Apr
27
2019
سوال:عرض ہے کہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ حدیث مبارکہ ، الذھب بالذھب ۔۔۔۔ البر بالبر کی رو سے گھریلو سطح پر آٹے ، چینی کا مبنی بر تاخیر تبادلہ سود کے زمرے میں آتا ہے حدیث مبارکہ کی تشریح اور نفس مسئلہ کی وضاحت کی درخواست ہے۔
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
گهریلو سطح پر آٹے چینی وغیرہ کا جو تبادلہ ہے وہ قرض کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ اشیاء بطور عاریت کے استعمال کی جاتی ہیں اور ایسی چیز جو استعمال سے ختم ہوجائے اس کی عاریت بھی قرض ہی کا حکم رکھتی ہے۔(1) لہٰذا گھریلو سطح پر جو آٹے چینی کا تبادلہ ہو اس میں اگر تاخیر ہو بھی جائے یا بلا شرط کچھ زیادتی ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث شریف میں جن چھ چیزوں کا ذکر ہے ان میں آٹے چینی کا تبادلہ اگر بطور بیع و شراء کے ہو مثلاً آٹے کے بدلے آٹا خریدا جائے تو اس وقت نقد یعنی ہاتھ در ہاتھ ہونا اور برابر سرابر ہونا ضروری ہے۔(2) اور جو چیز قرض کے طور پر دی جائے تو اس میں تاخیر یا بغیر کسی شرط کے اگر زیادتی ہو تو وہ ممنوع نہیں۔(3)
واللہ اعلم بالصواب
(1). هو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثلي لآخر ليرد مثله وصح في مثلي. (الدر المختار مع الرد، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض)
(2). فحرم بيع كيلي ووزني بجنسه متفاضلا ولو غير مطعوم. (الدر المختار مع الرد، كتاب الصلاة، كتاب البيوع، باب الربا،مطلب في الإبراء عن الربا)
(3). الرِّبَا هُوَ فضل مَال خَال عَن عوض شَرط لأحد الْعَاقِدين فِي مُعَاوضَة مَال بِمَال. (ملتقى الأبحر، كتاب البيوع، باب الربا)