May
07
2019
سوال: کیا عورتوں کو تراویح پڑھنا لازمی ہے؟ اگر چھوڑدیں تو کوئی گناہ ہوگا؟میری نماز بہت طویل ہوجاتی ہے اب ایسے میں تراویح کی بیس رکعات بہت زیادہ وقت لگ جاتا ہے مجھے، میں کیا کروں؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
تراویح کی نماز مردوں اور عورتوں سب کے لیے سنت مؤکدہ ہے(1)، تراویح کی نماز کا بلا عذر چھوڑنا گناہ ہے۔ تراویح کی نماز میں آخری سورتوں کی تلاوت سے نماز طویل نہیں ہوگی۔ باقی تراویح صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے اور رمضان کا مہینہ تو ویسے بھی نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے تو اگر ہماری نماز طویل بھی ہوجائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اس پر ملنے والا اجر وثواب بہت زیادہ ہے۔(2)
واللہ اعلم بالصواب
1 ۔قوله وسن في رمضان عشرون ركعة بعد العشاء قبل الوتر وبعده بجماعة۔۔۔وصرح المصنف بأنها سنة۔۔۔وأطلقه فشمل الرجال والنساء كما صرح به في الخانية والظهيرية۔۔۔وقول الجمهور على ما في الكافي إن إقامتها بالجماعة سنة على الكفاية(البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، بیان لصلاۃ التراویح)
2 ۔صرح ابن نجيم في شرح المنار بأن الإساءة أفحش من الكراهة ، وهو المناسب هنا لقول التحرير : وتاركها يستوجب إساءة : أي التضليل واللوم .وفي التلويح ترك السنة المؤكدة قريب من الحرام(رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، واجبات الصلاۃ)
فتویٰ نمبر: 825