان میں سے ناغہ ہوگیا تو پھر از سرِ نو رکھنے ہوں گے۔ یہ بھی غیر معین ہیں مگر جلد رکھ لے تو اچھا ہے، نذر کے روزے بھی واجب ہیں، نذر کے وقت کوئی ماہ یا دن متعین کیا ہو تو متعین دن میں رکھنا واجب ہوگا ورنہ حسبِ موقع رکھ لے مگر جلد۔
3. سنت روزے:
مسنون روز ے وہ ہیں جو حضورﷺنے عموماً رکھے یامسلمانوں کو جن کی ترغیب دلائی۔ مگر یہ سنت ِمؤکدہ نہیں کہ جن کے ترک سے گناہ ہو ہاں ان کے رکھنے کا اجر وثواب بہت ہے۔ مسنون روزے یہ ہیں :محرم کی نو اور دس تاریخ کے، یوم عرفہ (نو ذو الحجہ ) کا اور ایام بیض ہر ماہ ِقمری کی تیرہ، چودہ، پندرہ کے روزے (حجاج کرام میدان عرفات میں عرفہ کا روزہ نہ رکھیں )۔
4. مستحب روزے:
فرض، واجب اور مسنون روزوں کے علاوہ باقی روزے مستحب یا نفل ہیں، جیسے عیدالفطر کے بعد چھ روزے۔ (یہ لگا تار رکھ لے یا ایک ایک کر کے مختلف دنوں میں مگر شوال کے مہینےکے اندر پورے کر لے۔ ان روزوں کے متعلق رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ رمضان کے روزوں کے بعد کسی نے یہ چھ روزے بھی رکھ لیے تو گویا اس نے سارے سال کے روزے رکھ لیے)۔ ہر پیر اور جمعرات کے روزے ،یکم تا آٹھ ذو الحجہ کے روزے ، شعبان کی پندرھویں کا روزہ ۔
5. حرام روزے:
عیدالفطر کے دن اور دس تا تیرہ ذو الحجہ ! اِ ن پانچ دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میزبانی کے ایام ہیں۔
6. مکروہ روزے:
مکروہ روزوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ صرف سنیچر یا اتوار کا روزہ رکھنا، صرف دس محرم کا روزہ، شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا نفلی روزہ۔ اور صوم ِوصال یعنی روزے پر روزہ درمیان میں بغیر افطار رکھنا۔ جو روزے نہ حضور ﷺنے خود رکھے نہ ان کی ترغیب دلائی مثلاً رجب وغیرہ کے، و ہ بدعت ہیں۔
روزےکے وجوب و صحت کی شرائط
1. اسلام
2. بلوغ
3. رمضان کے روزے کی فرضیت کا علم اور معذور نہ ہونا۔
کافر اور نابالغ بچےپر روزہ فرض نہیں ! اور اگر کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ رمضان کا روزہ فرض ہے مثلاً تازہ نو مسلم وغیر ہ تو علم ہونے تک اس پر بھی روزہ فرض نہیں۔ جسے کوئی ایسا عذر ہو جسے شریعت نے معتبر مان کر اسے روزہ نہ رکھنے کی کی اجازت دی ہو، مثلا سفر، مرض، بڑھا پااور جہاد۔ ان پر بھی رمضان میں روزہ رکھنا واجب نہیں ہوگا۔ جب یہ عذر جاتا رہے تو وہ ان روزوں کی قضا کریں۔
روزہ صحیح ہونے کی شرائط
1. اسلام
2. مستورات کے ایام مخصوصہ کا نہ ہونا
3. نیت کرنا۔
نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں اور اگر کسی کے دل میں بھی روزہ رکھنے کا ارادہ نہ ہو تو خواہ دن بھر وہ بھوکا پیا سارہے اس کا روزہ نہیں ہوگا۔
روزےکے فرائض سنن و مستحبات
صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور خواہش نفسانی سے بچنا روزے کے فرائض ہیں ! سحری ضرور کھانا خواہ دو چار لقمے، کوئی پھل یا پھر چند دانے کھجور اور چند گھونٹ پانی یا چائے وغیرہ پینا ہی ہو سنت ہے۔ صبح صادق سے دس پندرہ منٹ قبل سحری کھانا مستحب ہے۔ اگر سحری جلدی کھالی اور آخر وقت میں پانی یا چائے وغیر پی لی تو بھی دیر سے سحری کھانے کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔ روزےکی نیت رات کو کرنا مستحب ہے۔ رات کو نیت کا خیال نہ رہا تو صبح نصف النہار سے پہلے پہلے نیت کر لے۔ ورنہ روزہ نہیں ہوگا۔ افطار میں جلدی کرنا بھی مستحب ہے۔ مگر اتنی جلدی بھی نہ کرے کہ سورج کے پوری طرح غروب ہونے سے پہلے ہی افطار کر لے۔ کھجور یا چھو ہارے یا پانی سے افطار مستحب ہے۔
مفسدات صوم
روزےکے فرائض میں سے کسی فرض کی خلاف ورزی روزےکو فاسد کردیتی ہے۔ پھر فساد دو طرح کا ہوتا ہے: ایک میں تو صرف قضا واجب ہوتی ہے اور دوسرے میں قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم آتا ہے۔
· روزے کی نیت کر کے اگر کسی نے قصداً اور روزہ یا دہو تے ہوئے کچھ کھا لیا یا پی لیا یا جنسی عمل کر لیا تو قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوگئے۔ غذا کے علاوہ دوا کا بھی یہی حکم ہے۔ واضح رہے کہ کفارہ رمضان کے ادا روزےکے توڑنے سے لازم آتا ہے۔ لیکن اگر اس روزے کی نیت رات نہ کی ہو اور روزہ توڑنے کے بعد اسی دن ایسا مرض لاحق ہوجائے جس میں روزہ توڑ نے کی اجازت ہے یا عورت کے ایام مخصوصہ جاری ہوجائیں تو اس روزے کے توڑنے کا کفارہ نہیں ہوگا۔
· اگر بھولے سے کچھ کھا پی لیا اور یہ سمجھ کر کہ روزہ ٹوٹ گیا دوبارہ قصداً کچھ کھایا تو اب روزہ ٹوٹ گیا قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔
· اسی طرح کسی کو قے ہوئی اور یہ سمجھ کر کہ روزہ ٹوٹ گیا پھر کچھ کھا لیا تب بھی صرف قضا لازم ہوگی کفارہ نہیں۔
· اگر سرمہ لگا کر یا حجامہ کروا کر یہ سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا اور پھر قصداً کھاپی لیا تو اب قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔
· رمضان میں اتفاقاً روزہ ٹوٹ جا نےکے بعد بقیہ دن بھی روزے کی طرح رہنا چاہیے، کچھ کھانا پینا جائز نہیں۔
· جن لوگوں کے روزے میں شرائط و جوب نہ پائی جائیں جیسے مسافر، بچہ یاحیض و نفاس والی مستوارت کا روزہ فاسد ہوجائے تو ان پر بھی صرف قضا واجب ہوگی کفارہ نہیں۔
· منہ سے نکلنے والے خون کو تھوک کے ساتھ نگل لیا تو وہ اگر اتنا ہے کہ حلق میں اس کا ذائقہ محسوس ہوا تو روزہ ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔
· روزےمیں ناک میں ناس لی، کان میں تیل ڈالا، یا جلاب میں عمل لیا تو بھی روزہ ٹوٹ جائے گا اور صرف قضا واجب ہوگی۔
· قصداً اگر قے کی تو اگر وہ منہ بھر کر ہے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
· منہ میں آئی ہوئی قے کو اپنے ارادےسے واپس لوٹا دیا تو وہ اگر تھوڑی بھی ہے تب بھی روزہ ٹوٹ گیا۔
· یہ سمجھ کر کہ ابھی وقت ہے سحری کھالی، بعد میں معلوم ہوا کہ وقت نکل چکا تھا۔ اسی طرح افطار یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوچکا ہے کر لیا اور سورج در حقیقت غروب نہیں ہوا تھا۔ ان دونوں صورتوں میں روزےکی قضا واجب ہے۔
· بے ارادہ، کلی کا پانی، ناک کان میں ڈالی گئی دوا یا پیٹ و سر کے زخم میں ڈالی گئی دوا، معدے یا دماغ میں پہنچ جائے تو اس روزے کی قضا واجب ہوگی۔ (انجکشن کی دوامعدے و دماغ میں نہیں پہنچتی اس لیے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا )۔
· زبردستی کر کے، یا ڈر ا دھمکا کر کسی نے کھلا پلا دیا تو روزہ تو ٹوٹ گیا مگر صرف قضا واجب ہوگی۔
· بے نیت کا روزہ، یا نصف النہار کے بعد نیت کے روزےکی قضا واجب ہے۔
· روزہ میں پسینہ یا آنسو منہ میں چلے گئے جس کی نمکینی محسوس ہوئی، ان کو اگر نگل لیا تو روزہ ٹوٹ گیا، صرف قضا واجب ہوگی۔
· منہ میں پان، یا چیونگم وغیرہ دبا کر سوجائے اور صبح صادق کے بعد آنکھ کھلے تو اس کا بھی روزہ نہیں ہوگا قضا واجب ہے۔
· کنکر پتھر، لوہے کا ٹکڑا یا اور کوئی ایسی چیز جو نہ بطور غذا کھائی جاتی ہو، نہ بطور دوا ،کوئی نگل لے تو اس کا بھی روزہ ٹوٹ جائے گا، صرف قضا واجب ہوگی۔ دانتوں میں اٹکی ہوئی غذا وغیرہ کا ٹکڑا نکال کر منہ سے نکالے بغیر نکل گیا تو اگر وہ چنے جتنا یا اس سے موٹا ہے تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔ ہاں اگر منہ سے نکال کر پھر کھا لیا تو وہ چھوٹا ہو یا بڑا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا، صرف قضا واجب ہے، کفارہ نہیں۔
· گرد و غبار یا دھونی، سگریٹ وغیرہ کا دھواں قصدا ًحلق کے اندر داخل کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، صرف قضاواجب ہے۔
مکروہات صوم
· ذائقے کے لیے کسی چیز کا چکھنا مکروہ ہے۔ بشرط یہ کہ ذائقہ حلق سے نیچے نہ اترے، البتہ سخت گیر اور بد مزاج شوہر کی بیوی، یا کسی کا نوکر ایسا کرے تو مکروہ نہیں۔
· بلا ضرورت و مجبوری کوئی چیز چبانا بھی مکروہ ہے، ہاں بچہ کی کوئی ایسی غذا جو وہ چبائے بغیر نہ کھا سکے تو اس کی اجازت ہے۔
· روزےمیں ایسا کام مکروہ ہے جس سے اتنی کمزوری پیدا ہونے کا اندیشہ ہو جس کی وجہ سے روزہ توڑنا پڑجائے۔
· کلی میں غرارہ کرنا یا ناک میں اوپر تک پانی چڑھانا بھی مکروہ ہے۔
· منہ میں بلاوجہ تھوک جمع کرنا بھی مکروہ ہے۔
· موقع ہوتے ہوئے بھی بلاوجہ صبح صادق کے بعد تک جنابت کی حالت میں رہنا(یعنی غسل میں تاخیر کرنا) روزے کو مکروہ کرنا ہے۔
· منجن، پیسٹ یا کوئلہ چبا کر دانت مانجھنا۔ ان کا کوئی جز حلق سے اتر جائے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ورنہ مکروہ ہوگا۔
· بَک بَک جَھک جَھک، ہنگامہ، شور و غل، مار پیٹ، نا حق ستانا، جھوٹ، غیبت، نا شائستہ گفتگو وغیرہ ایسی باتیں ہیں جو عام دنوں میں بھی انتہائی نا پسندیدہ ہیں اس لیے روزےکی حالت میں ان کی کراہت بدر جہ ہا بڑھ جاتی ہے۔
وہ امور جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا
· بھول کر کھانے پینے وغیرہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا خواہ ایک دفعہ ہو یا کئی مرتبہ۔ کوئی آدمی ایسے روزے دار کو کھاتا پیتا دیکھے، جو اس قدر کمزور ہو کہ روزہ بمشکل برداشت کر رہا ہے تو اسے یادنہ لائے، کھانے دے، ہاں صحت مند طاقتور شخص ایسا کر رہا ہو تو اسے یا د دلانا واجب ہے۔
· روزےکی حالت میں سرمہ لگانا، تیل و خوشبو ملنا اور سونگھنا بالکل جائز ہے۔ حتیٰ کہ سرمے کی سیاہی تھوک یا ناک کی ریزش میں نظر آجائے تب بھی کوئی حرج نہیں۔
· سوتے میں غسل کی حاجت ہوجائے تب بھی روزہ میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔
· بلا قصد وارادہ حلق میں مکھی، گرد و غبار اور دھواں چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ غیر دخانی اشیاو خوشبوجات سونگھنے میں کوئی نقصان نہیں۔
· تھوک تھوڑا ہو یا زیادہ اس کے نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
· پان کھا کر خوب کلی اور غرغرہ کر لے اس کے باوجود تھوک میں سرخی آئے تو کوئی حرج نہیں۔
· منہ کی رال ناک کی ریزش سڑ کنے سے حلق کے نیچے اتر جائے تو بھی روزہ باقی رہتا ہے۔
· بلا قصد وارادہ قے آجائے تو وہ تھوڑی ہویا زیادہ اس سےروزہ نہیں ٹوٹتا اور تھوڑی سی قے ارادے وقصد سے ہوتب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
· تھوک کے سا تھ اتنا خون ہو جس کا ذائقہ محسوس نہ ہو تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
· مسواک خشک ہو یا تازہ حتی کہ نیم کی مسواک کی کڑواہٹ حلق میں محسوس ہو تو بھی مسواک کرنے سے روزے میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔
· کان میں ارادے سے یا بلا ارادہ پانی جائے تو بھی روزہ مکروہ نہیں ہوتا۔
· گرمی کی شدت سے بار بار وضو و غسل کے عمل سے یا کپڑا تر کر کے بدن پر ڈالے رکھنے سے روزے میں کوئی نقصان نہیں آتا۔
نیت کے مسائل
· نیت در اصل دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے اظہار ضروری نہیں۔ روزے میں سحری کھانا بھی نیت ہی ہے۔ ہاں جن کا اسلام سحری کی حد تک ہو ان کے لیے نیت بھی ضروری ہے۔
· رمضان کے ہر روزے کی نیت الگ الگ کی جائے، پورے ماہ کی اجتماعی نیت کافی نہیں۔
· رمضان کے ادا روزوں کی نیت میں فرض کا لفظ ضروری نہیں ہاں جن پر رمضان کے روزے فرض نہیں جیسے مریض، وہ نیت کرے تو فرض کا لفظ بھی کہے۔
· رمضان کے قضا روزوں میں متعین طور پر فرض کی نیت ضروری ہے۔
رات کو اگر نیت کرنا بھول جائے تو :
1. رمضان کے ادا روزوں میں
2. نذر کے ان روزوں میں جن کے دن یا تاریخ متعین کی ہو
3. نفلی روزوں میں نصف النہار(ظہر کی نماز سے دوگھنٹے قبل ) سے پہلے پہلے کسی وقت بھی نیت کر لے ورنہ یہ روزے نہ ہوں گے۔
· ذیل کے چار قسم کے روزوں میں صبح صادق سے پہلے پہلے نیت ضروری ہے، اس کے بعد نیت صحیح نہیں ہوگی:
1. رمضان کے قضا روزے
2. کفارے کے روزے
3. ایسی نذر کے روزے جن کا دن یا تاریخ معین نہ ہو
4. ایسے نفلی روزوں کی قضا جو شروع کر کے توڑ دیے گئے ہوں۔
· رمضان میں کسی بھی نفلی یا دوسرے واجب روزےکی نیت کرے تب بھی وہ رمضان ہی کا روزہ شمار ہوگا۔ رمضان میں کوئی اور روزہ صحیح ہی نہیں۔
· بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نیت کے بعد روزے کے خلاف کوئی عمل نہ کرنا چاہیے جبکہ روزے کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے پہلے کھانا پینا سب درست ہے خواہ اس نے نیت رات کسی بھی وقت کر لی ہو۔
· نفل روزہ وقت پر نیت کر نے سے واجب ہوجاتا ہے۔ پھر اگر اسے توڑ دیا جائے تو اس کی قضا واجب ہوجاتی ہے۔ ہاں نیت کے وقت کے اندر ہی پہلی نیت بدل دی اور روزہ نہ رکھا تو اس کی قضا واجب نہیں۔
· نیت کے الفاظ ادا کرنا چاہے اور رات کو نیت کرے تو یوں کہے :
بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
اور دن میں نیت کرے تو کہے :
نَوَيْتُ بِصَوْمِ الْيَوْمَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
نیت میں عربی الفاظ ہی ضروری نہیں کسی بھی زبان میں کہہ لے۔
وہ عذر جن میں روزہ نہ رکھنا جائز ہے
· وہ معذور یاں جن میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے دس ہیں:
1. سفر
· سفر کی غرض خواہ کچھ ہو اور اس میں ہر طرح کا آرام اور سہولتیں ہوں یا مشقت و تکلیف، مسافر کو بہرحا ل یہ اجازت ہے کہ وہ چاہے تو روزہ نہ رکھے۔ ہاں راحت و آرام کے سفر میں مستحب ہے کہ روزہ رکھ لے کہ رمضان کی برکت اور فضیلت سے محرومی نہ ہو، البتہ تکلیف و مشقت کے سفر میں روزہ نہ رکھنا ہی بہتر ہے۔
· روزے کی نیت یا روزہ شروع ہونے کے بعد سفر پر روانگی ہو تو وہ روزہ پورا کرنا ضروری ہے لیکن کوئی روزہ توڑ دے تو کفارہ لازم نہ ہوگا۔
· مسافر اگر نصف النہار سے پہلے کہیں مقیم ہوجائے اور اس دوران کوئی ایسی بات نہ ہوئی ہو جس سے روزہ فاسد ہوتا ہے تو اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ روزہ رکھ لے، لیکن اس نے اگر روزہ توڑ دیا تو اس پر بھی کفارہ نہیں ہوگا۔
· دوران سفر کہیں قیام کر لیا گو وہ پندرہ دن سے کم ہو تو بہتر یہی ہے وہ روزہ رکھ لے، ایسے وقت روزہ نہ رکھنا مکروہ ہے اور اگر پندرہ دن قیام کا ارادہ کرلیا تو اب اس کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز نہیں۔
2. بیماری
· روزہ رکھنے سے کسی بیماری کے پیدا ہونے کا خطرہ ہو یا یہ خیال ہو کہ دوایا غذ ا نہ ملنے کے سبب بیماری بڑھ جائے گی یا دیر میں صحت ہوگی تو ان باتوں کی وجہ سےروزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی نیک اور ماہر مسلمان طبیب نے ایسی ہدایات یا مشورہ دیا ہو، یا اس کا اپنا بار بار کا تجربہ ہو محض وہم و خیال کی بناپر جائز نہیں۔
· اگر خود اس کا وہم و گمان ہو کہ شاید روزے سے بیماری پیداہوجائے یا موجود مرض بڑھ جائے۔ اس کے لیے نہ طبیب کی کوئی ہدایت ہے اور نہ ہی اس کا اپنا کوئی تجربہ ہے۔ ایسی صورت میں روزہ نہ رکھنے سے گنہگار ہوگا اور رکھا ہوا روزہ توڑ دیا تو کفارہ بھی لازم ہوگا۔
· کسی بے دین اور شرعی امور کی قدر و منزلت کا احساس نہ رکھنے والے حکیم و ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا بھی درست نہیں۔
3. حمل
· روزہ رکھنے سے حاملہ یا بچے کو نقصان پہنچنے کا گمان غالب ہو تو ایسی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
· روزہ رکھ لینے کے بعد خاتون کو حمل کا علم ہوا اور یہاں بھی گمان غالب یہ ہے کہ روزہ پورا کرنا حمل کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ تو وہ روزہ توڑ سکتی ہے، اس کی قضا پھر کر لے، کفار ہ واجب نہ ہوگا۔
4. رضاعت
· ماں کو یہ اندیشہ ہو کہ دودھ پلانے کے زمانےمیں روزہ بچے کے لیے یا خود اس کے لیے شدید نقصان کا باعث ہوگا۔ تو اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
· اتنی استطاعت ہے کہ دودھ پلائی کا انتظام کیا جاسکتا ہے اور بچہ دوسرے کا دودھ پی بھی لے گا تو پھر روزہ چھوڑنا درست نہیں، ہاں بچہ دوسری کسی خاتون کا دودھ پیتا ہی نہ ہو تو پھر روزہ ترک کرنا جائز ہے۔
· اگر ماں کے اپنے دودھ نہیں ہے یا بچے کو ڈبے کے دودھ پر لگا رکھا ہے تو پھر روزہ چھوڑنے کا کوئی جواز نہیں۔ اجرت پر دودھ پلانے والی خاتون کو بھی اپنے یا بچے کے نقصان کا اندیشہ ہو تو وہ بھی روزہ ترک کرسکتی ہے۔
5. بھوک پیاس کی شدت
· بھوک پیاس کی شدت کی برداشت نہ ہو اور حالت ایسی ہوجاتی ہو کہ جان جانے کا یا عقل میں فتور آنے کا اندیشہ ہو تو اسے بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
6. بڑھاپا اور ضعف
· بیماری سے آرام آنے کے بعد کمزوری اتنی ہے کہ روزہ رکھنے سے دوبارہ بیمار پڑجانے کا قوی اندیشہ ہو تو ایسے شخص کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
· اگر بڑھاپے کی وجہ سے کوئی شخص اتنا ضعیف ہوگیا ہے کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی تو اسے بھی اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے۔
7. ہلاکت کا خوف
· اگر کسی محنت و مشقت کی وجہ سے جان جانے کا اندیشہ ہو یا کسی ظالم کے دباؤ اور قبضے میں ہو اور اس نے روزہ رکھنے پر مار ڈالنے یا ہاتھ پاؤں توڑ دینے کی دھمکی دی ہو تو بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
8. جہاد
· جہاد کے لیے کسی ایسی تیاری میں مشغول ہو جس میں روزے کی وجہ سے کمزوری آسکتی ہو تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
· جہاد عملاً جاری ہو یا جلدہی تصادم کا اندیشہ ہو تب بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
· روزہ رکھنے کے بعد جہاد شروع ہوجائے تو روزہ توڑنے کی اجازت ہے، صرف قضا کرنی ہوگی، کفارہ واجب نہیں ہوگا۔
9. بے ہوشی
· اگر کسی پر متواتر کئی دن بے ہوشی طاری رہے، تو ظاہر ہے اس سے ممنوعاتِ روزہ کا ارتکاب تو نہیں ہوگا۔ مگر یہ ایام اس کے روزوں میں شمار نہیں ہوں گے۔ جتنے دن بے ہوشی رہی ہے ان کی قضا واجب ہوگی۔
10. جنون
· پاگل پن کےدورے کی وجہ سے ظاہر ہے وہ روزہ نہیں رکھ سکے گا۔ اس کی دو صورتیں ہیں: اول یہ کہ جنون مسلسل ہے، درمیان میں افاقے کا کوئی وقفہ نہیں، ایسی صورت میں روزے بالکل معاف ہیں۔ نہ قضا واجب ہے نہ فدیہ۔ دوسری صورت یہ کہ جنون کی مدت میں وقفے وقفے سے افاقہ بھی ہوتا رہا تو پھر ان ایام کے روزوں کی قضا واجب ہوگی۔
وہ عذر جن کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز ہے
· اچانک شدید قسم کا کوئی دورہ پڑگیا یا ایسی شدید اور جان لیوا بیماری لاحق ہوگئی، یا موٹر وغیرہ کا حادثہ پیش آگیا یا اوپر سے گر پڑا اور ان کے سبب جان کے لا لے پڑگئے تو اسے روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔
· اچانک کسی بیماری کا حملہ ہوا، جان جانے کا خطرہ تو نہیں البتہ روزہ نہ توڑنے کے سبب بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہے تب بھی روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔
· شدید بھوک پیاس کی وجہ سے جان پر بن گئی اور اندیشہ ہے کہ نہ کھایا پیا تو مرجائے گا، اسے بھی روزہ توڑنا جائز ہے۔
· کسی حاملہ کو ایسا حادثہ پیش آگیا کہ روزہ نہ کھولا تو ماں یا بچے کی جان جاتی رہے گی تو اس وقت بھی روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔
· سانپ یا کسی زہریلے جانور کے کاٹنے کی وجہ سے فوراً دوا وغیرہ استعمال کرانا ضروری ہو تو روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔
· نقاہت اور کمزوری کے باوصف روزہ رکھ لیا اور پھر دن میں محسوس ہوا کہ روزہ نہ کھولا تو جان پر بن جائے گی یا کسی مرض کا شدید حملہ ہوجائے گا تو اسے روزہ کھولنے کی اجازت ہے۔ (روزہ نہ رکھنے اور توڑنے کی اجازت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے روزوں کی قضا یا فدیہ، جیسی صورت ہو دینا ہوگا۔ روزے معاف نہیں ہوں گے۔ البتہ ان کا کفارہ واجب نہیں ہوگا )۔
سحری و افطار
· حضور ﷺکے نزدیک سحری کی جو اہمیت تھی اس کا اندازہ آپ کے ارشاداتِ ذیل سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے :
’’سحری کھا لیا کرو کہ یہ بہت مبارک کھانا ہے ‘‘۔ ’’سحری کا کھانا سر اپا برکت ہے، سحری کھانا کبھی ترک نہ کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پیو۔ اس لیے سحری کھانے والوں پر اللہ رحمت فرماتا اور فرشتے ان کے لیے دعا ئے مغفرت کرتے ہیں‘‘۔ (الترغیب )
· سحری کھانا حضور ﷺکی سنت ہےاور یہود و نصاریٰ کے روزوں کا فرق بھی ہے کہ وہ سحری نہیں کھاتے تھے، اس لیے اگر بھوک نہ ہوتب بھی ایک آدھہ لقمہ، چائے کا ایک کپ یا پانی کے دوچار گھونٹ یا کوئی پھل وغیر ہی کھا لینا چاہیے۔
· سحری میں تاخیر مستحب و پسندیدہ ہے۔ کسی نے سحری جلدی کھالی اور پھر چائے پان کا شغل کرتا رہے تو بھی تاخیر کا اجر ملے گا۔مگر اتنی بھی تاخیر نہ ہو کہ صبح صادق ہوجائے۔
· افطار میں حضورﷺ کو عجلت پسند تھی، آپ کا ارشاد مبارک ہے :’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ وہ بندہ پسند ہے جو افطار میں جلدی کرے‘‘۔(ترمذی) نیز آپ ﷺنے فرمایا :’’جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے اچھے حالوں میں رہیں گے ‘‘۔(بخاری و مسلم )
· تین باتیں پیغمبر انہ اخلاق کی ہیں : سحری تاخیر سے کھانا، افطار جلد کرنا اور نماز میں دایاں ہاتھ بائیں پر رکھنا۔ مطلب یہ ہے کہ جب سورج غروب ہوجائے فوراً افطار کر لے، غیر ضروری احتیاط کے سبب تاخیر پسند یدہ فعل نہیں، ابر والے دن احتیاط کرلے۔
· افطار کے وقت کی دعا ازروئے حدیث مقبول ہے، اس لیے جو دل چاہے دعا کرے۔ حضورﷺبوقت افطار یہ فرماتے تھے :
اللَهُمَّ لك صُمْتُ، وعلى رِزْقِكَ أفْطَرْتُ. (سنن أبي داود، كتاب الصوم، باب القول عند الإفطار)
ترجمہ: اے اللہ میں نے روزہ تیری رضا کے لیے رکھا اور (اب ) تیرے رزق سے افطار کیا۔
ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللهُ. (سنن ابي داود، كتاب الصوم، باب القول عند الإفطار)
ترجمہ: پیاس بجھ گئی، رگیں سیراب ہوئیں اور ان شاء اللہ ثواب ملے گا۔
روزوں کی قضا
· رمضان میں جو روزے چھوٹ گئے ہوں ان کی قضا جتنا جلد ہوسکے رکھ لے۔ ان روزوں کا مسلسل رکھنا اور عذر ختم ہونے کے فوراً بعد ہی رکھنا ضروری تو نہیں، مو قع سے ایک ایک دو دو کرکے بھی رکھ سکتا ہے لیکن زندگی کا کیا بھروسا، اس لیے بہتر ہے کہ جلد ان سے فارغ ہوجائے۔
· روزے کی قضا میں ترتیب ضروری نہیں۔ مثلاً کچھ قضا روزے باقی تھے کہ رمضان آگیا تو اب ادا روزے رکھے، قضا رمضان گزرنے کے بعد رکھے۔
· قضا روزوں کے لیے دن تاریخ کا حوالہ بھی ضروری نہیں بلکہ جتنے قضا ہوئے اتنے ہی رکھے، البتہ اگر دو تین سال کے قضا ہوں تو یہ تعین ضروری ہے کہ کون سے سال کے رکھ رہا ہے، اس کا ذکر نیت میں ضروری ہے۔
· قضا روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے کرنی ضروری ہے۔ صبح صادق کے بعد نیت کی تو وہ روزہ نفلی ہوگا۔ قضا ذمہ رہے گا۔
· جن عذروں کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کی اجازت تھی مثلاً سفر، بیماری وغیرہ، اگر ان کے دوران یا ان کے ختم ہونے کے فوراً بعد انتقال ہوجائے اور اسے قضا رکھنے کی مہلت ہی نہ ملی تو ان روزوں کی قضا واجب نہیں، وہ عنداللہ معاف ہیں۔ ہاں جتنے دن کی مہلت ملی تو اتنے دن کے روزوں کی قضا واجب ہے (ان کے فدیے کی وصیت کر جائے )۔
کفارےکے مسائل
روزوں کا کفارہ ساٹھ دن کے متواتر روزے رکھنا ہے۔
· ایک رمضان کے کئی روزے توڑدیے ہوں تب بھی ایک ہی کفارہ واجب ہوگا۔ کفارے کے روزوں میں ایک دن کا ناغہ بھی ہوجائے تواز سرِ نو پھر سے ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے۔
· حیض کا اس تواتر میں استثنا جائز ہے(یعنی ساٹھ روزے مکمل ہونے سے قبل ہی حیض کے ایام شروع ہوگئے تو حیض کے انقطاع پر وہیں سے تعداد شمار ہوگی جہاں حیض سے قبل رکی تھی، از سر نو تعداد شروع نہیں ہوگی) بشرط یہ کہ حیض سے پاک ہونے کے فوراً بعد دوسرے دن سے روزے شروع کر دے، ایک دو دن کا وقفہ ہوگیا تو نئے سرے سے ساٹھ رکھنے ہوں گے۔
· درمیان میں اگر رمضان آجائے، یا بیماری لاحق ہوجائے یا عورت کو نفاس آجائے۔ تو بھی تواتر ختم ہوجائے گا اور نئے سرے سے ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے۔
· اگر کہیں صحیح قسم کے غلام پائے جاتے ہوں تو کفارے میں ایک غلام آزاد کرنے سے بھی کفارہ ادا ہوجائے گا۔
· اگر کسی میں ساٹھ روزے رکھنے کی ہمت نہ ہو۔ (غلام بھی میسرنہ آئے ) تو ساٹھ مسکینوں فقیروں، کو دونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلائے، ان میں بچے شمار نہیں ہوں گے، مرد عورت جو ہوں پوری عمر کے ہوں۔
· ایک مسکین کو ساٹھ دن کھلانا بھی جائز ہے، اس میں تسلسل اور تواتر شرط نہیں۔
· گندم کی روٹی کے ساتھ تو سالن ضروری نہیں کسی اور اناج کی روٹی ہو تو اس کے ساتھ سالن بھی دے۔
· کھانا کھلانے کے بجائے کچا اناج یا اس کی قیمت دینابھی جائز ہے، فی روزہ فی مسکین دوکلو گندم (احتیاطاً )یا ان کی قیمت بھی دینا جائز ہے، اگر دوکلو سے کم گندم یا کم قیمت دی تو کفارہ صحیح نہیں ہوگا۔
· ساٹھ آدمیوں کا اناج یا اس کی قیمت ایک مسکین کو یکمشت دینا یا ایک دن میں ساٹھ مرتبہ کر کے دینا جائز نہیں۔ اس سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ یا تو ساٹھ محتاجوں کو دے، اگر ایک ہی کودینا ہے تو ساٹھ دن دے، اور ہردن پورا ناج یا اس کی قیمت دے، نہ کم دے نہ زیادہ۔
· پانچ آدمیوں کو بارہ دن یا دس آدمیوں کو چھ دن کھلانا، یا اناج یا اس کی قیمت دینا بھی جائز ہے۔ علی ہذا القیاس
فدیے کے مسائل
· کوئی اتنا ضعیف اور بوڑھا ہے کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں، یا ایسا اور اتنا بیمار ہے کہ اچھا ہونے کی امید نہیں تو وہ روزہ نہ رکھے اور ایک روزےکے بدلےایک محتاج کو صبح و شام پیٹ بھر کھانا کھلا دے۔ یاصدقے فطرے کے برابر غلہ (دوکلو گندم ) یا اس کی قیمت دے دے۔ شرعاً یہ فدیہ کہلاتا ہے۔
· فدیے کی گندم کئی محتاجوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔
· فدیہ ادا کرنے کے بعد اگر طاقت آگئی یا بیمار اچھا ہوگیا تو اب روزے رکھنے پڑیں گے۔ فدیے کا الگ ثواب ملے گا۔
· اپنی زندگی میں اگر فدیہ نہ دے سکے تو اس کی وصیت کر جائے، مرحوم کے تر کے میں سے تجہیز و تکفین اور قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچے اس کے تہائی حصے میں سے یہ فدیہ ادا کیا جائے گا۔ اگر فدیہ زیادہ ہو اور تہائی مال کم ہو تو اس کے وارث اجازت دیں تو اس کے مال سے دے دیا جائے، وارثوں میں اگر کوئی نابالغ ہو تو اس کی اجازت کا اعتبار نہ ہوگا۔
· روزےکے بدلے کوئی وارث روزہ نہیں رکھ سکتا، یہی نماز کا بھی حکم ہے۔
· اگر وصیت نہ کی ہو تو وارث اپنی طرف سے فدیہ دے سکتے ہیں۔
نماز تراویح
· تراویح ترویحہ کی جمع ہے۔ چار رکعت کے بعد وقفۂ استراحت کو ترویحہ کہتے ہیں۔ اس نماز کی بیس رکعتوں میں چار ترویحے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس مسنون نماز کو تروایح کہنے لگے یعنی وقفہ استراحت والی نماز۔
· نماز تراویح سنتِ مؤکدہ ہے خود نبی کریم ﷺنے بھی اس کا اہتمام فرمایا اور صحابہ کرام کی پوری جماعت نے اہتمام کے ساتھ پابندی فرمائی۔ اب اگر بغیر عذر کوئی اسے ترک کرے گا وہ گنہگار ہوگا۔
· نماز تراویح روزے کے تابع نہیں، یہ مستقبل عبادت ہے اس لیے یہ سمجھنا غلط ہے کہ تراویح روزے دار ہی کے لیے ضروری ہے۔ کسی وجہ سے کوئی روزہ نہ رکھ سکے اسے بھی تراویح پڑھنا ضروری ہے۔
· جس رات رمضان کا چاند نظر آئے اسی رات سے تراویح شروع ہوجاتی ہے اور جس رات عید کا چاند دکھائی دے تراویح ختم ہوجاتی ہے۔
· تراویح کا وقت عشا کی نماز کے بعد ہے۔ عشا سے پہلے کوئی تراویح پڑھ لے تو تراویح نہیں ہوگی۔ حتی کہ اگر کسی وجہ سے عشاکی نماز دہرانی پڑے تو تراویح بھی دہرانی ہو گی۔
· حضور اکرمﷺ نے بنفسِ نفیس چند روز تراویح با جماعت پڑھائی۔ پھر ازراہِ شفقت و رحمت صحابہ کرام ؓ کو اپنے گھروں پر پڑھنے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا میں اس اندیشےکی بنا پر یہ سلسلہ جاری نہیں رکھنا چاہتا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے جس کی تم ہمیشہ پابندی نہ کرسکو۔(مسلم )
· چونکہ تئیس، پچیس، ستائیس رمضان کو خود آپﷺنے تراویح باجماعت پڑھائی تھی اس لیے آپ کے وصال کے بعد صحابہ کرام ؓ متفرق طور پر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں تراویح با جماعت پڑھ لیا کرتے تھے تا آنکہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓ نے باقاعدہ اس کی جماعت قائم فرمائی اور صحابہ کرام ؓ نے بخوشی اسے قبول فرمایا اور بعد میں بھی کسی خلیفہ راشد ؓ نے اس سنت کی مخالفت نہیں فرمائی، اسی لیے علماے امت نے تراویح کی جماعت کو سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ فرمایا ہے۔
· تراویح کی بیس رکعتیں اجماع صحابہ ؓ سے ثابت ہیں، تینوں خلفائے راشدین ؓ نے بھی اس اجماع کی پیروی فرمائی۔ امام اعظم ابو حنیفہ ؒ ، امام شافعی ؒ اور امام احمد ؒ بھی بیس ہی رکعات کے قائل ہیں۔ ایک قول امام مالک ؒ کا بھی اسی کے موافق ہے، امام ابو داؤد ظاہری ؒ نے بھی اسی کو سنتِ ثابتہ فرمایا (ویسے امام مالک ؒ چھتیس رکعت کے قائل ہیں)۔
· یہ بیس رکعت دو دو رکعت کی نیت سے پڑھی جائیں اور ہر چار رکعت کے بعد اتنی دیر بیٹھنا مستحب ہے جتنی دیر میں یہ چار رکعت پڑھی گئیں۔
· وتر کی نماز بھی صرف رمضان میں جماعت سے پڑھنا ثابت ہے اور مہینوں میں وتر با جماعت جائز نہیں۔
· ویسے تو رمضان المبارک میں ایک بار ترتیب کے ساتھ پورا قرآن مجید ختم کرنا سنت مؤکدہ ہے صحابہ کرام اس کا اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت عمر فاروق ؓ تراویح کی با جماعت نمازمیں پورا قرآن سنانے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔
· وتر کی نماز تراویح کے بعد افضل ہے۔ اگر کسی وجہ سے کسی نے کچھ تراویح یا ساری تراویح سے قبل وتر پڑھ لیے تو جائز ہے۔
· اگر کوئی عشا کی نماز کے بعد آئے تو پہلے عشاکے فرض پڑھے، پھر تراویح میں شریک ہو، چھوٹی ہوئی تراویح وقفۂ استراحت میں پڑھے یا وتر کے بعد۔
· فرض اور وتر ایک امام پڑھائے اور تراویح دوسرا امام یہ جائز ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ فرض و وتر پڑھاتے تھے اور تراویح کی امامت ابی بن کعب ؓ فرماتے تھے۔
· کسی وجہ سے تراویح کی رکعت دہرانی پڑے تو اس میں پڑھا جانے والا قرآنی حصہ بھی لوٹایا جائے۔
· ختم قرآن کا یہ مسنون ادب ہے کہ جب قرآن ختم ہو تو فوراً ہی دوسرا شروع کردیا جائے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے کہ جب ایک بار قرآن ختم ہو تو دوسرا فوراً شروع کر کے أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَتک پہنچا کر چھوڑ دیا جائے۔ لہٰذا حفاظِ کرام کو چاہیے کہ انیسویں رکعت سورۃالناس پر ختم کریں، بیسویں میں الحمدکے بعد الم سے هُمُ الْمُفْلِحُونَ تک پڑھ کر رکعت ختم کریں۔
· عشا کی نماز اگر کسی نے با جماعت نہ پڑھی ہو وہ تراویح اور وتر با جماعت پڑھ سکتا ہے۔
اعتکاف کا بیان
· شریعت میں اعتکاف کا مطلب ہے کہ آدمی دنیاوی تعلقات و مصروفیات اور اہلِ خانہ سے الگ مسجد میں قیام کرے، مساجد چونکہ اللہ کے گھر ہیں اس لیے معتکف ایک طرح اللہ تعالیٰ کا پڑوسی اور اس کے گھر میں مہمان ہے اور مقصد یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی معيت میں اپنے شب و روز بسر کرے، تاکہ معیت مع اللہ کا ملکہ اس میں راسخ ہو۔
· بہتر تو یہ ہے کہ مسجد ایسی ہو جس میں جمعہ و جماعت کا انتظام و اہتمام ہو۔ ویسے جائز ہر مسجد میں ہے۔
· خانہ کعبہ کا اعتکاف (یعنی مسجد الحرام میں ) سب سے افضل ہے، اس کے بعد مسجد نبوی کا، پھر بیت المقدس کا، اس کے بعد ایسی مسجد کا جس میں جمعہ و جماعت کا نظم ہو، پھر اس مسجد کا جس میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو۔
· اعتکاف کی تین قسمیں ہیں:۔
1. واجب :یہ نذر کا اعتکاف کا ہے۔
2. مستحب :رمضان کے عشرۂ اخیرہ کے علاوہ کا اعتکاف خواہ رمضان میں ہو یا کسی اور ماہ میں
3. سنت مؤ کدہ علی الکفایہ: یہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ حضور ﷺبڑے اہتمام سے ہرسال یہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال ناغہ ہوا تو دوسرے سال آپ نے بیس روز کا اعتکاف فرمایا ہے۔ وصال تک آپ کا یہی معمول رہا۔
· سنت علی الکفایہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی بستی، محلے یا شہر میں اگر کچھ افراد بھی اس عشرے کا اعتکاف کر لیں تو باقی آبادی کے لیے یہ کافی ہوگا ورنہ سب کے سب گنہگارہوں گے۔ اعتکاف مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مستوارت اپنے گھر کے ایک گوشے میں معتکف ہوں اور مرد مساجد میں۔
شرائطِ اعتکاف
· اعتکاف کی چار شرطیں ہیں :
1. مسجد (مردوں کے لیے )
2. نیت
3. حدث اکبر (حالت غسل و حیض و نفاس ) سے پاکی
4. روزہ
· نذر کا اعتکاف غیر رمضان میں بھی ہوسکتا ہے، اس لیے روزہ اس کے لیے شرط ہے۔ یہ اعتکاف کم از کم ایک روز کے لیے ہوتا ہے،زیادہ کے لیے کوئی قید نہیں۔ اس لیے وہ روزہ نہ رکھنے کی نیت کر لے تو وہ نیت معتبر نہیں روزہ رکھنا ہی ہوگا۔
· مستحب اعتکاف کے لیے کوئی مدت نہیں چند گھنٹوں بلکہ چند منٹوں کابھی ہوسکتا ہے، اس کے لیے روزہ شرط بھی نہیں۔
· سنتِ مؤکدہ اعتکاف تو ہوتا ہی رمضان کے عشرۂ اخیرہ کا ہے اس لیے اس کے لیے بھی روزے کا کیا سوال ؟
· اعتکاف ِ واجب اگر فاسد ہوجائے تو اس کی قضا واجب ہے۔ مستحب و مسنون اعتکاف کی قضا واجب نہیں۔
· اعتکاف مسنون کا وقت بیس رمضان کو غروب آفتاب سے شروع ہو کر عید کا چاند نظر آنے پر ختم ہوجاتا ہے، رمضان چاہے انتیس کا ہو یا تیس کا۔ اس لیے غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے مردوں کو مسجد میں داخل ہونا چاہیے اور عورتوں کو گھر کے اس گوشے میں بیٹھ جانا چاہیے جہاں اعتکاف کرنا ہے۔
· اعتکاف ِمستحب کا نہ کوئی مہینا مقرر ہے نہ وقت، وہ جب بھی مسجد میں آئے یہ نیت کر لے کہ میں جب تک مسجد میں ہوں اعتکاف کی نیت کرتا ہوں۔
· اعتکافِ واجب کے لیے چونکہ روزہ شرط ہے اس لیے اس کی کم سے کم مدت ایک دن ہے، چند گھنٹوں کے اعتکاف کی منت ماننا بے معنی بات ہے۔
اعتکاف میں جائز امور
· قضائے حاجت اور غسل فرض کا انتظام مسجد میں نہ ہوتو ایسی جگہ جاسکتا ہے جو جائے اعتکاف سے قریب تر ہو، اگر کوئی ایسی جگہ نہ ہو تو پھر اپنے گھر جاسکتا ہے، مسجد میں انتظام ہو تو پھر باہر جانا جائز نہیں مگر جس ضرورت سے گیا ہے وہ پوری کر کے فوراً آجائے۔ ضروریات سے متعلق گفتگو کے علاوہ کوئی گفتگو نہ کرے۔
· کھانے کے لیے بھی باہر جاسکتا ہے۔ بشر طیکہ کوئی لانے والا نہ ہو ورنہ کھانا بھی مسجد میں کھائے۔
· ایسی مسجد میں معتکف ہے جہاں نہ جمعہ ہوتا ہے نہ جماعت تو نماز جمعہ اور پنج وقت نماز کے لیے باہر جاسکتا ہے۔
· شرعی (نمازجمعہ وغیرہ ) یا طبعی ضرورت کے لیے باہر نکلا، اس دوران کسی مریض کی عیادت یا نماز جنازہ میں شریک ہوگیا تو کوئی حرج نہیں۔
· جائے اعتکاف سے جبراً کوئی با ہر نکال دے یا باہر روک لےتو اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔
· کہیں آگ لگ جائے، کوئی کنویں میں گررہا ہو یا کوئی کسی کو قتل کر رہا ہو اور اس کےسوا کوئی بچانے یا امداد کرنے والا موجود نہ ہوتو جائے اعتکاف سے اس کا نکلنا جائز ہی نہیں ضروری ہوجاتا ہے مگر اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
· اعتکاف کے وقت کسی جنازے میں جانے کی نیت کر لی تھی تو جانا جائز ہے ورنہہ نہیں۔
· دوران اعتکاف ذکر،اوراد وظائف، تسبیح و تہلیل میں مشغولی، تلاوت قرآن، درودشریف، دینی کتب کا مطالعہ، وعظ و نصیحت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، غور و تدبر یہ سب باتیں مستحب ہیں۔
· بوقت ضرورت دینی یا طبی مشورہ لینا دینا، سونا، آرام کرنا جائز ہیں۔
اعتکاف میں ناجائز امور
· دنیاوی امور میں مشغولی، فضول ولا یعنی باتیں، جنسی دل لگی، یا گم صم بیٹھے رہنا، مسجد میں خریدوفروخت، سوداگری، لڑائی جھگڑا، بحثا بحثی، غیبت، دوسروں کی دل آزاری وغیرہ مکروہ تحریمی ہیں۔
· شرعی و طبعی ضروریات کے بغیر اعتکاف سے باہر نکلنا یا ضرورت سے باہر نکلنا مگر بلا ضرورت باہر ہی ٹھہر جانا جائز نہیں، اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔
لیلۃ القدر
· یہ رمضان المبارک کی اتنی فضیلت و برکت کی رات ہے کہ اس میں عبادت کرنے والے کو ایک ہزار مہینوں میں عبادت کرنے سے بھی زیادہ اجر و ثواب عطا ہوتا ہے۔
· آیتِ لیلۃ القدر کے نزول کے سلسلے میں امام سیوطی ؒ نے یہ روایت نقل کی کہ حضورﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کے سامنے بنی اسرائیل کے ایک مجاہد کا تذکرہ فرمایا جس نے اللہ کے لیے ایک ہزار مہینے جہاد میں بسر کیے تھے۔ صحابہ کرام ؓ کو یہ واقعہ سن کر حسرت پیدا ہوئی کہ ہم بھلا اتنی عظیم نعمت کس طرح حاصل کرسکتے ہیں تو اللہ عالیٰ نے ان کی تسکینِ خاطر کے لیے آیتِ قدر نازل فرمائی کہ تم اگر لیلۃ القدر میں عبادت کر لو تو ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ اجر و ثواب کی نعمت حاصل کرسکتے ہو۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس ایک رات کو اتنی قدر، عظمت اور فضیلت اس لیے بخشی گئی کہ اس میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ جب قرآن کریم کے نزول کے باعث ایک رات اتنی عظیم القدر ہوگئی تو اندازہ کیجیے خود قرآن کریم کتنی عظمتوں برکتوں اور فضیلتوں والی کتاب ہوگی۔
· اس رات میں انجام پانے والے کچھ امور کی جھلکیاں قرآن کریم کی ان دو آیات میں نظر آتی ہیں، ارشاد ہے:
’’اس رات میں ہمارے ہاں سے طے شدہ تمام معاملات کےنا قابل تبدیل فیصلے نافذ کیے جاتے ہیں‘‘۔ (سورہ دخان: 4،5)
’’ اس رات میں جبرئیل ؑ اپنے (کارگزار) فرشتوں کو لے کر اپنے رب کی اجازت سے اس کے جملہ امور کی انجام دہی کے لیے نزول کرتے ہیں ۔(سورہ قدر: آیت 4)
(گویا اس رات میں فیصلے کیے بھی جاتے ہیں اور ان کا نفاذ بھی اسی رات ہوتا ہے )۔ رسولﷺ کی رحمت اللعالمینی چاہتی تھی کہ اس عظیم الشان رات کی تعیین اپنے محبوب جاں نثاروں پر واشگاف فرمادیں مگر مصلحت ِ ربانی نہ تھی، اس لیے زبان تک آئی بات فراموش ہوگئی، تاہم اتنی اجازت مل گئی کہ اس کا کچھ اتا پتا بتا دو، چنانچہ بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ارشاد ہوا:
’’لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔(بخاری )
· معاملہ صرف پانچ راتوں کا رہ گیا تھا کہ اکیس، تئیس ،پچیس ، ستائیس اور انتیس کو جاگ لو تین سو ساٹھ راتوں کو بے شک سوئے رہنا، انہی پانچ راتوں میں سے قدر والی رات ہاتھ آجائے گی اور ہزار مہینوں کی راتوں جتنا خزانہ دامن میں بھر لو گے مگر غالباً آپ پر یہ بھی منکشف کردیا گیا تھا کہ ایسے محروم القسمت بھی آپ کی امت میں موجود ہوں گے جن پر ایک رات کی بیداری بھی شاق گزرے گی اور کوئی جاگے گا بھی تو اس کی دلچسپیاں اس رات کی فضیلت و نعمت کے حصول کی بجائے اس سے محرومی کے لیے ہوں گی، تب ہی غالباً آپ نے یہ ارشاد فرمایا :’’لوگو! تم پر ایک مہینا آیا ہے جس میں ایک ایسی رات ہے جو فضیلت میں ایک ہزار مہینوں پر بھاری ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا وہ خیرِ مکمل سے محروم رہ گیا، اور اس شب کی خیر و برکت سے وہی محروم رہتا ہے جو واقعی محروم (ازلی) ہے‘‘۔ (ابن ماجہ)
دعا ےخاص
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ’’ میں نے نبی اکرمﷺ سے کہا کہ یارسول اللہ! اگرمجھے کسی طرح لیلۃ القدر کا پتہ چل جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو فرمائیے میں اپنے اللہ سے کیا دعا کروں ؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کا ورد رکھو: اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي، میرے مولا ! تو بہت ہی معاف کرنے والا اور بڑا ہی کریم ہے، تجھے معاف کرنا پسند بھی بہت ہے بس تو مجھے بھی معاف فرمادے‘‘۔
· اللہ کے بہت سے نیک بندوں کو یہ دولت حاصل ہوئی، کسی کو کبھی؛ کسی کو کبھی، ان کی روایات میں مختلف تاریخیں ملتی ہیں مگر کثرت سے ستائیسویں شب کا ذکر آتا ہے۔
عید الفطر
· عید الفطر رمضان المبارک کی عبادات کے انعام دیے جانے کا دن ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے روزے دار مومن بندوں کی میزبانی کا دن ہے۔ اس لیے اس دن کا روزہ حرام کردیا گیا ہے، آج خوشیاں مناؤ کہ خیر و عافیت کے ساتھ روزوں کی تکمیل سے فراغت پائی۔ انعاماتِ ربانی کی اس دن بھی فراوانی ہوتی ہے، انہی انعامات کی شکر گزاری کے لیے دوگانہ واجب کیا گیا۔ اسی کے ساتھ ایک مالی ذمے داری بھی بجا لانے کا حکم ہے جسے مسلمان صدقۂ فطر کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ آج کی خوشیوں میں اس کے خاک بسر بند ے بھی برابر کے شریک رہیں۔ اس لیے ہر کھاتے پیتے فرد کے ذمے لگادیا گیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال حتی کہ عید کی صبح ِصادق سے پہلے اس عالمِ آب و گِل میں جس نے آنکھ کھولی ہے اس کی طرف سے بھی فطرہ ادا کرو۔
فطرے کے مسائل
· صدقۂ فطر ہر اس شخص پر واجب ہے جسے عرف ِعام میں کھاتا پیتا کہاجاتا ہے، جس پر گو زکات فرض نہ بھی ہو مگر اسبابِ ضروری کے علاوہ اس کے پاس اتنی مالیت کا مال و اسباب ہو جس پر زکات واجب ہوتی ہے اس پر صدقۂ فطر واجب ہوجاتا ہے، چاہے وہ مال تجارتی ہو یا غیر تجارتی اس پر سال گزرا ہو یا نہ۔
· جس نے روزے رکھے ہوں یا نہ رکھے ہوں، سب پر صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے۔
· نا بالغ بچوں کا صدقۂ فطر باپ پر واجب ہے اور اگر وہ مالدار ہوں تو ان کے مال سے دے، بالغ اولاد میں سے کوئی پاگل ہو تو اس کی طرف سے بھی باپ کو دینا چاہیے۔
· بہتر تو یہ ہے کہ صدقۂ فطر عید کی نماز سے پہلے دے دیا جائے، رمضان میں اگر کسی نے دے دیا تو بھی ادا ہوگیا۔
· عید کے دن بھی کسی نے فطرہ نہ دیا تو کسی اور دن دےدے، عید گزرنے سے فطرہ معاف نہیں ہوتا۔
· جن کو زکات دینا جائز ہے فطرے کے بھی وہی مستحق ہیں۔ البتہ فطرہ کافر محتاج کو بھی دیا جاسکتا ہے، زکات کافر کو نہیں دی جاسکتی۔
· فطرے میں گندم، گندم کا آٹا یا ستو دینا ہوتودو کلو دے۔ جو یا اس کا آٹا دینا ہو تو چار کلو دے، دیگر اناج دینا ہو تو اس میں وزن کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ جتنی قیمت دوکلو گندم یا چار کلو جوکی بنتی ہو اتنی قیمت کا دیگر اناج دے۔
· گندم یا جو کے بجائے ان کی قیمت دےدے تو بہتر ہے۔
· جو گندم یا آٹا خود گھر میں کھاتا ہے اس کی قیمت دینا بہتر ہے۔
· ایک آدمی کا فطرہ ایک فقیر کو یا کئی فقیر وں کو دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کئی آدمیوں کا فطرہ بھی ایک محتاج کو دینا جائز ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُللهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ. وَعَلَى آلِهٖ وَأَصْحَابِهٖ أَجْمَعِيْنَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِميْنَ۔
*****