Nov
22
2019
سوال: السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ اگر دو شخص باہم رضامندی سے قربانی کے لیے جانور بیچنے کے حوالے سے اس طرح معاملہ طے کریں کہ ایک شخص جانور خریدے گا اور دوسرا شخص (خریدنے والے سے خرچہ لیے بغیر) ان کو پالے گا اور جب ان میں سے کسی جانور کو بیچا جائے گا تو پہلے وہ قیمت جو جانور کو خریدتے وقت ادا کی گئی تھی اس کو الگ کرکے اسے دی جائیگی جس نے وہ جانور خریدا تھا اور پھر منافع کو آدھا آدھا تقسیم کیا جائے گا تو کیا ایسا معاملہ درست ہوگا؟
الجواب باسم ملهم الصواب
أحمدہ و أصلي علی رسوله الكریم ، أما بعد:
صورت مسئولہ میں ذکر کردہ معاملہ درست نہیں کیوں کہ جانور خرید کر نصف نفع کی شرط پر دیکھ بھال کے لیے دینا شرکتِ فاسدہ کہلاتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔ اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ معاملہ اس طرح کیا جائے کہ جانور خریدنے والا کل نفع کا حقدار ہو اور دوسرے شخص کے لیے متعین اجرت مقرر کی جائے جو اسے ہر صورت دی جائے۔
(والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها والأجر بينهما، فالشركة فاسدة والربح للمالك وللآخر أجر مثله(الدر المختار، كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة)
رابعا: وكثيرا ما يقع أيضا في شركات البهائم، أن يكون لرجل بقرة، فيدفعها إلى آخر ليتعهدها بالعلف والرعاية، على أن يكون الكسب الحاصل بينهما بنسبة ما كنصفين. وهذه أيضا شركة فاسدة: لا تدخل في شركة الأموال، إذ ليس فيها أثمان يتجر بها، ولا في شركة التقبل، أو الوجوه، كما هو واضح. والكسب الحاصل إنما هو نماء ملك أحد الشريكين - وهو صاحب البقر. - فيكون له، وليس للآخر إلا قيمة علفه وأجرة مثل عمله. ومثل ذلك دود القز، يدفعه مالكه إلى شخص آخر، ليتعهده علفا وخدمة، والكسب بينهما، وكذلك الدجاجة على أن يكون بيضها نصفين - مثلا - قالوا: والحيلة أن يبيع نصف الأصل أو ثلثه مثلا بثمن معلوم، مهما قل، فما حصل منه بعد ذلك فهو بينهما على هذه النسبة. وقد عرفنا نص أحمد والأوزاعي في ذلك، وقضيته تصحيح هذه الشركات كلها - شأن كل عين تنمي بالعمل فيها. كما عرفنا أن جماهير أهل العلم لا يوافقونهما -حتى قال بعض الشافعية: على القادر أن يمنع من ذلك؛ لما فيه من بالغ الضرر(الموسوعة الفقهية الكويتية، حرف الشين، الشركة الفاسدة)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر:4022