Apr
25
2019
سوال: کیا بغیر سحری کے نفلی روزہ رکھ سکتے ہیں؟اگر فجر کے بعد آنکھ کھلے۔
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد
نفلی روزے کے لیے اگر صبح صادق سے زوال سے پہلے تک کچھ کھایا پیا نہ ہو تو روزہ کی نیت درست ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں فجر کے بعد آنکھ کھلنے کی صورت میں زوال سے پہلے تک روزے کی نیت کرنا درست ہے۔(1)
صحیح مسلم میں ہے:عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ فَقُلْنَا لَا قَالَ فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ(مسلم،کتاب الصیام،باب جواز صوم النافلة۔۔۔)ترجمہ:’’حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن نبیﷺمیری طرف تشریف لائے تو آپﷺنے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں، آپﷺنے فرمایا تو پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔
واللہ اعلم بالصواب
1۔ ونوع لا يشترط في تبييت النية وتعيينها: وهو ما يتعلق بزمان بعينه، كصوم رمضان، والنذر المعين زمانه، والنفل كله مستحبه ومكروهه، يصح بنية من الليل إلى ما قبل نصف النهار على الأصح، ونصف النهار: من طلوع الفجر إلى وقت الضحوة الكبرى.(الفقہ الاسلامی وادلتہ،الجزء الثالث،الباب الثالث فی الصیام والاعتکاف،الفصل الاول الصیام،مبحث شروط الصیام،شروط النیۃ، المالکیۃ)