Apr
02
2020
نماز جنازہ کے موقع پر اگر امام اجتماعی طور پر کہے کہ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص پڑھو اور ہم نہ پڑھیں تو وہ اعتراض کرتے ہیں تو انہیں کیا جواب دیا جائے؟ دوسری بات یہ ہے کہ کیا نماز جنازہ کے بعد وہیں کھڑے ہوکر اجتماعی دعا کی جاسکتی ہے؟
الجواب باسم ملهم الصواب
دین کا جو عمل جس طرح ثابت ہے اسی طرح عمل کرنا ہے۔ یہ دین ہے، اس میں اپنی طرف سے اضافہ، ترمیم یا غیر ثابت شدہ عمل کو لازم اور ضروری قرار دینے سے وہ عمل بدعت کے حکم میں داخل ہوکر ناجائز ہوجاتا ہے۔ جنازے کے موقع پر اجتماعی طور پر سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص پڑھنا یا نماز جنازہ کے بعد کھڑے ہوکر اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا قرآ ن و سنت، صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے۔ اس لیے اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنامکروہ، ممنوع و بدعت ہے۔ ہاں انفرادی طور پر ہاتھ اٹھائے بغیر دل میں دعا کرنا جائز ہے۔
لا يقوم بالدعاء في قراة القرآن لاجل الميت بعد صلاة الجنازة (خلاصة الفتاوى، كتاب الصلاة، المجلد الاول، الصفحة 225، المكتبة الرشيدية)
والله أعلم بالصواب
فتویٰ نمبر: 4329