Apr
25
2020
ایک شخص دوسری رکعت میں جماعت کے ساتھ شامل ہوا ، امام صاحب نے سابقہ کسی غلطی کی وجہ سے آخری رکعت میں سجدہ سہو کیا تو مسبوق بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیرے گا اور بعد تک انتظار کرے گا یا پھر یہ کہ امام کے سجدہ سہو کے وقت بقیہ نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑا ہوجائے؟
الجواب باسم ملهم الصواب
اگر امام پر سجدہ سہو واجب ہو گیا اور وہ سجدہ کر رہا ہے، تو مسبوق امام کے ساتھ سجدہ سہو کے دونوں سجدے کرے ، لیکن امام کے ساتھ سہو سے پہلے والا سلام نہ پھیرے۔اگر مسبوق کو یہ بات یادہے کہ اس کی نماز باقی ہے، اس کے باوجود امام کے ساتھ سلام پھیر دیا، تو مسبوق کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اس نماز کو شروع سے دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا۔ اور اگر مسبوق نے امام کے ساتھ بھولے سے سلام پھیر دیا ہے تو نماز فاسد نہیں ہوگی اور اس کو چاہیے کہ کھڑے ہوکر بقیہ نماز مکمل کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔
(قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ بحر، وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية. وفيه: ولو سلم على ظن أن عليه أن يسلم فهو سلام عمد يمنع البناء.(قوله سواء كان السهو قبل الاقتداء أو بعده) بيان للإطلاق، وشمل أيضا ما إذا سجد الإمام واحدة ثم اقتدى به. قال في البحر: فإنه يتابعه في الأخرى ولا يقضي قضاء الأولى كما لا يقضيهما ولو اقتدى به بعدما سجدهما (قوله ثم يقضي ما فاته) فلو لم يتابعه في السجود وقام إلى ما سبق به فإنه يسجد في آخر صلاته استحسانا لأن التحريمة متحدة فجعل كأنها صلاة واحدة بحر وغيره فافهم. (رد المحتار،كتاب الصلاة ، باب سجود السهو)
والله اعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4285