Menu

Fatawaa

جماعت سے فوت شدہ رکعات کی ادائیگی میں غلطی

Apr 04 2020

 سعودیہ میں ایک خاتون نے جماعت کے ساتھ کئی نمازیں ادا کی ہیں، بعض اوقات وہ مسبوق بھی ہوجاتی تھیں تو فوت شدہ رکعات کو پہلی دوسری رکعت کی طرح پڑھنے کی بجائے آخری یعنی تیسری اور چوتھی رکعت کے انداز میں پڑھتی تھیں. یعنی اس میں ثنا اور سورت نہیں ملاتی تھیں بلکہ صرف سورۃ الفاتحہ پڑھتی تھیں. بعد ازاں انہیں یہ مسئلہ معلوم ہوا تو اب ان نمازوں کا کیا حکم ہے؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

جماعت سے چھوٹ جانے والی رکعات کی قضا کرتے ہوئے پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک سورت، تین چھوٹی آیات یا ایک بڑی آیت ملانا واجب ہے۔ جس نماز میں یہ واجب ترک ہوا ہے وہ واجب الاعادہ ہے،  اس لیے جتنی نمازوں میں یہ غلطی ہوئی ہے انھیں شمار کر کے ان کا اعادہ کیا جائے۔ اگر تعیین مشکل ہو تو اندازہ لگا کر نمازوں کی تعداد متعین کر لیں اور حسب استطاعت ان نمازوں کا اعادہ کرتی رہیں۔ اور تعداد کی تعیین میں جو کمی کوتاہی ہوئی ہو اس کی تلافی کے لیے توبہ و استغفار کیا جائے۔ اللہ تعالی سے مغفرت کی امید رکھیں۔
(الف) يجب تعيين الأوليين من الثلاثية والرباعية المكتوبتين للقراءة المفروضة حتى لو قرأ في الأخريين من الرباعية دون الأوليين أو في إحدى الأوليين وإحدى الأخريين ساهيا وجب عليه سجود السهو كذا في البحر الرائق . . . ولو أدرك رکعتین قضی رکعتین بقراءة ولو ترك فی إحداهما فسدت. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة)
(ب) أقول: فتلخص من هذا كله أن الأرجح وجوب الإعادة، وقد علمت أنها عند البعض خاصة بالوقت، وهو ما مشى عليه في التحرير، وعليه فوجوبها في الوقت ولا تسمى بعده إعادة، وعليه يحمل ما مر عن القنية عن الوبري، وأما على القول بأنها تكون في الوقت وبعده كما قدمناه عن شرح التحرير وشرح البزدوي، فإنها تكون واجبة في الوقت وبعده أيضا على القول بوجوبها. وأما على القول باستحبابها الذي هو المرجوح تكون مستحبة فيهما، وعليه يحمل ما مر عن القنية عن الترجماني. وأما كونها واجبة في الوقت مندوبة بعده كما فهمه في البحر وتبعه الشارح فلا دليل عليه. وقد نقل الخير الرملي في حاشية البحر عن خط العلامة المقدسي أن ما ذكره في البحر يجب أن لا يعتمد عليه لإطلاق قولهم: كل صلاة أديت مع الكراهة سبيلها الإعادة. اهـ. قلت: أي لأنه يشمل وجوبها في الوقت وبعده: أي بناء على أن الإعادة لا تختص بالوقت. (رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت)

والله أعلم بالصواب

فتوی نمبر: 4287