Nov
22
2019
سوال:السلام علیکم!دو تشہد کے ساتھ وتر پڑھنے پر اگر کوئی حدیث ہے تو اس کا حوالہ مطلوب ہے۔
الجواب باسم ملہم الصواب
أحمدہ و أصلي علی رسوله الكریم ، أما بعد:
حدیث شریف میں ہے:عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُسَلِّمُ فِي رَكْعَتَيِ الْوِتْرِ»(السنن النسائی،باب كيف الوتر بثلاث)ترجمہ:’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ وتر کی دو رکعتوں پر سلام نہیں پھیرتے تھے‘‘۔
ایک اور حدیث میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: «الْوِتْرُ ثَلَاثٌ كَوِتْرِ النَّهَارِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ»(شرح معاني الآثار،باب الوتر) ترجمه:’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وتر تین رکعات ہے دن کے وتر یعنی مغرب کی نماز کی طرح‘‘۔ لہذا ان دو روایات سے معلوم ہوا کہ وتر کی نماز تین رکعات ہے اور ان میں دوسری رکعت پر تشہد اور تیسری رکعت کے بعد سلا م پھیرنا لازم ہے۔
واللہ أعلم بالصواب
فتوی نمبر:4165